کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ۳۴؍ہوگئی

  • Wednesday, 13 July 2016 20:39
  • Published in قومی
کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ۳۴؍ہوگئی All images are copyrighted to their respective owners.

کشمیر میں کرفیو اور ہڑتال بدستور جاری

سری نگر :(ایجنسی) وادی کشمیر میں۸؍ جولائی کو حزب المجاہدین کے اعلیٰ ترین کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد پیدا شدہ عوامی احتجاجی لہر کے باعث معمولات زندگی بدستور درہم برہم ہیں اور منگل کی رات سے مزید دو نوجوانوں کا زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسنے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر ۳۴؍ہوگئی ہے۔

 سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ایک نوجوان منگل کی صبح جبکہ ایک اور نوجوان گذشتہ رات زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے، جس کے ساتھ ہی مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر ۳۴؍ ہوگئی۔

 وادی کے بیشتر علاقوں میں کرفیو جبکہ باقی حصوں میں مکمل ہڑتال بدھ کو پانچویں روز میں داخل ہوگئی۔ جبکہ کشیدگی کے باعث موبائیل انٹرنیٹ اور ریل خدمات بدستور ٹھپ پڑی ہیں۔ تاہم سری نگر جموں قومی شاہراہ پر شبانہ ٹریفک بحال کردیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ایجنسی کو بتایا وہ سبھی گاڑیاں جو منگل کی دوپہر جموں سے وادی کے لئے روانہ ہوئی تھیں، رات کے وقت یہاں پہنچیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ شاہراہ پر عائد تمام پابندیاں ہٹائی گئی ہیں، تاہم جنوبی کشمیر میں پائی جانے والی کشیدہ صورتحال کے مدنظر لوگ دن کے اوقات میں اس شاہراہ پر سفر کرنا ترک کرتے ہیں۔ علیحدگی پسند قیادت نے ہڑتال میں۱۳؍ جولائی تک توسیع کا اعلان کیا تھا۔

احتجاجی لہر کے دوران مرنے والوں کی تعداد تاحال ۳۴؍ ہوگئی ہے۔ اِن میں سے۳۲؍ ہلاکتیں جنوبی کشمیر جبکہ ایک ایک ہلاکت بالترتیب گرمائی دارالحکومت سری نگر اور شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں ہوئی ہے۔ تاہم مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق تشدد کی لہر میں مرنے والوں کی تعداد۳۵؍ ہے۔ ہلاک شدگان میں ۱۳؍ سالہ کمسن لڑکا، ایک جواں سال لڑکی اور ایک پولیس ڈرائیور بھی شامل ہے۔

احتجاجی مظاہروں کے دوران زخمی ہونے افراد کی تعداد۱۵۰۰؍ سے تجاوز کرگئی ہے جن میں سے ۳۰۰؍ سو سے زائد افراد کا سری نگر کے اسپتالوں بالخصوص صدر اسپتال میں علاج ومعالجہ چل رہا ہے۔ زخمیوں میں سری نگر کے قمرواری کی۵؍سالہ بچی زہرہ مجید اور جنوبی کشمیر کے بج بہاڑہ کی ۸۰؍سالہ بزرگ خاتون بھی شامل ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ چار دنوں کے دوران ۱۰۰؍ سے زائد شہری آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں اور ڈاکٹروں کے مطابق اِن میں ۹۰؍ فیصد کی بینائی بحال ہونا مشکل ہے۔ پیلٹ کے شکار بیشتر نوجوانوں کا اس وقت سری نگر کے صدر اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔

 جہاں وزیر اعظم نریندر مودی اور ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کل وادی کے عوام سے امن کی اپیل کی، وہیں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکی مون اور امریکہ نے وادی میں تشدد کی تازہ لہر میں ہونے والی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

 مقامی میڈیا کے مطابق برہان وانی کی ہلاکت کے بعد اُن کی جگہ محمود غزنوی کو حزب المجاہدین کا نیا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ اس کا اعلان متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے حزب کمانڈ کونسل کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔

پورے جنوبی کشمیر اور گرمائی دارالحکومت کے بیشتر علاقوں میں آج پانچویں روز بھی کرفیو کو برقرار رکھا گیا ۔ تاہم اِن میں سے بیشتر علاقوں خاص طور پر پلوامہ، اننت ناگ اور کولگام میں احتجاجی مظاہرین کرفیو کو توڑتے ہوئے سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے منظم کررہے ہیں۔ دوسری جانب وادی میں آج پانچویں روز بھی مکمل ہڑتال جاری رہی۔

جنوبی کشمیر کے سبھی چار اضلاع میں کرفیو کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات رکھی گئی ہے جہاں احتجاجی مظاہرین کرفیو توڑتے ہوئے برہان وانی اور سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف اور کشمیر کی آزادی کے حق میں احتجاجی مظاہرے منطم کررہے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ سیکورٹی فورس اہلکار مکانوں اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کے مرتکب ہورہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں پر نصب لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے اعلان کیا جارہا ہے کہ’’کرفیو نافذ ہے اور لوگ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں‘‘۔ مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ سیکورٹی فورس اہلکار یہاں تک کہ زخمیوں اور مریضوں کو بھی اسپتال لے جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ پلوامہ کے ایک رہائشی نے بتایا’’ہمیں اشیائے ضروریہ بشمول دودھ، سبزیوں، ادویات اور روٹی کی شدید قلت کا سامنا ہے‘‘۔

ادھر گرمائی دارالحکومت سری نگر کے شہر خاص، ڈاؤن ٹاون اور سیول لائنز کے کچھ علاقوں میں کرفیو جاری رہنے سے اہلیان سری نگر منگل کو چوتھے دن بھی اپنے گھروں تک ہی محدود رہے۔ شہر خاص، ڈاؤن ٹاون اور سیول لائنز کے مائسمہ میں ۹؍جولائی کی صبح کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ تاہم کرفیو کے باوجود اِن علاقوں میں احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اِن علاقوں کے لوگوں نے الزام عائد کیا کہ وہ گذشتہ پانچ روز سے اپنے گھروں تک ہی محدود ہیں اور انہیں اشیائے ضروریہ خاص طور پر دودھ اور سبزی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

دوسری جانب جاری ہڑتال کے نتیجے میں وادی میں آج معمولات زندگی مسلسل پانچویں روز بھی مفلوج رہے۔ وادی کے جن علاقوں کو کرفیو سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، میں دکانیں اور تجارتی مراکز بدستور بند جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے۔

اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ (ایس آر ٹی سی) کی گاڑیاں بھی سڑکوں سے غائب ہیں۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں بھی معمول کا کام کاج بدستور ٹھپ ہے۔ وادی میں پیٹرول پمپ اور تقریباً سبھی بینکوں کے اے ٹی ایم بھی بند رکھے گئے ہیں۔ دریں اثنا وادی کشمیرمیں بدھ کو پانچویں دن بھی موبائیل انٹرنیٹ اور ریل خدمات معطل رہیں۔

وادی میں تمام موبائیل سروس پرووائڈرس نے سیکورٹی انتظامیہ کی ہدایات پر ۸؍ اور ۹؍ جولائی کی درمیانی رات سے موبائیل انٹرنیٹ خدمات تاحکم ثانی بند کردیں۔ تاہم موبائیل فون سروس ، براڈ بینڈ و فکسڈ لائن انٹرنیٹ خدمات کے علاوہ مختصر پیغام سروس (ایس ایم ایس) سروس جاری رکھی گئی ہیں۔ انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کے باعث صارفین خاص طور پر طلباء، سیاحوں ، پیشہ ور افراد خاص طور پر صحافیوں اورتاجروں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

مقامی ، قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لئے کام کرنے والے صحافی جو اپنی رپورٹیں بھیجنے کے لئے مکمل طور پر موبائیل انٹرنیٹ پر منحصر تھے کا کام متاثر ہورہا ہے اور اِن میں سے بیشتر کو اب سری نگر میں اپنے دفاتروں میں ہی قیام کرنا پڑ ا ہے۔ موبائیل انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے والی ایک کمپنی کے عہدیدار نے بتایا کہ انہیں سیکورٹی انتظامیہ کی جانب سے موبائیل انٹرنیٹ خدمات تاحکم ثانی بند رکھنے کی ہدایات ملی ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ انہیں خدمات بند رکھنے کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ اقدام کسی بھی طرح کی افواہوں کو روکنے کی غرض سے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال میں بہتری آنے کے ساتھ ہی انٹرنیٹ خدمات بحال کردی جائیں گی۔ دریں اثنا شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس بدھ کو پانچویں دن بھی معطل رہی۔ ریلوے ایک افسر نے ایجنسی کو بتایا کہ وادی میں ریل سروس سیکورٹی وجوہات کی بناء پر آج پانچویں دن بھی معطل رہے گی۔

 انہوں نے بتایا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ریلوے ٹریک اور دیگر ریلوے املاک کو جنوبی کشمیر میں کچھ ایک مقامات پر نقصان پہنچایا گیا ہے اور وادی میں امن وامان کی بحالی کے بعد بھی ریل سروس کو بحال کرنے میں مزید چند دن لگ سکتے ہیں۔

Rate this item
(0 votes)

Related items