کشمیر میں موت کا رقص جاری

  • Tuesday, 12 July 2016 20:11
  • Published in قومی
کشمیر میں موت کا رقص جاری All images are copyrighted to their respective owners.

 دہلی یونیورسٹی کا طالب علم دم توڑ گیا، ہلاکتوں کی تعداد ۳۱؍ہوگئی

سری نگر: (ایجنسی) کشیدگی کی شکار وادی کشمیر میں موت کا رقص جاری ہے اور منگل کو دہلی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک جواں سال نوجواں کا زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسنے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر۳۱؍ ہوگئی ہے۔ اِن میں سے ۳۰؍ ہلاکتیں جنوبی کشمیر جبکہ ایک ہلاکت گرمائی دارالحکومت سری نگر میں ہوئی ہے۔ ہلاک شدگان میں ایک پولیس ڈرائیور بھی شامل ہے۔ پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد ۵۰۰؍ کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اِن میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے قریب ۶۰؍ شہریوں کو گولیوں کے زخم آئے ہیں جبکہ قریب ایک درجن افراد کو پیلٹ گن کے زخم لگے ہیں جن میں سے قریب دو درجن کی حالت اسپتالوں میں تشویشناک بنی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ وادی میں ۸؍ جولائی کو حزب المجاہدین (ایچ ایم) کے اعلیٰ ترین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد تشدد کی لہر بھڑک اٹھی جو تاحال تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ پیدا شدہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے تاحال سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی قریب ۲۰؍ کمپنیاں( ۲؍ ہزار اہلکار) یہاں بھیجی جاچکی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ جنوبی ضلع اننت ناگ کے بج بہاڑہ میں گذشتہ شام ۳؍ افراد اُس وقت زخمی ہوگئے جب سیکورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر اپنی بندوق کے دھانے کھولے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو پہلے مقامی اسپتال اور بعد میں سری نگر کے صدر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں عامر نذیر لتو نامی ایک جواں سال نوجوان زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گیا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ گولیاں عامر کے سینے میں پیوست ہوئی تھیں۔ بتایا جارہا ہے عامر دہلی یونیورسٹی سے کامرس میں ماسٹرس ڈگری (ایم کام) کررہا تھا اور چند دن قبل ہی چھٹی لیکر آیا ہوا تھا۔ عامر کا نماز جنازہ بج بہاڑہ کی شہید پارک میں انجام دیا جس میں پابندیاں توڑتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ وادی کے اسپتالوں میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ ہے جبکہ طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کی گئی ہیں۔ وادی کے بیشتر علاقوں میں کرفیو بدستور نافذ ہے۔

وادی اور خطہ جموں میں انٹرنیٹ خدمات اور شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے جموں خطہ کے بانہال تک چلنے والی ریل سروس بھی بدستور معطل ہے۔ وادی میں ۱۰؍ جولائی کی شام سے ۱۱؍ جولائی کی شام تک۹؍ افراد زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے تھے۔ اِن میں سے سب سے زیادہ ۶؍ کا تعلق ضلع کولگام سے تھا۔ اِن کی شناخت یاسمینہ، فیروز احمد، شاہد حسین بٹ، زبیر کھانڈے، نذیر احمد شیخ اور مشاق احمد ساکنان ضلع کولگام جبکہ شاہد گلزار ساکنہ شوپیان، عبدالرشید ساکنہ پلوامہ اور بلال احمد شاہ ساکنہ اننت کی حیثیت سے کی گئی تھی۔ جبکہ۹؍ اور۱۰؍ جولائی کو سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں ہلاک ہونے والے ۲۱؍نوجوانوں کی شناخت ثاقت منظور میر ساکنہ کھندرو اچھہ بل، خورشید احمد بٹ ساکنہ ہروت کولگام، سفیر احمد بٹ ساکنہ چراری گام اننت ناگ، عادل بشیر ساکنہ ڈورو اننت ناگ، عبدالحمید موچی ساکنہ آرونی کولگام، دانش یعقوب شاہ ساکنہ اچھہ بل اننت ناگ، جہانگیر احمد گنائی ساکنہ حسن پورہ بج بہاڑہ اننت ناگ، شوکت احمد میر ساکنہ حسن پورہ بج بہاڑہ اننت ناگ، آزاد حسین ساکنہ شوپیان، اعجاز احمد ٹھوکر ساکنہ سلہ گام سیر ہمدان اننت ناگ، محمد اشرف ڈار ہل پورہ کوکرناگ اننت ناگ، حسیب احمد گنائی ساکنہ بتہ پورہ کھنہ بل، امتیاز احمد منڈو ولد محمد شفیع ساکنہ منڈ پورہ کھنہ بل اننت ناگ، معشوق احمد ساکنہ کنڈ قاضی کولگام، محمد الطاف راتھر ساکنہ راجپورہ پلوامہ، فیاض احمد میر ساکنہ لتر پلوامہ، عرفان احمد ملک ساکنہ ورون نیوہ پلوامہ، گلزار احمد پنڈت ساکنہ موہن پورہ شوپیان، شبیر احمد میر ساکنہ ٹینگ پورہ بائی پاس سری نگر، فیروز احمد (پولیس اہلکار)، زبیر احمد ساکنہ کیموہ کولگام کی حیثیت سے کی گئی تھی۔

وادی میں بزرگ علیحدگی پسند رہنما و حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی، حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے پیر کو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ہڑتال میں۲؍ روز کی توسیع کا اعلان کیا۔ وادی میں جہاں بیشتر علیحدگی لیڈران بشمول مسٹر گیلانی اور میرواعظ کو نظر بند جبکہ یاسین ملک کو پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں مقید رکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ برہان اور اُس کے دو دیگر ساتھیوں کو ۸؍جولائی کی شام ضلع اننت ناگ کے ڈورو کوکرناگ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک شدید جھرپ میں ہلاک کیا گیا تھا۔۲۱؍ سالہ برہان وانی کشمیر میں جنگجوؤں کی نئی نسل کا چہرہ اور پوسٹر بوائے کہلاتا تھا۔ وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جنگجوؤں کی ویڈیوز، اپنے ویڈیو بیانات اور گروپ تصاویر پوسٹ کرنے کی بناء پر مشہور تھا۔

انہوں نے اپنے حالیہ ویڈیو بیان میں سیکورٹی فورسز اور جموں وکشمیر پولیس پر حملے کرنے کی دھمکی جبکہ کشمیر آنے والے امرناتھ یاتریوں کو کسی بھی صورت میں نقصان نہ پہنچانے کا اعلان کیا تھا۔

دریں اثنا ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کل ایک بار پھر وادی میں امن کی بحالی اور جان و مال کے نقصان کو روکنے کے لئے عوامی تعاون طلب کیا۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت امن کی بحالی کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے تاہم اس ضمن میں لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ وہ یہاں اپنے پرائیویٹ آفس میں سول سوسائٹی کے نمائندوں اور معزز شہریوں کے ساتھ بات چیت کررہی تھیں۔

محترمہ مفتی نے کہا ہے’’ میں سماج کے ہر طبقے کے لوگوں بشمول سیاسی لیڈروں، مذہبی رہنماوں اور معزز شہریوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ موجودہ حالات کے تناظر میں آگے آکر امن کی بحالی میں حکومت کی مدد کریں‘‘۔

 انہوں نے دوران بات چیت کہا ہے کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز کو صبر و تحمل برتنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ انسانی جانوں کے زیاں کو روکا جاسکے۔محترمہ مفتی نے کہا کہ ہمارے نوجوان کی ایک نسل پہلے ہی تشدد کی بھینٹ چڑھی ہے اور اب اس سلسلے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ بدقسمتی سے کچھ لوگ یہاں کے نوجوانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور انہیں تشدد پر آمادہ کرتے ہیں۔

Rate this item
(0 votes)

Related items