کشمیر :احتجاجی لہر برقرار، ہلاکتوں کی تعداد ۲۳؍

  • Tuesday, 12 July 2016 05:54
  • Published in قومی
کشمیر :احتجاجی لہر برقرار، ہلاکتوں کی تعداد ۲۳؍ All images are copyrighted to their respective owners.

کشمیر اور جموں خطے میں پیر کو تیسرے روز بھی موبائیل انٹرنیٹ خدمات معطل رہیں

سری نگر: (ایجنسی) وادی کشمیر میں حزب المجاہدین (ایچ ایم) کے اعلیٰ ترین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی تشدد کی لہر میں مرنے والوں کی تعداد۲۳؍ تک پہنچ گئی ہے۔ اِن میں سے ۲۲؍ ہلاکتیں جنوبی کشمیر جبکہ ایک ہلاکت گرمائی دارالحکومت سری نگر میں ہوئی ہے۔

 ہلاک شدگان میں ایک پولیس ڈرائیور بھی شامل ہے۔ پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد ۴۵۰؍ کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اِن میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے قریب ۵۰؍ شہریوں کو گولیوں کے زخم آئے ہیں جبکہ قریب ایک درجن افراد کو پیلٹ گن کے زخم لگے ہیں جن میں سے قریب دو درجن کی حالت اسپتالوں میں تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ وادی کے اسپتالوں میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ ہے جبکہ طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کی گئی ہیں۔

وادی کے بیشتر علاقوں میں کرفیو بدستور نافذ جبکہ سری نگر جموں قومی شاہراہ و تاریخی مغل روڑ پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے۔ جنوبی کشمیر میں موبائیل فون سروس، وادی اور خطہ جموں میں انٹرنیٹ خدمات اور شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے جموں خطہ کے بانہال تک چلنے والی ریل سروس بھی بدستور معطل ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے دمہال ہانجی پورہ علاقہ میں گذشتہ روز احتجاجی مظاہرین کے دوران سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی یاسمینہ نامی ایک لڑکی اتوار کی شام کو سری نگر کے صدر اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق ضلع شوپیان کے زونی پورہ میں گذشتہ رات آصف نامی ایک۱۳؍ سالہ کمسن لڑکا اُس وقت ہلاک ہوا جب سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر اپنی بندوقوں کے دھانے کھولے۔

سری نگر کے ٹینگ پورہ بتہ مالو میں اتوار کی سہ پہر ۲۴؍ سالہ شبیر احمد میر سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ سیکورٹی فورسز نے شبیر کو اُس وقت گولیاں کا نشانہ بنایا جب علاقہ میں کسی بھی طرح کا احتجاج نہیں ہورہا تھا۔ تاہم شبیر کی ہلاکت کے بعد علاقہ میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے تھے۔

سرکاری ذرائع نےایجنسی کو بتایا کہ علاقہ میں مزید احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے بتہ مالو پولیس تھانے کے تحت آنے والے علاقوں میں بھی آج کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی گئیں۔ سری نگر کے شہر خاص اور ڈاؤن ٹاون میں پانچ پولیس تھانوں نوہٹہ، رعناواری، ایم آر گنج، صفا کدل اور خانیار جبکہ سیول لائنز میں پولیس تھانہ مائسمہ کے تحت آنے والے علاقوں میں ۹؍ جولائی کی صبح کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کی گئی تھیں۔

جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں اتوار کو ایک پولیس اہلکار اُس وقت ڈوب کر ہلاک ہوگیا جب ایک مشتعل ہجوم نے جموں وکشمیر پولیس کے ایک موبائیل بنکر کو دریائے جہلم میں دھکیل دیا۔ ایک مقامی انگریزی روزنامے نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے ضلع پلوامہ اور شوپیان میں اتوار کو سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی شناخت عرفان احمد ملک ساکنہ نیوا، گلزار احمد پنڈت ساکنہ موہن پورہ شوپیاں اور فیاض احمد وازا ساکنہ لتر پلوامہ کی حیثیت سے ظاہر کی ہے۔ جبکہ ۹؍ جولائی کی شام کو ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی شناخت زبیر احمد ساکنہ قیموہ کولگام، فیروز میر ساکنہ بیگن کولگام، محمد الطاف راتھر ساکنہ راجپورہ پلوامہ، امتیاز احمد منڈو ساکنہ منڈپورہ کھنہ بل اننت ناگ اور ماشوق احمد ساکنہ کنڈ قاضی گنڈ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

 روزنامہ نے ۹؍ جولائی کو ہلاک ہونے والے۱۲؍ نوجوانوں کی شناخت ساقب منظور میر ساکنہ کھنڈرو اچھہ بل، خورشید احمد ساکنہ ہاروت کولگام، سفیر احمد بٹ ساکنہ چراری گام، عادل بشیر ساکنہ ڈورو، عبدالحمید موچی ساکنہ اڑونی، دانش ایوب شاہ ساکنہ اچھہ بل، جہانگیر احمد گنائی ساکنہ حسن پورہ بج بہاڑہ، آزاد حسین ساکنہ شوپیان، اعجاز احمد ٹھوکر ساکنہ سل گام اننت ناگ، محمد اشرف ڈار ساکنہ ہل پورہ کوکرناگ، شوکت احمد میر ساکنہ حسن پورہ بج بہاڑہ اور حسیب احمد گنائی ساکنہ دیل گام کی حیثیت سے ظاہر کی ہے۔

حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہان سید علی گیلانی و میرواعظ مولوی عمر فاروق اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے برہان وانی کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف ہڑتال میں۱۱؍ جولائی تک توسیع کا اعلان کر رکھا تھا۔ وادی میں جہاں بیشتر علیحدگی لیڈران بشمول مسٹر گیلانی اور میرواعظ کو نظر بند جبکہ یاسین ملک کو پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں مقید رکھا گیا ہے۔

برہان اور اُس کے دو دیگر ساتھیوں کو ضلع اننت ناگ کے ڈورو کوکرناگ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک شدید جھڑپ میں ہلاک کیا گیا تھا۔۲۱؍ سالہ برہان وانی کشمیر میں جنگجوؤں کی نئی نسل کا چہرہ اور پوسٹر بوائے کہلاتا تھا۔ وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جنگجوؤں کی ویڈیوز، اپنے ویڈیو بیانات اور گروپ تصاویر پوسٹ کرنے کی بناء پر مشہور تھا۔

انہوں نے اپنے حالیہ ویڈیو بیان میں سیکورٹی فورسز اور جموں وکشمیر پولیس پر حملے کرنے کی دھمکی جبکہ کشمیر آنے والے امرناتھ یاتریوں کو کسی بھی صورت میں نقصان نہ پہنچانے کا اعلان کیا تھا۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے برہان کا پتہ بتانے والے کے لئے نقدی دس لاکھ روپے کا انعام مقرر کر رکھا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ برہان کی ہلاکت کے بعد سے پوری وادی خاص طور پر جنوبی کشمیر میں امن وامان کی صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برہان وانی کے رسم چہارم کے پیش نظر جنوبی کشمیر خاص طور پر ضلع پلوامہ میں آج کرفیو سختی سے نافذ کیا گیا ہے۔ اگرچہ کشمیر انتظامیہ نے اتوار کو وادی بھر میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ، تاہم سری نگر کے سیول لائنز اور بالائی شہر میں اسے سختی سے نافذ نہیں کیا گیا ہے اور سڑکوں پر سیکورٹی فورسز کی بہت ہی کم تعیناتی دیکھی گئی۔

 ڈویژنل کمشنر کشمیر ڈاکٹر اصغر سامون نے کل نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ وادی میں امن وامان کی صورتحال کو بنانے رکھنے کے لئے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ جموں وکشمیر کی کابینہ نے کل وادی کی موجودہ صورتحال کے نتیجے میں ہونے والے انسانی جانوں کے اتلاف پر افسوس اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے امن کی بحالی کے لئے سیاسی جماعتوں کاتعاون طلب کیا ۔

کابینہ اجلاس کے بارے میں میڈیا نمائندوں کو تفصیلات دیتے ہوئے حکومتی ترجمان نعیم اختر نے کہا تھا’’ کابینہ میٹنگ میں انسانی جانوں کے اتلاف پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں بشمول مین سٹریم و علیحدگی پسند جماعتوں سے قیام امن میں تعاون دینے کی اپیل کی گئی کیونکہ تشدد سے نہ ماضی میں کچھ حاصل ہوا ہے اور نہ اب کوئی مسئلہ حل ہوگا‘‘۔نعیم اختر نے کہا تھا کہ کابینہ نے سول سوسائٹی اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کو تشدد پر آمادہ نہ ہونے دیں اور سرکاری و غیر سرکاری جائیداد کے علاوہ پولیس و فورسز تنصیبات کو نقصان پہنچانے سے روکیں۔

 انہوں نے کہا تھا بچوں کے تئیں والدین کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اگر آپ ویڈیو دیکھیں گے تو آپ چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں بھی پتھر دیکھیں گے ، جن کو خود بھی پتہ نہیں ہے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ وادی کشمیر اور جموں خطے میں پیر کو تیسرے روز بھی موبائیل انٹرنیٹ خدمات معطل رہیں۔

Rate this item
(0 votes)

Related items