ذاکر نایک کی تقاریر کا جائزہ، ٹیم تشکیل: نائیڈو

  • Tuesday, 12 July 2016 05:38
  • Published in قومی
ذاکر نایک  کی تقاریر کا جائزہ، ٹیم تشکیل: نائیڈو All images are copyrighted to their respective owners.

ٹیم میں اطلاعات و نشریات کی وزارت اور مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے اہلکار شامل ہیں

نئی دہلی: (ایجنسی) اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے پیس ٹیلی ویژن سے ذاکر نایک کی تقاریر کی نشریات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ ان کی تقاریر کا مطالعہ کرنے کے لئے ایک معاون ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

 نائیڈو نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ ان کی وزارت نے کیبل نیٹ ورک پر غیر قانونی چینلوں کی نشریات کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے تمام وزرائے اعلی اور ریاستوں کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیس  ٹی وی نے ۲۰۰۸ء میں لائسنس کے لئے درخواست دی تھی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ اس لئے اس کا نشر کرنا بھی غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اگر آپ کیبل نیٹ ورک پر کسی غیر قانونی چینل کی نشریات دکھائی دے ،تو ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاعات و نشریات کی وزارت کو مطلع کریں۔ ہم متعلقہ ایجنسیوں کو الرٹ کر دیں گے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ذاکر نایک کی تقاریر کے مطالعہ کے لئے ایک ذیلی گروپ تشکیل دیا گیا ہے جس میں اطلاعات و نشریات کی وزارت اور مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے اہلکار شامل ہیں۔وزارت داخلہ اس معاملے کا پہلے ہی مطالعہ کر رہا ہے۔

 نائیڈو نے کہا کہ ان کی وزارت نے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلی اور ضلع حکام کو بھی خط لکھا ہے، جس میں انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ قومی سلامتی اور سماجی ہم آہنگی سے متعلق معاملہ ہونے کے ناطے غیر قانونی مواد کو غیر قانونی طورپر ڈاؤن لوڈ کرنےاور نشریات کے خلاف احتیاطی قدم اٹھائیں۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والی تمام ایجنسیوں سے اس معاملے میں سخت چوکسی برتنے کی اپیل کی۔

Rate this item
(0 votes)

Related items