نایک کی تقریریں اسلامی تعلیمات کے خلاف : عارف محمد خاں

  • Sunday, 10 July 2016 23:38
  • Published in قومی
نایک کی تقریریں اسلامی تعلیمات کے خلاف : عارف محمد خاں All images are copyrighted to their respective owners.

 ذاکر نایک کو گرفتار کرنے سے ان کی مقبولیت اور اثر آفرینی میں مزید اضافہ ہوگا

نئي دہلی: (ایجنسی) چند ممتاز مسلم شخصیات نے مشہور متنازعہ اسکالر ڈاکٹر ذاکر نایک کی تقریروں پر خدشات کا اظہار کیا اور حکومت کو بلاوجہ انہیں ہیرو بنانے سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔

خیال رہے کہ جب سے میڈیا میں یہ خبریں آئي ہيں کہ ڈھاکہ میں ایک ہندوستانی خاتون سمیت۲۲؍ لوگوں کو بے رحمی سے قتل کرنے والے ۶؍ جنگجوؤں میں سے ایک ذاکر نایک سے متاثر تھا، تب سے وہ انٹلی جنس ایجنسیوں کی نظر میں ہیں ۔

 سابق وزیر عارف محمد خاں نے کا کہنا ہے کہ ذاکر نایک کی تقریریں اسلامی تعلیمات کے خلاف ہيں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نایک دوسرے مذاہب کو مذموم قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، جو کہ قرآن کریم کی روح کے بالکل خلاف ہے۔

مشہور صحافی شاہد صدیقی نے ذاکر نایک کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ذہنیت انتہاپسندی اور منافرت کی طرف لے جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاکرنایک دوسرے عقائد و مسالک کو غلط طورپر پیش کرتے ہیں۔

 شاہد صدیقی نے کہا کہ ذاکرنایک دوسرے مذاہب پر اپنے مسلک کی بالادستی اور بڑائی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ ایسی بات مسلم دور حکومت یا مغل سلطنت میں بھی دیکھنے کو نہيں ملی جب مسلمان حکمراں تھے۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ وہ اس موقف کو تسلیم نہيں کرتے ہیں کہ ڈاکٹر ذاکر نایک  نے کسی طورپر بھی دہشت گردی کی حمایت کی ہے۔

شاہد صدیقی نے کہا کہ جو لوگ اسلام سے بخوبی واقف ہيں، وہ کبھی ذاکر نایک سے وابستہ نہیں رہے۔ بیشتر ہندوستانی مسلمان ذاکر نایک کے خلاف ہیں۔ بریلوی مکتب فکر کے لوگ بالخصوصی ذاکر نایک کے خلاف ہيں اور اردو میڈیا نے بھی ان کو نظر انداز کردیا ہے۔

انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ ذاکر نایک کو گرفتار کرنے سے ان کی مقبولیت اور اثر آفرینی میں مزید اضافہ ہوگا۔ کسی نظریہ کا مقابلہ نظریہ کے ذریعہ ہی کیا جانا چاہئے، نہ آہنی پنجے سے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن کمال فاروقی کا کہنا ہے کہ ذاکر نایک  کو نصیحت دی جائے کہ وہ غیر مسلموں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائیں اور اگر تب بھی وہ ایسا کرتے رہیں تو ان کے خلاف دفعہ ۱۵۳؍  (دو طبقوں کے درمیان دشمنی پھیلانا) کے تحت کیس درج کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام دوسرے مذاہب کا مکمل احترام سکھاتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ان لوگوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جو پورے مذہب اسلام کی شبیہ بگاڑنے کے لئے ذاکر نایک کو استعمال کررہے ہیں۔

کمال فاروقی نے کہا کہ’’ مجھے خوف ہے کہ اگر ذاکر نایک کے خلاف حکومت کا کیس کمزور ہوا، تو ہم بڑی پریشانی میں پڑجائیں گے، کیونکہ ایسی صورت میں وہ بڑے ہیرو بن کر ابھریں گے اور اس وقت وہ  خود زيادہ طاقتور سمجھیں گے‘‘۔

Rate this item
(0 votes)

Related items