سعودی عرب بلاسٹ:۷؍سعودی ،۱۲؍ پاکستانی گرفتار

سعودی عرب بلاسٹ:۷؍سعودی ،۱۲؍ پاکستانی گرفتار All images are copyrighted to their respective owners.

۵؍ جولائی کو ہونے والے تین خودکش حملوں کی تحقیقات میں ۱۹؍ افراد کو حراست میں لیا گیا

ریاض:(ایجنسی) سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں مسجد نبویؐ کے باہر خود کو اڑانے والے خود کش بمبار کی شناخت ہوگئی جبکہ خودکش حملوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں۷؍ سعودی اور۱۲؍ پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب خودکش دھماکہ کرنے والا شخص سعودی شہری تھا جو منشیات کا عادی تھا۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ۵؍ جولائی کو ہونے والے تین خودکش حملوں کی تحقیقات میں ۱۹؍ افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے ۱۲؍ پاکستانی ہیں۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مدینہ میں کیے گئے خود کش دھماکے میں نائٹروگلیسرین کے نمونے ملے ہیں۔ پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے حکام نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ عبداللہ گلزار خان نامی یہ شخص پاکستانی ہے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مسجد نبوی کے قریب دھماکہ کرنے والا۲۶؍ سالہ سعودی شہری نائر مسلم حماد النجیدی تھا جو منشیات کا عادی تھا۔

واضح رہے کہ ۵؍ جولائی کو سعودی عرب کے تین شہروں میں خودکش حملے کیے گئے تھے۔ سب سے پہلا جدہ میں امریکی قونصلیٹ کے باہر، دوسرا شیعہ اکثریتی علاقے قطیف اور تیسرا مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب ہوا تھا۔

سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ قطیف میں حملہ کرنے والے۲۳؍ سالہ عبدالرحمان العمر،۲۰؍ سالہ ابراہیم العمر اور۲۰؍ سالہ عبدالکریم الحسنی تھا۔

یاد رہے کہ سعودی حکام کا کہنا تھا کہ جدہ میں امریکی قونصل خانے کے باہر خودکش دھماکہ کرنے والا شخص ایک پاکستانی تھا تاہم پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے فی الحال اس امر کی تصدیق سے انکار کیا ہے کہ مذکورہ شخص پاکستانی شہری ہے۔

منگل کو سعودی وزارتِ داخلہ کے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤئنٹ سے جاری کیے جانے والے پیغامات میں کہا گیا تھا کہ حملہ آور کا نام عبداللہ گلزار خان ہے جو ایک پاکستانی شہری ہے اور۱۲؍ برس قبل ڈرائیور کی نوکری کرنے کے لیے سعودی عرب آیا تھا۔

پیغام کے مطابق ۱۵؍ ستمبر ۱۹۸۱ء کو پیدا ہونے والا عبداللہ گلزار خان سعودی عرب میں اپنی اہلیہ اور ان کے والدین کے ہمراہ مقیم تھا۔

سعودی وزارتِ داخلہ نے ان پیغامات کے ساتھ ہی عبداللہ گلزار خان کی تصویر بھی جاری کی تھی۔

Rate this item
(0 votes)

Related items