سعودی عرب میں مذہبی عقائد پر بحث شروع

سعودی عرب میں مذہبی عقائد پر بحث شروع All images are copyrighted to their respective owners.

سعودی عرب نوجوانوں میں دہشت گردانہ رجحان بڑھنے سے فکر مند

دبئی: (ایجنسی) سعودی عرب اپنے ملک کے نوجوانوں میں دہشت گردانہ رجحان بڑھنے سے فکر مند ہے اور وہ اسے روکنے اور اعتدال پسند ی کے جذبات کو فروغ دینے کے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں مذہبی عقائد پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے اور اسلامی قوانین کی بنیاد اور آج کے وقت کی کسوٹی پر انہیں پرکھنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ مہینے کی۲۴؍ تاریخ کو ایک ماں نے انتہاپسندانہ رجحان رکھنے والے اپنے دو جڑواں بیٹوں کو اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ مل کر لڑنے کے لئے شام جانے سے منع کیا تو مذہبی شدت پسندی سے مشتعل بیٹوں نے ماں کوہی قتل کر کے نہ صرف انتہا  پسندی کی حدیں پار کر دی ہیں ، بلکہ سعودی معاشرے میں صدیوں سے چلی آ رہی اپنے بڑوں کے احترام کی روایت کو بھی تار تار کر دیا۔ اس واقعہ نے سعودی معاشرے کو جھنجھوڑ دیا اور حکومت اور مذہبی علماء نے اس قسم کے جذبات کی روک تھام پر غور و فکر شروع کر دیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان جنرل منصور نے دونوں جڑواں بیٹوں کے اپنی ہی ماں کے قتل میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں اس کی تہہ تک جانا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ شدت پسندی کے تخریبی اصول میں یقین کر رکھتے تھے‘‘۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں بیٹوں کے ہاتھوں اپنی ماں کے قتل کے معاملے کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے اس کی تفصیل دینے سے انکار کیا ۔ ایجنسی کے نامہ نگار کا دونوں نوجوانوں اور ان کے وکلاء سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

وزارت داخلہ نے بتایا کہ دونوں جڑواں بھائیوں خالد اور صالح العورینی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کے خلاف اپنی ۶۷؍ سالہ ماں حیفاء اور ۷۳؍ سالہ والد کو چھرا مارنے کے الزام میں گرفتار کیا گیاہے۔ چھرا لگنے سے ماں کی موت ہو گئی تھی۔چھرے کے وار سے ان کے والد اور بھائی بھی زخمی ہو گئے۔زخمی والد اور بھائی اسپتال میں ہیں۔ ان کی حالت سنگین ہے۔ یہ اطلاع سعودی عرب کی میڈیا رپورٹ میں دی گئی ہے۔

سعودی مصنف علی  المحمود نے ایجنسی  کو بتایا کہ یہ واقعہ المنا ک اور پراسرار ہے۔ یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ دونوں نوجوان مذہبی انتہاپسندی کے شکار تھے یا منشیات کے عادی تھے۔ ۲۴؍ جون کےاس واقعہ کی خبر سعودی عرب کے اخبارات میں۲۶؍ جون کی اشاعتوں میں شائع ہوئی۔اسلامک اسٹیٹ کے ارکان کے ذریعہ اپنے ہی رشتہ داروں کو قتل کرنے کی اس قسم کی اور بھی خبریں آئی ہیں۔ کئي دہشت گرد وں نے شام کے الرقہ میں اپنی ہی ماؤں کو قتل کر چکے ہیں۔

Rate this item
(0 votes)

Related items