وهاٹس ایپ پر پابندی کی عرضی خارج

وهاٹس ایپ پر پابندی کی عرضی خارج All images are copyrighted to their respective owners.

اینڈ ٹو اینڈ اینكرپشنپالیسی کی وجہ سےسکیورٹی ایجنسیاں پیغامات پر نظر نہیں رکھ پائیں گی

نئی دہلی: (ایجنسی) سپریم کورٹ نے آن لائن پیغام رسانی سروس دہندہ  وهاٹس ایپ پر پابندی سے متعلق پٹیشن کو آج خارج کردیا۔

 چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والے بنچ نے آج یہ کہتے ہوئے حق اطلاعات (آر ٹی آئی) کے کارکن سدھیر یادو کی عرضی کو مسترد کردیا کہ درخواست گزار کو اس معاملے میں مرکزی حکومت سے رجوع کرنا چاہئے۔ عدالت عظمی نے درخواست گزار سے کہاکہ ’’آپ مرکزی حکومت کے پاس جائیں‘‘۔

  سدھیر یادو نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ وهاٹس ایپ نے گذشتہ اپریل سے ہی’’اینڈ ٹو اینڈ اینكرپشن‘‘ پالیسی نافذ کی ہے، جس سے اس پر هونے والی باتیں محفوظ رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ سکیورٹی ایجنسیاں بھی ان کی کھوج نہیں کر سکتیں۔

 عرضی میں کہا گیا تھا کہ اگر خود وهاٹس ایپ بھی چاہے تو وہ ان پیغامات کو دستیاب نہیں کرا سکتی۔ اس پالیسی کی وجہ سے دہشت گردوں اور مجرموں کو پیغامات کے تبادلے میں آسانی ہوگی اور ملک کی سلامتی کو خطرہ ہوگا۔سکیورٹی ایجنسیاں ان پیغامات پر نظر نہیں رکھ پائیں گی۔ اس لئے اس سروس پر پابندی عائد ہونی چاہئے۔

پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اینکرپشن کو سوپر کمپیوٹر سے بھی تلاش کرنا ممکن نہیں ہے اور ایسے میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے سکیورٹی ایجنسیاں نہ تو کھوج کر سکتی ہیں نہ ہی تحقیقات کو آگے بڑھا سکتی ہیں۔ اس لئے وهاٹس ایپ، وائبر، ٹیلی گرام، هائك اور سگنل جیسے ایپلی کیشنوں پر پابندی لگائی جانی چاہئے۔

Rate this item
(0 votes)
  • Last modified on Thursday, 30 June 2016 05:59
  • font size

Related items