اردو ماس کمیونی کیشن سینٹر کی شروعات

  • Sunday, 05 June 2016 22:24
  • Published in ادبی
اردو ماس کمیونی کیشن سینٹر کی شروعات All images are copyrighted to their respective owners.

اتر پردیش اردو اکیڈمی صحافیوں کاتلفظ درست کرنے کے ساتھ تکنیکی طور پر ماہر بنائے گی

بارہ بنکی: (ایجنسی) اتر پردیش اردو اکیڈمی نئی نسل کے صحافیوں کو اردو صحافت کے میدان میں تکنیکی طور پر ماہر بنانے کے لئے جلد ہی اردو ماس کمیونیکیشن سینٹر شروع کرے گی۔اکیڈمی کا دعوی ہے کہ ایسا کرنے والی وہ ملک کی پہلی اردو اکیڈمی ہوگی۔

اکیڈمی کے نائب صدر نواز دیوبندی نےایجنسیکو بتایا کہ اردو کی باریکیاں جاننے والے صحافیوں کی نسل گزر جانے کی وجہ سے موجودہ اردو صحافت کے سامنے کئی چیلنج ہیں۔ اردو صحافت کی آب اور تاب برقرار رکھنے کے لئے فوری طور پر کوششیں کرنی ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ اردو اکیڈمی نے یہ کام کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے اردو میں ماس کمیونیکیشن کے کئی کورس شروع کرنے کی تیاری تقریبا مکمل کر لی ہے۔اس کے لئے اکیڈمی احاطے میں ویڈیو سٹوڈیو اور آڈیو سٹوڈیو بنانے کا کام زوروں پر ہے۔ امید ہے ۳؍ سے ۴؍ ماہ میں اس سینٹر کا آغاز ہو جائے گا۔

مشہور دیوبندی نے دعوی کیا کہ اترپردیش اردو اکیڈمی اردو ماس کمیونی کیشن کے کورس شروع کرنے والی ملک کی پہلی اکیڈمی ہوگی۔

دیوبندی نے بتایاکہ ہم اردو ماس کمیونی کیشن کے کورس شروع کر رہے ہیں۔ ہمارا مقصد ۶؍ ماہ کے کورس چلانے کا ہے۔ویسے، ۶؍ ماہ میں کوئی بہت بڑی ٹریننگ تو نہیں دی جا سکتی لیکن کسی بھی نوجوان یا پڑھے لکھے شخص کو اردو صحافت کے بنیادی اصولوں اور طور طریقوں کے بارے میں ضرور بتایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ اخبارات میں نئی روح روح پھونکی جائے۔ صحافت میں ایک نئی توانائی پیدا ہو۔ لوگ خبر بھی پڑھیں لیکن ساتھ ساتھ ادب کا مزہ بھی لیں، اس لئے ہم نے سوچا ہے کہ ہم ایسے صحافی اور میڈیا کارکن تیار کریں گے جو جب میدان میں جائیں گے تو لوگ ان کی ذمہ داری کے احساس کو محسوس کریں گے۔

نوازدیوبندی نے کہا کہ کوئی بھی صحافی عملی زندگی میں جا کر ہی کام سیکھتا ہے، لیکن ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ اردو اکیڈمی کے اندر بہترین ویڈیو سٹوڈیو اور آڈیو سٹوڈیو بنائیں، اس میں ایڈیٹنگ کے اوزار لگاجائیں اور پھر نوجوانوں کو۶؍ ماہ کی ٹریننگ دے کر انہیں فیلڈ میں بھیجا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اکیڈمی اینکرنگ، سکرپٹ لکھنے ، خبر لکھنے، ڈائیلاگ لکھنے، ایڈورٹائزمنٹ لکھنے اور ڈیزائننگ جیسے روزگار دینے والے کورس چلائے گی۔

نوازدیوبندی نے کہا کہ عام طور سے اردو والوں کی یہ شکایت ہوتی ہے کہ اردو کو روزگار سے نہیں جوڑا جاتا، ایسے میں اردو اکیڈمی کی یہ کوشش بہت شاندار راستہ بنائے گی۔یہ کورس کرنے کے بعد کوئی بھی شخص صحافت میں، فلموں میں، چینلوں میں اور ریڈیو سروسز میں جا سکے گا۔

نوازدیوبندی نے بتایا کہ ان کورس میں داخلے کے لئے باقاعدہ امتحان لیا جائے گا اور کمزور طبقے کے لوگوں کو خاص ترجیح دی جائے گی۔

Rate this item
(0 votes)