وراٹ کا ٹوٹا خواب، حیدرآباد بنا نیا چیمپئن

  • Monday, 30 May 2016 06:25
  • Published in کھیل
وراٹ کا ٹوٹا خواب، حیدرآباد بنا نیا چیمپئن All images are copyrighted to their respective owners.

ایم چنا سوامی اسٹیڈیم میں آٹھ رن سے دلچسپ فتح کے ساتھ آئی پی ایل۹؍ کا چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا

بنگلور: (ایجنسی) کرشمائی بلے باز وراٹ کوہلی کا رائل چیلنجرز بنگلور کو آئی پی ایل کا چیمپئن بنانے کا خواب ایک بار پھر ٹوٹ گیا اور سنرائزرس حیدرآباد نے بنگلور کے طوفانی آغاز کے باوجودزبردست کی واپسی کرتے ہوئے اتوار کو ایم چنا سوامی اسٹیڈیم میں آٹھ رن سے دلچسپ فتح کے ساتھ تاریخ رقم کرتے ہوئے آئی پی ایل۹؍ کا چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

کرس گیل (۷۶) اور وراٹ (۵۴) نے حیدرآباد کے سات وکٹ پر ۲۰۸؍ رن کے اسکور کا طوفانی انداز میں تعاقب کرتے ہوئے پہلے وکٹ کے لئے ۱۱۴؍ رن کی زبردست افتتاحی شراکت کی لیکن اس شراکت داری کے ٹوٹنے اور وراٹ کے۱۳؍ ویں اوور میں آؤٹ ہونے کے بعد بنگلور کی امیدیں آہستہ آہستہ معدوم ہوتی چلی گئیں. رہی سہی کسر اے بی ڈی ویلیئرس کے محض پانچ رن پر آؤٹ ہونے نے پوری کر دی۔

بنگلور نے ہدف تک پہنچنے کی تمام کوشش کی لیکن حیدرآباد کے گیند بازوں بالخصوص بین کٹنگ نے درست گیندبازی کرتے ہوئے آئی پی ایل ۹؍ کا خطاب حیدرآباد کی جھولی میں ڈال دیا. بنگلور کی ٹیم سات وکٹ پر۲۰۰؍ رن ہی بنا سکی. بنگلور کی اننگز کی آخری گیند پھینکے جانے کے بعد حیدرآباد کے کھلاڑی آئی پی ایل ۹؍ کا نیا چیمپئن بننے کی خوشی میں جشن منانے لگے. فائنل ہر لحاظ سے خطابی مقابلے جیسا رہا اور اس میں ایسا ڈرامائی اتار چڑھاو بھرا کھیل دیکھنے کو ملا کہ اسٹیڈیم میں بیٹھے ۳۵؍ ہزار ناظرین دانتوں تلے انگلیاں دباتے رہ گئے۔

گیل کی محض ۳۸؍ گیندوں میں چار چوکوں اور آٹھ چھکوں سے سجی ۷۶؍ رن کی طوفانی اننگز اور وراٹ ۳۵؍ گیندوں میں پانچ چوکوں اور دو چھکوں سے بنی ۵۴؍ رن کی اننگز بیکار چلی گئیں۔ بنگلور کی ٹیم ۲۰۰۹ء اور ۲۰۱۱ء میں بھی فائنل ہاری تھی اور ۲۰۱۶ء میں بھی دوسرے نمبر پر اکتفا کرنا پڑا۔ حیدرآباد کا۲۰۸؍ رن کا بڑا اسکور اور کٹنگ کے آخری اوور میں مارے گئے ۲۴؍ رن بالآخر بنگلور کی امیدوں پر بھاری پڑ گئے۔

گیل اور وراٹ جب کریز پر تھے تو ایسا لگ رہا تھا کہ بنگلور یہ مقابلہ آسانی سے جیت جائے گا۔ گیل نے اپنے۵۰؍ رن صرف ۲۵؍ گیندوں میں تین چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے پورے کر لیے لیکن کٹنگ نے گیل کو بپل شرما کے ہاتھوں کیچ کرا دیا اور کچھ دیر بعد وراٹ بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز برندر شرن کی گیند پر بولڈ ہو گئے ۔

اے بی ڈی ویلےئرس کو بپل نے موئسس ہینرکس کے ہاتھوں کیچ کرایا جبکہ لوکیش راہل (۱۱) کو کٹنگ نے بولڈ کر دیا۔ شین واٹسن بنگلور کی آخری امید تھے لیکن وہ بھی ۱۱؍ رن بنانے کے بعد مشفق الرحمن کی گیند پر موئسس ہینرکس کو کیچ دے بیٹھے۔ اسٹیورٹ بنی نو رن اور کرس جارڈن تین رن بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔ سچن بے بی ۱۸؍ رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے لیکن آخر میں درکار رن ریٹ اتنا زیادہ ہو چکا تھاکہ اس تک پہنچنا بنگلور کے بس کی بات نہیں رہی۔

بنگلور کو آخری اوور میں جیت کے لیے ۱۸؍ رن چاہیے تھے پر وہ نو رن ہی بن سکی۔ حیدرآباد کے کھلاڑیوں نے آخری گیند پھینکے جانے سے پہلے ہی جشن منانا شروع کر دیا تھا اور چیمپئن بنتے ہی کپتان وارنر اور تمام کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر مبارکباد دی۔ کٹنگ نے ۳۵؍ رن پر دو وکٹ، شرن نے ۴۱؍ رن پر ایک وکٹ، رحمان نے ۳۵؍ رن پر ایک وکٹ اور بپل نے ۱۷؍ رن پر ایک وکٹ لیا جبکہ پرپل کیپ جیتنے والے بھونیشور کمار نے چار اوور میں صرف۲۵؍ رن دیے۔

Rate this item
(0 votes)

Related items