زمین جیسے سیاروں کی دریافت

زمین جیسے سیاروں کی دریافت All images are copyrighted to their respective owners.

 ان تین نئے سیاروں کا ملنا اتنی بڑی بات ہے کہ اب کائنات میں زمین کے علاوہ کسی دوسری جگہ پر زندگی کی تلاش کا مطلب اور امکان دونوں بالکل بدل جائیں گے۔

پیرس:(ایجنسی)سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے زمین کی طرح کے تین ایسے نئے سیارے دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے، جو غالباًقابل رہائش ہو سکتے ہیں اور زمین کے نظام شمسی سے باہر زندگی کی تلاش میں شاید فیصلہ کن مدد کر سکتے ہیں۔

فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ اعلان ایک ایسی نئی ریسرچ کی وجہ سے ممکن ہوا، جس کے نتائج سائنسی تحقیقی جریدے نیچر میں شائع ہوئے ہیں۔

سائنسدانوں کی اس ٹیم نے اپنی سٹڈی کے نتائج میں لکھا ہے کہ یہ تین نودریافت شدہ سیارے ایک ایسے بہت چھوٹے سے اور بہت ٹھنڈے ستارے کے گرد اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں، جو زمین سے صرف ۳۹؍نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تین نئے سیاروں کا ان کی جسامت اور درجہ حرارت کے حوالے سے ممکنہ طور پر ہمارے نظام شمسی کے زمین اور زہرہ جیسے سیاروں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

اس تحقیقی منصوبے کی قیادت بیلجیم کے شہر لِیئیش Liegeکی یونیورسٹی کے فلکیاتی طبعیات کے ماہر میشاعیل گِیلوں Michael Gillon نے کی۔ گِیلوں نے اے ایف پی کے ساتھ گفتگو میں کہا، یہ ہمارے لیے بالکل پہلا موقع ہے کہ ہم اپنے نظام شمسی سے باہر زندگی کا پتہ دینے والے کیمیائی آثار کو تلاش کر سکیں۔

ایسٹرو فزکس پر تحقیق کرنے والے بیلجیم کے اس معروف سائنسدان نے بتایا، ان تینوں سیاروں کے بارے میں امکان یہ ہے کہ وہ اپنی جسامت میں زمین کے عین برابر ہو سکتے ہیں۔ وہ اتنے قریب بھی ہیں کہ ممکنہ طور پر قابل رہائش بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی مقابلتاًکم فاصلے کی وجہ سے ہم اپنی موجودہ خلائی ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاتے ہوئے شاید ان پر پائی جانے والی فضا کا تجزیہ بھی کر سکتے ہیں۔

ان ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس تازہ ترین خلائی دریافت نے سائنسدانوں کو شکار کے لیے ایک ایسی نئی جگہ مہیا کر دی ہے، جہاں سے خلا میں دیگر قابل رہائش سیاروں کی تلاش کا کام جاری رکھا جا سکتا ہے۔

نیچر میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق میشاعیل گِیلوں اور ان کے ساتھیوں نے یہ دریافت ایک ایسی بہت حساس اور خاص طرح کی خلائی دوربین کی مدد سے کی، جسے ٹریپِسٹ TRAPPIST کا نام دیا گیا اور جو جنوبی امریکی ملک چلی میں نصب کی گئی تھی۔

اس مخصوص دوربین کی تنصیب کا مقصد کئی درجن چھوٹے چھوٹے ستاروں کی دریافت تھا۔ یہ ستارے نہ تو اتنے بڑے تھے اور نہ ہی اتنے گرم کہ انہیں خلائی تحقیق میں استعمال ہونے والی عام آپٹیکل دوربینوں کی مدد سے دیکھا جا سکتا۔

اس فلکیاتی مشاہدے کے دوران ماہرین کو اپنے مطالعے کو خاص طور پر ایک ایسے ستارے پر مرکوز کرنے کا موقع ملا، جو اپنی جسامت میں ہمارے سورج کے آٹھویں حصے کے برابر ہے لیکن واضح طور پر ٹھنڈا ہے۔ اس ستارے کو ان ماہرین نے اب ٹریپِسٹ ون TRAPPIST-1 کا نام دیا ہے۔

اس نئے ستارے کے کئی ماہ تک جاری رہنے والے مشاہدے کے دوران ماہرین نے محسوس کیا کہ اس ستارے سے ملنے والے انفراریڈ سگنل وقت کے مقررہ وقفوں کے بعد آہستہ آہستہ کمزور ہو جاتے تھے۔ یہ تبدیلی اس بات کا ثبوت تھی کہ اس ستارے کے مدار میں کوئی نہ کوئی فلکیاتی اجسام پائے جاتے ہیں۔

پھر مزید تجزیوں سے پتہ چلا کہ اس ستارے کے ارد گرد کچھ exoplanets بھی موجود ہیں۔ ایکسوپلینٹ ان سیاروں کو کہتے ہیں، جو زمین کے نظام شمسی سے باہر دوسرے ستاروں کے ارد گرد اپنے مدار میں گھوم رہے ہوں۔

فلکیاتی طبعیات کے یہ ماہرین اب تک یہ معلوم کر چکے ہیں کہ زمین اور زہرہ کی طرح کے لیکن ہمارے نظام شمسی سے باہر دریافت کیے گئے یہ تین نئے سیارے اپنے ستارے کے گرد ایک چکر کافی تھوڑے وقت میں مکمل کر لیتے ہیں۔

ان میں سے سب سے نزدیکی سیارہ اپنے ستارے کے گرد ایک چکر زمینی وقت کے مطابق صرف ڈیڑھ دن میں مکمل کر لیتا ہے، دوسرے سیارے کو اس کے لیے ۲ء۴؍دن درکار ہوتے ہیں جبکہ تیسرا سیارہ، جو مقابلتاًسب سے زیادہ فاصلے پر ہے، ایسا ایک چکر چار دنوں سے لے کر ۷۳؍دنوں تک کے عرصے میں مکمل کرتا ہے۔

ہمارے نظام شمسی میں زمین اپنے محور کے ارد گرد ایک چکر ایک دن میں پورا کرتی ہے جبکہ سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں اسے ایک سال لگتا ہے۔

ان ماہرین کے مطابق ان تین نئے سیاروں کا ملنا اتنی بڑی بات ہے کہ اب کائنات میں زمین کے علاوہ کسی دوسری جگہ پر زندگی کی تلاش کا مطلب اور امکان دونوں بالکل بدل جائیں گے۔

Rate this item
(0 votes)

Related items