بوہرا کمیونٹی کے روحانی پیشوا نےاشاروں میں خواتین کے ختنہ کی حمایت کی

بوہرا کمیونٹی کے روحانی پیشوا نےاشاروں میں خواتین کے ختنہ کی حمایت کی All images are copyrighted to their respective owners.

 اگر وہ آدمی ہے تو اسے کھلے عام کیا جا سکتا ہے۔ اگر عورت ہے خاموشی سے کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ہونا ہی چاہئے

 ملک میں خواتین کا ختنہ کرنے کی روایت کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ فی الحال داؤدی بوہرا کمیونٹی کے روحانی پیشواکے ایک حالیہ بیان سے اس پر پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔

 ممبئی کے بھنڈی بازار کی سیفی مسجد میں تعلیم دیتے ہوئے داؤد بوہرا کمیونٹی مولانامفضل سیف الدین صاحب نے اپنے خطاب میں اشاروں ہی اشاروں میں اس کو فروغ دینے والی بات کہی۔

 چار منٹ کی آڈیو کلپ میںسیدنا کی تقریر کے اس حصہ کو سنا جا سکتا ہے۔ ۵۱؍ ویں سیدنا طاہر سیف الدین کی برسی کے موقع پر دیا گیا ان کی یہ متنازعہ تقریر ایک پیغام رسانی اپلی کیشن سے وائرل ہو رہا ہے۔ داؤد بوہرا سماج کے لوگ اس بارے میں بحث بھی کر رہے ہیں کہ کس طرح سیدنا ان سے یہ دردناک روایت جاری رکھنے کے لئے کہہ رہ رہے ہیں۔

 کلپ میں سیدناکو گجراتی اور اردو میں بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے. وہ کہتے ہیں۔’ہمیں اپنی چیزوں کو مضبوط رکھنا چاہئے، یقین رکھنا چاہئے. بڑے بڑے خود مختار ملک کسی بھی طریقے سے ہماری چیزوں کو تبدیل کرنا چاہتے ہوں تو بھی ہم ان کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ ہونا ہی چاہئے۔ اگر وہ آدمی ہے تو اسے کھلے عام کیا جا سکتا ہے۔ اگر عورت ہے خاموشی سے کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ہونا ہی چاہئے۔ براہ مہربانی سمجھنے کی کوشش کریں کہ میں کس بارے میں بولنا چاہتا ہوں‘۔

 ممبئی کے ایک شخص نے (جو اس وقت مسجد میں موجود تھا) بتایا،’ایک بڑی ا سکرین پر ان کی تقریر کی لائیو نشریات کی جا رہی تھی۔سیدنا ایک اسکرپٹ سے عام تقریر پڑھ رہے تھے جیسا کہ ایسے موقعوں پر کیا جاتا ہے لیکن اچانک وہ پراسرار طریقے سے بات کرنے لگے۔ پہلے تو یہ عجیب لگا لیکن بعد میں ہمیں سمجھ آیا کہ وہ خواتین کے ختنہ کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے’عمل‘ اور’ماملاقات‘ جیسے الفاظ کا استعمال کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مردوں اور عورتوں کی بات کی جس سے صاف ہو گیا کہ وہ ختنہ کے بارے میں بول رہے ہیں۔ ان کی باتیں سن کر میں اور میری بیوی بہت ڈسٹرب ہو گئے‘۔

 سیدنا خاندان کے ایک قریبی دوست نے ایسے تمام الزامات سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا، ’سیدنا عام طور پر باتیں کر رہے تھے، کسی خاص بارے میں نہیں‘۔ لوگ الگ الگ طریقے سے اس کا مطلب نکال رہے ہیں۔ امریکہ میں بوہرا کمیونٹی کی ایک خاتون (۳۶؍ سال) نے کہا،’ابھی ایک ماہ پہلے ہی ہمیں مقامی یونٹ جماعت سے ایک خط ملا، جس میں کہا گیا تھا کہ ہمیں امریکی قانون پر عمل کرنا ہے اور ختنہ نہیں کرانا ہے۔ میں خوش اور پرسکون تھی۔ لیکن ابھی یہ سن کر میں فکر مند ہوں۔

Rate this item
(0 votes)

Related items