ہندوستان نے خود اپنا جی پی ایس نظام قائم کیا

ہندستان نے خود اپنا جی پی ایس نظام قائم کیا All images are copyrighted to their respective owners.

پی ایس ایل وی سی ۳۳؍نیوی گیشن سٹلائٹ کو آندھراپردیش کے سری ہری کوٹہ کے ستیش دھون خلائی مرکز سے چھوڑا گیا

حیدرآباد: (ایجنسی) ہندوسانی خلائی تحقیقی ادارہ (اسرو ) کی جانب سے پی ایس ایل وی سی تینتیس نیوی گیشن سٹلائٹ کو آج دوپہر بارہ بجکر پچاس منٹ پر آندھراپردیش کے سری ہری کوٹہ کے ستیش دھون خلائی مرکز سے چھوڑا گیا ۔ اس کی الٹی گنتی اکاون گھنٹے تیس منٹ تک جاری رہی ۔

اس کو کامیابی سے چھوڑنے کے بعد سائنسدانوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی ۔ اس طرح ہندوستان نے خلائی سٹلائٹ کے شعبہ میں ایک اور اہم پیشرفت کی ہے ۔ اس کو چھورٹے ہوئے ہندوستان اپنے خود کے سٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم کے لئے تیار ہوگیا ہے ۔ یہ ساتواں اور آخری نیوی گیشنل سٹلائٹ ہے ۔

اس سٹلائٹ کو چھوڑنے کے بعد ہندوستان ان اہم ممالک کے گروپ میں شامل ہوگیا ہے جو امریکہ کے جی پی ایس سسٹم کے طرز پر اپنے خود کے ریجنل سٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم رکھتے ہیں ۔ آئی آر این ایس ایس ۔ون جی ان سٹلائٹس کا آخری اور ساتواں سٹلائٹ ہوگا اس طرح اس سٹلائٹ کو چھوڑنے کے بعد آئی آر این ایس ایس سٹلائٹس کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ۔

تاحال ہندوستان نے ۷؍سٹلائٹس میں سے ۶؍ سٹلائٹس آئی آر این ایس ایس، اے ۱؍۔ بی ۱؍، سی ۱؍، ڈی ۱؍، ای ۱؍، ایف ۱؍کو چھوڑا ہے اور یہ اس سلسلہ میں آخری سٹلائٹ ہے ۔

 یہ امریکہ کے گلوبل پوزیشننگ سسٹم کی طرز پر ہوگا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اس سٹلائیٹ کو چھوڑنے کے عمل کا مشاہدہ کیا ۔اسرو کے سائنس دانوں نے اسے ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

Rate this item
(0 votes)

Related items