یکم جنوری ۲۰۱۸ءسے موبائل میں پینك بٹن لازمی

یکم جنوری ۲۰۱۸ءسے موبائل میں پینك بٹن لازمی All images are copyrighted to their respective owners.

 یہ قدم اٹھانے والاہندوستان دنیا میں پہلا ملک بن گیا ہے

نئی دہلی:(ایجنسی) بہبود خواتین و اطفال کی مرکزی وزیر مینکا گاندھی نے موبائل فون میں پینك بٹن لازمی کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے آج کہا کہ ایسا ایپ تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے کم از کم ۱۰؍لوگوں کو مطلع کیا جا سکے۔

محترمہ گاندھی نے یہاں کہا کہ موبائل فون میں پینك بٹن اور گلوبل پوزیشنگ سسٹم لگانے کے نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے جس سے خواتین  کے لئے محفوظ ماحول بنانے میں مدد ملے گی۔ اس سے کسی بھی بحران سے گھری خواتین کو فوری طور پر مدد دینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پینك بٹن سے منسلک  ایک ایسا ایپ تیار کیا جا رہا ہے جو کم از کم دس واقف لوگوں کو بحران کی صورت حال کی اطلاع دے گا۔

  انہوں نے بتایا کہ فیچر فون میں پینك بٹن فون نمبر پانچ یا نو کے ساتھ جوڑا جائے گا اور اسمارٹ فون میں آن - آف سوئچ پینك بٹن کی طرح کام کرے گا۔ اسے تین بار متعینہ وقفہ میں دبانے پر رشتہ داروں کو اطلاع چلی جائے گی۔ موبائل فون جی پی ایس بھی ہوگا جس سے جگہ کا پتہ چل سکے گا۔ ملک میں فروخت ہونے والے تمام موبائل فون میں یکم جنوری ۲۰۱۸ءسے پینك بٹن اور جی پی ایس لازمی ہو جائے گا۔

محترمہ گاندھی نے پینك بٹن اور GPS   لازمی کرنے کو تاریخی قرار دیا اور خواتین کو تحفظ دینے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔

 انہوں نے کہا کہ یہ قدم اٹھانے والاہندوستان دنیا میں پہلا ملک بن گیا ہے۔

Rate this item
(0 votes)