الٹرا سونک لہریں بدن میں ڈیٹا ٹرانسفر کرئینگی

الٹرا سونک لہریں بدن میں ڈیٹا ٹرانسفر کرئینگی All images are copyrighted to their respective owners.

گوشت کے ٹکڑے سے ایچ ڈی ویڈیو اسٹریمنگ کا کامیاب تجربہ

الینوائے:(ایجنسی) امریکی ماہرین نے گوشت کے آر پار ڈیٹا ٹرانسفر کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے اور اس سے انسانی جانوں کو بچانے میں بہت مدد مل سکے گی۔

ماہرین کے مطابق ڈیٹا ٹرانسفر کی جو شرح ہے وہ اتنی زیادہ ہے کہ اس سے ہاتھوں ہاتھ ایک ایچ ڈی ویڈیو (۱۰جی بی )کے برابر ڈیٹا منتقل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے خنزیر کے گوشت اور جگر سے ڈیٹا ٹرانسفر کیا گیا ہے۔

 اس دریافت سے انسانی جسم میں موجود طبی آلات اور پیوند سے رابطہ کرنا اور ڈیٹا حاصل کرنے میں مدد ملے گی جس سے انسانی صحت پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

انسانی جسم میں پیس میکر اور صحت پر نظر رکھنے والے آلات سے ریڈیو فریکوئنسی کے ذریعے رابطہ کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک خرابی ہے کہ جسم کے لئے محفوظ شدہ آر ایف فری کوئنسی ڈالنے سے وہ بدن میں جاکر بکھر جاتی ہے اور درست انداز میں کام نہیں کرتی۔ لیکن الٹراسونک لہروں میں یہ مسئلہ نہیں ہوتا۔ ان لہروں کی وجہ سے ایچ ڈی ویڈیو کے برابر ڈیٹا کو حقیقی وقت ( ریئل ٹائم) میں ٹرانسفر کیا جاسکتا ہے۔

یہ کام الیکٹریکل اور کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر اینڈریو سنگر اور ان کے ساتھیوں نے کیا ہے۔

آج نہیں تو کل ایک چھوٹے کیمرے کو انسانی جسم میں داخل کرکے آنتوں اور دیگر اعضا کی لائیو ویڈیو حاصل کرنا ممکن ہوگا۔

 اس تکینک کے بعد پہلی مرتبہ گوشت کے آرپار اتنی بڑی مقدار میں ڈیٹا ایک جگہ سے دوسرے جگہ بھیجنے میں کامیابی ملی ہے جس سے میڈیکل امیجنگ ، بیماریوں کی شناخت اور علاج میں بہت مدد سکے گی۔

اسی طرح جسم میں گلوکوز مانیٹرز، انسولین پمپس، ضرورت کے وقت دوا خارج کرنے والے بایوچپس اور بہت سے اندرونی آلات کی جسم کے اندر تنصیب اور رابطہ ممکن ہوجائے گا۔

Rate this item
(0 votes)

Related items