کمپیوٹرز سے ڈیٹا چوری کے الزام میں 17 برطانوی گرفتار

کمپیوٹرز سے ڈیٹا چوری کے الزام میں 17 برطانوی گرفتار All images are copyrighted to their respective owners.

لوگوں کے ذاتی کمپیوٹروں سے ڈیٹا چوری کرنے کے الزام میں 17برطانویوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ذاتی

کمپیوٹروں پر قبضہ جماکر ان سے ڈیٹا چوری کرنے والے سوفٹ وئیر استعمال کرنے کے الزام میں دنیابھر میں مارے گئے چھاپوں کے دوران 17 برطانویوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی ( این سی اے) کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں سو پونڈز سے بھی کم قیمت پر آن لائن فروخت کیے جانے والے بلیک شیڈز نامی ٹولزکے ڈیولپرز اور بڑے پیمانے پر اس کا استعمال کنندہ افراد کونشانہ بنایا گیا ہے۔تفتیش کاروں کو یقین ہے کہ برطانیہ میں بلیک شیڈز استعمال کرنے والے افراد کی جانب سے دنیابھر میں تقریباً 2لاکھ سے زائد یوزر نیمز اور پاس ورڈ چوری کیے جانے کا خدشہ ہے۔دھوکہ دہی میں برو ئے کار آنے والے مذکورہ ٹولزمیں ریموٹ سے کام کرنے والا ریٹ (چوہا) نامی آلہ شامل ہے جو سائبر کریمنلز کو اس بات کے قابل بنادیتے ہیں کہ وہ دور رہ کر بھی کسی کمپویٹر پر قبضہ کرلیں اور اس سے ڈیتا اڑاسکیں۔ ان کی مدد سے کسی کے ویب کیمرے تک پہنچ کر اس کے علم میں آئے بغیر اسے کھولنے بند کرنے، تصویریں اتروانے ، داتی فائلوں و دستاویزات تک رسائی سمیت نئی ڈیٹاڈاؤن لوڈ تک کرنے کے امور انجام دئیے جاسکتے ہیں۔ لوگ اس وقت شکار بن جاتے ہیں جب وہ سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر کسی ایکسٹرنل لنکس پر کلک کرتے ہیں۔متاثرہ شخص تو یہ سمجھتا ہے کہ وہ کوئی ویڈیو یو تصویر دیکھ سکے گا لیکن درحقیقت وہ اپنے کمپیوٹرمیں مذکورہ شیطانی ٹول کو ڈاؤن لوڈ کرالیتا ہے۔ اکثر وہ بیشتر نشانے بننے والے افراد کو اس بات کی ہوا تک نہیں لگنے پاتی کے ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ بلیک شیڈز کو تیار کرنے ، تقسیم کرنے اور استعمال کرنے کے الزام میں 16ممالک میں 97افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ 17برطانویوں کو ڈربی شائر، برمنگھم، ہیلزاون ، ولورہیمپٹن اور نیو کاسل سے حراست میں لیا گیا۔ این سی اے کے نیشنل سائبر کرائم یونٹ کے ڈپٹی ڈائرکٹر اینڈی آرکی بیلڈ کا کہنا ہے کہ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں موجودسائبر مجرموں کو یہ بات اچھی طرح معلو م ہونی چاہئے کہ ریموٹ کے ذریعے کیے جرائم پر یہ سمجھنا سخت غلطی ہوگی کے گرفتاری سے بچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیابھر میں ہونی والی گرفتاریوں سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ کسی کوئی کہیں بھی پناہ نہیں ملے گی ، جب قانون نافذ کرنے ادارے مقامی ، قومی اور بین الاقوامی سطح پر اکھٹاہوتی ہیں توپھر کسی کو آخر کہا چھپنے کو جگہ ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

Rate this item
(1 Vote)
  • Last modified on Tuesday, 03 June 2014 22:57
  • font size