×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

درگاہ نجف ہند جوگی پورہ :

May 27, 2014 394

نجیب آباد ( جوگی پورہ )بجنور ضلع کی نجیب آباد تحصیل میں ایک گمنام سا گائوں جو گی رام پوری ہوا کرتا تھا جو آج ساری دنیا میں نجف ہند کے نام

سے پہچانا جا رہا ہے ۔ ایک غیر معروف گائوں کو اتنی شہرت کیسے حاصل ہوگئی اسکی کہانی بڑی دل چسپ ہے ۔بات مغل باشاہوں کے آخری دور کی ہے جب باشاہ وقت کی سختیوں اور عتاب سے بچنے کے لیے ایک بزرگ شخص سید راجو بجنور کے ایک غیر معروف گائوں جو گی رام پوری میں آکر گمنای کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے تھے ۔ سید راجو کی زبان پر بس ایک فقرہ ہر وقت رہتا تھا یا علی ادرکنی ( یا علی میری مدد کو آئیے )وقت گزرتا رہا گائوں والے سید راجو کو ایک دیوانے بزرگ کی حیثیت سے پہچاننے لگے جو بے ضرر تھا ۔اسی گائوں میں ایک چرواہا رہتا تھا جو بینائی سے محروم تھا ۔ اندھا چرواہا اپنے جانوروں کو آس پاس چرا کو گھر واپس آجاتا تھا ۔
    ایک روز چرواہا اپنے جانوروں کو چرانے لے گیا تھا اسی وقت اسکو گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنائی دی تو وہ ڈر گیا۔ گائوں میں گھڑسواروں کی ّآمد سے چرواہا سمجھا کی سید راجو کو ڈھونڈتے ہوے بادشاہ کے سپاہی اسکے گائوں تک پہنچ گئے ۔اندھا چرواہا بھاگ کر کہاں جاتا بس چپ چاپ ایک جگہ ٹھٹک کر کھڑا ہوگیا ۔ آنیوالے نے اس سے پوچھا کی سید راجو کہاں ہیں چرواہے نے کہا صاحب میں اندھا ہوں مجھے نہیں معلوم سید راجو کون ہیں اور کہاں ہیں ۔ آنیوالے نے چرواہے کی آنکھو ںپر ہاتھ پھیرا تواسکی آنکھوں کی روشنی واپس آگئی۔ چرواہے کے لیے یہ کسی چمتکار سے کم نہیںتھا ۔ سامنے کھڑے ہوے شخص نے چرواہے سے کہاکہ سید راجو سے کہہ دینا جس کو وہ پکارتے تھے وہ آئے تھے ۔ آنیوالے نے یہ بھی کہا سید راجو سے کہنا ہمارے لیے ایک روضہ بنوادیں ،کہاں سے پانی ملے گا اور کہاں سے چونا اور کس کنویں سے گندھک کا پانی نکلے گا جو بیماروں کی صحت کے لیے مفید ہوگا یہ ساری ہدایتیں دیکر وہ چلے گئے ۔
    چرواہا دوڑتا ہوا سید راجو کے پاس گیا اور پوارا واقعہ ان سے بیان کیا ۔ سید راجو نے چرواہے کی آنکھوں کی روشنی اور جس مقام پر گھڑسوار آئے تھے وہاں گھوڑے کے پیروں کے نشان دیکھ کر اس بات کی تصدیق کر لی کہ جس علی کو وہ پکارا کرتے تھے وہ انکی مدد کو آئے تھے ۔ سید راجو نے ایک درگاہ تعمیر کرائی اوراسکی مجاوری کرنے لگے ۔ دھیرے دھیرے جو گی رام پوری کی اس درگاہ کی شہرت ہر طرف پھیلتی رہی اور ایک وقت وہ آیا کہ آج ساری دنیا میں جوگی رامپوری کی شہرت نجف ہند جوگی پورہ کے نام سے پھیل چکی ہے ۔ جس جگہ پانی کی سخت قلت تھی وہاں پانی کی فراوانی کا یہ حال ہے جہاں بھی تھوڑا کھودیے ایک ابلتا ہوا چشمہ مل جاتا ہے ۔جو مقام ایک ویرانہ ہوا کرتا تھا آج ایک بہترین آبادی میں تبدیل ہوچکاہے ۔
    نجف ہند جو گی پورہ میں آج حضرت علی کے روضہ کے علاوہ حضرت عباس ، جناب زینب ، جناب سکینہ اور امام حسین کا روضہ بھی عقید مندوں نے تعمیر کرادیا ہے ۔سال بھر زائرین کے آنے کا سلسلہ لگا رہتا ہے ۔ ہر آنے والے کو ایک وقت مولاکا مہمان بناکر کھانا مفت میں کھلا یا جاتا ہے ۔زائرین کے قیام کے لیے بہت سارے کواٹر بن گئے ہیں ۔ زائرین کی مسلسل آمد کی وجہ سے دوکانیں لگ گئیں ہیں جن سے ضرورت کا ہر سامان مل جاتا ہے ۔مئی کے آخر میںچار روزہ مخصوصی کا پروگرام ہوتا ہے جس میں لاکھوں لوگ شریک ہوتے ہیں ۔درگاہ نجف ہند کمیٹی کے نوجوان سکریٹری سید وصال مہدی جو تین سال سے درگاہ کا انتظام بخوبی سنبھال رہے ہیں بتاتے ہیں کہ درگاہ کے فروغ کے لیے اور زائرین کی سہولت کے لیے برابر کام ہورہا ہے ۔ ایسے مخیر لوگ ہیں جو برابر مدد کرتے رہتے ہیں ۔ درگاہ کیمپس میں روضے تو بہت سارے تعمیرہوگئے لیکن ہم سب کا ایک خواب تھا کہ جس پنڈال میں سالانہ مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے وہ ایک بہتر ہال کی شکل میں تعمیر ہوجائے ۔ اﷲنے ہم سبکی اس تمنا کو پورا کردیا ۔ایک خوبصورت اورکشادہ ہال تعمیر ہو گیا ۔درگاہ نجف ہند میں خاموش خدمت گزاروں کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ ہر شخص اپنے انداز میں زائرین کی مدد کرتا رہتا ہے۔ سید علی حیدر زیدی اگر اپنی کوٹھی کو مخصوصی کے دنوں میں رفاہ عام کردیتے ہیں تو سلطان فیبریکیٹر کے مالک سلطان صاحب اپنی ٹیم کے ساتھ مخصوصی کے دوران زائرین کے جوتے چپلوں کو بڑی عقیدت سے حفاظت کرتے رہتے ہیں ۔ سید راجو تو مولا علی کو جوگی پورہ میں بلا کر آج اپنے مزار میں آرام فرماں ہیں لیکن لاکھوںمصیبت زدوں اور پریشان حال لوگوں کی مرادوں کو پورا کرنے کا جہاں ذریعہ بنا گئے وہیں ہزاروں لوگوں کی روزی روٹی کاسامان بھی کرگئے ۔
منظر مہدی فیض آبادی   صدر  اردو پریس ایسو سی ایشن

Last modified on Tuesday, 10 June 2014 12:15
Login to post comments