یماؤ ڈوڈی کا آدم خور

  • Thursday, 03 October 2013 06:25
  • Published in شکاریات
  • Read 2304 times
یماؤ ڈوڈی کا آدم خور All images are copyrighted to their respective owners

یماؤ ڈوڈی کدور ضلع، میسور ریاست کے ایک جنگل میں واقع علاقہ ہے۔ اس کے ایک کنارے پر پہاڑی سلسلہ ہے جس کی سب سے بلند چوٹی ہوگر

خان کے نام سے مشہور ہے۔ یہ سلسلہ ایک اور بڑے پہاڑی سلسلے بابا بُدان کی شاخ ہے۔ بابا بُدان کی بلندی 6500 فٹ تک ہے۔

یہاں ایک عظیم الشان جھیل "مدک" کے نام سے موجود ہے۔ یہ جھیل اس علاقے کے جنوب میں جنگلات پر مشتمل پہاڑوں سے گھری ہے۔ یہاں سے ایک تنگ نالہ بھی نکلتا ہے اور اس نالے کے ساتھ ساتھ پگڈنڈی بھی شروع ہوتی ہے۔ دس میل تک شمال مشرقاً چلنے کے بعد یہ نالہ بیرور سے تین میل پہلے شمال میں ایک اور جھیل میں جا گرتا ہے۔ اس علاقے میں شکار کی کثرت ہے۔ اس سے بھی زیادہ تعداد میں پالتو جانور یہاں ہیں جو دن میں جنگل چرنے کے لئے بھیج دیئے جاتے ہیں اور شام ڈھلے واپس ہانک لائے جاتے ہیں۔

اسی وجہ سے یہ علاقہ شیروں سے بھی پٹا پڑا ہے کیونکہ یہاں سانبھر، چیتل اور جنگلی سور بکثرت ہیں۔ تاہم شکار کی کثرت کے باوجود جلد یا بدیر یہ شیر لاگو ہو جاتے ہیں کیونکہ مویشیوں کا شکار جنگلی جانوروں کی نسبت بہت آسان ہے۔ چرواہے کی طرف سے ہونے والے احتجاج پر یہ توجہ ہی نہیں دیتے۔ بلا مبالغہ ہر روز ایک نہ ایک نہایت عمدہ نسل کی فربہہ گائے یا بیل کی قربانی لازم ہوتی ہے۔ تیندوے بچھڑوں، بکریوں اور آوارہ کتوں کو گاؤں کی سرحد سے پکڑ کر لے جاتے ہیں۔

درحقیقت تیندوں کی تعداد نسبتاً کم ہے اور یہ گاؤں کے آس پاس ہی موجود رہتے ہیں۔ یہ علاقے عموماً شیروں کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔ تیندوں کو بخوبی علم ہوتا ہے کہ شیروں کو ان کی موجودگی پسند نہیں اور اگر داؤ لگ جائے تو شیر انہیں کھانے سے نہیں چوکے گا۔

1946 کے شروع میں اس علاقے کے ایک شیر کی عجیب عادات تھیں۔ اس نے بچھڑوں اور بکریوں سے اپنی شکاری زندگی کا آغاز کیا۔ یہ حملے وہ گاؤں واپس لوٹتے ہوئے ریوڑوں پر کرتا تھا۔ پہلے پہل تو ان حملوں کا ذمہ دار تیندوں کو ٹھہرایا گیا لیکن ایک دن ایک چرواہے نے اس شیر کو حملہ کرتے دیکھ لیا۔ اس دن سے کسی کو شبہ نہ رہا کہ یہ حرکات شیر کی ہی ہیں۔لیکن اس سے قبل لوگ ان حملوں کو تیندوے کی کارستانی گردانتے تھے۔ تاہم ہر جانور کی گردن ٹوٹی ہوئی ملتی تھی جو عموماً شیروں اور چند بڑے تیندوں کی عادت ہوتی ہے۔

یہ نو عمر شیر جلد ہی جوان ہو گیا۔ اسی دوران وہ بے شمار مرتبہ معجزانہ طور پر شکاریوں کی گولیوں سے بھی بچتا رہا۔ یہ شکاری مقامی اور بیرونی، دونوں طرح کے تھے۔ ہر ناکام حملے کے ساتھ ساتھ اس کی مکاری اور چالاکی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ڈیڑھ سال کے بعد یہ شیر ایک ایسا عفریت بن چکا تھا کہ ہر ہفتے کم از کم دو بار اور اکثر تین بار حملہ کرتا اور ہر بار ریوڑ کا سب سے بہترین جانور اس کا شکار ہوتا۔

1948 کے اختتام پر میں چند دوستوں کے ہمراہ اس علاقے میں اس نیت سے آیا کہ کسی تیندوے یا شیر کو مار سکوں کیونکہ میرا ایک دوست الفی رابرٹسن جلد ہی انگلستان واپس جا رہا تھا۔وہ یہ کھال ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔ مجھے اس شیر کی حرکات کی اکثر خبریں ملتی رہتی تھیں۔ میرا خیال تھا کہ چند دن بیرور میں قیام سے میں اس شیر پر بہ آسانی ہاتھ صاف کر لوں گا۔

ہم لوگ بنگلور سے بذریعہ موٹر کار روانہ ہوئے۔ یہ کوئی 134 میل کا سفر تھا۔ بدقسمتی سے میں اس روز شام گئے تک دفتر میں مصروف رہا۔ سڑکیں بدحال تھیں اور تپ تر کے نزدیک حادثہ پیش آیا۔ یہ جگہ بنگلور سے 86 میل دور ہے۔ ہم دوست کی کار پر تھے اور وہ خود کار چلا رہا تھا۔ کار کا پچھلا ٹائر ایک پوشیدہ پتھر سے گذرا اور جونہی وہیل اس کے کنارے پر پہنچا، یہ پتھر سیدھا کھڑا ہو گیا۔ اس کے تیز کنارے سے ایندھن کی ٹینکی میں 9 انچ لمبا سوراخ ہو گیا۔ یہ ٹینکی کار کے بالکل آخر پر لگی ہوئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے 8 گیلن ایندھن بہہ گیا اور کار رک گئی۔

ہمارے پاس اضافی پیٹرول نہیں تھا لیکن تیل سے چلنے والے چولہے ہمارے پاس تھے۔ ان چولہوں کو جلانے کے لئے دو بوتیل پیرافین کا تیل موجود تھا۔ فٹ پیڈل کے ربر کی نلکی کا ایک سرا اس بوتل میں ڈال کر اور دوسرا سرا کاربوریٹر میں ڈالنے کے بعد ہم نے کاربوریٹر میں بھی تیل سے تھوڑی سی پھوہار ماری۔ اب ہم تپ تر تک پہنچ گئے۔ یہاں آ کر ہم نے علاقے کے واحد لوہار کو جگایا۔ اس نے پیرافین کے ڈبے کو کاٹ کر ٹینکی کی مرمت کر دی۔ یہ ڈبہ ایک گھر کے باہر سے ملا تھا۔

اب مسئلہ یہ کھڑا ہوا کہ بقیہ سفر کے لئے ایندھن کہاں سے لیا جائے۔ ہم نے دھکا لگایا اور گاڑی کو شہر کے واحد پیٹرول پمپ تک لے گئے۔ یہاں آ کر معلوم ہوا کہ تیل ختم ہو چکا ہے اور اگلے دن دوپہر سے پہلے تیل کے آنے کے کوئی امکانات نہیں۔

بظاہر ہم تیل کی آمد تک رکنے پر مجبور تھے۔ شہر میں ایک دو لاریاں بھی تھیں۔ ان کے ڈرائیوروں کو جگا کر ہم نے بھاری رقم کے عوض ایک گیلن تیل مانگا۔ یکے بعد دیگرے سب نے انکار کیا کہ ان کے اپنے پاس تیل ختم ہو چکا ہے اور وہ اگلے دن تیل کی سپلائی کا انتظار کر رہے ہیں۔ ارسیکر کا شہر یہاں سے سولہ میل دور تھا جہاں برما شیل کا پمپ موجود تھا۔

صورتحال کافی حوصلہ شکن تھی۔ میں نے تنگ آ کر انتہائی اقدام کا فیصلہ کیا۔ ساڑھے تین بج رہے تھے اور پورا شہر بہت دیر ہوئی گہری نیند سو چکا تھا۔ میں نے الفی کو پیرا فین کا ٹن لانے کو کہا جس کو کاٹ کر ہم نے ایندھن کی ٹینکی کو مرمت کروایا تھا۔ میں نے ربر کا پمپ اٹھایا ہوا تھا۔ اب ہم بیرور میں جاسوسی کی نیت سے نکلے۔ ایک جگہ میں نے اکیلی فورڈ اے ماڈل کی کار کھڑی دیکھی۔ الفی کو نگرانی پر چھوڑ کر میں کار کی دوسری طرف سے آگے بڑھابونٹ تک پہنچ کر میں نے ٹینکی کا ڈھکن کھولا اور ربر کا پائپ اس میں ڈال کر تیل نکالنا شروع کر دیا۔ اس دوران ٹن میرے گھٹنوں میں دبا ہوا تھا۔ اسی طرح دو چکر لگا کر میں نے کافی پیٹرول جمع کر لیا۔ اس پیٹرول کو پیرافین سے ملا کر ہم نے ارسیکر تک پہنچنے کا بندوبست کر لیا۔ یہاں پہنچ کر ہم نے مزید پیٹرول خریدا۔

نتیجتاً ہم لوگ ساڑھے سات بجے اپنی منزل پر جا پہنچے۔ ہم قصبے کے درمیان سے گذر کر مزید دو میل گئے ہوں گے کہ اچانک ایک کھیت میں ہمیں گدھ جمع ہوتے دکھائی دیئے۔ میرے دوست نے تصاویر بنائیں جب کہ میں تفتیش کی نیت سے ادھر گیا تاکہ گدھوں کی موجودگی کی وجہ جان سکوں۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ یہ ایک نو عمر بیل تھا جسے تیندوے نے بالکل سڑک کے کنارے موجود جھاڑیوں کی باڑ نما جگہ کے ساتھ مارا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ یہ تیندوے کا شکار ہے۔ لاش کے گلے پر موجود نشانات اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ تیندوے نے بیل کو گلا گھونٹ کر مارا تھا۔ گردن کی ہڈی صحیح و سلامت تھی۔ اگر شیر نے اسے مارا ہوتا تو یہ گردن ٹوٹی ہوئی ملتی۔ اس کے علاوہ لاش کا نچلا حصہ کھایا گیا تھا جبکہ انتڑیاں وغیرہ ابھی اندر ہی تھیں جو تیندوے کے شکار کو ظاہر کرتی ہیں۔ شیر ایک ایسا جانور ہے جو نہایت صفائی سے پیٹ بھرتا ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ پہلے جانور کے پچھلے حصے میں شگاف ڈالتا ہے اور انتڑیاں اور اوجھڑی وغیرہ نکال کر عموماً دس فٹ دور جا پھینکتا ہے تاکہ اس کی خوراک لاش کے فضلے سے خراب نہ ہو ۔

اس خوش قسمتی پر ہم بہت مسرور ہوئے اور لاش کو گدھوں سے چھپانے کے لئے ہم نے اس باڑ سے دور کچھ جھاڑیاں اور شاخیں توڑیں اور ان کی مدد سے لاش کو ڈھانپ دیا۔ اس کے بعد میں نے اس باڑ میں کمین گاہ بنائی جہاں سے شکار بالکل ہی سامنے تھا۔ گذشتہ رات کی پریشانی کے بعد اب تیندوے کو مارنے کے اتنے یقنی موقعے کی وجہ سے الفی کو سب کچھ بھول چکا تھا۔ بس صرف تیندوے کے شام کو واپس لوٹنے کی دیر تھی۔

اب کچھ دور جا کر ہم نے کھانا کھایا اور پھر سو گئے تاکہ شام کے لئے تازہ دم ہوں۔ پانچ بجے ہم لاش پر واپس لوٹے اور جھاڑیاں وغیرہ ہٹا دیں۔ الفی کمین گاہ کے اندر گھس گئے۔ ان کے پاس ٹارچ، رائفل، کمبل اور پانی کی بوتل تھیں جبکہ میرے ذمے کار کو واپس بیرور لے جانا تھا۔ ابھی میں روانہ ہونے ہی والا تھا کہ ایک چرواہا پھولی سانس کے ساتھ ہمارے پاس آیا۔ اس نے بتایا کہ اس ایک بڑی ددھیل گائے کو شیر نے نصف گھنٹہ قبل ہی مارا ہے اور یہ جگہ کوئی میل بھر دور ہے۔

میں نے فیصلہ الفی پر چھوڑا۔ کیا وہ تیندوے کا شکار کرنا چاہیں گے جو کہ یقینی تھا یا وہ شیر پر قسمت آزمائی کریں گے؟ انہوں نے یہ سوچتے ہوئے کہ اگر وہ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے، انہوں نے شیر پر قسمت آزمانے کا سوچا۔ اب ہم سب اس جگہ روانہ ہو گئے جہاں گائے ماری گئی تھی۔ نصف میل پر ہی چرواہے نے ہمیں رکنے کا کہا۔ اب ہم سارا سامان اٹھا کر اس کے پیچھے پیچھے جنگل میں گھس گئے۔

ہمیں دور نہ جانا پڑا۔ تین فرلانگ پر ہی ہمیں لاش مل گئی۔ یہ ایک عمدہ نسل کی ددھیل گائے تھی۔ اس کی گردن توڑ کر ہلاک کیا گیا تھا اور ابھی تک اس کے ناک سے خون کے بلبلے نکل رہے تھے۔ شیر نے اسے ابھی تک چکھا بھی نہ تھا، شاید چرواہے کے شور کی وجہ سے یا پھر دیگر بھینسوں نے شیر کو بھگا دیا ہو۔

چھ بج رہے تھے اور تیزی سے اندھیرا چھاتا جا رہا تھا۔ بدقسمتی سے اس جگہ پر کوئی درخت نہ تھا۔ چند منٹ کی سوچ بچار کے بعد ہم نے طے کیا کہ یا تو شکار کا خیال دل سے نکال دیں یا پھر زمین پر ہی رہ کر شیر کو گولی ماریں۔

الفی اس وقت اتنے تنک ہو رہے تھے کہ شکار کو چھوڑنے کی بات ہی کرنا فضول تھا۔ چرواہے کی مدد سے میں نے کچھ شاخیں توڑیں اور ایک کمین گاہ سی بنا لی۔ ہم سب اس میں ساڑھے چھ بجے بیٹھ گئے۔

اب تقریباً مکمل تاریکی چھا چکی تھی اور پندرہ منٹ بعد ہی پچیس گز دور موجود گائے کی لاش دھندلکے میں گم ہو گئی۔ اگرچہ آج کل چاندنی راتیں نہیں تھیں لیکن پھر بھی تاروں کی روشنی میں ہمیں کچھ دور تک دکھائی دے رہا تھا۔ البتہ گائے کی لاش ہماری نظروں سے اوجھل تھی۔ ایک گھنٹہ گذرا کہ نصف میل دور سے ہمیں اکیلے گیدڑ کی آواز سنائی دی۔ اکیلا گیدڑ جنگل کا ایک عجیب اسرار ہے۔ عموماً گیدڑ غول کی شکل میں گاؤں اور قصبوں کے آس پاس منڈلاتے پھرتے ہیں۔ ان کی آواز کورس کی شکل میں ہوتی ہے اور وہ اپنے لیڈر کی آواز کے جواب میں بولتے ہیں۔ اس آواز سے ہندوستان میں رہنے والے تمام افراد بخوبی واقف ہیں۔ یہ کچھ ایسی ہوتی ہے: اُووووہ! اوووئیر؟ اوو وئیر؟اوو وئیر وئیر وئیر؟ ہیئر! ہیئر! ہیئر! ہی ی ی ئر! ہی ی ی ی ی ر! ہی ی ی ی جاہ! ہی ی ی یاہ! ہی ی ی ی ی یاہ! ہیئر ہیئر ہیئر ہیئر ہی ی ی ی یاہ۔ یاہ! یاہ! یاہ۔

اکیلا گیدڑ تاہم ہر اعتبار سے ایک عام گیدڑ ہی ہوتا ہے۔ تاہم اس کی آواز مختلف ہوتی ہے۔ یہ آواز ایک لمبی اور اپنی نوعیت میں ایک انوکھی آواز ہوتی ہے۔ بلا آہ۔ با آ وو آہ، کی وجہ سے ہی اسے یہ شہرت ملی ہے۔ اس آواز اور جنگل کی بھوت پریت کی اور توہم پرستی کی عادات کی وجہ سے اس کے بارے کئی داستانیں مشہور ہیں۔ پہلی داستان کے مطابق یہ گیدڑ کسی شیر یا عموماً تیندوے کا ہم رکاب بن جاتا ہے۔ یہ گیدڑ اپنے ساتھی کو اپنی عجیب آواز کی مدد سے کسی شکار تک لے جاتا ہے اور اس کی آواز اس شکاری کو یہ درخواست کرتی ہے کہ جب وہ اپنا پیٹ بھر چکیں تو پھر اس گیدڑ کے لئے کچھ نہ کچھ کھانا باقی بچا دیں۔ دوسری داستان کے مطابق یہ گیدڑ خود کو کسی درندے سے منسلک کر دیتا ہے۔ پھر یہ گیدڑ اس درندے کا محتاط ہو کر پیچھا کرتا ہے تاکہ اسے باقاعدگی سے اُس درندے کے مارے ہوئے شکاروں سے غذا ملتی رہے۔ تاہم، جو بھی وجہ ہو، اس اکیلے گیدڑ کی آواز عموماً کسی شیر یا تیندوے کی آمد سے وابستہ ہوتی ہے۔ میرا ذاتی مشاہدہ بھی اس بات کی دلالت کرتا ہے۔

پس، اس رات بھی ہمیں اکیلے گیدڑ کی آواز نے یہ اطلاع پہنچائی کہ شیر آنے والا ہے۔ یہ بات اتنی یقینی تھی جیسے کہ ہم نے شیر کو خود آتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔ دس منٹ گذرے اور پھر ہم نے "اوفا، اوف! اوف!" کی آواز بھینس کی لاش کے عقب سے آتی ہوئی سنی۔ شیر پہنچ گیا۔ آہستگی سے میں نے الفی کی ٹانگ کو ٹہوکا دیا۔ مگر الفی پہلے سے ہی تیار تھے۔ وقت گذرتا رہا اور ہمیں گھاس پھونس کی طرف سے ہلکی سی آواز سنائی اور پھر گھسیٹے جانے کی آواز آئی۔

الفی نے ٹارچ کا بٹن دبایا اور تیز روشنی ٹارچ سے نکل کر پھیل گئی۔ بدقسمتی سے انہیں یہ درست اندازہ نہ ہو سکا کہ لاش کس جگہ موجود تھی۔ انہوں نے جہاں ٹارچ کی روشنی ڈالی، وہ لاش سے کچھ بائیں جانب تھی۔ یہ تنبیہ شیر کے لئے کافی تھی۔ اس نے "ارر۔۔۔اُوف۔۔۔ ارر۔۔۔ اُوف" کی آواز نکالی اور جست لگا کر جھاڑیوں میں گھس گیا۔ ہم ایک گھنٹہ مزید رکے رہے تاہم مجھے معلوم تھا کہ ہم وقت ضائع کر رہے ہیں اور شیر اب نہیں آنے کا۔ گھنٹہ بھر کے بعد ہمیں مدھم سی "آؤنگھ، آؤنگھ، اوووں" کی آواز آئی جب شیر میل بھر دور ایک چٹان سے گذر رہا تھا۔

خود کو کوستے ہوئے ہم نے سامان سمیٹا اور واپس گاڑی کی طرف آئے تو علم ہوا کہ الفی سے گاڑی کی چابی گم ہو گئی ہے۔ اسے تلاش کرنے کے دوران لنگا دھالی سے آنے والی بس گذری۔ اس کے بعد الفی نے چابی تلاش کر لی۔ اب ہم بس کے پیچھے روانہ ہوئے۔

اس جگہ پہنچ کر، جہاں ہم نے تیندوے پر گھات لگانے کے لئے کمین گاہ بنائی تھی، دیکھ کر ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بس کی بتیوں کی روشنی میں ہمیں تیندوے کی آنکھیں چمکتی ہوئی دکھائی دیں۔ شاید تیندوا واپس آ کر اپنا شکار اڑا رہا تھا۔ اسی وقت ہی بس ڈرائیور نے تیندوے کی چمکتی آنکھیں دیکھیں اور زور سے بریکیں لگائیں۔ بس رک گئی اور اس کے پیچھے گرد کا بادل بھی اٹھ کر ہمارے اطراف میں چھا گیا۔

الفی اور میں نیچے اترے اور چل کر بس کی دوسری طرف پہنچے۔ یہاں ہمیں تیندوا لاش کے پیچھے چھپا ہوا کھیت کے درمیان میں نظر آیا۔ انہوں نے گولی چلائی اور "آررر۔۔ آرہ" کی آواز آئی اور تیندوا فضاء میں اچھلا۔ نیچے گرتے ہی تیندوا بجلی کی سی تیزی کے ساتھ کھیت کو عبور کر گیا۔

ہمیں بہت دیر ہو چکی تھی کہ ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ دراصل ہمیں چاہیئے تھا کہ ہم الفی کو دوبارہ کمین گاہ میں چھپا دیتے اور پھر بس اور کار دونوں روانہ ہو جاتیں۔ یقیناً چند ہی منٹ بعد تیندوا واپس آتا اور الفی کو بہت عمدہ موقع مل سکتا تھا۔ تاہم یہ میری غلطی تھی اور اب ہمارا سامنا ایک زخمی تیندوے سے تھا۔

تاہم اب افسوس کرنا بیکار ہوتا۔ ہم بیرور کو لوٹے اور رات ہم نے مسافر بنگلے میں گذاری۔ اگلی صبح ہم واپس اس جگہ پلٹے اور ہم نے مدھم سے خون کے نشانات تلاش کر لیے۔ یہ نشانات کھیت کے تقریباً دوسرے سرے سے شروع ہوئے تھے۔ جب ہم جھاڑیوں میں گھسے تو یہ نشانات زیادہ ہو گئے۔

اب ہمارے سامنے ایک بہت مشکل کام تھا۔ تیندوا کا زخم بظاہر پہلو میں تھا کیونکہ گولی لگنے کے بعد خون کے بہنے اور پھر زمین پر گرنے میں کچھ وقت لگا۔ اس کے بعد یہ بہاؤ تیز ہو گیا اور تیندوا گھنی کانٹے دار جھاڑیوں میں گھس گیا۔ یہاں تیندوے کا تعاقب جاری رکھنے کے لئے ہمیں گھنٹوں اور کہنیوں کے بل رینگنا پڑتا۔ یہاں ہمیں ایک پرانی جنگلی سوروں کی گذرگاہ ملی۔ تیندوا بھی یہاں سے گذرا تھا کیونکہ یہاں خون کے نشانات بکثرت تھے۔

کہنیوں اور گھٹنوں پر چلتے ہوئے اور اپنی اعشاریہ چار سو پانچ بور کی بھری ہوئی ونچسٹر رائفل کو دھکیلتے ہوئے میں آگے بڑھتا رہا۔ الفی میرے پیچھے تھے تاکہ وہ مجھے عقب یا اطراف سے ہونے والی حملے سے بچا سکیں۔ اسی طرح ہم کوئی پچھتر گز بڑھے ہوں گے کہ اچانک بغیر کسی تنبیہ کے ہم نے تیندوے کو حملے کے لئے اگلے موڑ پر تیار پایا۔ یہاں نشانہ خطا ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔ وہ بمشکل اتنی دور تھا جتنا کہ رائفل کی نال لمبی تھی۔ نرم سرے والی گولی نے اس کی کھوپڑی کو پاش پاش کر دیا اور اس کی کھوپڑی کے عقبی حصے کو اڑا لے گئی۔ وہ میرے قدموں میں موت سے ہمکنار ہوا اور اس کے سر کے زخم سے مغز بہتا رہا۔

ہم مزید دس دن تک بیرور رکے رہے تاہم اس دوران صرف ایک اور جانور مارا گیا۔ یہ واقعہ ساتویں دن کو دوپہر سے ذرا قبل ہوا۔ یہ جگہ یمائی ڈوڈی سے چھ میل دور تھی۔ جب ہمیں اطلاع ہوئی اور ہم اس جگہ پہنچے تو شام ڈھل چکی تھی۔ چونکہ انہوں نے لاش کو چھپانے کے لئے کوئی کوشش نہ کی تھی، گدھوں نے اسے چٹ کر ڈالا تھا۔ اس جگہ سے چالیس گز دور ایک درخت موجود تھا جس پر الفی نصف شب تک ٹارچ اور رائفل کے ہمراہ بیٹھے رہے لیکن شیر نہ آیا۔

اس کے علاوہ مزید کچھ نہ ہوا۔ گیارہویں دن ہم بنگلور واپس لوٹے۔

وقت گذرتا رہا۔ ایک تاریک رات تھی جب لنگا ڈھالی سے آنے والی سڑک پر کار شکاری گشت پر تھے۔ یہ شکاری کار میں بیٹھے ہوئے نہایت طاقتور برقی سرچ لائٹوں کی مدد سے شکار کرتے تھے۔ انہیں جنگل، قدرت اور قدرتی مناظر کی الف بے کا علم بھی نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس بارے کچھ جاننا چاہتے تھے۔ ان کے لئے شکار کی اصل روح یہی تھی کہ جنگل میں سڑک پر گذرتے ہوئے ٹارچ کی روشنی ڈالتے جاتے تھے۔ جہاں بھی انہیں انتہائی طاقتور برقی سرچ لائٹوں سے کوئی چمکتی ہوئی آنکھیں دکھائی دیتیں، وہ اپنی بندوقیں اور رائفلیں اس پر خالی کر دیتے۔ انہیں یہ غرض نہ تھی کہ وہ کسی مادہ کو مار رہے ہیں یا کسی بچے کو۔ انہیں یہ بھی غرض نہ ہوتی تھی کہ ان کی گولی سے جانور مرا ہے یا زخمی ہو کر نکل گیا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں کہ شکار کے قوانین اس طرح کی حرکات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے لیکن یہ حرکات ہوتی رہی ہیں۔

اس رات انہوں نے ایک جگہ بیرور سے چار میل دور شیر کی چمکتی ہوئی آنکھیں دیکھیں جو سڑک کے کنارے جھاڑیوں میں چھپا ہوا تھا۔

دو گولیاں چلیں اور شیر نے جست لگائی اور یہ جا وہ جا۔ ایک گولی سے اس کا جبڑہ ٹوٹ چکا تھا جبکہ دوسری گولی خالی گئی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ان شکاریوں نے نیچے اتر کر دیکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی اور آگے روانہ ہو گئے تاکہ کہیں اور کوئی آنکھیں دکھائی دیں تو وہ انہیں مار سکیں۔ اگلے دن واپس آ کر انہوں نے شیر کا پیچھا کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔

یقیناً اگلے دو ماہ اس زخمی شیر نے انتہائی کرب میں گذارے ہوں گے اور نہ ہی وہ پیٹ بھر کر کھا سکا ہوگا۔ اس کا جبڑے کا زخم مندمل تو ہو چکا تھا لیکن اس کی مدد سے وہ اب جانوروں کو ہلاک کرنے کے قابل نہ رہا تھا۔ اس لئے وہ اب جانوروں اور مویشیوں سے اپنا پیٹ بھرنے سے معذور ہو چکا تھا۔

تین ماہ بعد، ایک دن اس نے ایک ریوڑ سے ایک بکری مارنے کی کوشش کی۔ یہ ریوڑ چرنے کے لئے جنگل میں بھیجا گیا تھا۔ اس نے نہایت احتیاط سے گھات لگائی اور جب وہ ایک موٹی تازی بکری پر جھپٹا ہی تھا، اس نے بکری کو گردن توڑ کر مارنے کی بجائے پنجہ مار کر ہلاک کیا۔ اتفاق سے چرواہا نزدیک ہی موجود تھا اور اس نے اپنی لاٹھی شیر پر پھینک ماری۔ لاٹھی اتفاق سے شیر کو جا لگی۔ غصے سے پاگل شیر نے چرواہے پر چھلانگ لگائی اور اس کو بھی پنجہ مارا اور اس کی کھال چھیل دی۔ اس کی درد میں ڈوبی ہوئی چیخ ادھوری ہی رہ گئی کہ دوسرے پنجے میں شیر نے اس کا کام تمام کر دیا۔ اس بار اس کے پنجے کی ضرب سے چرواہے کی کھوپڑی انڈے کی طرح پچک گئی۔

چرواہے کے مرتے ہی اب شیر کے سامنے دو شکار تھے۔ ایک انسانی لاش اور ایک بکری کی لاش۔ اس نے انسان کو کھانے سے کچھ گریز کیا۔ اس نے بکری کا رخ کیا اور اسے گردن سے پکڑ کر جنگل کی طرف چلا۔ چند ہی قدم چلنے کے بعد، بغیر کسی معقول وجہ کے، شیر واپس پلٹا اور بکری چھوڑ کر آدمی کو اٹھا کر گھنی جھاڑیوں میں گھس گیا۔

اس طرح یمائی ڈوڈی کے خوفناک آدم خور کا جنم ہوا۔ پورے علاقے میں خوف اور دہشت کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے بعد اڑھائی سو مربع میل کے رقبے میں اس نے انسانی جانوں کا خراج لینا شروع کر دیا۔ یہ علاقہ شمال میں بیرور، لنگا ڈھالی اور بھگواڈ کٹے، مغرب میں سنتاویری جو کہ بابا بدان کے سلسلے کے پہاڑوں میں تھا، جنوب میں آئرن کیری جھیل سے ہوتا ہوا سیکری پنتہ اور پھر بیرور تک پھیلا ہوا تھا۔

چونکہ انسانی ہلاکتیں باقاعدگی سے ہونے لگیں، ان کے درمیان بالعموم یکساں فاصلہ ہوتا اور ہر شکار گردن توڑنے سے نہیں بلکہ پنجے کی ضرب سے مارا جاتا۔ اس کے علاوہ وہ لاشیں جن پر شیر دوبارہ نہ لوٹا، ان کے معائنے سے صاف ظاہر تھا کہ ان سے گوشت اس طرح سے کھایا گیا ہے کہ شیر کا اوپری جبڑا تو ٹھیک تھا لیکن نچلا جبڑہ بالکل کام کرنے کے قابل نہ رہا تھا۔ یعنی شیر گوشت اتارنے کا کام اب منہ سے نہیں بلکہ پنجوں کی مدد سے کرتا تھا۔

آدم خور کے ظہور کے ساتھ ہی اس علاقے میں نہایت سرگرم مویشی خور کی حرکات اچانک ہی بند ہو گئیں۔ ظاہر تھا کہ یہ مویشی خور ہی زخمی ہو کر آدم خور بنا ہے۔ کچھ عرصے تک تو کار شکاریوں کے شیر کو زخمی کرنے کی خبر کسی کو نہ ہوئی۔ تاہم پھر ان میں سے ہی ایک کسی دن یہ بک دیا کہ انہوں نے ہی بیرور لنگا ڈھالی سڑک پر شیر پر گولی چلائی تھی اور اسے زخمی کر دیا تھا۔ ان تمام حقائق کو اکٹھا کرنے سے جو کہانی ترتیب پائی، وہ آپ نے ابھی پڑھی۔

جیسا کہ میں نے پہلے بتایا، اس شیر کی سرگرمیاں ان علاقوں میں باقاعدگی سے ہوتی تھیں۔ وہ دیہاتوں اور وادیوں کی بیرونی حدوں میں شکار کرتا۔ یہ معلومات میں نے مقامی اخباروں میں شیر کی ہلاکت خیزی کو پڑھ کر اور پھر اپنے بنائے ہوئے مقامی نقشے پر ہر ہلاکت کے مقام اور تاریخ درج کرنے سے اخذ کی تھیں۔

اس علاقے کے مرکز کو شیر نے اپنی سرگرمیوں کا محور بنایا ہوا تھا۔ یہ جگہ پتھریلی اور گھنے جنگلات سے بھری ہوئی ہے۔ اس کے اوپر ہوگر خان نام کا ساڑھے چار ہزار فٹ بلند پہاڑ ہے۔ میں نے اندازہ لگایا کہ یہ ڈھلوان ہی شیر کی رہائش گاہ ہے اور یہاں کوئی انسان نہیں آباد۔ یہاں سے وہ آس پاس کے آباد علاقوں میں جا کر شکار کرتا ہے۔ نقشے کو دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ہر تیسرے یا چوتھے مہینے یہ شیر واپس اسی جگہ لوٹتا ہے جہاں اس نے پہلے شکار کیا ہوتا تھا۔ اس وقت تک کل ہلاکتیں ستائیس ہو چکی تھیں۔

اسے مارنے کے سلسلے میں میں نے ہوگر ہالی نامی گاؤں کو مستقر بنانے کا سوچا۔ یہ جگہ بیرور اور لنگا ڈھالی کے تقریباً درمیان میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ یہ جگہ ہوگر خان سے ساڑھے تین میل دور ہے۔ ہوگر خان کے دامن سے ڈھلوانی جنگل یہاں تک پہنچتا ہے۔ میں نے اس جگہ کو اس وجہ سے چنا کہ میں اس جنگل اور آس پاس کے علاقے کی جغرافیائی صورتحال سے بخوبی واقف تھا۔ اس کے علاوہ میں مقامی افراد کو بھی اچھی طرح جانتا تھا اور ان کا تعاون پا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ ہوگر ہالی کا گاؤں ہوگر خان سے نزدیک تھا جہاں میرے اندازے کے مطابق شیر رہتا تھا۔ ہر بار جب شیر یہاں سے گذرا تو اس نے ایک نہ ایک انسانی جان کی قیمت اس گاؤں سے وصول کی۔ یعنی اس طرح بھی یہ گاؤں آدم خور کی یقینی واپسی کا امکان رکھتا تھا۔

میں اس گاؤں شیر کے سہ ماہی چکر سے پورے دو ہفتے قبل پہنچا۔ دو سے چھ ہفتے کے دوران شیر کا ادھر سے گذر یقنی تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں اس دوران اس علاقے سے اچھی طرح واقفیت پیدا کر لوں اور لوگوں سے بھی ہر ممکن معلومات لے سکوں تاکہ اس آدم خور کو مارنے کی ہر ممکن کوشش کر سکوں۔

یہ گاؤں نسبتاً بڑا ہے لیکن اس کی آبادی اتنی زیادہ نہیں۔ یہاں لوگ مستقل بنیادوں پر رہتے ہیں۔ یہ سرخ رنگ کے پتھر اور مٹی سے بنائے جاتے ہیں جو یہاں عام ملتے ہیں۔ یہ پتھر ہتھیلی سے لے کر کئی فٹ تک سائز کے ہوتے ہیں۔ یہ گھر چھوٹے بڑے ہر قسم کے سائز کے ہوتے ہیں۔ ہوگر ہالی بہت قدیم آبادی ہے اور یہاں دو پرانے مندر بھی موجود ہیں۔ اس کے مغرب، شمال مغرب اور جنوب مغرب میں گھنے جنگلات ہوگر خان تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے جنوب میں ایک خوبصورت اور بڑی جھیل ہے جو سردیوں میں مرغابیوں، جنگلی بطخوں اور ٹیلوں سے بھری ہوتی ہے۔ اس کے جنوب میں ایک راستہ تین میل دور یمائی ڈوڈی کے نالے تک جاتا ہے۔ جنوب مغرب میں کیلے اور ناریل کا ذخیرہ ہے۔ سارے ذخیرے میں پان کی گھنی بیلیں بھی ہیں جس کے پتوں کو پورے ہندوستان میں چبایا جاتا ہے۔ یہ علاقہ نمدار زمین سے بھرا ہوا ہے اور جنوب سے جھیل کا پانی یہاں آبپاشی کے لئے آتا ہے۔ ہوگر ہالی سے مزید جنوب میں چاول کے چند کھیت ہیں۔ مزید جنوب مشرق اور مشرق کی جانب بنجرکھیت ہیں جہاں صرف برسات میں ہی کاشت ہوتی ہے۔ یہ کھیت ڈیڑھ میل دور بیرور لنگا ڈھالی سڑک تک پھیلے ہوئے ہیں۔

جیسا کہ آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ زیادہ تر وارداتیں مغرب، جنوب مغرب اور شمال مغرب میں ہوئی تھیں۔ دو وارداتیں اس ذخیرے کے عین درمیان میں ہوئی تھیں جن میں سے ایک ذخیرے کے مالک کا کزن تھا۔ زیادہ کھلے علاقے سے آدم خور نے احتراز کیا تھا۔ اس کے علاوہ زیادہ تر وارداتیں دن ڈھلے ہوئی تھیں۔ ان کے بعد سے مقامی لوگوں نے دن ڈھلے سے ہی خود کو گھروں میں مقید کر دینا شروع کر دیا تھا۔ شیر کے بکثرت پگ بھی دکھائی دیتے تھے جب وہ علی الصبح گاؤں میں داخل ہوتا تھا۔ تاہم مضبوط بنے ہوئے گھروں اور لکڑی کی موٹے دروازوں کی وجہ سے ابھی تک شیر کسی سوئے ہوئے فرد کو نقصان نہ دے پایا تھا۔

ان حالات میں کوئی خاص منصوبہ بنانا ناممکن تھا۔ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ ایک بار آدم خور نے یہاں کسی کو لقمہ بنا لیا، پھر وہ تین چار ماہ کے لئے گم ہو جائے گا۔ بطور ایک انسان، میرے لئے یہ اندازہ کرنا نا ممکن تھا کہ اب کے شیر کس جگہ اور کسے ہلاک کرے گا۔ واحد حل یہ تھا کہ میں خود کو شیر کے لئے بطور چارہ پیش کرتا۔ آپ کے خیال کے عین مطابق میں اس طریقہ کار کو اپنانے کے لئے گریز کر رہا تھا۔ تاہم یہ واحد راستہ بچا تھا۔

ایک ہفتہ انہی معلومات کو اکھٹا کرنے، ہر واردات کی تفاصیل اور پھر جائے واردات کے معائینے میں ہی گذر گیا۔ آدم خور کے اگلے چکر کے لئے وقت بہت تیزی سے قریب آتا جا رہا تھا۔

مجھے معلوم ہوا تھا کہ مغرب کی جانب ہونے والے زیادہ تر شکار یا تو لکڑہارے تھے یا پھر چرواہے جو اپنے مویشی چرا رہے تھے۔ تاہم کسی بھی مویشی کو آدم خور نے چھوا تک نہیں تھا۔ البتہ کبھی کبھار مقامی تیندوا مویشیوں سے اپنا حصہ وصول کرتا رہتا تھا۔ اسی دوران ایک نیا خیال میرے ذہن میں ابھرا۔ بلا شبہ یہ ایک انتہائی دانش مندانہ خیال تھا۔ گھنی جھاڑیوں میں نصف میل دور میں نے ایک مضبوط درخت چنا تاکہ اس پر ایک کرسی کو شاخوں کے درمیان پندرہ فٹ کی بلندی پر بندھوائی جا سکے۔یہ اتنی بلندی ہے کہ شیر کی جست بھی اس تک نہ پہنچ سکے۔ اس کے بعد میں نے لکڑی کا ایک مضبوط ٹکڑا لیا جو چھ فٹ لمبا اور تین انچ موٹا تھا۔ اس کو زمین پر ایک سرا ٹکا کر دوسرے کو درخت کے تنے سے ٹکا کر رسی سے اپنے پاؤں سے باندھ دیتا۔ اس طرح میں بالکل تیار ہو کر بیٹھتا اور میرے پاؤں کی معمولی سی حرکت سے یہ لکڑی درخت کے تنے سے ٹکرا کر ایسی آواز پیدا کرتی جو عموماً لکڑہارے پیدا کرتے ہیں اگرچہ یہ آواز نسبتاً نیچی ہوتی۔ جب ایک پاؤں تھک جاتا تو میں دوسرا پاؤں اس مقصد کے لئے استعمال کرتا۔ جب چاہتا میں رسی کو ہاتھ میں لے کر میں اسے زیادہ دور تک کھینچ کر زیادہ آواز پیدا کر سکتا تھا۔ خود کو دھوپ سے بچانے کے لئے میں نے اپنے اوپر موجود شاخوں کو ویسے ہی رہنے دیا۔ اس طرح میرے اوپر ایک کنوپی سی بن گئی۔ اس میں میں آرام سے بیٹھ سکتا تھا، کھا، پی، تمباکو نوشی، کھانسی وغیرہ بھی کر سکتا تھا اور کسی قسم کی جسمانی تکلیف نہ ہوتی۔ اس طرح خود کو بطور چارہ پیش کرتے ہوئے میں جتنا شور کرتا، اتنا ہی آدم خور کے اس طرف آنے اور گھات لگانے اور حملہ کرنے کے امکانات بڑھ جاتے۔

ہوگر خان گاؤں کے پٹیل یعنی نمبردار نے مجھے بھرپور تعاون دینے کا وعدہ کیا۔ میں نے اسے اپنا منصوبہ وضاحت سے پیش کیا۔ میں نے اس پر واضح کیا کہ جب میں اپنے منصوبے پر کام شروع کروں تو یہ اس کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ کسی کو بھی اس علاقے میں اور نہ ہی کسی کو ذخیرے میں یا جنگل میں گھسنے دے۔ اس سے شیر کو شکار تلاش کرنے میں مشکل پیش آتی۔ اس نے ایسا ہی کرنے کا وعدہ کیا۔ اس نے فوراً ہی گاؤں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اعلان کرا دیا کہ کوئی بھی شخص دوپہر کے بعد اور مغربی جنگل اور ذخیرے کی طرف ہرگز نہ جائے۔ خلاف ورزی پر اس نے سخت دھمکیاں بھی دیں۔ اس وقت گاؤں میں بھوسہ وغیرہ اتنی مقدار میں موجود تھا کہ تین ہفتوں کے لئے مویشیوں کی طرف سے کوئی فکر نہ تھی۔ مجھے امید تھی کہ اس عرصے میں شیر اپنی آمد کا اظہار کر چکا ہوگا۔ پٹیل کے اعلان کا سب نے خیر مقدم کیا کیونکہ کوئی بھی شیر کے پنجوں کا نشانہ بننے کو تیار نہیں تھا۔ ویسے بھی تین ہفتے بیکار گذارنا کسے برا لگتا ہے۔

ہوگر ہالی میں میری آمد کے ٹھیک دسویں دن میں نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔ قبل از وقت کھانا کھا کر میں گیارہ بجے سے ذرا قبل درخت تک پہنچ گیا۔ میرے ساتھ پانی کی بوتل، سینڈوچ، پائپ اور اعشاریہ 405 بورکی رائفل تھیں۔ اب میرا پہلا دن درخت پر شروع ہوا۔ جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ پاؤں کی حرکت سے آواز پیدا کرنا کتنا اکتا دینے والا کام ہے۔ اس کے علاوہ دوپہر کے وقت سورج کی جھلسا دینے والی شعاعیں بہت تکلیف دے رہی تھیں۔ اس دھوپ میں چاروں طرف مسلسل گھورتے رہنا بھی آنکھوں کے لئے بہت تکلیف دہ تھا۔ سورج ڈوبنے تک میں اپنی جگہ پر رہا اور اگلا سارا ہفتہ میں نے ایسے ہی گذارا۔ تاہم مجھے شیر کی آمد کا کوئی نشان تک نہ مل سکا۔ اس دوران میں نے درخت کے ارد گرد تمام علاقے اور آس پاس کی تمام بڑی جھاڑیوں کو اچھی طرح چھان لیا اور شیر کے آنے کے تمام ممکنہ راستے بھی فرض کر لئے۔

ایک ہفتہ بیکار گذرنے کے بعد میں نے خود کو سکون دینے کے لئے بیرور ریلوے سٹیشن کے چھوٹے سے بک سٹال سے دو سستے ناول خریدلیئے جنہیں میں درخت پر بیٹھے ہوئے پڑھتا رہتا اور اس دوران میرا تمام تر انحصار قوت سماعت پر تھا جو مجھے کسی بھی آواز سے آگاہ کرتی۔ اسی طرح دوسرا ہفتہ بھی گذرا لیکن ابھی تک شیر کی واپسی کی کوئی خبر نہیں ملی۔

اب میں کافی بے صبرا ہو رہا تھا۔ خود عائد کردہ بیکاری مجھے کاٹ کھانے کو دوڑ رہی تھی۔ میں نے کسی دوسرے منصوبے کے لئے بہت ذہن مارا لیکن تقریباً اسی طرح کے منصوبے ہی ذہن میں آتے۔

چوتھا مہینہ شروع ہو چکا تھا اور اگر شیر اپنے عمومی رویے کو تبدیل نہ کرتا تو شیر کی آمد کسی بھی وقت متوقع تھی۔چمک مگلور کے ڈپٹی کشنر سے میں نے طے کیا تھا کہ وہ اس سارے علاقے میں ہونے والی انسانی ہلاکتوں کی تفصیل سے اپنے ماتحت کدور کے عملدار کے ذریعے مجھے آگاہ رکھیں۔ جونہی کسی انسانی ہلاکت کی خبر ملتی، میری طرف ہرکارہ بھیج دیا جاتا۔ دو دن بعد ایک ہرکارہ آن پہنچا کہ چار دن قبل چک مگلور سیکری پنٹا سڑک پر واقع ایک وادی میں شیر نے انسانی جان لی ہے۔ اگلے روز پھر وہی ہرکارہ آیا کہ اس بار شیر نے آئرن کیری جھیل کے شمالی کنارے پر مویشیوں کے ایک ریوڑ میں قتل عام کیا ہے۔ یہ جگہ مدک جھیل سے پانچ میل دور تھی جو ہوگر ہالی سے مزید نو میل دور تھی۔

اب تک ملنے والی تمام اطلاعات تسلی بخش تھیں۔ ان سے اندازہ ہو رہا تھا کہ شیر اپنے معمول کے مطابق آگے بڑھتا چلا آ رہا ہے۔ دو دن قبل شیر اس جگہ سے چودہ میل دور تھا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ شیر اب ہوگر ہالی نہیں پہنچا تو پھر اس کے آس پاس ہی موجود ہے۔ اسے پچھلا شکار کھائے تین دن ہو رہے تھے۔ اب اس کے حملے کا وقت قریب تھا۔

اسی شام میں نے مودلا گیری کو بتایا کہ وہ ہوگر ہالی اور آس پاس کے تمام باشندوں کو خبردار کر دے کہ شیر آن پہنچا ہے۔ اب انہیں جنگل اور ذخیرے سے ہر ممکن طور پر دور رہنا ہوگا۔

اگلی صبح معمول سے ذرا پہلے میں پھر اپنی جگہ براجمان تھا۔ اس بار میں اپنے ساتھ ناول نہیں لایا تھا تاہم میں نے لکڑی کے تنے پر زور سے مارنے، کھانسنے اور شاخوں پر ادھر ادھر حرکت کرتے رہنے کی ہر ممکنہ کوشش جاری رکھی۔ اس شام گاؤں واپس لوٹتے وقت میں نے کسی بھی غیر متوقع حملے کے پیش نظر ہر ممکنہ احتیاط اپنائے رکھی۔ تاہم دو دن مزید گذر گئے اور کچھ نہ ہوا اور نہ ہی مجھے آدم خور کے بارے کوئی اور اطلاع ملی۔

اب مجھے خیال ہوا کہ شیر اپنی پرانی رہائش گاہ یعنی ہوگر خان کے دامن میں پہنچ چکا ہے یا پھر وہ ہوگر ہالی کو چھوڑ کر شمال مغرب کی طرف لنگا ڈھالی اور بگواڈکٹی کی طرف نکل گیا ہے یا عین ممکن ہے کہ وہ اس سے مزید مغرب کی طرف سنتاویری کی طرف چلا گیا ہو۔

چونکہ موسم نسبتاً گرم تھا اور چاند بھی آدھا ہو چکا تھا۔ میں نے اگلے دو دن تک دوپہر سے لے کر اگلے دن صبح تک درخت پر رہنے کا فیصلہ کیا۔ ہو سکتا تھا کہ اس طرح میں شیر کو اپنی طرف زیادہ آسانی سے متوجہ کر سکتا جو تاریکی چھانے کے بعد شکار کی تلاش میں نکلا ہوا ہوگا۔ اس سے میرے اعصاب پر یقیناً اضافی بوجھ پڑتا کیونکہ میں پہلے ہی پندرہ دن سے بیکار وقت گذار رہا تھا۔ تاہم میں نے ایسا ہی کرنے کا سوچا۔

اگلے دن میں دن چڑھے واپس اپنی جگہ پر پہنچ چکا تھا۔ اس بارے میرے ساتھ ایک ٹوکری میں کھانے کا سامان، گرم چائے کا تھرماس، ایک کمبل، پانی کی بوتل، ٹارچ اور دیگر ضروریات کی چیزیں تھیں جو رات گذاری میں مجھے ضرورت پڑتیں۔ اس کے علاوہ میں نے بینزیڈرائین کی تین گولیاں بھی خریدیں تاکہ سونے کا کوئی امکان نہ باقی رہے۔

سارا دوپہر اور پھر سہہ پہر حتیٰ کہ رات گئے تک میں نے اسی طرح آواز پیدا کرنے میں گذاریں۔ جنگل میں الو کی آواز کے سوا بالکل خاموشی تھی۔ اسی طرح دور کہیں سے کاکڑ کی آواز بھی آ رہی تھی۔ چاند ڈیڑھ بجے غروب ہو گیا اور اس کے بعد اچانک تاریکی چھا گئی اور سردی بہت بڑھ گئی۔ تین بجے کے قریب میں غنودگی محسوس کرنے لگا تو میں نے تین میں سے دو گولیاں کھا لیں۔ نصف گھنٹے بعد گھسٹنے کی آواز سنی اور اس کے بعد لگڑ بگڑ نے یا تو مجھے دیکھا یا پھر میری بو سونگھ کر چلایا۔ ہا ہا ہا ہا ہا۔ اس کے بعد وہ تاریکی میں گم ہو گیا۔

اس کے بعد خاموشی اور تاریکی رہی حتیٰ کہ صبح کاذب کی زرد روشنی نمودار ہوئی جو کہ سورج نکلنے سے گھنٹہ بھر پہلے آتی ہے۔ پھر وہ گھنٹہ گذرا اور جنگلی مرغ کی آواز گونجی۔ میں بعجلت نیچے اترا تاکہ ہوگر ہالی جا کر چار گھنٹے کی نیند لے سکوں۔

گیارہ بجے دن کو میں دوبارہ اسی جگہ واپس پہنچ گیا تاکہ دوبارہ سے مہم شروع کر سکوں۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ میں اس کو مزید جاری نہیں رکھ سکتا۔ گرم دوپہر حسب معمول گذری، کسی پرندے کی ٹک ٹک ٹک ٹک کی آواز آئی اور پھر کوئل کی کوو کوو سنائی دی۔ شام آئی اور کوئی پرندہ پاس کسی جگہ پتے کھدیڑنے لگا۔ اس کے بعد شام کو گھونسلوں کو لوٹتے پنچھی بولنے لگے۔

جب سورج ہوگر خان کے پیچھے چھپ گیا تو رات کے پرندے جاگ گئے۔ جب کوئی الو اوپر سے گذرتا تو اس کی آواز سنائی دیتی۔ جب وہ زمین پر یا درخت پر بیٹھتے تو ان کے پروں کی آواز آتی۔

دس بج گئے اور اس کے فوراً بعد چیتلوں کی آواز آنے لگی۔ ان کی آواز میں ایک تنبیہ پوشیدہ تھی۔

یقیناً انہوں نے کسی درندے کو دیکھا تھا۔ یہ درندہ کوئی تیندوا یا عام شیر یا آدم خور بھی ہو سکتا تھا لیکن اس بارے وقت ہی کچھ بتا سکتا ۔ تھا۔ میں نے لکڑی کو اور زیادہ زور سے تنے پر مارنا شروع کر دیا، مجھے امید تھی کہ آدم خور یہ نہیں سوچے گا کہ کون لکڑ ہارا رات کو جنگل میں لکڑیاں کاٹنے آیا ہوا ہے۔

منٹ گذرتے گئے، اچانک ہی سانبھر کی "پونک! ویی اونک۔۔۔ وی اونک" سنائی دی۔ اس نے ہوگر خان کی جاتے ہوئے مزید آوازیں نکالیں۔

اس کے بعد اچانک موت کی سی خاموشی چھا گئی۔ لکڑی کو تنے پر مارتے ہوئے میں نے ہر ممکنہ جھاڑی کا جائزہ لینا جاری رکھا جو مجھے دکھائی دے رہی تھی تاکہ اگر شیر گھات لگا رہا ہو تو مجھے دکھائی دے جائے۔ کہیں دور سے سانبھر کی پونک کے بعد سے کوئی آواز نہ سنائی دی اور نہ ہی کچھ حرکت کرتا دکھائی دیا۔

اچانک ایک عجیب سا احساس طاری ہونے لگا۔ مجھے محسوس ہونے لگا کہ کوئی مجھے دیکھ رہا ہے۔ میں نے لکڑی سے آواز پیدا کرتے ہوئے عام بھارتی انداز میں کھانسا اور پھر تھوک پھینکا۔ کچھ بھی نہیں سنائی دیا۔ اچانک، جیسے آسمان پر بجلی کا کوئی کوندہ لپکا ہو، وہ آیا

"ووف، ووف" وہ غرایا اور بہت بڑا بھورا سا جسم، اتنا بڑا جیسے شیٹ لینڈ پونی ہوتا ہے، مجھ سے دس گز دور جھاڑی سے ایسے نکلا جیسے جادوگر کے ہیٹ سے کبوتر تاکہ وہ درخت کے تنے تک پہنچ کر مجھ پر جست لگا سکے۔

ایک بہت بڑا بھورا سر مجھ سے تین گز دور بالکل میرے نیچے تھا، میں نے ٹارچ جلا کر دو جلتی ہوئی آنکھوں کے درمیان گولی چلائی۔ رائفل کے دھماکے کے ساتھ ہی وہ اچھل کر نیچے گرا اور حواس مختل کر دینے والی دھاڑ لگائی۔ میں نے دوسری گولی چلائی۔ اس نے اس پر ایک اور دھاڑ لگائی اور اگلے ہی لمحے وہ گم ہو گیا۔ سو گز دور جھاڑی سے اس کی آخری بار :وررف" سنائی دی اور پھر مکمل خاموشی چھا گئی۔

مجھے معلوم تھا کہ میری کوئی بھی گولی خطا نہیں گئی لیکن پھر بھی میں نے خود کو کوسا کہ دوسری گولی سے بھی میں شیر کو گرانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ تاہم مجھے یقین تھا کہ شیر شدید زخمی ہو چکا ہے اور زیادہ دور نہیں جا پائے گا۔ بقیہ رات میں آرام سے سوتا رہا اور صبح ہوتے ہی میں ہوگر ہالی لوٹا تاکہ زخمی درندے کے تعاقب کے منصوبے بنا سکوں۔

مودلاگری نے بہترین کام کیا۔ جب تک میں نے مختصر سا آرام کیا، گرم چائے، ٹوسٹ اور بیکن کھائے، اس نے بھینسوں کے ریوڑ اور اس کے مالک کو زخمی شیر کی تلاش میں ہمارے ساتھ چلنے پر تیار کر لیا ۔ ہمیں امید تھی کہ بھینسوں کو دیکھ کر شیر اپنی کمین گاہ سے غرائے گا۔

نو بجے میں، دو سکاؤٹ، مودلاگری اور پندرہ بھینسیں بمع مالک اس درخت تک پہنچ گئے۔ سب سے پہلے میں درخت پر چڑھا تاکہ شیر کو تلاش کر سکوں۔ شیر کہیں دکھائی نہیں دیا۔ درخت کی جڑ پر خوش کے نشانات کھال پر تھے جیسے وہ شیر کے سر یا چہرے سے نکلے ہوں۔ یہ میری پہلی گولی کا اثر تھا۔ جب وہ جھاڑی کے پیچھے گھسا تو ہم نے بہت زیادہ خون دیکھا۔ ظاہر تھا کہ دوسری گولی نے بھی اپنا اثر دکھایا تھا۔

اس کے بعد ہم نے بھینسوں کو آہستگی سے اس طرف بھیجا جہاں خون کی لکیر جا رہی تھی۔ ہم نے بھینسوں کو دور دور تک ایک قطار کی سی شکل میں پھیلا دیا تھا۔ میں بھینسوں کے پیچھے اور دونوں سکاؤٹ میرے پیچھے تھے۔ مودلاگری اور بھینسوں کا مالک درخت پر اس جگہ چڑھے ہوئے تھے جہاں میں بیٹھتا تھا۔

ابھی ہم دو سو گز ہی گئے ہوں گے کہ ایک بہت زوردار دھاڑ سنائی دی۔ اسی وقت ساری بھینسیں بھی رک گئیں اور انہوں نے سر نیچے کر دیئے اور ان کے سینگ سامنے کی طرف ہو گئے جہاں سے آواز آئی تھی۔

میرے ذرا بائیں جانب ایک درخت موجود تھا۔ میں نے ایک سکاؤٹ سے کہا کہ وہ اس پر چڑھ کر شیر کو تلاش کرے۔ اس نے اوپر جا کر اشارہ کیا کہ اسے کچھ نہیں دکھائی دیا۔ اسی دوران بھینسیں اس جگہ سے واپس آنے لگ گئی تھیں۔ ہم انہیں واپس نہیں بھیج سکتے تھے۔ انہیں وہیں چھوڑ کر اور پہلے سکاؤٹ کو درخت پر ہی رہنے کا کہہ کر میں نے دوسرے سکاؤٹ کو ساتھ لیا اور واپس مودلاگری تک پہنچا۔ میں نے اسے کہا کہ وہ گاؤں جا کر چند کتوں کو لے آئے جو ہماری مدد کر سکیں گے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد جب وہ واپس لوٹا تو اس کے ساتھ دو دیسی کتے بھی تھے۔ اس نے بتایا کہ وہ یہی دو کتے ہی تلاش کر پایا۔ ہم نے کتوں کو بھینسوں کے پیچھے لگایا تاکہ وہ آگے بڑھیں۔ ابھی ہم پچیس گز ہی گئے ہوں گے کہ شیر نے انتہائی غضب ناک انداز میں غرانا شروع کر دیا۔ بھینسیں ایک دم رک گئیں جبکہ کتوں نے دیوانہ وار بھونکنا شروع کر دیا۔

اگلی دو بھینسوں کے پیچھے چھپ کر رینگتے ہوئے میں نے ان کی ٹانگوں کے درمیان سے شیر کو دیکھنے کی کوشش کی مگر بے سود۔ پھر میں نے انہیں آگے بڑھنے کے لئے ہانکا تو ایک بھینس اچانک مجھ پر الٹ پڑی۔ اس کے لمبے سینگ سے میں بال بال بچا۔

اب میری پوزیشن بہت خطرناک ہو گئی تھی۔ ایک زخمی شیر میرے سامنے چھپا ہوا تھا جو کسی بھی لمحے حملہ کر سکتا تھا اور دوسری طرف گھبرائی ہوئی بھینسیں میرے اردگرد۔ انہوں نے مل کر اپنا دفاع کرنا تھا چاہے وہ میرے خلاف ہوتا چاہے شیر کے خلاف۔ میں چند قدم پیچھے ہٹا اور پھر درخت پر چڑھے سکاؤٹ سے نیچے اترنے کا کہا۔ پھر دونوں سکاؤٹوں کی مدد سے میں نے بھینسوں کے اوپر سے اس جگہ پتھر برسانے شروع کر دیئے جہاں سے شیر کے غرانے کی آواز آئی تھی۔ فوراً ہی شیر دھاڑا۔ مگر ہم مزید کچھ نہ کر سکتے تھے کہ شیر اپنی جگہ چھوڑ کر باہر نکلتا۔ نہ ہی شیر اپنی جگہ چھوڑ رہا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ بری طرح زخمی ہے۔

مزید پتھراؤ بیکار معلوم ہوا۔ میں نے بھینسوں کو وہیں چھوڑا اور دونوں سکاؤٹوں اور کتوں کو لے کر میں لمبا چکر کاٹ کر شیر کے عقب سے پہنچا۔ جب ہم تین سو گز دور رہ گئے تو ہم بہت احتیاط سے آگے بڑھنے لگے۔ ہر درخت پر سکاؤٹ چڑھ کر دیکھتے کہ کیا شیر موجود ہے یا نہیں۔ ابھی ہم دو سو گز ہی بڑھے ہوں گے کہ ایک سکاؤٹ نے اشارہ کیا کہ اسے اس جگہ سے کچھ دکھائی دے رہا ہے جہاں وہ موجود تھا۔ نیچے اتر کر اس ے سرگوشی میں بتایا کہ اس نے سفید اور بھورے رنگ کی کوئی چیز دیکھی ہے جو یہاں سے پچاس گز دور جھاڑی کے نیچے تھی۔

میرے ساتھ درخت پر چڑھتے ہوئے اس نے جھاڑیوں کی طرف اشارہ کیا جہاں پہلے پہل تو مجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دیا۔ پھر اچانک مجھے وہ سفید اور بھورے رنگ کی چیز دکھائی دے گئی۔ اس پر نشانہ لے کر میں نے گولی چلائی اور شیر ہماری آمد کی سمت کا غلط اندازہ کرتے ہوئے بھینسوں پر غراتے ہوئے چڑھ دوڑا۔ سب سے آگے والی بھینس کو شیر نے جا لیا۔ باقی سب نے سر جھکا لئے تاکہ شیر سے بچ سکیں۔ اسی دوران جس بھینس پر شیر نے حملہ کیا تھا، درد کی شدت سے چلا رہی تھی اور شیر بھی برابر دھاڑے اور غرائے جا رہا تھا۔

اس جگہ سے میں شیر کو واضح طور پر دیکھ سکتا تھا لیکن گولی چلاتا تو یا تو زخمی بھینس یا ریوڑ کی دیگر بھینسوں میں سے کسی کے مرنے کا اندیشہ تھا۔

دیگر بھینسیں فوراً ہی پہنچ گئیں اور پھر اٹھتے گرتے سینگ اور ہل چل دکھائی دی۔ اپنی نازک پوزیشن کو محسوس کرتے ہوئے شیر بھاگا اور پچیس گز دور ایک جھاڑی میں گھس گیا۔ میں اسے صاف دیکھ سکتا تھا کہ وہ جست لگانے کی حالت میں تھا۔ بائیں شانے کے پیچھے لگنے والی گولی سے وہ وہیں کا وہیں رہ گیا۔

بعد ازاں معائینہ کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ رات والی پہلی گولی شیر کے گال پر اس کی آنکھ سے دو انچ نیچے اور دائیں طرف لگی اور اس کی گال کی ہڈی کو توڑ گئی۔ دوسری گولی اس کے پیٹ کو کاٹتی ہوئی گذری اور نکلتے ہوئے اس نے بڑا سوراخ کیا جہاں سے شیر کی انتڑیاں لٹک رہی تھیں۔ تیسری اور آخری گولی اس کے دل میں ترازو ہو گئی تھی۔ مہینوں قبل کار شکاریوں کی گولی سے زخمی ہونے والا جبڑہ بہت بری طرح مندمل ہوا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ شیر مناسب طریقے سے چبا نہیں سکتا تھا اور اس وجہ سے آدم خور بنا۔

جس بھینس پر شیر نے حملہ کیا تھا،پنجوں کے زخم سے بری طرح زخمی تھی۔ مالک کو معاوضے کی ادائیگی نے خاموش کرا دیا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ بھینس زخموں سے صحت یاب ہو گئی ہوگی کیونکہ دیگر مویشیوں کی بہ نسبت یہ بھینسیں زیادہ گہرے زخم بھی برداشت کر لیتی ہیں۔

اس طرح یمائی ڈوڈی کے آدم خور کا خاتمہ ہوا۔ اس کے آدم خور بننے کا بنیادی سبب کار شکاریوں کی طرف سے لاپرواہی اور ظالمانہ انداز میں چلائی گئی گولی تھی۔ اس طرح ان کی گردن پر انتیس انسانوں کا خون تھا۔

 

Rate this item
(2 votes)
  • Last modified on Thursday, 29 May 2014 21:12
  • font size