دیواراین درگا کی خلوت پسند

  • Thursday, 03 October 2013 15:20
  • Published in شکاریات
  • Read 1937 times
دیواراین درگا کی خلوت پسند All images are copyrighted to their respective owners

   اسے خلوت پسند یا تنہائی پسند کا نام دیئے جانے کی وجہ اس کا الگ تھلگ رہنا اور اس کی عجیب و غریب عادات تھیں۔   وہ غیر معمولی شیر تھا۔ اگرچہ وہ

نہ تو آدم خور تھا اور نہ ہی اس نے کبھی انسانی گوشت کو چکھا تھا۔ لیکن اس کی انسانی نسل سے بے پناہ نفرت اس کی خاصیت تھی۔ اس نے کل تین انسان ہلاک کئے جن میں ایک عورت اور دو مرد شامل تھے۔ یہ تمام تر ہلاکتیں اس نے پانچ دن کے اندر اندر کیں۔ ان کا محرک صرف اور صرف نسل انسانی سے اس کا بغض تھا۔ اس کے علاوہ اس کی عادات عام شیروں سے بہت مختلف تھیں۔ وہ گاؤں کی بکریوں اور کتوں پر ہاتھ صاف کرتا تھا۔ عام شیر بالعموم بکریاں اور کتے نہیں کھاتے۔ وہ بنگلور سے پچاس میل دور اور تمکور شہر سے چھ میل دور دیواراین درگا کے ساتھ واقع جنگلات سے نکلا۔ دیواراین درگا میں کئی دہائیوں سے کوئی شیر نہیں پایا جاتا۔ یہاں چند جنگلی سور اور موروں کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں باقاعدہ جنگلات بھی نہیں پائے جاتے۔ البتہ کانٹے دار جھاڑیاں اور خودرو بیلیں یہاں بکثرت ہیں۔ اس کے علاوہ پہاڑ کی چوٹی سخت اور پتھریلی ہے جہاں چند غاریں بھی ہیں۔ ان غاروں میں کبھی کبھار تیندوے آ کر یہاں پہلے سے موجود سیہوں کو نکال کر قبضہ جما لیتے ہیں۔ تاہم یہ غاریں بالکل بھی کوئی محفوظ پناہ گاہیں نہیں اور شیر جیسا جانور یہاں چھپنے سے رہا۔ یہ سارا خاردار علاقہ چاروں اطراف سے کھیتوں میں گھرا ہوا ہے۔ ایک عام شیر کبھی بھی، چاہے دن ہو یا رات، کھیتوں کو عبور نہیں کرتا۔

   تاہم اس خلوت پسند شیر نے بالکل یہی کیا۔ وہ کھیتوں کو عبور کر کے اس پہاڑی پر آ کر رہنے لگا۔

   پہلے پہل تو کسی کو شیر کی آمد کا علم بھی نہیں ہوا۔ آس پاس کے گاؤں میں مویشیوں کی تعداد اچانک ہی گھنٹے لگی۔ لوگوں نے اسے تیندوے کی کارستانی سمجھا۔ ایک دن انہی میں سے ایک گاؤں کے باہر ہل چلے کھیت میں شیر کے پگ دکھائی دیئے۔ اگلے دو دنوں میں ایک بڑی گائے ماری گئی جو گاؤں کے بالکل ہی پاس چرنے کے لئے رات بھر چھوڑ دی گئی تھی۔ اس گائے کی مالکن ایک بوڑھی عورت تھی۔ اسے جب گائے کی ہلاکت کی خبر ملی تو گاؤں سے نکل کر اس جگہ پہنچی جہاں گائے ہلاک ہوئی تھی۔ یہ جگہ گاؤں سے چوتھائی میل دور رہی ہوگی۔ وہ گائے کی لاش کے پاس پہنچ کر بیٹھ گئی اور اپنے غم کے اظہار کے لئے زور زور سے بین شروع کر دیا۔ اس کے خاندان کے افراد بھی اس کے ساتھ آئے تھے۔ وہ بھی کچھ دیر تک تو اس کے ساتھ بیٹھے۔ تاہم جلد ہی وہ اس غم زدہ منظر سے اکتا گئے۔ انہیں اور بھی بہت سے کام کرنے تھے۔ وہ سب ایک ایک کر کے گاؤں لوٹ گئے۔ تاہم بڑھیا گائے کی لاش پر ماتم کرتی رہی۔

   گیارہ بجے دن سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ جب یہ شیر واپس آیا تو اس نے گائے کی لاش کے ساتھ بڑھیا کو ماتم کرتے پایا۔ اس نے شاید یہ سوچا ہو کہ اس شور کو اب بند ہو جانا چاہیئے۔ اس نے بڑھیا پر جست لگائی اور ایک ہی پنجے سے بڑھیا کا خاتمہ ہو گیا۔ پھر اس نے گائے کو چند گز دور گھسیٹا اور خوب پیٹ بھر کر کھایا۔ بڑھیا کی لاش ویسے کی ویسے ہی پڑی رہی جیسے شیر کو اس کا خیال ہی نہ رہا ہو۔

   جب شام چار بجے تک بڑھیا واپس نہ لوٹی تو اس کے گھر والوں نے اندازہ لگایا کہ بیچاری بین کرتے کرتے تھک کر سو گئی ہوگی۔ وہ اسے واپس لانے کے لئے پہنچے تو بڑھیا کی لاش ملی۔ ان کی دہشت کی انتہا نہ رہی۔ گائے کی لاش بھی موجود تھی لیکن شیر پیٹ بھر کر واپس جنگل میں جا چکا تھا۔ سب کے سب سر پر پیر رکھ کر بھاگے اور انہوں نے گاؤں پہنچ کر سب کو خبردار کیا۔ فوراً ہی دو درجن افراد مختلف ہتھیار لے کر نمبردار کی سربراہی میں اس جگہ پہنچے۔ نمبردار کے پاس توڑے دار بندوق تھی۔ انہوں نے شیر کا پیچھا کرنے کا سوچا لیکن شیر پاس ہی موجود جنگل میں گھس گیا تھا۔ چونکہ سب ہی جنگل میں گھسنے سے ڈر رہے تھے، انہوں نے جنگل کے کنارے ہی کھڑے ہو کر خوب شور و غل کیا اور نمبردار نے اپنی بندوق سے دو ہوائی فائر بھی کئے۔ اس کے بعد وہ سب بڑھیا کی لاش اٹھانے کے لئے بڑھے۔ اتنے میں ان کے عقب سے شیر نکلا اور پارٹی کے آخری آدمی پر جھپٹا جو کہ نمبردار تھا۔ اس بیچارے کے خبردار ہونے سے قبل ہی اسے موت نے آ لیا۔

   ایک بار پھر پوری پارٹی گاؤں کو بھاگی اور اگلے دن چڑھے وہ پھر بہت سے افراد کو جمع کر کے لاشیں اٹھانے پہنچے۔ رات بھر پڑے رہنے کے باوجود دونوں لاشیں بالکل صحیح و سلامت تھیں۔ تاہم شیر گائے کی لاش سے مزید گوشت کھا چکا تھا۔

   اگلے دو دن تک لوگوں میں غم و غصہ بڑھتا رہا۔ تیسری صبح تمکور سے آنے والا ایک مسافر ادھر سے گذرا۔ اس کے ساتھ مختلف سامان سے لدے دو گدھے بھی تھے۔ ابھی وہ یہاں سے میل بھر ہی دور گیا ہوگا کہ شیر نے جست لگا کر اگلے گدھے کو دبوچ لیا۔ دوسرا گدھا بالکل بے حس و حرکت کھڑا رہا۔ تاہم مسافر نے دہشت سے چیخ ماری اور واپس گاؤں کی طرف بھاگا۔ بظاہر اس کی چیخ اور بھاگنے کی وجہ سے شیر نے اس کا پیچھا کیا اور اسے ہلاک کر دیا۔ پھر وہ مردہ گدھے کی طرف لوٹا۔ مسافر کے پیچھے جانے اور پھر واپس آنے کے دوران وہ دوسرے گدھے کے پاس سے گذرا لیکن اسے بالکل چھوا تک نہیں۔مسافر کی لاش حسب معمول پھر ویسے کی ویسے پڑی رہی۔

   بنگلور کے اتنے قریب ہونے والے یہ واقعات اخباروں کی شہ سرخیاں بنے۔ اگلی صبح میں کار میں اس طرف روانہ ہوا اور دو گھنٹے بعد ادھر پہنچ گیا۔

   خوفزدہ دیہاتیوں سے پوچھنے پر جو معلوم ہوا، وہ آپ ابھی پڑھ چکے ہیں۔ موسم خشک اور راستے گرد و غبار سے بھرے ہوئے تھے۔ تمام تر نشانات اس وقت تک مٹ چکے تھے۔ تاہم کچھ دیر تک میں یہی سمجھتا رہا کہ یہ سب واقعات کسی بڑے اور مشتعل چیتے کے ہیں۔ وہ افراد جو نمبردار پر حملے وقت اس کے ساتھ تھے، نے مجھے یقین دلایا کہ یہ شیر ہی تھا۔ تاہم مجھے ابھی بھی شک تھا کیونکہ دیہاتی لوگ اس طرح کی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

   مختصر سا کھانا کھا کر میں ایک خوفزدہ رہنما کے ساتھ نکلا۔ پوری دوپہر ہم نے آس پاس کی ہر ممکنہ جگہ اور غاروں کی چھان بین کی لیکن شیر تو کجا اس کا ایک ماگھ یعنی پگ تک بھی نہ ملا۔ تھکن سے میرا برا حال ہو گیا۔

   چار بجے شام کو میں واپس لوٹا اور بدقت تمام ایک نو عمر بچھڑا خریدا تاکہ اسے گارے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ اس پورے علاقے میں بھینسیں نہیں تھیں۔ میں نے اسے گاؤں سے پون میل دور اس جگہ باندھا جہاں راستے میں ایک عمیق پتھریلا نالہ آتا تھا۔

   چھ بجے شام کو ہم گارے کو باندھ کر فارغ ہوئے۔ اب مچان باندھنے کا وقت نہیں بچا تھا۔ میں نے سوچا کہ اب رات کو چھ میل دور تمکور جا کر فارسٹ بنگلے میں رات گذاروں۔ اگلی صبح واپسی پر مجھے امید تھی کہ شیر گارے کو مار چکا ہوگا۔

   میں نے ایسا ہی کیا۔ صبح پانچ بجے اٹھا اور ساڑھے پانچ بجے میں اس جگہ پہنچ چکا تھا جہاں گارا بندھا ہوا تھا۔ اس جگہ سے نصف میل دور میں نے کار کو روکا تو اس وقت تک روشنی پھیلنے لگ گئی تھی۔ میں نے کار کو اتنی دور اس وجہ سے چھوڑا تاکہ اس کی آواز سے شیر خبردار نہ ہو جائے۔ بہت احتیاط سے آگے بڑھتے ہوئے میں پہنچا تو دیکھا کہ گارا اپنی جگہ سے غائب تھا۔ جائزہ لینے سے علم ہوا کہ شیر نے نہ صرف گارے کو ہلاک کیا بلکہ رسی کو بھی کتر کر الگ کر دیا۔ عموماً شیر رسی کو نہیں کترتے تاہم یہ عجیب ہی شیر تھا۔ ماگھ بھی موجود تھے جن سے علم ہوا کہ یہ جانور ایک نر نہیں بلکہ مادہ شیرنی ہے اور بالغ عمر کی ہے۔ اس کی جسامت عام شیرنیوں سے کچھ زیادہ بڑی ہے۔

   شیرنی سے متعلق کہانیوں اور اس کے بلاوجہ حملہ کرنے کی عادت کی وجہ سے میں نے ان نشانات کا بہت احتیاط سے پیچھا کیا۔ ہر قدم پر مجھے نہ صرف اپنے سامنے بلکہ دائیں بائیں اور ہر چند منٹ کے بعد عقب میں بھی دیکھ بھال کرنی پڑ رہی تھی۔ اس طریقے سے پیش قدمی کافی سست تھی۔ نشانات بالکل واضح تھے اور ڈیڑھ سو گز پر ہی میں نے ادھ کھائے بچھڑے کو تلاش کر لیا۔ بظاہر شیرنی آس پاس موجود نہیں تھی۔

   اس کم عمر بچھڑے شیر کے عمومی انداز میں گردن توڑ کر ہلاک کیا گیا تھا۔ شیرنی اسے اٹھا کر اس جگہ تک لائی تھی۔ یہاں آ کر اس نے شہہ رگ سے خون پیا جس کا ثبوت شہہ رگ میں موجود سوراخ اور ان کے گرد جما ہوا خون تھا۔ اس کے بعد شاید وہ رات کے لئے لاش کو چھوڑ کر چلی گئی تھی یا اسی وقت کھانا شروع کر دیا۔ اس نے پہلے دم کو جڑ سے کتر کر لاش سے دس فٹ دور جا پھینکا۔ یہ شیروں کی عام عادت ہے۔ بعض اوقات بڑے تیندوے بھی ایسا کرتے ہیں۔ اس کے بعد اس نے پیٹ کو چاک کیا اور آنتیں وغیرہ نکال کر دس فٹ دور لیکن دوسری طرف جا پھینکا۔ اس کے بعد اس نے عام شیروں کی طرح پچھلی ٹانگوں کے درمیان سے کھانا شروع کر دیا۔ وہ آدھا بچھڑا کھا چکی تھی۔

   ان سب علامات سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ شیرنی اتنی بھی عجیب و غریب عادات کی نہیں تھی جتنا کہ اس کے بارے کہانیاں مشہور ہو چکی تھیں۔ وہ محض غصیلی شیرنی تھی۔

   اس کی واپسی کا سوچ کر میں بیس گز دور ایک درخت پر چڑھ گیا۔ گارے کے آس پاس یہ واحد درخت تھا۔ یہاں میں ساڑھے نو بجے تک بیٹھا رہا لیکن شیرنی نہ آئی۔ تاہم گدھوں کی تیز نظروں نے گارے کو تلاش کر لیا۔ جلد ہی ان کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ نزدیک آ گئی۔

   لاش کو گدھوں سے بچانے کے لئے میں نیچے اترا اور آس پاس سے جھاڑیاں اکھاڑ کر گارے پر ڈال دیں اور پھر کار کی طرف لوٹا تاکہ گاؤں پہنچ سکوں۔ یہاں میں نے چار افراد کو ساتھ لیا اور گارے کی لاش پر واپس آیا۔ یہاں میں نے انہیں ہدایت کی کہ وہ میری چارپائی مچان کو باندھیں۔ دوپہر تک مچان تیار ہو چکی تھی۔

   ایک آدمی نے یہ تجویز دی کہ یہ شیرنی بکریوں کی بہت شوقین ہے۔ اگر میں گارے کی لاش کے آس پاس ایک بکری بھی باندھ دوں تو شیرنی کے مارے جانے کے امکانات بہت بڑھ سکتے ہیں۔ شیرنی اگر گارے کے لئے نہ بھی پلٹے تو بھی بکری اسے اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے۔ اس کی بات میں وزن تھا۔ میں فوراً گاؤں کی طرف پلٹا اور جلد ہی ایک نو عمر بکری لے کر واپس پہنچا۔اس عمر کی بکری بہت شور کرتی ہے۔

   چند بسکٹ اور چائے سے پیٹ پوجا کر کے میں مچان پر چڑھا اور ہمراہیوں کو ہدایت کی کہ میرے چھپ جانے کے بعد وہ بکری کو باندھ کر چلے جائیں تاکہ بکری خود کو اکیلا محسوس کر کے خوب شور مچائے۔ ان کے جاتے ہی بکری نے بہت ہی بلند آواز سے غل مچانا شروع کر دیا۔

   پونے چھ بجے تک بکری بولتی رہی حتیٰ کہ میں نے وہ آواز سنی جو شیر چلتے وقت اکثر نکالتے رہتے ہیں۔ بکری نے بھی اس آواز کو سنا اور فوراً ہی چپ ہو گئی۔ اس کا رخ اس طرف تھا جہاں سے شیرنی کی آمد متوقع تھی۔ بیچاری کا سارا جسم دہشت کے مارے کانپ رہا تھا۔

   بدقسمتی سے شیرنی میرے عقب سے آ رہی تھی۔ اگرچہ مچان اتنی کھلی تھی کہ میں اس پر آسانی سے رخ بدل سکتا تھا لیکن درخت کے تنے اور پھر ساتھ ہی موجود آلو بخارے کی گھنی جھاڑی کی وجہ سے مجھے کچھ دکھائی نہ دیا۔ شیرنی جس جگہ موجود تھی وہاں زمین کچھ ڈھلوان تھی۔ اس طرح شاید شیرنی نے مجھے یا مچان کو دیکھ لیا۔

   ہو سکتا ہے کہ اس کی غیر معمولی چھٹی حس نے اسے خطرے سے آگاہ کر دیا ہو۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ بعض درندوں میں یہ چھٹی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ خیر جو بھی وجہ ہو، شیرنی نے خطرہ محسوس کرتے ہی فلک شگاف دھاڑ لگائی اور غراتے ہوئے اس پورے قطعے کے گرد چکر لگانا شروع کر دیا۔ بیچاری بکری نیم جان ہو چکی تھی۔ اندھیر ا اتنا تھا کہ مجھے بکری کی جگہ ایک لرزتا ہوا دھبہ دکھائی دے رہا تھا۔

   نو بجے تک شیرنی اسی طرح غراتی ہوئی جنگل کے سکون کو تہہ و بالا کرتی رہی۔ پھر آخری بار دھاڑ کر وہ چل دی۔ رات گئے درجہ حرارت حسب معمول اچانک گرا اور ٹھنڈک بہت بڑھ گئی۔ درخت کے نیچے بکری کے اور درخت کے اوپر میرے دانت بجتے رہے۔ صبح تک مزید کوئی خاص واقعہ نہ ہوا۔

   صبح صادق کے وقت ہم دونوں ہی ٹھنڈک اور بے آرامی سے بے حال ہو چکے تھے۔ گذشتہ رات کے شور و غل سے بکری کا گلا بیٹھ چکا تھا اور جب وہ منہ کھولتی تو آواز نہ نکلتی۔

   دوپہر کو میں نے مزید دو گھنٹے تک شیرنی کی تلاش جاری رکھی لیکن بے سود۔ اس بار میں نے ایک اور درخت اس طرح چنا کہ جو ہر طرف سے میری مچان کو ڈھانپے رکھے۔ یہاں میری مچان باندھی گئی اور چار بجے شام کو میں اس پر بیٹھ گیا۔ اس بار ایک اور بکری باندھی گئی۔ یہ بکری بہت عجیب تھی کہ بجائے شور مچانے کے زمین پر بیٹھ کر خدا معلوم کیا چبانے لگ گئی۔ تاریکی چھانے تک وہ اسی شغل میں لگی رہی۔

   اس بار میں زیادہ گرم کپڑے پہن کر نکلا تھا اور کمبل بھی ساتھ تھا۔ رات گئے مجھے نیند آ گئی۔ جب اٹھا تو یہ منحوس بکری ابھی تک نہ جانے کیا چبائے جا رہی تھی۔ لگتا تھا کہ پوری دنیا سے درندے ختم ہو گئے ہیں۔

   اگلے دن میں نے حسب معمول شیرنی کی تلاش جاری رکھی لیکن ناکامی ہوئی۔ تین بجے واپس میں اس مچان پر بیٹھ گیا۔ اس بارے میرے پاس ایک کم عمر بیل بطور چارے کے تھا۔

   سات بجے تک مکمل تاریکی چھا گئی۔ اچانک غیر متوقع طور پر دیہاتیوں کا ایک گروہ لالٹینیں اٹھائے میری طرف آیا۔ انہوں نے بتایا کہ نصف گھنٹہ قبل شیرنی نے تالاب کے بند کے پاس ایک گائے ہلاک کر دی ہے۔ یہ جگہ گاؤں کے دوسری طرف فرلانگ بھر دور تھی۔ اس وقت شیرنی گائے کو کھانے میں مصروف تھی۔

   یہاں مزید بیٹھنا اب بے کار تھا۔ میں نیچے اترا اور دیہاتیوں کو ہدایت کی کہ وہ بیل کو یہیں رہنے دیں تاکہ شیرنی اگر رات کو ادھر سے گذرے تو اس کے لئے گارا موجود ہو۔ اب ہم بعجلت موقعہ واردات کی طرف لپکے۔

   گاؤں پہنچ کر میں نے لالٹینیں بجھوا دیں۔ ایک بندے کو بطور راہبر چن کر میں آگے بڑھا۔ باقی تمام افراد وہیں رک گئے۔ میرے ہمراہی نے بتایا کہ شیرنی نے گائے کو سڑک کے بائیں جانب ہلاک کیا ہے۔ یہ جگہ سڑک کے کنارے سے پچاس گز دور اور گاؤں سے ایک فرلانگ دور تھی۔

   تاریکی گہری ہو چکی تھی اور ہمراہی اور میں ساتھ لگ کر سڑک کے درمیان میں چل رہے تھے۔ میں نے رائفل پر لگی ٹارچ جو جلا کر اس کی روشنی سڑک کے بائیں طرف ڈالی۔

   پہلے غراہٹ اور پھر "آوف" کی آواز آئی۔ پھر اندازاً دو سو گز دور سے مجھے دو چمکدار آنکھیں دکھائی دیں جو بظاہر کچھ بلندی پر تھیں۔مجھے حیرت ہوئی لیکن ہمراہی نے بتایا کہ شیرنی بند پر چڑھ کر کھڑی ہوئی ہے۔

   ربڑ کے جوتوں کی مدد سے اور دیہاتی ننگے پاؤں چلتے ہوئے آگے بڑھے۔ ہماری پیش قدمی بالکل بے آواز تھی۔ اس دوران شیرنی ٹارچ کو گھورتی رہی۔ اس طرح بڑھتے ہوئے ہم کوئی سو گز آگے گئے۔ اب ہم اس جگہ تھے جہاں سڑک بند سے جا ملتی ہے۔ یہاں سے ہم بائیں مڑے اور بند پر چڑھنے لگے۔

   شیرنی یہاں سے سو گز دور تھی اور اب اس نے غرانا شروع کر دیا تھا۔ میں رک گیا اور رائفل ابھی شانے تک اٹھائی ہی تھی کہ شیرنی کی ہمت شاید جواب دے گئی۔ دم اٹھائے تین چار چھلانگوں میں اس نے بند کا کنارہ عبور کیا اور دوسری طرف غائب ہو گئی۔

   ہم بند پر چڑھے اور میں نے ادھر ادھر ٹارچ کی روشنی پھینکنی شروع کر دی۔ یہاں ایک بڑا اور اکیلا بنیان کا درخت تھا۔ ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ہم نے اس درخت پر کوئی پندرہ فٹ کی بلندی پر ایک دو شاخے پر شیرنی کی آنکھیں چمکتی دیکھیں۔ شیر عموماً درخت پر نہیں چڑھتے بالخصوص جب رات کو ٹارچ کی روشنی میں ان کا پیچھا کیا جا رہا ہو۔

   اب مجھے شیرنی کے خد و خال دکھائی دے رہے تھے۔ وہ درخت پر کتے کی طرح بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی چمکتی آنکھوں کے درمیان میں نے احتیاط سے نشانہ لیا اور گولی چلا دی۔ بھد کی آواز سے شیرنی زمین پر گری اور غراہٹ کی آواز آئی اور پھر خاموشی چھا گئی۔

   ہم بند پر کچھ دور تک بڑھے اور دائیں طرف ٹارچ کی روشنی پھینکتے رہے لیکن کچھ دکھائی دیا اور نہ ہی سنائی دیا۔ مجھے علم تھا کہ شیرنی کو گولی لگی ہے۔ میں نے سوچا کہ اب جا کر سو جاؤں اور شیرنی کا پیچھا کل دن کی روشنی میں کرنا بہتر رہے گا۔ یہاں سے ہم واپس کار تک آئے۔ رات کا کھانا میں نے تمکور میں کھایا اور پھر چائے اور تمباکو سے دل بہلانے کے بعد اگلے دن کے سہانے خوابوں میں گم سو گیا۔

   اگلی صبح پو پھٹتے وقت میں دوبارہ گاؤں پہنچ گیا۔ رات والے راہبر کو ساتھ لے کر میں واپس پلٹا اور بند پر آکر ہم بہت احتیاط سے نیچے اتر کر بنیان کے درخت تک پہنچے جہاں میں نے گذشتہ رات شیرنی پر گولی چلائی تھی۔

   فوراً ہی ہم نے بہت بڑے رقبے پر پھیلے خون کے نشانات تلاش کر لئے جہاں شیرنی نیچے گری تھی۔ یہاں ہمیں ہڈی کا ایک ٹکڑا ملا جس پر میری اعشاریہ 405 بور کی رائفل کی گولی کے سیسے کا ٹکڑا موجود تھا۔ میرا ساتھی درخت پر چڑھا اور اس نے فوراً ہی اس دو شاخے پر خون کے چند قطرے تلاش کر لئے جہاں شیرنی بیٹھی تھی۔

   یہاں سے ہم نے خون کے نشانات کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ جلد ہی ہمیں معلوم ہوا کہ شیرنی کو سر پر گولی لگی ہے اور وہ بری طرح زخمی ہے۔ اس کے خون کے نشانات آڑے ترچھے اور دائروں کی صورت میں ایک دوسرے سے ہو کر گذر رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ اسے بالکل بھی احساس نہیں ہے کہ وہ کہاں جا رہی ہے۔

   ہمیں جمے ہوئے خون کے بکثرت بڑے بڑے دائرے ملے۔ آخر کار وہ جگہ ملی جہاں شیرنی یا تو گری تھی یا دم لینے کے لئے رکی تھی۔ شاید اس نے رات کا کچھ حصہ بھی یہاں گذارا تھا۔ یہ کوئی دس مربع فٹ کا دائرہ تھا اور خون سے بھرا ہوا۔ علی الصبح جب وہ یہاں سے نکلی تو بظاہر خون کا بہاؤ تھم چکا تھا۔ اکا دکا جھاڑیوں پر ہمیں خون کے قطرے دکھائی دے رہے تھے۔

   پہلا دائرہ ہم نے بند کی جڑ سے لے کر ان جھاڑیوں تک پورا کیا۔ بند کے اوپر تک ہمیں خون کا کوئی نشان نہ ملا اور نہ ہی شیرنی کا کوئی اتہ پتہ کہ جس سے اندازہ ہو سکے کہ شیرنی نے اپنی پناہ گاہ چھوڑ دی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ شیرنی گھنی گھاس کے اسی قطعے میں چھپی ہوئی ہے جو دو سو گز لمبا اور دس سے لے کر پچھتر گز تک چوڑا تھا۔ پر کیا وہ زندہ بھی تھی؟ یہ ایک ایسا سوال تھا کہ جس کے جواب پر میری اور میرے ساتھی کی زندگی کا انحصار تھا۔

   اس جگہ لوٹ کر جہاں ہم نے شیرنی کے خون کا آخری قطرہ دیکھا تھا، گھنی گھاس میں پتھر پھینکنے شروع کر دیئے۔ ان تمام کوششوں کا نتیجہ مکمل خاموشی رہا۔

   ہم اس طرح گھاس کے کنارے کنارے آگے بڑھتے رہے۔ شیرنی کی موجودگی کا جائزہ لینے کے لئے میں نے گھاس میں پانچ گولیاں بھی چلائیں لیکن شیرنی کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔ تین چوتھائی فاصلے کو طے کر لینے کے بعد ہمیں ایک پستہ قد درخت دکھائی دیا جو بمشکل دس یا بارہ فٹ بلند ہوگا۔ میرا ساتھی اس پر چڑھنے کی نیت سے اس کی طرف بڑھا تاکہ اس پر چڑھ کر بہتر طور پر جائزہ لے سکے۔ اچانک ہی بغیر کسی وارننگ کے شیرنی گھاس سے نکلی اور دھاڑ لگا کر میرے ساتھی کی طرف جھپٹی۔

   میرا ساتھی دہشت کے مارے چلایا اور میں اس جگہ سے بمشکل بیس گز دور تھا۔ میں نے شیرنی پر یکے بعد دیگرے تین گولیاں چلائیں۔ شیرنی الٹ کر اسی جگہ گم ہو گئی جہاں سے وہ نکلی تھی۔ بالآخر اسے موت نے آ ہی لیا۔

   یہ شیرنی جیسا کہ میرا اندازہ تھا، بوڑھی ہو چکی تھی اور اس کے دانت گھس چکے تھے۔ اس کی بوڑھی عمر نے اسے انسان کے قریب آ کر آسان شکار کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہاں وہ کتے اور بکریاں آسانی سے مار سکتی تھی۔ بھوک اور ڈھلتی عمر شاید اس کے غصیلے ہونے کی وجہ تھے۔ انسان سے پیدائشی خوف اور کم ہمتی نے اسے آدم خور بننے سے روکے رکھا۔ اگرچہ میرا خیال تھا کہ اگر شیرنی کو نہ مارا جاتا تو وہ بہت جلد ہی آدم خور بن جاتی۔ گذشتہ رات کی گولی شیرنی کی ناک پر لگی تھی اور وہ اتنی اندر نہیں جا سکی تھی کہ شیرنی کو کوئی مہلک زخم پہنچاتی۔ اس طرح گولی لگنے اور ہڈی ٹوٹنے اور سیروں خون بہہ جانے کے باوجود بھی ہو سکتا تھا کہ شیرنی مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتی۔ میرے ساتھی پر حملہ کرنے کے وجہ سے اسے اپنی جان گنوانی پڑی۔

 

Rate this item
(0 votes)
  • Last modified on Thursday, 29 May 2014 21:14
  • font size