جالا ہالی کا قاتل

  • Thursday, 03 October 2013 06:15
  • Published in شکاریات
  • Read 2275 times
جالا ہالی کا قاتل All images are copyrighted to their respective owners

یہ کہانی کسی آدم خور شیر کی نہیں اور نہ ہی کسی آدم خود تیندوے کے بارے ہے۔ بلکہ یہ کہانی ایک عام سی جسامت کےحامل ایک عام سے تیندوے کی

ہے جو اپنی جان بچانے کے لئے نہایت بے جگری، چالاکی اور موثر طریقے سے لڑا۔ اس نے کُل تین افراد کو ہلاک کیا اور کم از کم گیارہ افراد زخمی بھی کئے۔

1938 میں دوسری جنگ عظیم سے ذرا قبل ، جالا ہالی کا گاؤں جو کہ بنگلور سے سات میل شمال مغرب میں، تمکور کی سڑک کے پاس واقع ہے، ایک غیر اہم وادی تھا۔ اس میں بمشکل ڈیڑھ سو کے قریب گھر رہے ہوں گے۔ ان میں سے کچھ گھر اینٹوں سے بنے ہوئے اور دیگر گھاس پھونس وغیرہ سے بنے ہوئے تھے۔ چونکہ بنگلور شہر میسور کی ریاست کا صدر مقام تھا، اس ریاست کے محکمہ جنگلات کا صدر دفتر بھی یہیں واقع تھا۔ ریاست میں سدا بہار اور برساتی، دونوں طرح کے جنگلات بے تحاشہ تھے۔ ریاست میں جنگلات کو کیڑوں اور بیماریوں سے ہونے والے باقاعدہ نقصان اور تباہی سے نمٹنے کے لئے حکومت نے جالاہالی سے میل بھر دور ایک چار مربع میل زمین کا ٹکڑا مختص کیا ہوا تھا۔ یہاں صندل، روز ووڈ، ریڈ روز ووڈ اور دیگر اقسام کے درخت قطاروں میں لگائے گئے تھے تاکہ ان پر کیڑوں سے ہونے والے نقصان کا مطالعہ کیا جا سکے۔ یہ کیڑے خود سے محدود مقدار میں چھوڑے جاتے تھے۔ بنگلور میں واقع جنگلات کی لیبارٹری بھی نزدیک ہی تھی۔ یہ درخت دس فٹ کی اونچائی کے ہو چکے تھے اور ان میں تیز دھار گھاس اور کانٹے دار جھاڑیاں بھی بکثرت تھیں جن کی وجہ سے یہاں اکثر جگہوں پر گذر ناممکن تھا اور سانپوں، خرگوشوں اور اکا دُکا موروں، تیتروں اور بٹیر کی بھی بڑی تعداد یہاں آباد تھی۔

ایک دن اس علاقے میں ایک تیندوا بیس میل دور مگاڈی کے پہاڑی سلسلے سے گھومتا ہوا آن پہنچا۔ پہلے پہل اس نے خرگوشوں، چوہوں اور اس علاقے میں موجود دیگر چھوٹے موٹے جانوروں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا۔ تاہم جلد ہی اس نے جالاہالی کی بکریوں اور دیہاتی کتوں پر بھی نظر کرم ڈالنا شروع کر دی۔

سب کچھ بخیر چلتا رہا حتیٰ کہ ایک دن تیندوے نے ایک موٹے پولیس دفعدار کی بکری کو کھا لیا۔ تیندوے کے اس فعل کو دفعدار نے اپنے سرکاری عہدے اور اپنی انا پر ضرب سمجھا اور اس نے علی اعلان قسم کھائی کہ وہ اس تیندوے کو نیست و نابود کر دے گا۔

مقامی پولیس فورس کو تھری ناٹ تھری رائفلیں دی گئی تھیں۔ ان کے میگزین کو اس لئے ہٹا دیا گیا تھا کہ کوئی جذباتی پولیس والا عوامی احتجاج کے دوران پے در پے فائر نہ کرتا چلا جائے۔ اس رائفل سے ایک وقت میں ایک گولی چلتی تھی۔ اس کے بعد دوسری گولی کو بھر کر پھر فائر کیا جاتا تھا۔

دفعدار اپنی سروس رائفل لے کر مردہ بکری کے ساتھ موجود ایک درخت پر بیٹھ گیا۔ سورج غروب ہوتے وقت تیندوا پہنچا اور اس کی بے خبری میں چلائی گئی گولی سے اس کی اگلی بائیں ٹانگ زخمی ہوئی۔ اس ناکام کوشش کی وجہ شاید دفعدار کا برا نشانہ اور رعشہ زدہ ہاتھ تھے۔

تیندوے نے غرا کر چھلانگ لگائی اور یہ جا وہ جا۔ موٹا دفعدار ساری رات درخت پر خوف کے مارے کانپتا رہا۔ اگلی صبح وہ نیچے اترا تو اس نے خون کے نشانات دیکھنے کی کوشش کی پر ناکام رہا۔ اس نے اندازہ لگایا کہ خوش قسمتی سے اس کا نشانہ خطا ہوا تھا۔ تاہم اس نے سوچا کہ تیندوے کے لئے یہ اچھا سبق تھا اور اب تیندوا بکریوں کی طرف اب آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔

یہ سب کچھ جمعہ کی رات ہوا۔ اگلا دن یعنی ہفتے کا دن بغیر کسی خاص واقعے کے گذرا۔ اس شام دیہاتیوں نے اگلے دن کے لئے بڑے پیمانے پر ہانکا کرنے کا سوچا تاکہ خرگوشوں کا شکار ہو سکے۔ دو فٹ اونچے خرگوشوں کے جال کے گز در گز محکمہ جنگلات کے اس قطعے کے ایک کنارے تین ایکٹر تک بچھا دیئے گئے۔ اگلے دن ہانکا کرنے کے لئے سو کے قریب دیہاتی جمع ہو گئے جن کے پاس کتے اور لکڑی کے بھالے تھے۔ منصوبہ یہ تھا کہ ہانکے سے جب خرگوش بھاگ کر جال میں پھنسیں تو انہیں بھالے مار مار کر ہلاک کیا جائے۔

بظاہر سب کچھ ٹھیک رہا۔ جب وہ جال کے نزدیک درختوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے وہاں سے بے ضرر خرگوشوں کی بجائے تیندوے کو نکلتے دیکھا۔ تیندوا ہانکا کرنے والوں کے دائرے میں پہنچا اور پلک جھپکنے جتنی دیر میں اس نے چھ افراد کو مختلف نوعیت کے زخم پہنچائے۔ کسی کو محض ایک خراش لگی تو کسی کو بلیڈ کی طرح تیز پنجوں سے گہرے زخم یا بھنبھوڑا۔

ہانکے والے دوڑ کر ادھر ادھر پھیل گئے جبکہ تیندوا واپس اسی جگہ گھس گیا جہاں سے وہ نکلا تھا۔

اس جگہ کے نزدیک ہی ہفی پلنکٹ اپنی والدہ کے ہمراہ رہتے تھے۔ اپنی جوانی میں وہ مانے ہوئے شکاری تھے اور انہوں نے مدراس پریزیڈنسی میں دیگو وامتا کے علاقے میں کوئی درجن بھر شیر اور دو درجن سے زیادہ تیندوے مارے ہوئے تھے۔ ہانکے والے بوکھلاہٹ میں سیدھا ان کے پاس پہنچے اور انہیں یہ خبر سنا کر مدد مانگی۔ ہفی اس وقت دیر سے اٹھے تھے اور شب خوابی کے لباس میں تھے۔ انہوں نے پولیس دفعدار کا تیندوے پر گولی چلانے اور اسے زخمی کرنے کے بارے نہیں سنا تھا۔ انہوں نے سوچا کہ بنگلور جیسے بڑے شہر سے سات میل کے فاصلے پر کسی تیندوے کی موجودگی کا خیال محض حماقت ہے۔ خیر انہوں نے گھبرائے ہوئے دیہاتیوں سے الجھنا مناسب نہ سمجھا اور ایک ایل جی اور ایک گولی کا کارتوس لے کر اپنی بارہ بور کی بندوق کے ہمراہ چل پڑے۔

یہاں جب انہوں نے گھائل افراد کو دیکھا تو انہیں حقیقتاً پہلی بار صورتحال کی سنگینی اور تیندوے کی موجودگی کا علم ہوا۔

انہوں نے احتیاط سے ان درختوں کا جائزہ لیا اور ان کے پیچھے پیچھے نصف درجن دیہاتی چل رہے تھے۔ ہفی ابھی نصف درختوں سے ہی گذرے ہوں گے کہ ایک جگہ انہوں نے تیندوے کو اپنی جگہ بدلتے دیکھ لیا۔ انہوں نے اوپر تلے پہلے بائیں اور پھر دائیں نال خالی کر دیں اور تیندوا اپنی جگہ لوٹنے لگا۔

ہفی دوڑ کر اس کے پاس پہنچے۔ دیہاتی بھی ان کے پیچھے پیچھے تھے۔ یہاں ان سے وہ غلطی ہوئی جس کے بدلے انہیں اپنی جان دینی پڑی۔ انہوں نے ساکت پڑے تیندوے کو اپنے پاؤں سے چھوا۔ چھوتے ہی تیندوا اٹھا اور حملہ کر دیا۔ اس نے پلنکٹ پر دھاوا بولا اور ان کے دائیں بازو پر دانت جما دیئے تاکہ وہ اپنا ہتھیار نہ استعمال کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے پچھلے پنجوں سے ان کی رانوں کو چھیلنا شروع کر دیا۔ ان کے ہمراہی ادھر ادھر بھاگے۔ صرف ایک بندے نے اپنے لکڑی کے بھالے سے تیندوے پر حملہ کیا۔ تیندوے نے ہفی کو تو چھوڑ دیا لیکن اب اس نے اس بندے پر حملہ کر دیا۔ اس نے نہ صرف اس بندے بلکہ چار دیگر افراد کو بھی پنجے مارے اور بھاگ کر دوبارہ درختوں میں جا چھپا۔ اس کے پیچھے خون کی لکیر بھی جا رہی تھی۔

اب آپ اس صورتحال کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہفی درمیان میں تھے اور دیہاتی ان کے گرد۔ اس وقت تک ہفی بے ہوش ہو چکے تھے اور ان کا دائیں بازو تقریباً الگ ہو چکا تھا۔ ان کے ساتھیوں نے خود کو سنبھالا اور ہفی کو لے کر ان کے فارم ہاؤس کی طرف لپکے۔ ہفی کا خون اس دوران بری طرح بہتا رہا۔ دو دن بعد میں جب اس جگہ سے گذرا تو مجھے جمے ہوئے خون کی مقدار سے حیرت ہوئی کہ اتنا خون بہہ جانے کے بعد بھی کوئی انسان کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔

مسز پلنکٹ نہایت حاضر دماغ خاتون تھیں اور انہوں نے ہفی اور چار دیگر شدید زخمیوں کو کار میں ڈالا اور سیدھا بنگلور کے بورنگ ہسپتال پہنچیں۔ بقیہ سات زخمی بنگلور کے وکٹوریہ ہسپتال بھیجے گئے۔

ہفی کو اضافی خون بہم پہنچایا گیا اور ان کے بازو کو بچانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم اگلے دن جب گینگرین کے آثار نمایاں ہوئے تو ان کا بازو کاٹ دیا گیا۔ لیکن صدمے اور کثرت سے خون بہہ جانے کی وجہ سے ہفی نہ بچ سکے اور اس سے اگلے دن بخار کی حالت میں وفات پا گئے۔

یہ سب واقعات اتوار کی صبح ہوئے۔ اسی دوپہر کو ایک گڈریا ادھر سے گذرا تو اس نے تیندوے کے خون کے نشانات دیکھے جب تیندوا ان درختوں سے نکلا تھا۔ اس نے جالا ہالی کے دو بھائیوں کو اس کی اطلاع دی جن کے نام کالیہ اور پپیہ تھے۔

اگلی صبح یعنی پیر کے دن دونوں بھائیوں نے نہایت بہادری لیکن حماقت سے تیندوے کا پیچھا کرنے کی ٹھانی۔ بڑے بھائی کالیہ کے پاس بارہ بور کی توڑے دار بندوق تھی جبکہ چھوٹے بھائی کے پاس ایک نالی مزل لوڈر۔

اپنی اپنی بندوقیں بھر کر ان بہادروں نے کندھے سے کندھا ملائے اس علاقے میں موجود خون کے نشانات کا پیچھا کیا۔

اس طرح چلتے ہوئے وہ دونوں ایک جگہ ایک دوسرے سے الگ ہوئے اور پلک جھپکتے ہی تیندوا کالیہ پر تھا۔ تیندوے نے کالیہ کو زمین پر گرایا اور اس کے مثانے اور جنسی اعضاء کو چبا ڈالا۔ دھکے سے کالیہ کی بارہ بور کی بندوق گر گئی۔ وہ نیچے اور تیندوا اوپر۔ کالیہ درد کی شدت سے چلا رہا تھا کہ اس کا بھائی اس کی مدد کو لپکا اور آتے ہی اس نے اپنی مزل لوڈر سے تیندوے پر فائر جھونک دیا۔ تاہم اس کی گولی اس کے بھائی کو کیسے نہ لگ سکی، یہ ایک راز ہے۔

تیندوا جو کہ اب مزید زخمی وہ چکا تھا، کالیہ کو چھوڑ کر پپیہہ پر چڑھ دوڑا۔ وہ منہ کے بل نیچے گرا۔ تیندوے کے دانت اس کی پشت سے ہوتے ہوئے اس کے پھیپھڑے تک پہنچ گئے جبکہ تیندوے کے پچھلے پنجوں نے اس کے کولہے اور رانوں کو نوچ ڈالا اور پھر گم ہو گیا۔

میں اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا کہ ایک بندہ میرے پاس پسینے میں شرابور پہنچا اور اس نے خبر پہنچایا۔ عجلت میں میں نے اپنی رائفل، بارہ بور کی بندوق اور ٹارچ اٹھائی اور کار کی طرف بڑھا۔ میری بیوی نے اسی وقت ساتھ چلنے پر اصرار کیا۔ جونہی ہم گیٹ سے باہر نکلے، میرا دوست ایرک نیو کامب ہمیں ملنے کی نیت سے آتا ہوا دکھائی دیا جو مقامی پولیس میں کام کرتا ہے۔ اسے جلدی سے بتاتے ہوئے کہ میں کہا جا رہا ہوں، معذرت کی اور چلنے ہی والا تھا کہ ایرک نے بھی ساتھ چلنے پر اصرار کیا۔

ہمیں جالا ہالی پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگا اور دہشت ناک منظر ہمارے سامنے تھا۔ ہر مکین، چاہے وہ بوڑھا تھا چاہے نوجوان، مرد یا عورت، سب کے سب موجود تھے۔ ایک ہجوم درختوں کے ذخیرے کے پاس جمع تھا کہ شاید انہیں تیندوے کی کوئی جھلک دکھائی دے جائے۔ انہوں نے درختوں کی شاخوں پر پناہ لی ہوئی تھی۔ اس علاقے کے درخت آدمیوں کے بوجھ سے ٹوٹنے کے قریب تھے۔ تاہم کوئی بھی فرد آگے جا کر دونوں بھائیوں کی مدد کرنے کی جرأت نہیں رکھتا تھا جو گذشت چار گھنٹوں سے درد کے مارے چلا اور مدد مانگ رہے تھے۔

سب سے پہلا کام تو زخمیوں کو اٹھا کر ہسپتال پہنچانا تھا۔ کالیہ کی حالت بہت بری تھی اور وہ بہت تکلیف میں تھا۔ اس کے سوراخ شدہ پھیپھڑے سے خون بلبلوں کی صورت میں نکل رہا تھا۔

ہم نے انہیں اٹھا کر کار میں ڈالا اور میں نے انجن چلایا تاکہ ہم انہیں ہسپتال لے جا سکیں کہ ایک دیہاتی دوڑا ہوا ہمارے پاس آیا۔ اس کے پاس اتنا لمبا نیزہ تھا کہ میں نے آج تک اتنا بڑا نیزہ نہیں دیکھا۔ شاید اس کی لمبائی بارہ فٹ رہی ہوگی۔ اس نے بتایا کہ تین سو گز دور ایک بڑی جھاڑی میں ابھی ابھی تیندوا گھسا ہے۔ اگر ہم اس کے ساتھ چلیں تو تیندوا آسانی سے مارا جا سکتا ہے۔

مجھے بخوبی احساس ہے کہ اس کے بعد جو کچھ بھی ہوا، وہ میری ذاتی غفلت کا نتیجہ تھا۔ میں اپنے بنیادی فرض یعنی زخمیوں کو وقت پر ہسپتال پہنچانے کی بجائے تیندوے کے شکار میں الجھ گیا۔ تاہم، تیندوے کو مار سکنے کا اتنا آسان موقع ایسی بات تھی جس سے میری آنکھوں پر پردے پڑ گئے اور میں زخمیوں کو بھلا کر تیندوے کو مارنے بڑھا۔ ایرک نے میرے ساتھ چلنے پر اصرار کیا اور میں نے اسے بارہ بور کی بندوق پکڑائی جس کی بائیں نالی میں ایل جی اور دائیں نالی میں گولی کا کارتوس تھا۔ اسے چند اضافی کارتوس بھی میں نے دیئے۔ میرے پاس اعشاریہ 405 بور کی رائفل تھی جو میں نے خود اپنے استعمال کے لئے رکھی۔ یہ دوسری غلطی تھی جیسا کہ آگے چل کر آپ کو علم ہوگا۔ مجھے رائفل کی بجائے بارہ بور کی بندوق اپنے پاس رکھنی چاہیئے تھی۔ اب ہم اس دیہاتی کے ساتھ آگے بڑھے اور میری بیوی بطور تماشائی ہمارے پیچھے تھی۔

ہم بڑی جھاڑیوں سے پچیس گز قریب پہنچ گئے لیکن چونکہ ہمیں دیہاتی نے کسی خاص جھاڑی کا نہیں بتایا تھا کہ اس نے تیندوا کس جھاڑی میں دیکھا تھا، میں نے ایرک کو کہا کہ وہ مجھ سے تیس گز دور دائیں طرف چلے جائیں تاکہ ہم ایک دوسرے کی گولی چلانے کی سیدھ سے ہٹ جائیں اور تیندوے کو فرار ہونے سے بھی روک سکیں۔ پھر میں نے نیزہ بردار سے کہا کہ وہ ان جھاڑیوں میں پتھراؤ کرے۔ اس نے بہت منظم طریقے سے پتھراؤ شروع کیا۔ بیس منٹ تک پتھراؤ جاری رہا لیکن ہمیں نہ تو کچھ سنائی دیا اور نہ ہی دکھائی۔ مجھے اب شبہ ہو چلا تھا کہ تیندوا قرب و جوار میں موجود بھی ہے یا نہیں۔ اسی وقت ایرک کی آواز آئی کہ انہیں جھاڑیوں میں صاف دکھائی دے رہا ہے اور یہ بھی کہ تیندوا موجود نہیں۔

اسی دوران ہجوم سے چند دلیر جوان ہمارے پاس آ گئے تھے۔ ان کے پاس ایک کتا بھی تھا۔ ہم نے اس کتے کو جھاڑیوں میں گھسانے کی کوشش کی تاکہ تیندوے کی موجودگی کا علم ہو سکے لیکن کتے نے اندر گھسنے سے انکار کر دیا۔ کتا ان جھاڑیوں سے باہر ہی رہ کر جھاڑیوں کی طرف منہ اٹھا کر بھونکتا رہا۔

اس سے مجھے اپنا خیال تبدیل کرنا پڑا کہ تیندوا موجود بھی ہو سکتا ہے۔ اس وقت تک ایرک بے صبرے ہو کر جھاڑیوں کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی طرف سے ایک پتھر بھی پھینکا۔ پہلے چند پتھروں کی حد تک تو کچھ بھی نہ ہوا۔ پھر انہوں نے ایک بڑا پتھر پھینکا جو یا تو تیندوے کو لگا یا اس کے بہت نزدیک گرا۔ آوف! آوف! کی آواز آئی اور پھر ایک پیلے رنگ کی لکیر سی جھاڑی سے نکلتی ہوئی دکھائی دی۔ انہیں بندوق سیدھی کرنے کا موقع تک نہیں ملا لیکن بوکھلاہٹ میں ان سے بندوق کا ٹریگر دب گیا۔ شاید اسی وجہ سے ان کی جان بھی بچ گئی۔ بندوق چلی اور اس نے تیندوے کے سامنے زمین میں سوراخ کر دیا۔ اس سے تیندوا کچھ جھجھکا۔ اگلے ہی لمحے وہ ان پر تھا۔ ایرک کے ہاتھ سے بندوق چھوٹ گئی اور ایرک اور تیندوا ایک ووسرے سے لپٹے ہوئے گھاس کے اندر اور گہرے نالے کے بالکل کنارے پر تھے۔

اس تمام وقت ایرک چیخ چیخ کر مجھے گولی چلانے کو کہتے رہے اور تیندوا مہیب آوازیں نکالتا رہا۔ مجھے محض گھاس ہلتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ میں دوڑ کو ادھر پہنچا۔ مجھے خوف تھا کہ اگر میں نے اتنے نزدیک سے اپنی طاقتور رائفل سے گولی چلائی تو گولی تیندوے کو چھیدتی ہوئی ایرک کے بھی پار ہو جائے گی۔

اس کے بعد تیندوے نے ایرک کو چھوڑا اور کھڈ میں موجود جھاڑیوں میں گھس گیا۔ میں نے اس پر گولی چلائی اور جیسا کہ بعد میں علم ہوا، گولی تیندوے کی گردن کو چھوتی ہوئی گذری۔

میرا خیال تھا کہ ایرک بالکل نڈھال پڑے رہیں گے لیکن انہوں نے فوراً ہی جست لگائی اور ریکارڈ رفتار سے نالے کے دوسرے کنارے پر جا رکے۔ میں اس دن سے انہیں اکثر ان کی رفتار کے حوالے سے چھیڑتا رہتا ہوں اور یہ ان کی دکھتی رگ بن چکا ہے۔ تیندوے نے ان کے پہلو کو چبایا تھا۔ ایک پسلی بھی تیندوے کے دانت کی وجہ سے ٹوٹ چکی تھی۔ ان کی رانیں اور بازو بری طرح زخمی تھے۔

ہم نے مزید مہم جوئی کا ارادہ ترک کیا اور برؤنگ ہسپتال کی طرف روانہ ہو گئے۔ میری کار انسانی خون سے بری طرح بھیگ چکی تھی۔ اس شام کو ہم پولیس اور دیگر سرکاری نوعیت کی الجھنوں سے نبرد آزما رہے۔

کالیہ اسی رات انتہائی کرب کی حالت میں اس دنیا سے گذر گیا۔ اس کا بھائی پپیہہ ایک مہینے کے بعد مکمل صحت یاب ہو گیا۔ خوش قسمتی سے اس کے پھیپھڑے کا زخم جلد ہی مندمل ہو گیا۔ ایرک نیو کامبے محض خوش قسمتی سے دو ہفتوں میں ہی بالکل بھلے چنگے ہو گئے۔

اگلا دن منگل کا دن تھا۔ کئی شکاری زخمی تیندوے کے پیچھے گئے۔ ان میں لائڈز ورتھ بھی تھے جو تمباکو کی فیکٹری کے مالک ہیں۔ یہ ایک مشہور شکاری ہیں جنہوں نے بہت سارے شیر اور تیندوے مارے ہیں۔ بیک، وہ بھی اتنے ہی مشہور بڑے شکاری ہیں۔ تاہم انہیں کچھ نہ ملا۔ خون کے نشانات بھی غائب ہو چکے تھے اور تیندوا بھی جیسے فضا میں تحلیل ہو چکا ہو۔

اسی شام کو تیندوے نے ایک بارہ سالہ چرواہے کو ہلاک کیا جو لاعلمی میں تیندوے کی کمین گاہ کے بہت نزدیک چلا گیا تھا۔ یہ جگہ دیگر واقعات والی جگہ سے کوئی میل بھر دور تھی۔ لڑکا بیچارہ فوراً ہی مر گیا کیونکہ تیندوے نے اس کو گلے سے پکڑا تھا اور اس کی شہہ رگ اور سانس کی نالی چبا ڈالی تھی۔

پانچویں دن صبح کو میں اس جگہ پہنچا جہاں یہ لڑکا مارا گیا تھا۔ ہم نے ہر ممکن احتیاط سے اس جانور کا پیچھا شروع کیا جو بظاہر بہت بری طرح گھائل ہو چکا تھا۔ اس کے جسم سے بیرونی طور پر خون کا بہاؤ تو اب تک تھم چکا تھا۔ میں گھنی جھاڑیوں میں گھسا اور تیندوے کی تلاش جاری رکھی۔ نصف فاصلے پر ہی تیندوے نے یا تو مجھے دیکھا یا پھر میری آہٹ سن لی اور غرانے لگا۔ خوش قسمتی سے اس نے مجھے خبردار کر دیا ورنہ جھاڑیاں اتنی گھنی تھیں کہ میں شاید تیندوے پر جا دھمکتا اور پھر مجھے وہ دکھائی دیتا۔ میں نے تیندوے کے تعاقب کا ارادہ ترک کر دیا۔ مجھے یقین ہو چلا تھا کہ تیندوا اب ایک یا دو دن کا مہمان ہے۔

اس دن ایک عجیب واقعہ ہوا۔ بنگلور سے پولیس پہنچ گئی۔ تیس افراد ایک لاری میں سوار تھے جس کے باہر جنگلہ اور جالی لگی ہوئی تھی۔ ان سب کے پاس ان کی سرکاری رائفلیں تھیں جن میں ایک ایک گولی موجود تھی۔ ڈرائیور کو ہدایت کی گئی تھی وہ اس گاڑی میں رہتے ہوئے تیندوے کو ہلاک کر کے اس علاقے کو محفوظ بنا دیں۔ اس نے اپنی پوری کوشش کی مگر بیچارے کو علم نہیں تھا کہ وہ کس جگہ گاڑی کو لے کر جا رہا ہے۔ آخر کار اسے اس وقت احساس ہوا جب گاڑی ایک گہرے کھڈ میں پھنس گئی۔ سب کے سب افراد اندر پھنس گئے اور انہوں نے چیخ و پکار سے آسمان سر پر اٹھا لیا جیسے انہیں یہ خوف ہو کہ جو فرد پہلے نکلا، یہ "آدم خور" تیندوا اسے ہڑپ کر جائے گا۔

کچھ فاصلے پر ہم تھے کہ ہمیں یہ چیخ و پکار سنائی دی۔ ہم لوگ دوڑ کر ان کی مدد کوپہنچے اور قانون کے محافظین کو چھڑایا۔ جونہی وہ لوگ اور گاڑی نکلی، انہوں نے فوری واپسی کی ٹھانی۔ واپسی سے قبل انہوں نے بتایا کہ انہیں اس گھنی گھاس سے تیندوے کی آواز سنائی دی تھی۔ میں نے سوچا کہ یہ محض ان کا تخیل تھا۔

اب میرا یہ معمول تھا کہ روزانہ صبح سات بجے میں اس جگہ پہنچتا اور سورج ڈوبتے واپس لوٹتا۔ چھٹے دن دوپہر کے وقت میں نے آسمان پر چند گدھ دیکھے۔ دوربین کو استعمال کیا تو پتہ چلا کہ ان کا رخ وادی کے درمیان میں ایک نسبتاً خالی جگہ کی طرف ہے۔ گذشتہ دن میں نے اس طرف جانے کی کوشش کی تھی لیکن راستہ نہیں ملا تھا۔

مجھے معلوم تھا کہ یہ مردار خور پرندے کسی جانور کی لاش پر ہی اتر رہے ہیں۔ یہ جانور یا تو تیندوا ہوگا یا پھر تیندوے کا کوئی شکار۔ محتاط ہو کر میں بمشکل تمام ان جھاڑیوں میں سے راستہ بناتا ہوا گذرا۔ اس کوشش میں میں کانٹوں سے الجھتا اور ہر لحظہ یہ دھڑکا لگا رہتا کہ اب تیندوے کی آواز سنائی دے گی اور پھر حملہ۔ تاہم ایسا کچھ نہیں ہوا۔ کانٹوں نے مجھے لہولہان کر ڈالا۔ میں وادی میں پہنچ گیا۔ ابھی میں پچاس گز ہی آگے بڑھا ہوں گا کہ چار گدھ زمین سے اڑے۔ آگے بڑھتے ہوئے میرے سامنے پانی کا ایک چھوٹا سا تالاب آیا۔ تیندوا اس کے کنارے پانی پیتی حالت میں مردہ موجود تھا۔

بیچارہ تیندوا اندورنی جریان خون کا شکار ہوا تھا اور پیاس اور بخار کے مارے اس حال تک پہنچا تھا۔ اپنی جگہ سے نکل کر اس پانی کے تالاب تک پہنچنے کی مشقت اس کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی۔ مرنے سے قبل اس نے خون کی قے کی تھی اور آدھے سے زیادہ تالاب اس کے خون سے سرخ تھا۔ خوش قسمتی سے میں وقت پر پہنچا کہ ابھی گدھوں نے اسے کھانا شروع نہیں کیا تھا اور اس کی کھال بالکل محفوظ تھی۔

جالا ہالی واپس پہنچ کر میں نے چند آدمی تلاش کئے جو میرے ساتھ جا کر تیندوے کی لاش لا سکیں۔ میں اسے یشونتا پور پولیس سٹیشن لے کر پہنچا تاکہ سرکاری طور پر رپورٹ درج کرائی جا سکے۔ یہاں مجھے تین گھنٹے انتظار کرنا پڑا کیونکہ کچھ سرکاری افسران موجود نہیں تھے۔ مجھے بہت شدید غصہ آ رہا تھا کہ اس تاخیر سے تیندوے کی کھال خراب ہو سکتی تھی۔

آخر کار مجھے کھال اتارنے کی اجازت مل گئی اور میں نے فوراً ہی کھال اتارنا شروع کر دی۔کھال اتارتے ہوئے میں نے وہ معلومات اکٹھی کیں جن سے مجھے ان حقائق سے آگہی ہوئی جن کی بدولت تیندوے نے تین انسانی جانیں لی تھیں اور بہت سے افراد کو زخمی کیا تھا۔

تیندوے کی اگلی ٹانگ کا زخم موٹے پولیس دفعدار کی تھری ناٹ تھری بور کی رائفل سے لگا تھا۔ اس میں اب کیڑے رینگ رہے تھے اور اس پر گینگرین کا شکار ہو چکا تھا۔ ہفی پلنکٹ کی گولی تیندوے کے جسم سے پار ہوئی لیکن معدے سے گذرنے کے باوجود اس نے کوئی فوری مہلک زخم نہیں پہنچایا۔ ایک ایل جی کا چھرا تیندوے کی کھال کے نیچے کھوپڑی کی ہڈی میں پیوست ملا۔ اس سے تیندوا غش کھا گیا اور ہفی کو تیندوے کو چھونے کا موقع ملا۔ پپیہہ کی بندوق سے پانچ چھرے تیندوے کے پہلو میں موجود تھے لیکن وہ تمام کے تمام کسی نازک جگہ نہیں تھے۔ آخر کار میری گولی تیندوے کی گردن پر اس وقت لگی جب وہ ایرک کو چھوڑ کر بھاگ رہا تھا۔ اس سے محض خراش ہی پہنچی۔

میں نے اس کھال کو عدالت میں پیش کیا تاکہ حکومت کی طرف سے کالیہ کے خاندان کو امداد مل سکے کیونکہ کالیہ اپنے خاندان کا کفیل تھا۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہوتی ہے کہ متوفی کی بہادری کو قبول کرتے ہوئے حکومت نے ایک کھیت اس کے خاندان کو دے دیا۔

دوسری جنگ عظیم کے آغاز جالا ہالی میں ڈرامائی تبدیلی ہوئی۔ اس علاقے کے مصنوعی جنگل کو کاٹ کر ہزاروں ہٹ بنائے گئے۔ ان میں پہلے اطالوی جنگی قیدیوں کو اور پھر برما اور مالے پر حملے کے لئے اس خطے میں موجود ایک بہت بڑے ہسپتال میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کے بعد یہاں ہوائی فوج کے فوجیوں کی بیریکیں بنائی گئیں تاکہ ہندوستان میں بڑھتی ہوئی فضائی فوج کے لئے تربیت گاہ مہیا کی جا سکے۔

اس تیندوے کی کھال اب میرے بنگلے کی زینت ہے۔ میں اس جانور کے لئے دلی عزت رکھتا ہوں۔ دیگر تیندوے چھپ کر اپنے شکار کو لاعلمی میں مارتے ہیں جبکہ اس نے اپنے زخموں اور تمام تر مشکلات کے باوجود نہایت بہادری اور جرأت سے اپنے دفاع کے لئے لڑائی لڑی اور اس میں کامیاب رہا۔

 

Rate this item
(0 votes)
  • Last modified on Thursday, 29 May 2014 21:16
  • font size