۱۰ بیرا پجاری

  • Thursday, 03 October 2013 06:04
  • Published in شکاریات
  • Read 2529 times
۱۰ بیرا پجاری All images are copyrighted to their respective owners

   جب بیرا پجاری سے میری پہلی ملاقات ہوئی، اس نے صرف ایک لنگوٹی نما چیز پہن رکھی تھی۔ لنگوٹی بھی کیسی کہ محض تین انچ چوڑی کپڑے کی

دھجی تھی جو ٹانگوں کے درمیان سے ہو کر کمر پر ایک غلیظ دھاگے سے بندھی ہوئی تھی۔ لیکن وہ ایک نہایت عمدہ شخص اور میرا دوست ہے۔

   میری بیرا سے پہلی ملاقات کو اب پچیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ یہ ملاقات کچھ ایسے ہوئی تھی۔

   صبح کاذب کا وقت تھا۔ مشرقی افق سے آنے والی روشنی سے متھور کا بنگلہ اور اس کے گرد موجود پہاڑیاں روشن ہو رہی تھیں۔ ان کی وجہ سے یہاں سے گذرنے والی ندی کو دریائے چنار کا نام دیا گیا تھا۔ یہاں دریا گھنے جنگل سے نکل کر تنگ سا موڑ کاٹ کر سات میل دور دریائے کاویری سے جا ملتا ہے۔ گرمیوں کا موسم تھا اور دریائے چنار بالکل خشک پڑا تھا۔

   میں حسب معمول جلدی اٹھا تھا اور جنگل کی سیر پر نکل کھڑا ہوا۔ دریائے چنار کی سنہری ریت پر چلتے ہوئے میں ریچھ سے مڈبھیڑ کا منتظر تھا۔ اس موسم میں ریچھ اس وقت دریا کے کنارے مختلف پھلوں کی تلاش میں آتے تھے۔ میرا اندازہ تھا کہ اگر ریچھ نہ سہی، تیندوے سے تو لازماً ہی ملاقات ہو جائے گی۔ مجھے یہ بھی علم تھا کہ اس وقت تیندوے کنارے کے جنگل کی گھنی گھاس میں دُبکے شکار کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ ان دنوں سانبھر، ہرن، جنگلی بھیڑ اور چیتل وافر مقدار میں ملتے تھے۔ اگرچہ میرا ارادہ شکار کا بالکل بھی نہیں تھا۔

   ابھی میں بنگلے سے میل بھر ہی دور گیا ہوں گا۔ صبح کاذب کی روشنی تیزی سے ختم ہو رہی تھی۔ اچانک میں نے پہلے جنگلی مرغ پھر مور کی آواز سنی۔ پھر سامنے والی مہندی کی جھاڑیوں میں عجیب سی سرسراہٹ ہوئی۔ میرے پاس اتفاق سے ٹارچ موجود تھی۔ اس لئے میں بہت احتیاط کے ساتھ اس جھاڑی سے دس فٹ کے فاصلے پر جا کر کھڑا ہو گیا۔ یہاں میری نظر ایک گڑھے پر پڑی جو کہ تین فٹ چوڑا اور تین ہی فٹ گہرا تھا۔ اس میں فٹ بھر پانی بھرا تھا جو دریا کی تہہ سے نکل آیا تھا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ کسی غیر قانونی شکاری کا کام ہے۔ یہ شکاری یہاں کسی ہرن وغیرہ کے انتظار میں بیٹھا ہوگا۔ اس کے پاس توڑے دار بندوق ہوگی جو اس ہرن بیچارے کا کام تمام کر دے گی۔ جو آواز پیدا ہوئی تھی وہ شاید یا تو مجھے دیکھ کر شکاری کے چھپنے کی کوشش میں پیدا ہوئی ہوگی یا پھر اس نے رات بھر جاگنے کے بعد اب نیند کی حالت میں کروٹ بدلتے ہوئے نکالی ہوگی۔

   میں نے تامل زبان میں زور سے اس شکاری کو کہا کہ وہ باہر نکلے و رنہ میں اسے گولی مار دوں گا۔ پہلے پہل تو خاموشی رہی۔ میں چند قدم اور آگے بڑھا تو ایک تاریک سا سایہ ان جھاڑیوں سے نکلا۔ میرے سامنے رُک کر اس نے اپنا ماتھا زمین پر تین بار رگڑا۔

   میں نے اسے اٹھنے کا حکم دیا اور پوچھا"تم کون ہو؟" اس نے جواب دیا "بیرا، ایک پجاری!"۔ میں نے پوچھا "بندوق کہاں ہے؟" اس نے حیرت سے پوچھا "کون سی بندوق؟ کیسی بندوق؟ میرے جیسے سیدھے سادھے بندے کے پاس بندوق کہاں سے آئی مالک؟ میں تو ایک مسافر ہوں۔ رات کو ادھر سے گذرتے ہوئے راستہ بھول گیا تو تھک کر ادھر سو گیا۔ میں نے تو آج تک بندوق دیکھی تک نہیں۔" میں نے پھر کہا "بندوق اٹھا کر باہر لاؤ۔" وہ چند لمحے تذبذب کا شکار رہا پھر جھاڑی میں گھس کر ایک پرانی توڑے دار بندوق لا کر میرے قدموں میں ڈال دی۔ یہ عجیب بندوق گز بھر لمبی اور پتلے سے بمشکل تین ان چوڑے کندے پر مشتمل تھی۔

   بیرا سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ بیرا جو کہ ایک پجاری اور چوتھائی صدی سے میرا دوست ہے۔ اس نے ہی مجھے جنگل اور اس کی نباتات اور حیوانات کے بارے سب کچھ بتایا ہے۔

   "تم نے کیا شکار کیا ہے؟" اس نے میرے قدموں پر جُھک کر کہا "ساری رات بیکار ہی گذری مالک۔" میں نے پھر سختی سے پوچھا "کیا شکار کیا ہے؟" اس بار اس نے مجھے اپنے پیچھے آنے کا کہا۔ دریا کے کنارے ریتلی زمین پر ایک مادہ سانبھر مردہ پڑی تھی۔ اس کی گردن میں ایک بڑا سا سوراخ تھا جس سے خون نکل نکل کر آس پاس کی زمین کو سرخ کر گیا تھا۔

   میں نے اسے غصے، نفرت اور ناراضگی کے ملے جُلے تاثر سے دیکھا تو وہ بولا "مالک، ہم بھوکے ہیں۔ اگر شکار نہ کریں تو کھائیں کیسے اور اگر نہ کھائیں تو زندہ کیسے رہیں؟"

   اس سے چند گز دور بیٹھ کر میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور اپنا تمباکو نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔ اس نے پہلے تو کافی مشکوک ہو کر تمباکو کو ہتھیلی پر رکھ کر سونگھا، پھر خوش ہو کر اسے چبانے لگا۔ کئی منٹ اسی طرح گذرے اور مجھے بھی مجبوراً خاموش رہنا پڑا۔

   "مالک فارسٹ گارڈ کو میری بندوق کے بارے تو نہیں بتائیں گے؟ یہ میرا واحد روزگار کا ذریعہ ہے۔ فارسٹ گارڈ کو علم ہوا تو وہ اسے چھین لے گا اور مجھے جیل ہو جائے گی۔ میری بیوی اور چار بچے بھوک سے مر جائیں گے۔" بیرا نے انتہائی متفکر انداز میں پوچھا۔

   اب یہ کافی عجیب صورتحال تھی۔ جنگل میں شکار کا میرا لائسنس اس بات کا متقاضی تھا میں اس جنگل کے تمام غیر قانونی شکاریوں کو پولیس کے حوالے کروں۔ اس کے علاوہ مجھے اس بدمعاش سے کوئی ہمدردی نہیں ہونی چاہیئے جو کہ مادہ جانوروں کو بھی اتنی بے دردی سے مار رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے شکار کا طریقہ بھی نہایت ظالمانہ تھا۔ پانی کے لالچ میں آنے والے پیاسے جانوروں کو مارتا تھا۔ دوسری طرف مجھے اس چھوٹے سے بندے پر بہت ترس بھی آ رہا تھا۔ اس کی گفتگو سے یہ بات صاف ظاہر تھی کہ وہ مجھ سے امید لگائے ہوئے ہے۔ شاید یہ میرے تمباکو کا اثر ہو۔

   براہ راست جواب سے بچتے ہوئے میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں رہتا ہے۔ اس نے جواب دیا "ہمارا کوئی گھر نہیں نہ ہی کوئی جھونپڑا اور نہ ہی کوئی کھیت۔ ہم سارا دن شہد تلاش کرتے ہیں۔ اگر کوئی چھتہ خوش قسمتی سے مل جائے تو ہم اسے پناگرام کے بازار میں بیچ دیتے ہیں۔ شہر کے چھوٹے برتن کے عوض ایک روپیہ ملتا ہے۔ اس سے ہم چار دن کے کھانے کے برابر راگی خرید لیتے ہیں۔ اگر شہد نہ ملے تو ہم "اودمبو" یعنی گوہ پکڑ لیتے ہیں۔ اس کا گوشت کھانے کے کام آتا ہے اور اس کی کھال بیچ دیتے ہیں۔ اس کی دم پناگرام کا ایک ڈاکٹر ہم سے مہنگے داموں خرید لیتا ہے۔ یہ ڈاکٹر بھی بہت شاندار آدمی ہے۔ وہ اسکی دم کو پکا کر مختلف دوائیوں میں ملاتا ہے۔ پھر اسے خشک کر کے پیستا ہے اور پھر اسے پیکٹوں کی صورت میں بیچتا ہے۔ آٹھ آنے فی پیکٹ یہ دوائیں مردانہ کمزوری کے لئے تیر بہدف نسخہ ہیں اور ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر اس سفوف کی ایک چٹکی کسی لڑکی کے بائیں شانے پر ڈال دیں تو وہ فوراً ہی رام ہو جاتی ہے۔ "

   اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا "اگر مالک کو کوئی لڑکی پسند ہو اور وہ اسے رام نہ کر سکیں تو میں ان کے لئے یہ سفوف لا سکتا ہوں۔ یہ بالکل مفت ہوگا۔ ڈاکٹر میرا گہرا دوست ہے اور اسے گوہ کی دم میری ہی مدد سے ملتی ہے۔ آپ کو صرف میم صاحب کے بائیں شانے پر اس سفوف کی چٹکی ڈالنی ہوگی اور بس میم صاحب ہمیشہ کے لئے آپ کی ہو جائیں گی۔"

   میں نے اسے سختی سے کہا کہ وہ میری محبت کی فکر چھوڑے بلکہ اپنی کہانی جاری رکھے۔

   "بعض اوقات جب ہم بہت بھوکے ہوں تو ہم جنگل میں مختلف جڑیں کھودتے ہیں۔ اس کے تنے پر تین پتے ہوتے ہیں۔ ان جڑوں کو آگ میں بھون کر یا پھر نمکین پانی میں کڑی مصالحے کے ساتھ اُبالنے سے یہ بہت لذیذ ہو جاتی ہیں۔ رات کو میں، میری بیوی اور میرے بچے "انائی بدھا" دریا کے کنارے کھودے ہوئے گڑھے میں سوتے ہیں۔ گرم موسم میں جیسا کہ آپ جانتے ہیں، میں چھپ کر شکار کرنے جاتا ہوں تو میری بیوی اور بچے باری باری رات بھر جاگتے ہیں مبادا کہ ہاتھی آ جائیں۔ اگر ہاتھی آ جائیں تو جاگنے والا فرد باقیوں کو جگا دیتا ہے اور وہ سب بھاگ کر گڑھے کے کنارے اگے بڑے درخت پر چڑھ جاتے ہیں۔ یہ ہاتھی بہت بدمزاج ہیں اور فوراً ہی حملہ کر دیتے ہیں۔ سال قبل ہاتھیوں نے ایک پُجاری عورت کو اسی طرح کے ایک گڑھے سے نکال لیا تھا۔ وہ بے خبر سو رہی تھی۔ اسے سُونڈ میں جکڑ کر اور درخت کے تنے سے مار مار کر ہلاک کر دیا۔ جب بڑا جانور ہاتھ لگ جائے تو ہم نہ صرف خود اس کا گوشت کھاتے ہیں بلکہ اسے دھوئیں میں سُکھا کر پناگرام کے بازار میں پندرہ روپے کے عوض بیچ دیتے ہیں۔ پندرہ روپے میں مہینے بھر کا راشن آ جاتا ہے۔ امید ہے کہ مالک یہ سب جان کر فارسٹ گارڈ کو میری بندوق کے بارے نہیں بتائیں گے۔ اتفاق سے یہ میرے والد کو ان کے والد نے بطور تحفہ دی تھی اور اُس وقت اس کی قیمت تیس روپے تھی۔" اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

   یہ بدمعاش اب امید بھری نگاہوں سے میری جانب دیکھنے لگا۔ اس کے ہونٹوں سے مسکراہٹ اور آنکھوں سے پریشانی جھلک رہی تھی۔ میرا احساس ذمہ داری بطور لائسنس ہولڈر کہیں دور جا سویا۔ میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ انکار کروں لیکن میرے منہ سے بے اختیار نکلا "نہیں بیرا، میں بالکل بھی نہیں بتاؤں گا۔ یہ میرا وعدہ ہے۔"

   وہ اُچھل کر کھڑا ہوا اور پھر اس نے پُجاریوں کے سے انداز میں تین بار اپنا ماتھا زمین پر ٹیکا اور بولا "میں تہہ دل سے مالک اپنی اور اپنے خاندان کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج سے ہم سب آپ کے غلام ہیں۔"

   میں نے بیرا سے وعدہ لیا کہ وہ دن چڑھے میرے بنگلے پر آئے گا۔ دراصل میں اس سے اس جنگل کے درندوں کی بابت پوچھنا چاہ رہا تھا۔ واپسی پر جان بوجھ کر میں مردہ سانبھر سے دور ہو کر گذرا ورنہ شاید میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا۔

   وعدے کا پکا بیرا دس بجے میرے بنگلے پر پہنچا۔ سوالات کرنے پر پتہ چلا کہ دو دن قبل جب وہ سانبھر کی تلاش میں بیٹھا تھا تو ایک شیر اس سے پانچ فٹ کے فاصلے سے گذرا تھا۔ اس نے بتایا کہ یہ بوڑھا شیر اس علاقے میں ہی رہتا ہے اور عمر کی وجہ سے اس کی نقل و حرکت بہت محدود ہو چکی ہے۔

   اس نے ایک اور داستان سنائی۔ پچھلے ماہ وہ اسی طرح چھپا ہوا اپنی توڑے دار بندوق کے ساتھ سانبھر کا انتظار کر رہا تھا۔ اچانک پانی کے گڑھے پر ایک چیتل نمودار ہوا ۔ چاند پوری طرح چمک رہا تھا۔ اس نے نشانہ لے کر گولی چلائی اور چیتل وہیں ڈھیر ہو گیا۔ بیرا نے بندوق دوبارہ بھری اور سونے کی تیاری کرنے لگا۔ اچانک ایک شیر نزدیکی جھاڑیوں سے نکلا اور سیدھا چیتل کی لاش پر آ کر رُکا۔ شیر نے لاش کو سُونگھا اور پھر اسے اٹھا کر چلتا بنا۔ بیرا نے اپنی توڑے دار بندوق کی وجہ سے ہلنے کی جرأت بھی نہ کی کہ اسے ایک بار چلانے کے بعد دوبارہ بھرنے میں کافی وقت لگتا تھا۔

   اس وقت میرے ساتھ کوئی چارے کا جانور نہیں تھا۔ میں اگر کسی کو پناگرام بھیجتا تو وہ جانور لے کر تب پہنچتا جب دن کی روشنی ختم ہو چلی ہوتی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ رات کو بیرا کے ساتھ "امیراں ووڈو" کے کنارے بیٹھوں۔ میں نے بیرا کو یہ صاف کہہ دیا کہ جب تک وہ میرے ساتھ رہے گا، اسے غیر قانونی شکار کا خیال تک نہ آئے۔

   چھ بجے ہم دونوں ندیوں کے درمیان والے جنگل میں بیرا کی بنائی ہوئی کھوہ نما پناہ گاہ میں بیٹھ گئے۔ یہ نہایت آرام دہ تھی۔ راتیں کافی گرم تھیں۔ بیرا صرف لنگوٹی پہنے ہوئے تھا۔ اس دن میں نے بیرا سے یہ سبق سیکھا کہ شکار کے انتظار میں کیسے بیٹھا جاتا ہے۔ جب بیرا بیٹھا تو ساری رات اس کی ٹانگ یا بازو تک بھی نہیں ہلا۔ دو بجے تک جب کوئی جانور نہ دکھائی دیا تو میں بے صبرا ہو کر سو گیا۔ صبح جب منہ اندھیرے بیدار ہوا تو بیرا ابھی تک اسی انداز میں بیٹھا ہوا تھا۔

   میری مایوسی کا اندازہ کرتے ہوئے اس نے مجھے مدد کی پیش کش کی کہ دن چڑھے وہ میرے ساتھ شیر کے پگ تلاش کرنے نکلے گا۔ بنگلے میں آ کر ، ناشتہ کر کے اور غسل سے فارغ ہو کر ہم نو بجے سے پہلے پلٹ آئے۔ میل بھر آگے جا کر ہم نے دیکھا کہ ایک بڑے نر شیر کے پگ دکھائی دیئے۔ یہ شیر شاید رات کو ادھر سے گذرا تھا۔ زمین اتنی سخت تھی کہ پگ کا پیچھا کرنا ممکن نہ تھا۔ بیرا کا خیال تھا کہ اسے چند ایسی جگہیں معلوم ہیں جہاں شیر کی موجودگی ممکن ہے۔

   ہم لوگ آگے بڑھتے چلے گئے۔ پوری وادی کی گھنی گھاس اور جھاڑیاں چھان ماریں۔ بانس کے جھنڈ بھی نہ چھوڑے۔ ایک بار ہمیں ہاتھی کی وہ آواز سنائی دی جو وہ خوراک کو ہضم کرتے ہوئے نکالتا ہے۔ ہمیں علم تھا کہ اگر اس حالت میں ہاتھی کو چھیڑا جائے تو وہ بہت خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ ہم نے راستہ بدل کر دوسری سمت سے پیش قدمی جاری رکھی۔

   اب ہم اس جگہ آ گئے جہاں جنگل صرف جھاڑیوں پر مشتمل تھا۔ ہر طرف چھوٹے چھوٹے پتھر بکھرے پڑے تھے۔ بیرا نے بتایا کہ شیر اور ریچھ اسی جگہ کے غاروں میں رہتے ہیں۔ پتھریلی زمین پر چلنے اور سخت گرمی کی وجہ سے ہمیں نشانات نہ دکھائی دیئے۔ میں نے واپسی کا ارادہ کیا۔ بیرا نے مزید کچھ دور چلنے کی درخواست کی۔

   جلتے سورج کے پسینے سے شرابور ہم آخر کار پہاڑی کی چوٹی تک آ گئے جہاں سے دوسری طرف کی ڈھلوان شروع ہوتی تھی۔ اس جگہ اترائی چڑھائی سے زیادہ دشوار تھی اور زیادہ پتھریلی بھی۔ آخر کار ہم اس جگہ پہنچے جہاں کئی غار تھے۔ بیرا نے کہا کہ میں سائے میں بیٹھ جاؤں اور وہ ادھر ادھر کا جائزہ لے کر آتا ہے۔ بخوشی میں بیٹھ گیا اور پائپ سلگا لیا۔ بیرا جلد ہی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

   دس منٹ بعد ہی بیرا لوٹ آیا۔ وہ بہت پرجوش دکھائی دے رہا تھا اور اس ے بتایا کہ اس نے شیر کی بو محسوس کی ہے۔ شیر لازماً یہیں کہیں نزدیک ہی چھپا ہوا ہے۔ اس وقت تک میں سخت مایوس اور تھک چکا تھا۔ میں نے کافی سخت لہجے میں اسے بکواس بند کرنے کو کہا۔ اس نے حیرت سے مجھے دیکھا اور اس کے چہرے پر عجیب سے تاثرات پیدا ہوئے۔ وہ بولا آئیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ اس نے اتنا کہا اور میرے جواب کا انتظار کئے بنا چل دیا۔

   رائفل اٹھائے میں اس کے پیچھے پیچھے چلا۔ فوراً ہی غار ہمارے سامنے تھے۔ بیس گز نزدیک جا کر بیرا نے مجھ سے کہا کہ اسے شیر کی بو آ رہی ہے۔ مجھے کچھ نہ محسوس ہوا۔ کچھ اور پاس ہو کر اس نے پھر سونگھنے کو کہا۔ اس بار میں نے بو کو صاف محسوس کیا۔ ایسی بو جو گلی سڑی سبزیوں سے آتی ہے۔ میرے کئی سال کے مشاہدے نے بتایا تھا کہ یہ بو شیر سے ہی آتی ہے۔

   بیرا نے سر اٹھا کر ان پانچ غاروں کا جائزہ لیا جو سامنے تھے۔ اس نے کافی دیر جائزہ لے مجھے بتایا کہ ان میں سے چوتھا غار ایسا ہے جہاں شیر کی موجودگی کا امکان ہے۔ یہ غار میرے اندازے کے مطابق بالکل بھی شیر کے لئے موزوں نہیں تھا۔

   میں نے غیر یقینی انداز سے اسے دیکھا۔ اس نے میرے تاثرات کو نظر انداز کر کے مجھے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ ہم لوگ جلد ہی اس جگہ پہنچ گئے جہاں پتھر سے سر نکال کر ہم غار میں جھانک سکتے تھے۔ میں نے سر اٹھا کر جھانکا تو وہ جگہ خالی تھی۔ دوسرے ہی لمحے جیسے کسی نے جادو کی چھڑی گھمائی ہو، ایک بہت بڑے شیر کا سر نمودار ہوا جس کی آنکھوں سے تحیر جھلک رہا تھا۔

   بمشکل آٹھ فٹ کی دوری سے میری گولی اس کی آنکھوں کے عین درمیان لگی۔ شیر اس ڈھلوان پر لڑھکتا ہوا بالکل اس پتھر پر آ کر ٹک گیا جو میرے سامنے تھا۔ اس کا بھاری سر اس کے اگلے پنجوں کے درمیان تھا، سبزی مائل آنکھیں نیم وا تھیں اور پیشانی سے خون کی دھار نکل رہی تھی۔

   بیرا کی جنگل کے بارے معلومات کے امتحان کا یہ پہلا مرحلہ بخوبی طے ہوا۔ میں حد سے زیادہ خوش تھا لیکن بیرا پر اپنی خوشی ظاہر نہ ہونے دی۔ گذرتے سالوں سے ہماری دوستی اور اعتماد کا رشتہ پختہ ہونے لگا اور آج تک مجھے بیرا سے دوستی پر کبھی افسوس نہیں ہوا۔

   ذیل میں بیرا کے ساتھ بے شمار واقعات میں سے دو واقعات درج ذیل ہیں۔ پہلا واقعہ تلوادی کے ریچھوں کے بارے ہے جہاں بیرا نے بخوشی مجھے بچانے کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال دی۔ دوسرا منداچی پالم کے آدم خور شیر کے بارے ہے۔

   تلوادی دراصل ایک وسیع وادی کا نام ہے جہاں تلوادی نام کی ایک ندی گذرتی ہے۔ جہاں میری بیرا سے پہلی ملاقات ہوئی تھی، یہ جگہ ادھر سے گیارہ میل دور ہے اور سالم ضلع کے دور افتادہ جگہوں میں سے ایک۔

   تلوادی ندی آئیور کے مقام پر جہاں سے گذرتی ہے، اسے میں مکڑیوں کی وادی کے نام سے جانتا ہوں۔ یہاں سرخ اور پیلی مکڑیوں کے جالے ہر جگہ موجود ہیں۔ یہ جالے بیضوی شکل کے اور بیس فٹ تک لمبے ہو سکتے ہیں۔ درمیان میں مکڑی خود ہوتی ہے جو عموماً نو انچ تک لمبی ہوتی ہے۔ اتنی بڑی جسامت کے باوجود یہ مکڑیاں بہت زود رنج اور غصیلی ہوتی ہیں۔اس کا شکار پتنگے اور تتلیاں ہوتے ہیں۔ جنگل کے دوسرے حشرات بھی یہ نہیں چھوڑتیں۔ یہ مکڑیاں اپنی ہی نسل کی دوسری مکڑیوں کے لئے بھی یکساں خطرناک ہوتی ہیں۔ اپنے جالے میں دوسری مکڑی کی موجودگی کا مطلب دونوں میں سے ایک نہ ایک مکڑی کی ہلاکت ہے۔

   تلوادی کی ندی اس مقام سے گذرتی ہے اور دو شاخوں میں منقسم ہو جاتی ہے۔ چھوٹی شاخ جنوب کی طرف کمپی کاری کی وادی کی جانب دریائے چنار سے جا ملتی ہے۔ یہ علاقہ کمپی کاری کے پاگل ہاتھی کی بھی آماج گاہ رہا ہے۔ جس نے سات آدمی، دو تین مویشی مار ڈالے تھے اور پانچ یا چھ بیل گاڑیاں بھی تباہ کر دی تھیں۔ ایک تین ٹن وزنی لاری جو بانس لاد کر جا رہی تھی، کو بھی الٹ دیا۔ ندی کا بڑا حصہ مغرب کی جانب بہتے ہوئے چند میل بعد جنوب مغرب کا رخ کر لیتا ہے۔

   یہ حصہ بالعموم گھنے جنگلات سے بھرا ہوا ہے۔ پہاڑی علاقے نسبتاً چھدرے لیکن باقی ہر جگہ بانس بھرا ہوا ہے۔ اس کے اختتام پر بلگنڈلو نامی مچھیروں کی بستی ہے۔ اس سارے علاقے میں ہاتھیوں اور بھینسوں کے غول موجود ہیں۔ اکا دکا شیر بھی پائے جاتے ہیں۔ تلوادی بذات خود گھنی گھاس سے ڈھکی اور تیندوؤں کا مسکن ہے۔ یہاں ریچھ، جنگلی سور، سانبھر، بھونکنے والے ہرن اور مور بھی اتنی بڑی تعداد میں ہیں جو میں نے کہیں اور نہیں دیکھے۔

   کہانی کی ابتداء کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ بیرا نے مجھے پوسٹ ماسٹر کے ذریعے خط بھیجا۔ اس میں لکھا تھا کہ ایک بہت بڑا تیندوا ماتھور انچٹی والی سڑک کے گیارہویں میل سے پندرہویں میل کے درمیان مویشی مار رہا ہے۔ خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ یہ تیندوا عام شیر سے بھی زیادہ بڑا ہے۔

   پانچ دن کی چھٹی لے کر میں ڈینکانی کوٹہ کے شارٹ کٹ سے ہوتا ہوا انچٹی اور پھر ماتھور پہنچا جہاں میری ملاقات بیرا سے ہوئی۔ یہاں سے ہم پندرہویں میل کی طرف پلٹے جو وادی میں ہی تھا۔ سڑک بالکل تباہ شدہ تھی۔ راستے میں کئی ندیاں تھیں اور راستہ جگہ جگہ بیل گاڑیوں کی آمد و رفت کی وجہ سے کٹا پھٹا تھا۔ راستے میں ہی بڑے بڑے پتھر بکثرت تھے جو کہ کار اور اس کے مالک سے خراج وصول کرتے تھے۔ خیمہ لگا کر ہم لوگ مویشی پٹی کی طرف چلے گئے جو یہاں سے پون میل دور ہے۔ یہاں میں نے بذات خود تیندوے کے بارے سنا۔ تیندوے نے ریوڑ پر حملہ ساڑھے پانچ بجے کیا جب ریوڑ گاؤں واپس لوٹ رہا تھا۔ اس نے حملے کے لئے سب سے بڑی گائے کا انتخاب کیا۔ کئی چرواہوں نے تیندوے کو بھگانے کی کوشش کی لیکن الٹا تیندوا ان پر غراتا رہا۔ میرے علم کے مطابق یہ تیندوا کسی ایک جگہ نہیں رہتا تھا اور چار میل چوڑا علاقہ اس کی آماج گاہ تھا۔

   چرواہوں کو جانور بیچنے پر مجبور کرنا بہت مشکل کام ہے۔ وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ تیندوے کی ہلاکت ان کے لئے ہی فائدہ مند ہوگی، وہ مذہبی تقدس کے باعث مجبور تھے۔ خیر مختلف طریقے آزما کر میں نے دو عدد تقریباً جوان جانور خریدے۔ ایک کو دریا کے کنارے اور دوسرے کو چودہویں سنگ میل کے ساتھ باندھا۔

 اب میرا کام صرف انتظار کرنا ہی تھا کہ تیندوا کب انہیں ہلاک کرتا ہے۔ یہاں مور اور جنگلی مرغ بکثرت تھے۔ لیکن ان پر گولی چلاتا تو تیندوا بھاگ جاتا۔ صبح شام میں وادی کا چکر لگاتا کہ شاید تیندوے یا پھر کسی شیر سے مڈبھیڑ ہو جائے۔

   خوش قسمتی سے تیسرے ہی دن شام کو سات بجے مجھے اطلاع ملی کہ اسی روز تیندوے نے دوسری مویشی پٹی سے ایک گائے ماری ہے جو یہاں سے تین میل دور ہے۔ جونہی گاؤں والوں کو خبر ہوئی، انہوں نے میری طرف ہرکارہ بھیج دیا۔

   رائفل اٹھاتے ہوئے میں نے ٹارچ اور اوور کوٹ بھی اٹھائے اور اس جگہ کا رخ کیا جہاں گائے ماری گئی تھی۔ کئی فرلانگ قبل ہی میں نے ٹارچ بجھا دی اور اس طرح ہم لوگ احتیاط سے چلنے لگے۔ پہاڑیوں سے نصف چاند طلوع ہو رہا تھا۔ یہاں ایک تنگ موڑ مڑتے ہی تیندوا دکھائی دیا۔ وہ مردہ گائے کے پیچھے عین راستے کے درمیان چھپا ہوا تھا۔

   میرے پاس بارہ بور کی بندوق تھی جو کم فاصلے کے لئے مناسب ہی۔ میری ونچسٹر رائفل بیرا اٹھائے میرے پیچھے تھا۔ قبل اس کے کہ میں بندوق اٹھاتا، تیندوے نے چھلانگ لگائی اور جھاڑیوں میں گم ہو گیا۔

   میں نے سرگوشی میں بیرا سے کہا کہ وہ چرواہے کے ساتھ باتیں کرتا ہوا واپس چلے تاکہ تیندوا دھوکا کھا جائے کہ ہم جا چکے ہیں۔ میں خود بیس قدم دور کھجور کے ایک جھاڑی نما درخت کے پیچھے چھپ گیا۔

   تیندوے نے جلد ہی اپنی موجودگی کی اطلاع آواز نکال کر بہم پہنچائی۔ پھر یہ آواز اس طرف سے آئی جہاں بیرا اور چرواہا گئے تھے۔ شاید وہ پوری تسلی کرنا چاہتا ہوگا۔ گھنٹہ بھر کی خاموشی کے بعد تیندوا اچانک ہی نمودار ہوا۔ وہ اب بھی اس راستے کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں سے ہم لوگ آئے تھے۔

   نیم تاریکی میں میں نے اس کے شانے کے پیچھے ہر ممکن احتیاط سے نشانہ لے کر گولی چلائی۔ تیندوا گز بھر ہوا میں اچھلا۔ زمین پر آئے بغیر اس نے ہوا ہی میں چھلانگ لگائی اور دوسری گولی چلانے سے قبل ہی گم ہو گیا۔ بلاشبہ اس کے فرار کے وقت کی آوازیں بتا رہی تھیں کہ وہ زخمی ہو چکا ہے۔ چند منٹ بعد خاموشی چھا گئی۔ میں نے مزید وقت گذارنا بیکار سمجھا اور واپس چل دیا۔

   اگلی صبح ہم لوگ منہ اندھیرے اس جگہ واپس لوٹے۔ یہاں فوراً ہی بیرا نے تیندوے کے خون کے نشانات تلاش کر لئے۔ اس بار میں رائفل سے مسلح تھا۔ بیرا میرے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ میرے Lg کے چھرے تیندوے کو لگے تھے۔ اس طرح تیندوے کی تلاش اور حملہ کی صورت میں اسے روکنا میرے ذمہ تھا۔ بیرا میرے پیچھے نسبتاً محفوظ رہ کر کھوج لگاتا آ رہا تھا۔

   سو گز دور ہی ہمیں تیندوے کے رکنے کا پہلا نشان ملا۔ یہاں سے تیندوا ایک نزدیکی نالے میں گھس گیا تھا جہاں گھنی جھاڑیاں تھیں۔ یہاں پیچھا کرنا نہ صرف مشکل بلکہ خطرناک بھی ہوتا۔

   پنجوں کے بل چلتے ہوئے ہم بار بار رک کر تیندوے کے لئے ادھر ادھر دیکھتے رہے۔ ہمیں علم نہ تھا کہ تیندوا زندہ ہے یا مر چکا ہے۔ یہاں میں بار بار جھاڑیوں اور گھاس میں اسے تلاش کرتا رہا۔ خوش قسمتی سے یہاں چٹانیں اور درخت بہت کم تھے۔

   اسی طرح ہم چند ہی قدم چلے ہوں گے کہ اچانک میرے سامنے ایک گڑھے سے ایک عجیب الخلقت جانور نکلا۔ یہ ایک مادہ ریچھنی اور اس کا بچہ تھے جو اس گڑھے میں سو رہے تھے۔

   ریچھنی کے سینے پر V کا نشان بالکل صاف دکھائی دے رہا تھا۔ وہ نسبتاً اوپر کو اٹھی۔ اس کا انداز کافی جارحانہ اور غصیلا تھا۔ پھر وہ دوبارہ چاروں پیروں پر جھکی اور سیدھا ہماری طرف آئی۔ میری رائفل بالکل اس کے کھلے منہ میں تھی کہ میں نے فائر کیا۔ اس لمحے وہ ہوا جس پر شکاری کی زندگی اور موت کا دار و مدار ہوتا ہے۔ یعنی "مس فائر"

   اس نے رائفل کو دانتوں میں جکڑ کر اس پر پنجہ مارا اور رائفل میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ اپنے دفاع میں پیچھے ہٹتے ہوئے میں ٹھوکر کھا کر گرا۔ ریچھنی میری طرف لپکی تاکہ مجھے نوچ سکے۔ عموماً یہ جانور سب سے پہلے چہرہ نوچتے ہیں۔ اس لمحے بیرا نے وہ عظیم ایثار کیا جو مجھے ساری زندگی اس کا احسان مند رکھنے کے لئے کافی ہے۔

   وہ چھلانگ لگا کر میرے اور ریچھنی کے درمیان آیا اور پوری قوت سے چلانے کی کوشش کی تاکہ ریچھنی بھاگ جائے۔ اسے صرف اتنی کامیابی ہوئی کہ ریچھنی اب اسے بھلا کر بیرا پر حملہ آور ہو گئی۔

   چونکہ بیرا آخری لمحے اس کے سامنے آیا تھا، ریچھنی کے دانت اس کے شانے میں گڑ گئے۔ اس کے پنجوں نے بیرا کے سینے، کمر اور پہلوؤں کو چھیل کر رکھ دیا۔ بیرا نیچے گرا اور ریچھنی اس پر لپٹی ہوئی تھی۔ میں فوراً رائفل کی طرف لپکا۔ میں نے مس فائر والا کارتوس نکالنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ لیور کام چھوڑ چکا ہے۔ چند ہی لمحے گذرے ہوں گے۔ بیرا درد سے چلا رہا تھا اور ریچھنی غصے سے۔ رائفل کو ڈنڈے کی طرح اٹھائے دستے والے سرے کو ریچھنی کے سر پر مارا۔ شکر ہے کہ میرا نشانہ خطا نہیں ہوا اور ریچھنی نے بیرا کو چھوڑ دیا اور پھر میری رائفل منہ میں پکڑ لی۔ اس بار اس کے دانت دستے میں گڑ گئے۔ رائفل پھر میری گرفت سے چھوٹ گئی۔ اس نے دستے کو کترنا شروع کر دیا۔ خوش قسمتی سے ریچھنی کے بچے نے، جو اس دوران حیرت اور دہشت سے دم بخود تھا، چند چیخیں ماریں۔ اچانک ہی ریچھنی نے رائفل چھوڑ دی اور بچے کی طرف لپکی۔ اس نے بچے کو بغور دیکھا اور سونگھا۔ پھر اچانک ہی دونوں مڑ کر ہماری نظروں سے جلد ہی اوجھل ہو گئے۔ یہ دہشت ناک منظر کئی دن تک میرے اعصاب پر سوار رہا۔

   بیرا کہنیوں اور گھٹنوں کے بل جھکا درد کے مارے تڑپ رہا تھا۔ اس کے زخموں سے خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔ میں نے بھاگ کر اپنا کوٹ اور قمیض اتاری۔ قمیض کو پھاڑ کر پٹیاں بنائیں اور بیرا کے زیادہ گہرے زخموں پر پٹی باندھنے کی کوشش کی تاکہ خون کا بہاؤ تھم سکے۔ پھر اسے کمر پر لادا اور ناکارہ رائفل اٹھائے میں مویشی پٹی کی طرف پلٹا۔ یہاں بیرا کو چارپائی پر لادے چار چرواہوں کی مدد سے اسے لے کر کیمپ پہنچا۔ یہاں زخموں پر آئیوڈین لگا کر اور جلدی جلدی سب کچھ سمیٹ کر میں نے بیرا کو گاڑی میں ڈالا اور پندرہ میل دور پناگرام کی طرف روانہ ہوا جہاں ڈسپنسری سے ابتدائی طبی امداد حاصل کی۔ بیرا خون بکثرت بہہ جانے کی وجہ سے زرد ہو رہا تھا اور غشی کی حالت میں تھا۔ یہاں سے پھر اسے کار میں ڈال کر میں اکسٹھ میل دور سالم ضلع پہنچا جہاں اول درجے کا ہسپتال موجود تھا۔

   ان دنوں پینسلین ایجاد نہیں ہوئی تھی اور پہلا ہفتہ بیرا نے زندگی اور موت کی کشمکش میں گذارا۔ میں اس کے ساتھ اس کے بستر سے ٹکا رہا۔ جلد ہی ڈاکٹروں نے اسے خطرے سے باہر قرار دے دیا۔ اب میں پناگرام پلٹا جہاں بیرا کی بیوی اور بچے نہایت پریشان کسی اچھی خبر کے منتظر تھے۔ انہیں میں نے کچھ رقم دی۔ یہاں مجھے تیندوے کی کیڑوں سے بھری کھال بھی پیش کی گئی جو پریشانی کے باعث میرے ذہن سے نکل چکا تھا۔ تلوادی میں گدھوں کو اڑتا دیکھ کر چرواہوں نے تیندوے کی لاش پائی تھی۔ یہ جگہ ہمارے ریچھنی سے مڈبھیڑ والی جگہ سے دو سو گز دور تھی۔ یہ کھال کیڑوں سے پر تھی اور محفوظ کئے جانے کے قابل نہ تھی۔

   سالم لوٹ کر میں نے بیرا کے علاج کے لئے کافی رقم چھوڑی اور واپس گھر لوٹ آیا۔ دو ماہ بعد جب بیرا چلنے کے قابل ہو سکا۔ اس بار اس کی دائیں ٹانگ میں کچھ لنگ سا آ چکا تھا۔ اس کے جسم پر زخموں کے نشانات بھی باقی تھے۔

   میری رائفل کا کندہ بیکار ہو چکا تھا جسے میں نے بدل لیا۔ نالی پر سرے سے چھ انچ نیچے ریچھنی کے دانتوں کے نشانات موجود تھے۔ اس دن سے بیرا اور میں، دونوں حقیقی بھائی بن چکے ہیں۔ ہمارے درمیان جو محبت اور بھائی چارہ قائم ہوا ہے وہ ہر طرح کی دنیاوی آلائشوں سے پاک ہے۔

اس واقعے کے کئی سال بعد یہ دوسرا واقعہ منداچی پالم کے آدم خور شیر کے بارے ہے۔

منداچی پالم یا اس کا تامل ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے، منداچی کی ندی یا منداچی کا گڑھا۔ یہ جگہ گھاٹ کنارے سے کچھ دور اور دو ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے جہاں پناگرام کی بستی موجود ہے۔ یہاں سے دریائے کاویری بھی گذرتا ہے۔ یہاں سے چار میل دور اوتائی ملائی نامی مچھیروں کی بستی ہے۔ یہاں بالکل ہی قریب ہوگانیکال کی آبشار ہے۔ یہاں فارسٹ ڈیپارٹمنٹ نے سڑک کے کنارے منداچی پالم کے پاس کنواں بنوایا ہوا ہے تاکہ مسافروں اور دوسرے جانور جو بھاری عمارتی لکڑی لے جاتے ہیں ، کی پیاس بجھا سکے۔ یہاں سے پناگرام کی طرف چھ میل کی چڑھائی شروع ہوتی ہے۔ یہ چڑھائی نہایت مشکل ہے۔

چھوٹا سا کنواں جس کے چاروں طرف گھنا جنگل ہے، یہاں سے ایک پتلی سی پگڈنڈی گذرتی ہے۔ اس جگہ سے میری کہانی شروع ہوتی ہے جو کئی ہلاکتوں کے بعد اور میرے شکاری رانگا کے بال بال بچنے کے بعد ختم ہوتی ہے۔

علی الصبح ساڑھے سات بجے کا وقت ہوگا جب پتوں اور گھاس پر شبنم کے قطرے موتیوں اور ہیروں کی طرح چمک رہے تھے اور ان پر گھنے درختوں سے چھلکتی سورج کی روشنی عجب بہار دکھا رہی تھی۔

ایک مرد اور دو عورتیں مچھلیاں اٹھائے ادھر سے گذرے۔ ان کے پاس بانس کی تیلیوں سے بنی ٹوکریاں تھیں جن میں مچھلیاں تھیں۔ کنویں پر پہنچ کر انہوں نے ٹوکریاں زمین پر رکھ دیں اور بیٹھ کر آرام کرنے لگے۔ مرد کی کمر کے گرد رسی کی مدد سے لوٹا بندھا ہوا تھا۔ کنویں پر آ کر انہوں نے لوٹے کو رسی کی مدد سے کنویں میں لٹکایا اور تازہ، شفاف اور ٹھنڈے پانی کو باہر نکالا۔ یہاں کی مقامی رسوم کے مطابق مرد نے اپنی پیاس پہلے بجھائی۔ اس کے بعد دونوں عورتوں کی باری آئی۔ اس کے پانی پینے کے دوران لوٹے کو منہ سے نہ لگایا کہ یہ حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف تھا۔

یہ لوگ مچھلیاں لے کر پناگرام جا رہے تھے۔ پناگرام سے پہلے یہ آخری کنواں تھا۔ مرد نے اپنی طلب کے مطابق پانی پیا اور پھر لوٹے کو دو بار بھرا تاکہ دونوں خواتین اپنی اپنی پیاس بجھا سکیں۔ دونوں عورتیں بمشکل بیس یا بائیس سال کی ہوں گی۔ انہوں نے کمر سے اوپر محض ساڑھی کا پلو کندھے پر ڈالا ہوا تھا اور باقی اوپری بدن ننگا تھا۔ ان کی سانولی رنگت پر پسینہ موتیوں کی طرح چمک رہا تھا۔ اگرچہ صبح خاصی خنک تھی لیکن مچھلیوں کے وزن سے وہ پسینے میں شرابور ہو رہے تھے۔

پانی پی کر یہ لوگ چند منٹ کے لئے کمر سیدھی کرنے لگے۔ انہوں نے اپنی پوٹلیوں سے پان کے پتے اور سپاری وغیرہ نکالی اور پان بنا کر چبانے لگے۔ چند ہی منٹوں میں ان کی باچھوں سے لال رنگ کا لعاب بہنے لگا جسے وہ بے تکلفی سے بار بار ادھر ادھر تھوکتے جا رہے تھے۔

اچانک کنویں کے پاس والے جنگل سے شاخوں کے ٹوٹنے اور پتوں کے مسلے جانے کی آوازیں آئیں۔ آوازیں بار با رآتیں اور فوراً ہی تھم جاتیں۔اس کے علاوہ جنگل بالکل خاموش تھا۔

تینوں افراد نے آواز کا ماخذ جاننے کی کوشش کی۔ انہوں نے سمجھا کہ کوئی ہرن یا چیتل ہوگا جو جنگلی کتوں سے گھبرا کر ادھر پناہ لے رہا ہے۔ عورتوں کو متاثر کرنے اور یہ سوچ کر کہ اگر جانور زیادہ زخمی ہوا تو اسے پکڑ بھی سکتا ہے، مرد آگے بڑھا۔ اس نے ہاتھ میں پتھر اٹھایا ہوا تھا۔

اس وقت آوازیں تھمی ہوئی تھیں۔ اس نے ذرا قدم اور بڑھائے۔ جھاڑیوں کے درمیان ایک ببول کا درخت تھا۔ اس نے اس درخت کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے کہ اس نے دیکھا کہ اس کے عین سامنے فٹ بھر دور شیروں کا جوڑا جنسی ملاپ کی حالت میں تھا۔

ایک عام شیر ایک ایسا جانور ہے کہ عموماً اس سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ ایک بار میں مچھلیوں کے شکار پر تھا کہ مجھ سے بمشکل پندرہ گز دور شیر نمودار ہوا۔ یہ بتانا مشکل ہے کہ ہم میں سے کون زیادہ حیران ہوا۔ تاہم شیر نے فوراً ہی رخ بدلا اور جدھر سے آیا تھا، ادھر واپس چل دیا۔ میں غیر مسلح تھا اور متجسس بھی، میں اس کے پیچھے چل دیا۔ شیر میرے تعاقب سے باخبر ہو کر بھی عام کتے کی رفتار سے چلتا رہا۔ تاہم جلد ہی وہ گھنی جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔

تاہم چاہے شیر ہو یا کوئی بھی اور جانور، اسے بعض اوقات خلوت درکار ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ناراض ہو کر یا پھر اپنی مادہ کو متاثر کرنے کے لئے شیر نے مختصر سی دھاڑ لگائی اور ایک ہی چھلانگ میں اس آدمی کا گلا دبوچ لیا۔ بغیر آواز نکالے آدمی وہیں ڈھیر ہو گیا۔ شیر اب بھی غرائے جا رہا تھا۔ دونوں عورتوں نے یہ آوازیں سنیں اور وہ اوتاملائی کی طرف سرپٹ دوڑ پڑیں۔ شیر نے محض ناراضگی دکھانے کے لئے یہ حملہ کیا تھا۔ اس نے لاش کو چھوا تک نہیں۔ لیکن اسے انسان کی بے بسی کا بخوبی اندازہ ہو گیا۔

چند ہفتے بعد ایک لکڑہارا جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لا رہا تھا کہ ایک موڑ پر اس کی مڈبھیڑ شیر سے ہوگئی۔ ایک بار پھر شیر کی مختصر دھاڑ اور چھلانگ لگی۔ ایک اور آدمی ہلاک ہو گیا۔ اس بار کوئی بھی وجہ نہیں تھی۔ اس بار بھی شیر نے لاش کو چھوا تک نہیں۔

دو ماہ گذرے۔ چند عورتیں مل کر جنگل میں املی کے پھل تلاش کر نے گئیں۔ ایک عورت باقیوں سے ذرا دور تھی۔ وہ پھل جمع کر کے انہیں اٹھانے کے لئے جھکی ہی تھی کہ اس کی نگاہیں شیر سے ملیں۔ ایک چیخ آئی اور پھر ایک دھاڑ کی آواز اور تیسری انسانی جان چلی گئی۔ اس بار شیر کے دانت شہہ رگ میں گھسے اور ان سے گرم گرم نمکین خون ابلنے لگا۔ یہ خون سیدھا شیر کے منہ میں گیا اور اس طرح منداچی پالم کا آدم خور وجود میں آیا۔ شیر اس عورت کو چند گز دور جھاڑیوں میں لے گیا اور اگلے دن کھوپڑی، پنجوں اور پیروں کے تلوے کے سوا سب کچھ کھایا جا چکا تھا۔

مختصر عرصے میں تین مزید ہلاکتیں ہوئیں۔ پہلی ساتویں سنگ میل پر، دوسری دریائے چنار کے کنارے اور تیسری اوکتاملائی سے بمشکل میل بھر دور۔ تینوں بار لاش کو شیر نے کلی یا جزوی طور پر کھایا تھا۔

شیر کی اس آخری واردات سے اتنا خوف و ہراس پھیلا کہ لوگوں نے پناگرام جا کر حکام کو درخواست کی کہ براہ کرم شیر کے خلاف کوئی کاروائی کی جائے ورنہ وہ پورا گاؤں ہڑپ کر جائے گا۔ میرا شکاری رانگا بھی وہیں تھا۔ اس نے لوگوں سے وعدہ کیا کہ وہ مجھے اس کام کے لئے تیار کرے گا۔ اس نے سو میل کا طویل سفر بس کے ذریعے کیا اور بنگلور میرے پاس شام ڈھلے پہنچا اور اطلاع دی۔

یہاں رانگا کا مختصر سا تعارف بے جا نہ ہوگا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ رانگا سے میری ملاقات ماتھور میں ہوئی تھی جہاں کچھ سال قبل میں بیرا سے پہلی بار ملا تھا۔ رانگا بیل گاڑی چلاتا تھا اور جنگل سے بانس لے کر پناگرام آتا تھا۔ وہ اپنا فالتو وقت بیرا کی طرح مانگے تانگے کی توڑے دار بندوق سے غیر قانونی شکار کھیل کر گذارتا تھا۔ تاہم وہ بیرا سے بہت مختلف تھا۔ جسمانی اور شخصی، دونوں اعتبار سے۔ بیرا کے برعکس وہ لمبا اور توانا آدمی تھا۔ اس نے سال بھر جیل میں بھی گذارا تھا کہ اس نے اپنی بیوی پر شبہ کرتے ہوئے اسے جان سے مار دینے کی کوشش کی تھی۔ جیل سے نکل کر اس نے دوسری شادی کی اور جب میں اس سے ملا تو وہ تین بچوں کا باپ تھا۔ جلد ہی اس نے تیسری شادی بھی کر لی اور اب درجن بھر بچوں کا باپ اور دادا بھی بن چکا ہے۔ اس میں بیرا کے برعکس انتظامی صلاحیتیں بھی تھی اور وہ دئے گئے احکامات کو بخوبی بجا لاتا تھا۔ اس کے علاوہ اس کا کردادر بھی پختہ نہ تھا۔ وہ ببول اور دیگر اجزاء سے ناجائز شراب بھی کشید کرتا تھا۔ میں نے کئی بار اس شراب کو چکھا تھا۔ یقین مانیں کہ نہایت عمدہ شراب ہوتی تھی۔ وہ بیرا سے کہیں زیادہ بے ایمان ہے۔ خصوصاً بارہ بور کے کارتوسوں کے لئے تو اس پر بالکل بھی بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔ اسے بیرا سے نفرت ہے اور وہ اکثر بیرا کی طرف حقارت اور نفرت سے دیکھتا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ وہ میری اور بیرا کی دوستی سے جلتا ہے۔ لیکن رانگا خطرے کے وقت بہادری سے ڈٹ کر سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ مشکل وقت میں قابل اعتماد ہے اور اسے جنگلی جانوروں یا ان کی کہانیوں سے بھی ڈر نہیں لگتا۔

بدقسمتی سے جب رانگا میرے پاس آیا تو میں کافی مصروف تھا اور کم از کم دو ہفتوں کے لئے میرا ان مصروفیات سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں تھا۔ سو میں نے رانگا کو پناگرام واپس بھیجا اور اسے تفصیلی ہدایات کے ساتھ ساتھ اپنے پتے لکھے ہوئے کافی سارے ڈاک کے لفافے بھی دئے۔ اسے میں نے ہدایت کی کہ وہ ہر دوسرے دن مجھے صورتحال سے تفصیلاً آگاہ کرتا رہے۔

اس وقت رانگا کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے شاید میں ان دو اموات کا بالواسطہ ذمہ دار ہوں جو اس دوران واقع ہوئیں۔ اس کے بعد جونہی مجھے کچھ فراغت ملی، میں بذریعہ کار پناگرام پہنچا۔ رانگا کو ساتھ لے کر میں ماتھور بیرا کی طرف چلا۔ اسے بھی ساتھ لے کر ہم اوکتا ملائی پہنچے۔ یہاں ہمارے گروپ کا آخری ممبر سوری تھا۔ سوری بھی جیل میں تین ماہ کاٹ چکا تھا۔ سوری کا جرم ایک جنگلی ہاتھی پر گولی چلانا اور اسے ہلاک کرنا تھا۔ یہ ہاتھی ایک نوجوان مادہ تھی۔ جب سوری غیر قانونی شکار کے لئے ایک گڑھے میں چھپا ہوا تھا تو یہ ہتھنی اس کے گڑھے کے کنارے آ گئی۔ سوری کو جان کے لالے پڑے تو اس نے گولی چلانے کا فیصلہ کیا۔ ہتھنی کے کان کے پیچھے اس نے اپنی توڑے دار بندوق سے گولی چلائی۔ سخت گولی نے اپنا اثر دکھایا اور ہتھنی وہیں ڈھیر ہو گئی۔ بدقسمتی سے سوری رنگے ہاتھوں وہیں پکڑا گیا۔ اس وقت میں دریا کے دوسرے کنارے شکار کھیل رہا تھا۔ مجھے معلوم ہوا تو میں نے آ کر ہتھنی کی تصویر کھینچی اور اس طرح سوری سے واقفیت بھی پیدا ہوئی۔

مجھے اپنی خوش قسمتی پر ناز ہے کہ میں اتفاقاً ان تینوں سے ملا۔ یہ تینوں ایک دوسرے سے الگ شخصیات رکھتے تھے۔ ان کے پاس جنگل کے مختلف پہلوؤں کے متعلق معلومات کے خزانے تھے۔ بیرا نے اس موقع پر فوراً ہی اپنی خدمات پیش کر دیں کہ وہ جنگل میں جا کر اس آدم خور شیر کو تلاش کرتا ہے۔ بمشکل میں اسے سمجھا پایا کہ یہ صریح خود کشی ہے۔ میں نے اس کے ساتھ سوری کو اپنی بارہ بور بندوق دے کر بھیجا۔ ایک اور بندہ جو محکمہ ماہی پروری کا نگران تھا، بھی ان کے ساتھ چلا۔ رانگا کے ذمے تین بھینسے لے کر انہیں مناسب جگہوں پر باندھنا ٹھہرا۔ رانگا کے لئے تین جانور پیدا کرنا مشکل نہ تھا کیونکہ وہ دھمکیاں، دھونس اور لالچ دے کر کام نکالنا بخوبی جانتا تھا۔

پہلا چارہ دریائے چنار کے کنارے اس جگہ سے میل بھر دور باندھا گیا جہاں دریائے چنار دریائے کاویری سے ملتا ہے۔ دوسرے کو اس جگہ سے تین میل دور اور تیسرا اس جگہ سے سو گز کے اندر باندھا گیا جہاں پہلی واردات ہوئی تھی۔ طے یہ پایا کہ بیرا اور دوسرے لوگ دریائے کاویری کے دوسرے کنارے پر شیر کی تلاش جاری رکھیں گے جبکہ میں اور ایک مقامی کھوجی کے ہمراہ دیرا کے دوسرے کنارے کی تلاشی لیں گے۔ رانگ کا کام بھینسوں کی دیکھ بھال اور ان کے چارے وغیرہ کا خیال رکھنا تھا۔

اس طرح ہم نے چار دن گذارے۔ کچھ بھی نہ ہوا۔ ہمیں بہت ساری جگہوں پر شیر کے پگ ملے لیکن وہ تازہ نہ تھے۔ اس کے علاوہ کسی کو بھی علم نہ تھا کہ یہ آدم خور ہی کے پگ ہیں یا کسی اور شیر کے۔

ہماری طرف سے تمام دیہاتیوں کا جنگل میں داخلہ اور عام راستے کا استعمال بند کرا دیا گیا تاکہ شیر کو بھینسوں کی چاٹ لگ جائے۔ اس کے علاوہ اس جنگل میں جنگلی جانوروں کی بھی بہتات تھی۔ شیر کے بھوکے مرنے کا تو سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا۔ اسی طرح دوسرے گاؤں سے لوگوں کو آمد و رفت کو روکنا ہمارے بس میں نہ تھا۔ آدم خور ان پر بھی ہاتھ صاف کر سکتا تھا۔

اس دوران میں نے ہر ممکن طریقے سے گرد و نواح میں اپنی آمد کی اطلاع پہنچا دی تاکہ اگر شیر کہیں بھی واردات کرے تو مجھے فوراً اطلاع مل جائے۔اس کے بعد بیر ا کی مدد سے ہم اس جانور کی کھوج آسانی سے لگا سکتے تھے۔ ہانکہ ناممکن تھا کہ اول تو اس کے لئے آدمی نہ ملتے، دوسرا اگر آدمی مل بھی جاتے تو یہ شیر اتنا نڈر اور کمینہ تھا کہ وہ الٹا ہانکے والوں پر ہی حملہ کر دیتا۔

پانچویں دن علی الصبح مجھے اطلاع ملی کہ پانا پتی کی مویشی پٹی میں ایک آدمی کو شیر نے مارا ہے۔ وہ جگہ یہاں سے چار میل دور تھی۔ یہ واردات سابقہ شام ڈھلے ہوئے تھی۔ یہ آدمی اپنے گھر سے نکل کر سو گز دور اپنے کتے کو بلانے گیا تھا کہ واپس نہ لوٹا۔ میں اور بیرا عجلت میں اس طرف چل پڑے۔ یہاں جست لگانے سے قبل شیر کے پنجے بہت پھیل گئے تھے۔ اس کے علاوہ دریائے چنار میں سے جب وہ اپنے شکار کو لے کر گذرا تو نرم مٹی پر اس کے پگ بالکل صاف تھے۔ یہاں دریا عبور کر کے وہ جنگل کے دوسرے کنارے بانس کے جھنڈ میں گھسا۔ یہاں ہم نے اس آدمی کی لاش پائی جو تقریباً مکمل ہی کھائی جا چکی تھی۔

یہاں درخت بالکل نایاب تھے۔ صرف تیس فٹ دور بانس کا ایک گھنا سا جھنڈ تھا۔ میں نے بیرا کو ہدایت کی کہ اس جھنڈ میں سے آٹھ یا نو بانس کے تنے نیچے اور پھر چار فٹ کی بلندی سے کاٹ دے۔ چونکہ بانس کے اوپری سرے اس بری طرح گھتے ہوئے تھے کہ نیچے موجود شگاف کے باوجود بھی کوئی بانس نیچے نہ گرتا۔

بیرا نے جلد ہی اپنا کام پورا کر دیا۔ ایک آرام دہ غار نما جگہ بنا دی تھی۔ اس میں بیٹھتے ہوئے میں نے دیکھا کہ اب پشت اور دیگر تمام اطراف سے میں بالکل محفوظ تھا کیونکہ میرے پیچھے اور اطراف میں موجود بانس کا جھنڈ بہت گھنا تھا۔ اگر شیر میری طرف آتا تو اسے سامنے سے حملہ کرنا پڑتا۔ میرے وفادار دوست بیرا نے میرے ساتھ ہی بیٹھنے پر اصرار کیا۔ میں نے سختی سے اسے روکا۔ مجھے اس کی ہمراہی میں زیادہ سکون ملتا لیکن یہ جگہ صرف اتنی ہی تھی کہ ایک بندہ بیٹھ سکتا تھا۔ اگر اسے کھلا کرنے کے لئے ہم دوسرے بانس کاٹتے تو خدشہ تھا کہ اوپر والے بانس نیچے گر پڑتے کیونکہ جھنڈ زیادہ بڑا نہ تھا۔ اس کے علاوہ زیادہ بانس کاٹنے سے زیادہ مقدار میں شاخیں اور پتے پھینکنے پڑتے جس سے شیر کو زیادہ شبہ ہو جاتا اور کٹتے تنوں کے شور سے بھی وہ خبردار ہو سکتا تھا۔

مجھے اندازہ تھا کہ رات بہت تاریک ہوگی کیونکہ یہ چاندنی راتیں نہیں تھیں۔ میں نے اپنی ونچسٹر رائفل پر ٹارچ جمائی اور اضافی ٹارچ کو بندوق پر لگا لیا اور اسے بھی اپنے ساتھ رکھ لیا۔ بانسوں کے درمیان موجود رہ کر میں شبنم اور جنگل کی خنک ہوا سے بھی محفوظ تھا۔ اسی طرح یہاں سانپوں کی آمد کا خطرہ بھی نہیں تھا۔

ایک بجے دوپہر کو میں اس جگہ پر بیٹھ گیا اور اپنے ساتھیوں کو واپس بھیج دیا۔ بیرا اب بھی ساتھ رکنے پر اصرار کر رہا تھا۔ میں نے انہیں ہدایت کی کہ صبح کو وہ جب دریائے چنار کی دوسری طرف پہنچیں تو مجھے پکاریں۔ ان کے جانے کے بعد میں اور میرے ہتھیار اگلے سترہ گھنٹوں کے لئے تنہا رہ گئے۔

آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس جگہ میں ہر طرف سے محفوظ تھا۔ میرے سامنے صرف اتنی سی جگہ تھی کہ میں سامنے دیکھ سکتا اور یہ بھی کہ انسانی لاش بھی میرے بالکل سامنے موجود تھی۔ مجھے اطمینان تھا کہ رات کو جب شیر اندھیرے میں بخوبی دیکھ سکے گا تو میں ہر طرف سے اس کے حملے سے کتنا محفوظ رہوں گا۔ خصوصاً جب میں اسے اندھیرے کے باعث نہیں دیکھ سکوں گا۔

انسانی لاش پر جھکے ہوئے بانس کے درختوں نے اسے گدھوں سے بچائے رکھا۔ مکھیاں البتہ بکثرت تھیں اور جلد ہی سڑاند ناقابل برداشت ہو گئی۔

تاریکی چھانے تک کچھ نہ ہوا۔ اندھیرا تیزی سے پھیل گیا۔ نہ صرف رات تاریک تھی بلکہ اس جگہ پر چھت کی طرح موجود بانس کے درختوں نے تاریکی کی شدت کو مزید بڑھا دیا تھا۔ تاریکی اتنی گہری تھی کہ حقیقتاً ہاتھ کو ہاتھ نہ سجھائی دیتا تھا۔ ٹارچ کا بٹن اور رائفل کی لبلبی، دونوں کو میں چھو کر ہی محسوس کر سکتا تھا ورنہ ان کا دکھائی دینا اس تاریکی میں ناممکن ہی تھا۔ البتہ میری کلائی پر بندھی ریڈیم ڈائل کی گھڑی پر مجھے صاف پونے آٹھ بجے کا وقت دکھائی دے رہا تھا۔ دس گھنٹے بعد ہی سورج نکلتا۔

مجھے علم تھا کہ مجھے اس دوران اپنی آنکھوں کو جنگل کے بادشاہ کی آمد کے لئے مستقل تیار رکھنا ہوگا۔ حقیقتاً رات کے گھپ اندھیرے میں شیر جو مجھے بالکل صاف دیکھ سکتا تھا، میرے لئے واضح خطرہ تھا۔ اسے تا حد نظر تمام چیزیں صاف دکھائی دیتیں اور میں ایک بھی انچ دور نہ دیکھ سکتا تھا۔ البتہ میں اس کی آمد کی آہٹ کو سن سکتا تھا۔ اسی طرح شیر کو میری آہٹ خبردار کر دیتی۔ میں شیر کی بو نہ سونگھ سکتا تھا اور نہ ہی شیر میری بو سونگھ سکتا تھا۔ البتہ میری آہٹ سے خبردار ہو کر وہ یا تو فرار ہو جاتا یا پھر میرے سامنے موجود سوراخ سے مجھ پر جھپٹ پڑتا۔ مجھے اس کی خوراک بننے کا کوئی شوق نہیں تھا۔

میرے پاس خاموش اور بے حس و حرکت بیٹھنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا۔ مچھر بھی اس جگہ گھس آئے اور خوب اذیت پہنچائی۔ اچانک ایک نرم اور لجلجی چیز میری گود میں حرکت کرنے لگی۔ اس کی لمبائی ہی لمبائی تھی اور ٹانگیں ندارد۔ بلاشبہ یہ کوئی سانپ ہی تھا۔ اس وقت ہلکی سی حرکت کا مطلب یقینی موت ہوتا۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنے بیکار ہوتے اعصاب پر قابو پایا۔ خوش قسمتی سے سانپ فوراً ہی مجھ سے دور باہر کی طرف چلا گیا۔

اچانک میرے گلے میں سرسراہٹ سی پیدا ہو چلی۔ س وقت کھانسنا ناکامی کے مترادف ہوتا۔ میں نے بھیڑیں گننا شروع کر دیں حتیٰ کہ سرسراہٹ بالکل ہی ختم ہو گئی۔

دس بج کر پچیس منٹ پر میں نے عقبی طرف سے ہلکی سی آہٹ سنی اور پھر خاموشی چھا گئی۔ منٹ پر منٹ گذرتے رہے۔ پھر یہ آواز میری دائیں جانب بالکل چند فٹ دور جھنڈ کے سرے سے آئی۔ بھاری سانس صاف سنائی دے رہی تھی۔ پھر ہلکی سی غراہٹ اور پھر خاموشی۔ پھر ایک اور غراہٹ اور پھر خاموشی۔ میرے سامنے کوئی چیز زمین پر گھسٹتی ہوئی گذری۔ کیا شیر شکار پر آ گیا ہے؟ کیا وہ چند فٹ دور مجھے تاک رہا ہے؟ کیا وہ حملہ کرنے کے لئے جھک رہا ہے؟ مجھے تو اپنی ناک کے سرے پر بھی کچھ نہیں دکھائی دے رہا تھا۔

میری رائفل بھری ہوئی تھی۔ میں نے آہستگی سے اسے اٹھایا تاکہ شیر کی جست کی صورت میں تیار رہوں۔ دہشت اور خوف کے مارے میرے چہرے سے پسینہ آبشار کی طرح بہہ رہا تھا۔ پورے جسم پر لرزہ طاری تھا۔

میں نے ٹارچ کا بٹن دبا دیا۔ میرے سامنے تیز روشنی میں نہایا ہوا لگڑبگڑ موجود تھا۔ وہ اس بات پر حیران تھا کہ لاش انسان کی ہے۔ اس نے ٹارچ کی طرف چند سیکنڈ کے لئے دیکھا اور پھر فرار ہو گیا۔ میرا دل چاہا کہ ایک قہقہہ لگاؤں لیکن موقع اس کے لئے مناسب نہ تھا۔

خیر ابھی تو میری موجودگی کا راز فاش ہو چکا تھا۔ میں توقع ہی کر سکتا تھا کہ آدم خور ان اطراف میں موجود نہ ہو ورنہ اسے میری موجودگی کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہوگا۔ میں نے عجلت میں تھرماس سے چائے کی چسکی لگائی۔ اس کے ساتھ ہی میں نے ایک بار اپنی ٹانگیں پھیلا کر پھر سمیٹ لیں۔ اب میں چند منٹ قبل والی دہشت کی حالت سے باہر تھا۔

دس یا بارہ منٹ بعد ہی میں نے فاصلے سے شیر کی آواز سنی۔ پانچ سے دس منٹ کے وقفوں سے یہ آواز کئی بار آئی۔ میرا اندازہ تھا کہ یہ آواز چوتھائی میل دور سے آئی ہے۔ اگرچہ اس جنگل میں آواز کا بالکل درست اندازہ لگانا ناممکن تھا پھر بھی میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ شیر نے خاموشی سے آنے کی بجائے عام طریقے سے آواز پیدا کرتے ہوئے آنے کو ترجیح دی ہے۔

پون گھنٹہ خاموشی سے گذرا۔ اس دوران ٹھنڈی ہوا چل پڑی۔ میرے اطراف میں موجود بانس کے تنے ایک دوسرے سے رگڑ کھا کر بے تحاشہ شور پیدا کرنے لگے۔ اس سے میرے ذہن میں ایک نیا خطرہ بیدار ہوا۔ اگر میرے سر پر معلق بانس کا کوئی تنا بھی اپنے وزن کے سبب نیچے گرتا تو کیا ہوتا؟ اس کے کٹے ہوئے تنے سے میں اس طرح زمین میں پیوست ہو جاتا جس طرح تتلی کو پن سوئی کی مدد سے تختے میں گاڑتے ہیں۔ مجھے اس خیال سے ہنسی آ گئی۔

عین اسی لمحے مجھے لاش کی جانب سے ہڈی ٹوٹنے کی آواز آئی۔ میں نے آہستگی سے رائفل اٹھائی اور اسے کندھے کے لیول پر لا کر سیدھا کیا۔ ٹارچ کا بٹن دبایا۔ تاریکی ہی رہی۔ ٹارچ نے جلنے سے انکار کر دیا۔ میں نے بار بار بٹن دبایا۔ کچھ بھی نہ ہوا۔ شاید اس کا بلب جل گیا ہوگا۔ اب مجھے یا تو شیر کی موجودگی کے دوران خاموش رہنا ہوگا یا پھر بندوق سے گولی چلاتا۔ میں نے گولی چلانے کا فیصلہ کیا۔ بہت احتیاط سے رائفل زمین پر رکھی اور پھر اسی احتیاط سے ٹٹول کر بارہ بور کی بندوق سنبھالی۔ اسے اٹھا کر میں نے اونچا کرنا شروع کیا۔ میں امید کر رہا تھا کہ آدمی کو کھاتے وقت شیر کا رخ میری جانب نہ ہو۔ اچانک بندوق کی نال بانس کے تنے سے ٹکرائی اور کلک کی آواز پیدا ہوئی۔

اچانک ہی شیر کی آوازیں رک گئیں۔ پھر بہت بلند دھاڑ بلند ہوئی۔ میں نے فوراً ہی ٹارچ جلائی۔ چھلانگ لگا کر گم ہوتے ہوئے شیر کی جھلک دکھائی دی۔ شیر نے بار بار دھاڑنا شروع کر دیا۔ شاید وہ اس مداخلت پر ناراض تھا۔

میں نے بندوق کو سیدھا رکھتے ہوئے اور ٹارچ جو جلائے ہوئے دوسرے ہاتھ سے جیب سے ٹارچ کا اضافی بلب نکالا جو میری جیب میں اس طرح کی صورتحال کے پیش نظر ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ میں نے ایک ہاتھ سے رائفل کی ٹارچ کو کھول کر اس کا بلب بدلا۔ اب ٹارچ جل پڑی۔ میں نے بندوق کی ٹارچ بجھا دی۔ ابھی بھی بندوق میرے قدموں میں سیدھی رکھی تھی۔

شیر اب بھی دھاڑ رہا تھا۔ اب وہ میرے عقب میں آ چکا تھا۔ مجھے اطمینان تھا کہ سامنے کے علاوہ میں ہر طرف سے محفوظ ہوں۔ سامنے کے حملے سے بچنے کے لئے مجھے مسلسل ٹارچ جلائے رکھنی ہوتی۔ صبح ہونے میں ابھی کم از کم پانچ گھنٹے باتی تھے۔ میری دونوں ٹارچیں اگرچہ نئے سیلوں والی تھیں لیکن پھر بھی پانچ گھنٹے تک انہیں مسلسل جلائے رکھنا ممکن نہ تھا۔ میں نے ٹارچ بجھا کر محض اپنے کانوں پر بھروسہ کیا۔ اگر لمبی خاموشی چھا جاتی تو میں ٹارچ جلا لیتا۔ اڑھائی بجے تک شیر دھاڑتا رہا پھر آوازیں دور ہوتی چلی گئیں۔ یقیناً وہ سخت ناراض اور مایوس ہوا ہوگا۔ مجھے اس کی مایوسی اور ناراضگی بہت اچھی لگی کہ اس طرح میری جان بچ گئی۔

میں رات بھر چوکسی کی حالت میں شیر کی آمد کے لئے تیار رہا۔ شیر جو آدم خور بھ ہو، اس کے بارے کسی قسم کی پیشین گوئی کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وقت گذرتا رہا اور آخر کار جنگلی مرغ کی آواز سنائی د ی۔ یہ سورج طلوع ہونے کی نشانی تھی۔ مجھے ایسا لگا کہ کئی صدیوں کے بعد سورج کو دیکھنے والا ہوں۔

جلد ہی دریا کے پار سے میرے ساتھیوں کا نعرہ سنائی دیا۔ مجھے یہ آواز خوش کن موسیقی جیسی لگی۔ میں نے چلا کر انہیں کہا کہ مطلع صاف ہے۔ وہ آ سکتے ہیں۔ اٹھنے سے قبل میں نے رات والی چائے کی تھرموس خالی کی اور اس دوران ٹانگیں بھی ہلائی جلائیں۔ اس کے بعد پائپ نے مجھے تازہ دم کر دیا۔ اس دوران میں نے رات کے واقعات کی کڑیاں بھی ملائیں۔

میرے تینوں دوست مجھے بخوبی جانتے ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کچھ کہا تو نہیں لیکن ان کے انداز سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ مجھے زندہ دیکھ کر بہت حیران ہو رہے ہیں۔ رات گئے تک جاری رہنے والے آدم خور کے ہنگامے کو انہوں نے بخوبی سنا تھا اور رات بھر دم بخود رہے تھے۔

بیرا نے مجھے کہا کہ وہ چار میل دور جا کر اپنے شکاری کتے کو لائے گا جو شیر کو منٹوں میں ڈھونڈ نکالے گا۔ یہ کتا عام پالتو دیہاتی کتا تھا۔ اس کا رنگ سفید اور بھورا نما تھا۔ اس کا نام کُش کُش کریہا تھا۔ بیرا اس کا نام لیتے وقت جب کریہا پر پہنچتا تو اس کی آواز ایک لمبی چیخ میں بدل جاتی۔ میں اس کی نقالی آج تک نہ کر سکا۔ خیر خالی کُش کُش کرنے پر بھی وہ متوجہ ہو جاتا۔ یہ بھی غنیمت تھا۔

میں نے اصرار کر کے سوری کو اس کے ساتھ بھیجا اور خود رانگا کے ساتھ اوتا ملائی کی طرف پلٹا۔ ناشتہ کر کے اور دریائے کاویری میں غسل کر کے سو گیا۔ دو بجے دوپہر کو میری آنکھ کھلی۔ بیرا، سوری اور بیرا کا کتا موجود تھے۔ کتے نے مجھے دیکھ کر اپنی دم ہلائی اور اپنی ناک میرے کندھے سے رگڑی۔

دوپہر کا کھانا بعجلت نگل کر ہم لوگ رات والی جگہ کی طرف پلٹے۔ متوفی کے لواحقین ہمارے ساتھ تھے جو اکیلا جانے سے کتراتے تھے۔

اب لاش اتنی متعفن ہو چکی تھی کہ اس کے رشتہ داروں نے طے کیا کہ وہ اسے اٹھا کر دریائے چنار کے پار دفن کر دیں گے۔ ان کے جانے کے بعد بیرا کے کتے نے شیر کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ بمشکل سو گز ہی دور جا کر وہ رک گیا۔ شاید شیر کی بو پر لاش کی بو غالب آ گئی تھی۔ رات ہونے سے ذرا قبل ہم کیمپ پلٹے۔

اگلے دن کچھ نہ ہوا۔ اس سے اگلی صبح رانگا مرتے مرتے بچا۔

جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا کہ بیرا، سوری اور میں مل کر شیر کو تلاش کرتے جبکہ رانگا کا کام بھینسوں کے چارے، پانی پلانا اور دیکھ بھال تھا۔ اس دن اس نے صبح جلدی کام کا آغاز کیا۔ اس کے ساتھ ایک اور دیہاتی بھی تھا۔ منداچی پالم کے کنویں والے بھینسے سے ہو کر وہ لوگ منداچی پالم سے نیچے اترے۔ اب ان کا رخ دوسرے بھینسے کی طرف تھا جو چنار دریا کے کنارے بندھا ہوا تھا۔ دیہاتی آگے آگے اور رانگا اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ میل بھر دور آ کر جب وہ ندی میں اترے تو ان سے پچاس گز ہی دور شیر کھڑا تھا۔

دیہاتی نے گھاس کا گٹھڑ وہیں پھینکا اور نزدیکی درخت پر چڑھنے لگا۔ اسے مناسب بلندی تک پہنچنے میں چند ہی سیکنڈ لگے لیکن اس دوران رانگا کا راستہ رکا رہا۔ رانگا ابھی زیادہ بلند نہ ہوا تھا کہ شیر پہنچ گیا۔ اس نے پچھلے پنجوں پر بلند ہوتے ہوئے رانگا پر پنجہ مارا۔ رانگا کی دھوتی اس سے الجھ کر گری۔ شیر پل بھر کے لئے ہی دھوتی کی طرف متوجہ ہوا تھا کہ رانگا (منفی دھوتی) اب محفوظ مقام تک پہنچ گیا۔ شیر اب دھوتی کو چھوڑ کر ان کی طرف متوجہ ہوا اور دھاڑنے لگا۔ رانگا اور دیہاتی چلا چلا کر اپنی بپتا سنانے لگے۔

خوش قسمتی سے اس وقت کافی سارے دیہاتی اکٹھے ہو کر ادھر سے گذر رہے تھے۔ انہوں نے رانگا اور دیہاتی کی آواز سنی، پیغام کو سمجھا اور پورا گروہ میرے پاس کیمپ کی طرف دوڑا اور چار میل طے کر کے مجھ تک پہنچے۔

یہ جانے بغیر کہ یہ واقعہ رانگا سے متعلق ہے، میں بیرا اور سوری کی واپسی کا انتظار کئے بنا سر پٹ اس مقام کی طرف دوڑا۔ اس مقام کے نزدیک پہنچ کر میں نے صرف ان دونوں کے چلانے کی آواز سنی۔ دونوں اتنے خوفزدہ تھے کہ شیر کے چلے جانے کے بعد بھی اس کے حملے کا خطرہ تھا۔ ہر ممکن احتیاط سے آگے بڑھا تاکہ اگر آدم خور موجود ہو تو اسے اس کی بے خبری میں جا لوں۔ تاہم مجھے دیکھ کر رانگا محض حیران ہی ہوا۔ میں نے انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ پھر ہم نے شیر کا پیچھا کرنے کی ٹھانی۔ زمین اتنی سخت تھی کہ کوئی نشان نہ ملا۔ ہم نے دوسرے بھینسوں کی دیکھ بھال کا سوچا۔ دونوں جانور بحفاظت تھے۔ سہ پہر کو ہم کیمپ لوٹے۔ ہمارا خیال تھا کہ شیر ان بھینسوں کو گھاس نہیں ڈالنے والا۔ گذشتہ دو دن قبل والے واقعے کے بعد اب آدم خور کے شکار پر واپس آنے کے امکانات کم ہی تھے۔ منداچی پالم کا یہ آدم خور ان شیروں میں سے ایک تھا جو خطرہ بھانپ کر کسی دوسری جگہ اپنی خون آشام سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔

دو دن بعد صبح سات بجے اچانک اس کہانی کا اختتام ہو گیا۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا، آغاز والی جگہ ہی اختتام والی جگہ بنی۔

ایک جماعت جو دس افراد پر مشتمل تھی، اسی جگہ، اسی کنویں پر رکے۔ منداچی پالم کی چڑھائی سے قبل وہ پانی پی کر اور دم لینا چاہتے تھے۔

چونکہ عورتیں ہمراہ تھیں، ایک مرد پیشاب کرنے کے لئے تھوڑی دور ہی رک گیا۔ پھر ہلکی سی غراہٹ اور ایک چھلانگ کے ساتھ ہی آدم خور اس کو لے کر غائب ہو گیا۔ خوش قسمتی سے میں، رانگا، بیرا اور سوری بھینسوں کی دیکھ بھال کے لئے میل بھر ہی دور تھے۔ جلد ہی ہم بقیہ نو افراد سے ملے۔ انہوں نے حادثے کی اطلاع دی۔ میں نے رانگا اور سوری کو ہدایت کی کہ وہ درخت پر چڑھ جائیں اور میرا انتظار کریں۔ بیرا اور میں اس طرف بڑھے جہاں آدم خور نے حملہ کیا تھا۔ یہاں ہم نے خون کی دھار دیکھی۔

بیرا اب نشانات کا پیچھا کرتے ہوئے میرے آگے چل رہا تھا۔ سو ہی گز کے بعد ہمیں ہڈیاں چبانے کی آواز آئی۔ آواز بائیں طرف نالے سے آئی تھی۔ بیرا کو رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے میں اس طرف رینگنے لگا جہاں سے آواز آئی تھی۔ اگر ایسے مواقع پر ساتھی ہمراہ ہو تو ایک اضافی جان کی حفاظت کرنا مہنگا بھی پڑ سکتا ہے۔

جنگل بالکل خاموش تھا۔ ہڈیاں توڑنے اور بھنبھوڑنے کی آوازیں اب بالکل صاف آ رہی تھیں۔ نہایت احتیاط اور خاموشی سے میں آگے بڑھتے ہوئے ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہا تھا مبادا کہ میں کسی خشک پتے کو نہ کچل دوں یا کوئی پتھر میری ٹھوکر سے نہ لڑھک جائے۔ پندرہ گز کا فاصلہ بہت دیر سے طے ہوا۔ یہاں مجھے آدم خور کا کچھ حصہ دکھائی دے رہا تھا۔ چند قدم اور۔ اچانک آدم خور اٹھ کر میری طرف مڑا اور اس کے منہ میں متوفی کا بازو تھا جو کندھے سے کٹا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔ پھر اچانک اس نے غضب ناک دھاڑ لگائی۔

میری ونچسٹر رائفل کی نرم سیسے والی گولی کے پیچھے تین سو گرین کارڈائٹ کی طاقت تھی جس نے اس گولی کو فی مربع انچ پانچ ٹن وزن کی قوت سے دھکیلا تھا۔ یہ گولی اس کی گردن کی جڑ میں لگی۔ بلوپ کی آواز کے ساتھ بازو اس کے منہ سے گرا۔ اس نے آگے جھکتے ہوئے غراہٹ کی آواز نکالی۔ تیزی سے گولی تبدیل کرتے ہوئے میں نے اپنی پرانی اور وفادار رائفل سے دوسری گولی چلائی جو اس کے دل میں ترازو ہو گئی۔ اس کا کمینہ دل پھر کبھی نہ دھڑکنے کے لئے رک گیا۔ منداچی پالم کا آدم خور اسی جگہ گرا جہاں وہ تھا۔ اس طرح اس آدم خور کا خاتمہ ہوا۔ یہ شیر نر اور بے عیب و بے داغ جانور تھا۔ شاید فطرتاً یہ شیر کمینہ تھا جو آدم خوری کی طرف اتفاقاً مائل ہوا۔ ایسے ہی اتفاقات بے شمار انسانی جانوں کے اتلاف کا سبب ہوتے ہیں۔

میری عدم موجودگی سے پریشان میری بیوی اسی دن دوپہر کو بنگلور سے اپنی کار پر پہنچی کہ شاید میں گھر بار بھول چکا ہوں۔

ہم بیرا کو اپنے ہمراہ لئے اس کی کھوہ تک پہنچے۔ اسی وقت اس کے ہاں پانچویں بچے کی پیدائش ہونے والی تھی۔ اس بچے کی آمد کچھ یوں ہوئی۔ ایک گہرا گڑھا جو بیرا نے دریائے چنار کی نرم مٹی میں کھودا تھا۔ اس میں نرم سبز پتے بھر کر اس نے زچہ خانہ تیار کیا۔ بیرا ہی مڈ وائف بنا۔ کوئی دوائی نہیں، کوئی سوئی دھاگہ نہیں، نہ ہی گرم پانی اور نہ ہوئی کپاس۔ صرف سبز پتے اور پتھر کا تیز کنارہ جس سے اس نے بچے کی نال کاٹی۔ نال سے خون روکنے کے لئے اس نے راکھ استعمال کی۔ پیدائش کے دو گھنٹے کے بعد ہی زچہ و بچہ اپنے اصل گھر یعنی دوسری کھوہ میں منتقل ہوئے۔ بیرا نے نال وغیرہ کو وہیں گڑھا کھود کر دفن کر دیا۔ بیرا خود بھی شاید اسی طرح پیدا ہوا ہوگا۔ اس طرح وہ زندگی گذرا کر مرتے ہوں گے۔ حقیقتاً یہ جنگل کی اولاد ہیں۔ تہذیب سے نا آشنا یہ لوگ جنگل، پہاڑیوں، ندیوں، نالوں، ہر جگہ بغیر کسی جھجھک کے گھومتے ہیں۔ جس خاموشی سے پیدا ہوتے ہیں، اسی خاموشی سے ایک دن اسی زمین میں دفن ہو جاتے ہیں۔

اس دن صبح کو میں نے ایک مور مارا۔ اس کو ہم نے جنگل کے طریقے سے پکایا۔ پر اور آلائشیں وغیرہ نکال کر ہم نے اس کا سر اور گردن بمع پنجے کاٹ کر الگ کر دیئے۔ اس کے گوشت میں چاقو سے چرکے لگا کر اس میں نمک اور مصالحے بھر کر اس پر ہر طرف سے دریا کی گیلی مٹی کا لیپ کر دیا۔ مور اب گیند لگ رہا تھا۔ پھر آگ جلا کر انگاروں میں اس کو رکھ دیا۔ آگ متواتر جلتی رہی لیکن مور کو صرف انگاروں پر ہی رکھا گیا۔ جب مٹی ٹوٹ کر الگ ہونے لگی تو اسے آگ سے نکال لیا کہ کھانا تیار تھا۔ اس طرح ہلکی سی محنت سے اتنا لذیذ مور تیار ہو سکتا ہے کہ جو اچھے خاصے باورچی کو بھی شرمندہ کر دے۔

 

Rate this item
(0 votes)
  • Last modified on Thursday, 29 May 2014 21:18
  • font size