وادیِ چملا کا آدم خور

  • Thursday, 03 October 2013 05:58
  • Published in شکاریات
  • Read 3880 times
وادیِ چملا کا آدم خور All images are copyrighted to their respective owners

   وادئ چملا ضلع چتوڑ گڑھ کے جنوب مشرقی سرے پر واقع ہے جہاں یہ کڈپہ کے ضلع سے ملی ہوئی ہے۔یہ وادی نسبتاً چھوٹی ہے اور پانچ میل چوڑی

اور سات میل لمبی ہے۔ اس کے دو بازو انگریزی کے حرف Y کی طرح شمال مغرب اور شمال مشرق کی طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی لمبائی چار میل ہے۔ کڈپہ پہنچ کر یہ ختم ہو جاتے ہیں۔

   ایک خوبصورت دریا جو کہ کالا یانی کہلاتا ہے، وادی سے شمال مشرق سے گذرتا ہے۔ یہ دریا امبل میرو اور گنڈال پنٹا سے نکلتا ہے۔ ان جگہوں کا پانی سخت گرمیوں میں بھی یخ بستہ رہتا ہے۔ یہاں کالا پانی دریا جنوب کی طرف بہتے ہوئے ناگا پتلا سے گذرتا ہے۔ یہاں ایک پرانی جھیل ہے جہاں چندرگری اور ٹیپو سلطان نے بند باندھنے کی کوشش کی تھی تاکہ گرمیوں میں اس کا پانی آبپاشی کے لئے کام میں لایا جا سکے۔ یہاں ایک اکلوتا فارسٹ بنگلہ بھی موجود ہے۔

   وادئ چملا پوری طرح جنگلات سے بھری ہوئی ہے۔ مغرب کی طرف بخراپٹ کی جنگلی پٹی ہے اور مشرق کی طرف تیرو پاٹی کا جنگل، جس میں موجود ایک قدیم مندر پورے ہندوستان میں مشہور ہے۔ جنوب کی طرف چندرگری کے قصبے میں ایک قدیم قلعہ موجود ہے جو اپنے سابقہ مالک بادشاہ کی آخری نشانی ہے۔

   چندری گری کے نزدیک ایک میٹر گیج والی ٹرین کی پٹڑی گذرتی ہے اور آگے جا کر یہ مدراس بمبئی والی براڈ گیج لائن سے مل جاتی ہے۔ چندری گری ریلوے سٹیشن سے ایک پگڈنڈی نکلتی ہے جو ساڑھے تین میل بعد چملا کی وادی سے ہوتی ہوئی پلی بونو جا کر اچانک ختم ہوتی ہے۔ پل بونو کا مقامی زبان میں مطلب "شیر کی کھوہ" ہے۔ یہاں محکمہ جنگلات کی طرف سے کیمپ لگانے کے لئے دو مستطیل قطعے اور پانی کا کنواں موجود ہے۔

   اٹھارہ سال قبل یہ خوبصورت وادی اور اس کی شاخیں شکار کے لئے جنت کی طرح تھیں۔ چیتل کے بڑے بڑے جھنڈ وادی میں گھومتے پھرتے تھے۔ یہاں بعض بارہ سنگھوں کے سینگ اتنے بڑے تھے کہ پورے جنوبی ہندوستان میں اور کہیں نہیں ملتے۔ کالا ریچھ بھی یہاں بکثرت ملتا ہے۔ سانبھر بھی عام پائے جاتے ہیں۔ کاکڑ یعنی بھونکنے والا ہرن بھی بکثرت ہے۔ وادی کے بڑے حصے میں شیر کے لئے عام خوراک موجود ہے۔ چیتے بھی ادھر بے اندازہ ہیں۔ مور بھی بے تحاشہ پائے جاتے ہیں۔ جنوبی ہندوستان کے دیگر جنگلوں کے برعکس میں نے یہاں دن کے بارہ بجے، دو بجے اور ساڑھے چار بجے بھی دم پھیلاتے دیکھا ہے۔ سورج نکلتے اور ڈوبتے وقت تو یہ عام منظر ہوتا ہے۔

   1937 کے اوائل میں ایک دن یہاں وہ دہشت ناک درندہ آن پہنچا جس کا میں تذکرہ اب کروں گا۔ یہ ایک عام جسامت کا شیر تھا جس کے پگ سے کسی نقص کا علم نہیں ہوتا تھا۔ وہ اچانک نمودار ہوا۔ ان دنوں آس پاس تو کیا دور دراز تک کے جنگلوں میں بھی کسی آدم خور کی موجودگی کی خبر نہ تھی۔ جلد ہی جب اس نے ایک لکڑہارے کو مار کر کھایا تو لوگوں کو علم ہو گیا کہ ان پر آدم خور کی شکل میں قہر آن ٹوٹا ہے۔ تین دن بعد وہ ناگا پتلا اور پلی بونو کی پگڈنڈی پر جانے والے مسافر کو کھا گیا۔

   اس کے بعد آدم خور کی سرگرمیوں کا دائرہ پھیل گیا۔ اب وہ تینوں وادیوں میں مصروف ہو گیا۔ چھ ماہ میں اس نے سات بندے مارے اور انہیں مکمل یا جزوی طور پر کھا گیا۔

   ایک دن فارسٹ رینج آفیسر چملا وادی میں موجود بنگلے کی طرف نکلا تاکہ معمول کے مطابق اپنا دورہ کر سکے۔ وہ بیل گاڑی پر سوار تھا اور اس کے پاس اس کی ضرورت کی تمام چیزیں موجود تھیں۔

   پانچ بجے جب بیل گاڑی اپنی منزل سے بمشکل دو میل دور ہوگی کہ اچانک شیر سڑک پر نمودار ہوا۔ یہ سڑک پوری کی پوری ریزرو فارسٹ سے گذرتی ہے اور اس کے آخری دو میل چملا وادی سے گذرتے ہیں۔

   شیر کو دیکھتے ہی گاڑی بان نے گاڑی روکی اور فارسٹ گارڈ اور رینج آفیسر کو بتایا۔ چونکہ گاڑی مکمل طور پر ڈھکی ہوئی تھی اور وہ دونوں اندر بیٹھے تھے، شیر کو نہ دیکھ سکے۔

   خیر تینوں نے مل کر شور مچانا شروع کر دیا۔ شیر آرام سے چلتا ہوا بیل گاڑی کے پاس سے گذرا۔ عین اسی وقت، نا معلوم کیوں، فارسٹ گارڈ نے گاڑی سے چھلانگ لگائی اور ہاتھ لہرا لہرا کر شور مچانا شروع کر دیا تاکہ شیر کو بھگا سکے۔ اس طرح اس نے اپنی قسمت پر مہر ثبت کر دی۔ شیر نے دھاڑتے ہوئے اس پر حملہ کیا اور اٹھا کر جنگل میں گھس گیا۔ یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ باقی کے دونوں افراد کو کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع تک نہ ملا۔ ویسے بھی وہ دونوں غیر مسلح تھے۔

   انہوں نے عجلت میں گاڑی بھگائی اور ناگا پتلا پہنچے۔ اگلے دن وہ کئی دوسرے مقامی افراد کے ساتھ مل کر اور مزل لوڈنگ بندوقوں کے ساتھ مسلح ہو کر لوٹے تاکہ اس بدقسمت فارسٹ گارڈ یا اس کی لاش کو تلاش کیا جا سکے۔

   باقیات سڑک سے فرلانگ بھر دور مل گئیں۔ خاکی یونیفارم اور سبز پگڑی بھی مل گئے۔ پگڑی سڑک پر تب گری تھی جب شیر نے حملہ کیا تھا۔

   اس واقعے کو سرکاری طور پر غیر معمولی اہمیت ملی۔ پورے ملک کے اخبارات میں یہ خبر چھپی۔ حکومت کی طرف سے آدم خور کو ہلاک کرنے پر انعام رکھا گیا۔ چند لالچی شکاری ادھر آن پہنچے۔ لیکن آخری شکار کے بعد شاید آدم خور کو علم ہو گیا تھا کہ اس نے بہت زیادہ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر لیا ہے، وہ غائب ہو گیا۔ افواہیں پھیلیں کہ یا تو وہ کڈپہ کی طرف نکل گیا یا پھر تیرو پاٹی کی طرف۔ اگلے دو ماہ تک لوگ بے حد ہوشیار رہے لیکن آدم خور کی کوئی خبر نہ ملی۔

   ایک دن ریلوے کا گینگر غائب ہو گیا جو مدراس بمبئی والی پٹڑی پر ماموندر سٹیشن کے پاس متعین تھا۔ دو تین دن تک تو کسی نے توجہ نہ دی کہ ہندوستان میں گوں نا گوں وجوہات کی بناء پر اکثر یہ لوگ ایک یا دو دن کے لئے غائب ہو جاتے ہیں۔ تیسرا دن گذرنے پر بھی جب وہ نہ پہنچا تو اس کی تلاش شروع ہوئی۔

   پٹڑی کے ساتھ چلتے ہوئے ایک جگہ کھوجی جماعت کو اس کا بھاری ہتھوڑا ملا۔ گینگروں کو یہ ہتھوڑے اس لئے دئے جاتے ہیں کہ ہلے ہوئے لکڑی کے تختوں کو وہ ٹھونک کر واپس اس کی جگہ پر لے آئیں۔ سخت زمین پر کوئی نشان نہ ملا۔ کچھ ہی دور خون کی چند بوندیں دکھائی دیں۔ ان کا پیچھا کرتے ہوئے ایک جگہ اس کی چپلی ملی اور ساتھ ہی خون کے نشانات بھی دکھائی دئے۔ کچھ ہی دور نرم زمین پر انہیں شیر کے پنجوں کے نشانات بھی مل گئے۔

   اندازہ یہی لگایا گیا کہ گینگر کو آدم خور نے ہلاک کیا ہے۔ گذشتہ دنوں آدم خور کی موجودگی کی خبر چونکہ پورے ملک میں پھیل گئی تھی، انہوں نے یہ کاروائی اسی آدم خور سے منسوب کی۔

   اگلے دو مہینوں میں دو مزید وارداتیں ہوئی۔ پہلی واردات ماموندر سے گیارہ میل دور اور دوسری امبل میرو میں ہوئی۔

   ان دنوں میں کاروباری دورے پر مدراس گیا ہوا تھا۔ وہاں میں چیف کنزرویٹیو آفیسر سے ملا تاکہ میں اس سے اپنی ناجائز شکاریوں کے سلسلے میں داخل کرائی گئی درخواست کی بابت پوچھ سکوں۔ باتوں باتوں میں اس نے شیر کے آدم خور ہونے کا تذکرہ کیا اور مجھے اس کے شکار کی دعوت بھی دی۔

   خوش قسمتی سے میں نے گذشتہ سال سے اپنی چھٹیوں کو استعمال نہیں کیا تھا اور میں آرام سے ایک ماہ کی رخصت لے سکتا تھا۔ بنگلور لوٹ کر میں نے چند روز ضروری ساز و سامان اکٹھا کرنے میں گذارے۔ دس دن بعد میں ناگا پتلا کے فارسٹ بنگلے میں موجود تھا۔ میں نے اس بنگلے کو اپنی سرگرمیوں کا صدر مقام بنانے کا ارادہ کیا تھا۔

   میں نے آسانی سے چار فربہ اور نو عمر بھینسے خریدے۔ انہیں میں گنڈالاپنٹا، امبل میرو، نرسہما چیرو کے تالاب اور دریائے کالایانی سے نکلنے والی نہر کے کنارے اور سڑک سے دو میل دور باندھے۔

   دوسرے دن نرسہما چیرو والے تالاب کے کنارے والے بھینسے کی موت کی خبر ملی۔ پگ دیکھنے سے پتہ چلا کہ یہ ایک بڑے تیندوے کا کام ہے۔ چونکہ یہ بھینسے کافی مہنگے ہوتے ہیں اس لئے میں تیندوے کو انہیں مارنے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔ میں نے سوچا کہ ابھی کچھ وقت باقی ہے، چل کر تیندوے کو ٹھکانے لگا دوں۔ پونے سات بجے تیندوا اپنے انجام کو پہنچا۔

   پھر میں نے ایک اور بھینسا خرید کر اس جگہ دوبارہ باندھ دیا۔

   اگلا ہفتہ یونہی گذرا۔ سارا دن جنگل میں مٹرگشت کرتا تاکہ شیر سے مڈبھیڑ ہو سکے۔ نویں دن جب میں پلی بونو کی طرف جا رہا تھا تو چھٹے میل پر میں نے شیر نے پگ دیکھے جو پلی بونو تک چلے گئے تھے۔ چونکہ آدم خور کے پگ دیگر شیروں سے مختل نہیں تھے، مجھے یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ یہ پگ عام شیر کے ہیں یا پھر آدم خور کے۔ ایک جگہ یہ نشانات بالکل واضح تھے۔ ان کے جائزے سے بس یہی معلوم ہوا کہ یہ ایک نر شیر کے پگ ہیں اور بس۔

   کار کو پلی بونو چھوڑ کر میں نے جنگل کا رخ کیا۔ ایک جگہ یہ راستہ کالایانی دریا سے ہو کر گذرتا ہے۔ یہاں مجھے اندازہ ہوا کہ شیر یہاں سے کچھ ہی فاصلے پر گذرا ہے۔ اس دن میں نے گنڈالاپنٹا اور امبل میرو کا بھی چکر لگا کر اپنے بھینسوں کو دیکھا۔ مجھے امید تھی کہ کوئی نہ کوئی مارا جا چکا ہوگا۔ لیکن وہ زندہ سلامت اپنے سامنے رکھی ہوئی گھاس کر چر رہے تھے۔

   دوپہر کا کھانا کھا کر میں واپس لوٹا تاکہ شیر کے نشانات کا پیچھا کر سکوں۔ اس میں مجھے جزوی کامیابی ملی۔ جہاں دریا کے کنارے سے بانس کے جھنڈ شروع ہوتے ہیں، میں پیچھا جاری نہ رکھ سکا۔ کافی شام ڈھل چکی تھی کہ میں پلی بونو کی طرف پلٹا۔ واپسی پر نصف میل ہی دور ایک بھورے ریچھ کو دیکھا۔ عموماً یہ جانور سورج ڈوبنے کے بعد نکلتا ہے۔ وہ چیونٹیوں کی بمیٹھی کے پاس منہ اندر ڈالے کھڑا لمبے لمبے سانس لے کر چیونٹیاں نگلے جا رہا تھا۔ دور سے دیکھنے پر وہ ایک کالا بھجنگ آدمی لگتا تھا۔

   میں ریچھ سے کافی نزدیک پہنچ گیا مگر اسے میری خبر نہ ہوئی۔ میں مزید قریب بھی جا سکتا تھا لیکن اس صورت میں وہ حملہ بھی کر دیتا۔ اگر میں گولی چلاتا تو آدم خور فرار ہو جاتا۔ چالیس گز دور رک کر میں کھانسا۔ ریچھ نے آواز سنی اور فوراً ہی منہ نکال کر میری طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر غصہ، خوف، اشتعال اور تعجب، سب واضح تھا۔ چند لمحے تک وہ مجھے دیکھتا رہا جس سے مجھے اندیشہ پیدا ہوا کہ یہ حملہ کرے گا۔ پھر وہ زمین پر جھکا اور چاروں ہاتھوں پیروں کے بل دوڑتا ہوا فرار ہو گیا۔ دوڑتے ہوئے وہ بار بار "اوف اوف" کی آوازیں بھی نکال رہا تھا۔ ایسا لگا کہ جیسے کالے بالوں کی ایک گیند سی لڑھک رہی ہو۔

   اگلی صبح میں پھر پلی بونو پلٹا۔ راستے میں شیر کی واپسی کے کوئی نشانات نہ تھے۔ مجھے اندازہ ہوا کہ شیر ابھی بھی اسی جنگل میں ہے۔

   کار کو چھوڑ کر میں گنڈالا پنٹا لوٹا۔ میرا بندھا ہوا بھینسا دنیا و مافیہا سے بے خبر گھاس کھائے جا رہا تھا۔ امبل میرو جا کر جب دوسرے بھینسے کو دیکھا تو وہ غائب تھا۔ جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ شیر نے اسے مارا ہے۔ مارنے کے بعد پہلے شیر نے رسی کتری اور پھر اسے اٹھا کر لے گیا۔

   سو گز تک میں نے ان نشانات کا پیچھا کیا۔ پھر میں نے ایک درخت کی نچلی شاخ پر بیٹھے ایک کوے کو دیکھا جو بار بار نیچے جھک کر دیکھ رہا تھا۔

   اس کا ایک ہی مطلب تھا کہ شیر ابھی تک بھینسے کی لاش کے پاس موجود ہے۔ اگر شیر نزدیک نہ ہوتا تو کوا کب سے اتر کر کھانا شروع کر چکا ہوتا۔

   کوا جہاں تھا، اس کے نیچے ڈھلوان سی تھی۔ اس ڈھلوان پر کافی گھاس پھونس اگی ہوئی تھی۔ ایک جگہ کچھ نشیب سا تھا اور میرا اندازہ تھا کہ اسی نشیب میں شیر بھینسے کی لاش کے ساتھ چھپا ہوا ہے۔

   براہ راست اس نشیب کی طرف جانا دانش مندی نہ ہوتا۔ میرے پہنچنے سے قبل ہی شیر میری آمد سے آگاہ ہو کر فرار ہو جاتا۔ اگر یہ آدم خور ہوتا تو حملہ بھی کر سکتا تھا۔ اس جگہ شیر کے حملے سے بچنے کا کم ہی امکان ہوتا۔

   اس لئے میں پچاس گز پیچھے ہٹا۔ یہاں سے زاویہ بدل کر میں دوسری طرف سے اس جگہ تک پہنچ سکتا تھا اور وہاں موجود نالے کے دوسرے کنارے سے شیر کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔

   یہاں موجود نالہ خوش قسمتی سے شمال مغرب سے شمال مشرق کی طرف جا رہا تھا۔ پنجوں کے بل چلتے ہوئے میں جلد ہی اس نشیب کے سامنے پہنچ گیا۔ پچیس گز مزید چل کر میں نالے کے دائیں کنارے پر چڑھ گیا۔ یہاں اب میں اس نشیب سے کچھ فاصلے پر تھا۔ ایک کم عمر درخت میرے سامنے تھا۔ اس پر چڑھ کر میں نے نشیب کی طرف دیکھا۔

   مجھے وہاں کچھ بھی دکھائی نہ دیا۔ اس جگہ سے کوا تک اوجھل تھا۔ مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔ شیر کی موجودگی کا علم کوے کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا اور کوے والی شاخ گھاس کے ابھار کے نیچے چھپ گئی تھی۔ میں نصف گھنٹے تک ادھر ہی رہا۔ میرا اندازہ تھا کہ یہاں چونکہ گرمی بہت ہے اور سورج سوا نیزے پر۔ شیر جلد ہی پانی پینے امبل میرو کے تالاب پر جائے گا۔ اس کی حرکت کا علم مجھے جنگل کے جانوروں کی آواز سے ہو جائے گا۔

   اچانک مجھے لنگور کی آواز سنائی دی۔ یہ آواز لنگور خطرے کی صورت میں نکالتا ہے۔ وہ میرے بائیں جانب سو گز پر تھا۔ وہ مسلسل بولتا رہا اور پھر ایک مادہ لنگور بھی اس کے ساتھ بولنا شروع ہو گئی۔

   شیر بالآخر اس نشیب سے نکلا ہی تھا کہ اسے لنگور نے دیکھ لیا۔

   جو لوگ ہندوستانی جنگلات سے واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے، ان کے لئے بتاتا چلوں کہ لنگور کتنے چالاک ہوتے ہیں۔ یہ لنگور سیاہ چہرے اور بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ان کی دُم بہت لمبی ہوتی ہے۔ یہ ہمیشہ غول کی شکل میں رہتے ہیں۔ ان کی خوراک جنگلی پھل، پتے، کیڑے اور ان کے لاروے ہوتے ہیں۔ شیر اور تیندوے کے لئے لنگور کا گوشت بہت لذیذ ہوتا ہے۔ ان سے بچاؤ کے لئے لنگور ہمیشہ چوکیدار مقرر کرتے ہیں۔ ہم انسانوں کے لئے یہ نہایت سبق آموز بات ہے کہ چوکیداری پر مامور لنگور ہمیشہ سب سے اونچے درخت کی سب سے اونچی ٹہنی پر بیٹھتا ہے اور اس کی نظروں سے کوئی حرکت بھی پوشیدہ نہیں ہوتی۔ اسے اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ پورے غول بشمول ماداؤں اور بچوں، سب کی جان کی ذمہ داری اس پر ہے۔ اگر اس نے غفلت کی تو ان اراکین کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ دوسرے چوکیدار کے آنے تک یہ اپنا پیٹ بھرنے کے بارے سوچتا تک نہیں۔

   لنگوروں کی عام آواز "ووھمپ ووھمپ" ہوتی ہے۔ خطرے کی صورت میں چوکیدار "ہاہ ہاہ ہر ہر" کی آواز نکالتا ہے۔ اس آواز کو سنتے ہی پورے کا پورا غول پیٹ پوجا چھوڑ کر اونچی ٹہنیوں پر منتقل ہو جاتا ہے۔

   لنگوروں کی اس چال کے باعث تیندوؤں اور شیروں کو کافی مشکل ہوتی ہے۔ اس کا حال انہوں نے یہ نکالا ہے کہ جب چوکیدار انہیں دیکھ کر خطرے کی آواز نکالتا ہے اور سارے لنگور اونچی اونچی شاخوں پر چڑھ جاتے ہیں تو یہ بطور دھمکی ایک بہت بلند دھاڑ لگا کر کسی درخت کی طرف لپکتے ہیں اور نچلی شاخ پر چڑھنے کی اداکاری کرتے ہیں۔ اس طرح درندے کو لپکتا دیکھ کر اس درخت پر موجود لنگور مزید بلندی کی طرف یا پھر دوسرے درخت کی طرف چھلانگ لگاتے ہیں۔ عجلت میں لگائی ہوئی یہ چھلانگ ہی ان کی موت کا سبب بن جاتی ہے۔ اکثر اس طرح کی چھلانگ کے دوران کوئی نہ کوئی لنگور نیچے گر جاتا ہے اور شیر یا تیندوے کے لئے لقمہ تر ثابت ہوتا ہے۔

   خیر اب کہانی کی طرف لوٹتے ہیں۔ لنگور کے خطرے کی آواز سن کر میں درخت سے نیچے اترا اور رائفل کو اس طرف تانے رکھا جہاں اس شیر کی موجودگی متوقع تھی۔ مجھے اندازہ تھا کہ شیر کا پیٹ اچھی طرح بھرا ہوا ہے اور وہ لنگوروں کی طرف توجہ نہیں کرے گا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پانی پینے تالاب کی طرف چل دے۔ راستے میں اگی گھنی گھاس اور کانٹے دار جھاڑیوں کے سبب اس کی پیش قدمی بہت سست ہوگی۔

   نصف فرلانگ تک میں نے بہت احتیاط سے پیش قدمی جاری رکھی۔ اب مجھے چوکیدار لنگور کو دیکھنے کا موقع ملا۔ عین اسی لمحے اس نے بھی مجھے دیکھ لیا۔ لنگور جان گیا کہ اب اسے دو دشمنوں پر نگاہ رکھنی ہے۔ مجھے اندازہ تھا کہ لنگور کی حرکات سے مجھے شیر کی ممکنہ جگہ کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ میں اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے بالکل ساکت ہو گیا۔

   چوکیدار لنگور نے میری طرف دیکھا اور چند لمحے مجھے دیکھنے کے بعد اس نے بائیں جانب دیکھا اور پھر میری طرف اور پھر بائیں جانب۔ خطرے کی آواز بدستور جاری تھی۔

   میں جان گیا کہ وہ مجھے اور شیر دونوں کو دیکھ رہا ہے اور یہ بھی کہ شیر مجھ سے کچھ آگے ہے۔ اندازاً یہ فاصلہ سو گز ہوگا۔ میں فوراً اٹھا اور جھکی ہوئی حالت میں شیر کی موجودہ جگہ تک دوڑا۔ چوکیدار لنگور کو اب مخمضہ ہو گیا کہ اس کے جھنڈ کو کس سے زیادہ خطرہ ہے، مجھ سے یا شیر سے یا پھر دونوں سے۔ اس کی آواز کی شدت اور رفتار بڑھ گئی۔ مجھے اب یہ فکر لاحق ہو گئی تھی کہ شیر بھی اس لنگور کو سن رہا ہوگا۔ اسے میری موجودگی یا پھر کسی خطرے کا احساس ہو جائے گا۔ یہ خطرہ نہ صرف لنگوروں کے لئے بلکہ شیر کے لئے بھی ہو سکتا ہے۔

میرا اندازہ درست نکلا۔ میں نے سو گز تیزی سے طے کئے۔ میرا اندازہ تھا کہ اب کسی بھی لمحے شیر سے مڈبھیڑ ہو سکتی ہے۔ میں نے مڑ کر لنگور کو دیکھا جو ابھی بھی اسی طرف دیکھ رہا تھا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ شیر بھی کہیں نزدیک ہی چھپا ہوا ہے۔

دوبارہ رک کر میں نے ہر طرف احتیاط سے دیکھا اور آواز سننے کی کوشش کی۔ یہاں ہر طرف کانٹے دار جھاڑیاں تھیں اور چار فٹ سے بلند گھاس بھی۔ جونہی میں مڑا، ہلکی سی حرکت محسوس ہوئی۔ یہ جگہ مجھ سے تیس گز دور تھی۔ میں اسے دیکھنے کے لئے ذرا سا ابھرا ہی تھا کہ شیر نے مجھے دیکھ لیا۔ اس نے ہلکی سی غراہٹ سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور دو ہی چھلانگوں میں یہ جا وہ جا۔

مجھے معلوم تھا کہ شیر میری موجودگی سے آگاہ ہو چکا ہے۔ اب اس کا پیچھا کرنا بہت دشوار اور خطرناک ہوتا۔ میں اپنی پشت سے خبردار ہو کر واپس چلا۔ بھینسے کی لاش ابھی تک وہیں ہی تھی جہاں میں نے اندازہ لگایا تھا۔ بھینسا آدھا کھایا لیا گیا تھا۔ وہ بائیں پہلو پر پڑا تھا اور اس پر گھاس پھونس وغیرہ جمع تھی جو شیر نے شاید اسے گدھوں وغیرہ سے بچانے کے لئے ڈالی تھی۔ اس کے ساتھ ہی آم کا ایک درخت موجود تھا۔

میرے پاس فیصلے کرنے کے لئے بہت کم وقت تھا۔ میرے پاس دو ہی ممکنات تھے۔ یا تو میں یہیں رک کر شیر کی واپسی کا انتظار کرتا جس کے قوی امکانات تھے یا پھر واپس چلا جاتا اور شیر اگر شیر لوٹتا تو مجھے ظاہر ہے کہ کافی مایوسی ہوتی۔ دوسری طرف میرے پاس کمبل، مچان یا ٹارچ تک نہ تھی۔ آج کل راتیں کافی تاریک تھیں اور چاند غائب تھا۔ رات کو اگر شیر آ بھی جاتا تو مجھے بہت ہی مشکل سے دکھائی دیتا۔ اگر میں بیٹھتا تو اگلی صبح سے قبل میں نیچے نہ اتر سکتا تھا۔ اسی طرح واپسی کا رخ کرتا تو پولی بونو تک اندھیرے میں ہی پہنچتا جو آدم خور کے منہ سے گذر کر پہنچنے کے برابر ہوتا۔ اگر رک بھی جاتا تو رات کو یخ بستہ ہوائیں اچھی خبر گیری کرتیں۔ اگر میں کار تک جا کر اپنی ضروریات کی چیزیں لاتا تو یہ کل آٹھ میل کا سفر ہو جاتا۔ میری عدم موجودگی میں شاید شیر بھینسے کی لاش ہی کہیں اور لے جاتا۔

آخرکار میں نے اپنا ذاتی آرام پس پشت ڈال دیا۔ درخت پر چڑھ کر میں ایک آرام دہ دو شاخے پر بیٹھ گیا۔ میری پشت شاخ پر ٹکی ہوئی تھی۔ یہاں سے بھینسا بائیں جانب صاف دکھائی دے رہا تھا۔ میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ یہاں بھینسے سے آگے ایک شاخ حائل تھی پھر صاف نظارہ پھر ایک شاخ۔ میں نے جوتے اتارے ہوئے تھے اور بھری ہوئی رائفل میرے سامنے تھی۔ میرے عقب کا منظر بالکل ہی اوجھل تھا۔ میں زمین سے پندرہ فٹ کی بلندی پر تھا اور شیر کی جست سے بالکل محفوظ۔ مجھ پر حملہ کرنے سے قبل شیر کو درخت پر چڑھنا پڑتا جس کے لئے میں تیار تھا۔

ساڑھے بارہ بجے میں اپنی جگہ پر تھا۔ آنے والی رات میری ساری زندگی کی سرد ترین اور سخت بے آرام راتوں میں سے ایک تھی۔

بعد کی تفصیلات میں جائے بغیر، ساڑھے چھ بجے بجے پرندوں نے اپنے گھونسلوں کو لوٹنا شروع کیا۔ لنگور بھی کبھی کے اس علاقے سے جا چکے تھے۔ میں بالکل اکیلا تھا۔ کبھی کبھار کوئی اُلو بول پڑتا۔ پونے سات بجے تک تاریکی چھا گئی۔ اب مجھے وہ حیرت ناک منظر دیکھنے کو ملا جس کے بارے میں بہت عرصے سے سنتا آیا تھا لیکن کبھی ثبوت نہ ملا تھا۔

مجھے جنگل کے لوگوں نے بتایا تھا کہ بعض علاقوں میں شیر سانبھر اور بارہ سنگھے کی آواز کی نقالی کرتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہی ہو کہ دوسرے جانوروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوں تاکہ شکار میں آسانی رہے۔ میں نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی تھی۔ اس شام کو پونے سات بجے مجھے سانبھر کی آواز جھاڑیوں میں سنائی دی۔ ابھی تک کچھ روشنی باقی تھی۔ اچانک ہی انہی جھاڑیوں سے شیر برآمد ہوا۔

اب اس جھاڑی میں جہاں سے شیر نکلا تھا، سانبھر کی موجودگی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ اگر وہ موجود بھی ہوتا تو شیر کی آمد کو محسوس کر کے فرار ہو جاتا۔ اس کے کھروں کی آواز صاف سنائی دیتی۔ یقیناً شیر نے ہی یہ آواز نکالی تھی۔ اس نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا شکار ادھر ہی پڑا تھا۔ اسے مزید شکار کی کوئی ضرورت بھی نہ تھی۔ سانبھر کی دوبارہ کوئی آواز نہ آئی۔ نتیجہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔ میرے لئے تو ان کہاوتوں پر یقین کے سوا کوئی اور چارہ نہیں تھا۔

شیر چلتا ہوا بھینسے کی طرف آیا۔ یہاں وہ میری نظروں سے ایک بار اوجھل ہوا تھا۔ اس دوران میں نے رائفل کندھے سے لگا لی۔ دوبارہ وہ میرے سامنے بائیں جانب نکلا۔ اس نے بچھڑے کو جبڑے میں دبوچا اور اٹھا لیا۔ میری گولی اس کے بائیں شانے پر لگی۔ وہ اچھل کر گرا ہی تھا کہ میری دوسری گولی اس کی گردن میں پیوست ہو گئی۔ وہ چند لمحے ہی تڑپا ہوگا کہ ساکت ہو گیا۔

شیر مر چکا تھا۔ اب میری واپسی محفوظ ہوتی بشرطیکہ میں اس تاریکی میں راستہ تلاش کر پاتا۔ تمام تر تاریکی کے باوجود میں نے واپسی کو ترجیح دی۔ بصورت دیگر مجھے اس تاریک اور سرد رات بھوکا ہی ادھر درخت پر ٹنگا رہنا پڑتا۔ میں فوراً ہی درخت سے نیچے اترا اور دریائے کالایانی کی طرف لپکا۔ ایک بار میں اس دریا تک پہنچ جاتا تو پھر پلی بونو تک پہنچنا مشکل نہ ہوتا چاہے تاریکی جتنی ہی گہری کیوں نہ ہوتی۔ پلی بونو میری کار موجود تھی۔ دریا کے بلوں کی وجہ سے کل فاصلہ چھ میل بنتا تھا۔ دوسری طرف اگر میں پگڈنڈی تلاش کرتا تو وہ اس تاریکی میں بے سود ہی ثابت ہوتی۔ رات بھر بھٹکتے ہوئے گذر جاتی۔

تاریکی مکمل چھانے سے قبل میں دریا تک پہنچ گیا۔ دریا کی خشک تہہ میں سفر کرنا میرے اندازوں سے بھی زیادہ دشوار نکلا۔ کئی بار میں پتھروں سے ٹھوکر کھا کر گرا اور تاریکی میں چھپے درختوں کے تنوں اور ٹہنیوں اور جھاڑیوں سے رگڑ کھا کھا کر میری پنڈلیاں چھل گئیں۔ ایک سے زائد بار موچ آتے آتے بچی۔ اسی طرح دو ایک بار تو ٹانگ ہی ٹوٹتے ٹوٹتے بچی۔ پوری توجہ راستے پر مرکوز کرنی پڑی۔ چار گھنٹے بعد میں پلی بونو پہنچا۔ کار میں جب سوار ہوا تو اس وقت گیارہ بج کر دس منٹ ہو رہے تھے۔

شاید آپ یہ سوچ رہے ہوں کہ ناگا پتلی جاتے ہوئے میں خود کو مبارکبادیں دے رہا ہوں گا کہ میں نے آدم خور کو ٹھکانے لگا دیا ہے تو یہ آپ کی خوش فہمی ہے۔ سارے دن کے واقعات میری نظروں کے سامنے گھوم رہے تھے۔ مجھے یقین ہو چلا تھا کہ میں نے غلط شیر مارا ہے۔ اول شیر نے بھینسا مارا۔ دوم اس نے مجھے دیکھ کر فرار پر ترجیح دی۔ سوم میری موجودگی جاننے کے باوجود وہ اتنا بے فکر تھا کہ واپس شکار پر پلٹا۔ اس نے سانبھر کی آواز کی نقالی کی۔ ان تمام تر وجوہات نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ میں نے آدم خور نہیں بلکہ ایک عام شیر کو مارا ہے۔ جتنا سوچتا اتنا ہی یقین ہوتا جاتا۔ شکر ہے کہ کالایانی دریا سے گذرتے ہوئے مجھے یہ سب نہیں یاد آیا ورنہ تاریک جنگل میں آدم خور کی موجودگی کا خیال ہی روح فنا کر دیتا۔

اگلی صبح ایک جماعت کے ساتھ پلٹا اور شیر کو لاد کر ناگا پتلی کی طرف لے گئے۔ تفصیلی جائزے پر وہ ایک عام اور بالکل تندرست شیر نکلا۔ اس سے میرا یقین اور بھی بڑھا۔

وہ شام میں نے کلکٹر کے ساتھ گذاری اور اسے اپنے شبہات سے آگاہ کیا۔ اس نے وعدہ کیا کہ آدم خور کی مزید کوئی بھی اطلاع ملتے ہی وہ مجھے بذریعہ تار آگاہ کرے گا۔

گیارہویں دن مجھے اس کی تار ملی کہ ایک عورت گھاس کاٹتے ہوئے وادئ چملا کی حدود میں ماری گئی ہے۔ آدم خور کو مارنے میں میں ناکام رہا تھا اور آدم خور کی بجائے ایک عام شیر مارا گیا تھا۔

اگلی صبح میں ناگا پتلی کی طرف روانہ تھا۔ فارسٹ بنگلے میں میں سہہ پہر کو پہنچا۔

اس سے اگلی صبح مجھے واردات کی جگہ دکھائی گئی۔ عورت گھاس کاٹنے کے بعد اسے گٹھڑ کی شکل میں باندھ ہی رہی تھی کہ شیر نے حملہ کر دیا۔ اس سے سو گز دور دوسری عورت جو گھاس کاٹ رہی تھی، نے یہ منظر دیکھا۔ وہ فوراً ناگا پتلی کی طرف بھاگی اور سب کو یہ اطلاع دی۔ انہوں نے خبر آگے پہنچائی اور پھر تحصیلدار سے ہوتی ہوئی کلکٹر تک پہنچی اور اس نے مجھے تار بھیجا۔

کسی نے شیر کا پیچھا نہ کیا تھا اور نہ ہی عورت کو بچانے کی کوئی کوشش کی گئی تھی۔ اب اس بات کو تین دن گذر چکے تھے اور زمین پر کسی بھی قسم کا نشان ملنا ناممکن تھا۔ دائرے کی صورت میں تلاش کرتے ہوئے ہم نے چوتھائی میل دور عورت کی ساڑھی برآمد کر لی۔ ابھی تک خون کا ایک بھی قطرہ نہیں دکھائی دیا تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ شیر نے اپنی پہلی گرفت تبدیل نہیں کی۔ چونکہ شیر نے گلا دبوچا ہوا تھا، اس لئے وہ چیخ بھی نہ سکی۔

اس عورت کی باقیات ہمیں نہ مل سکیں۔

گاؤں لوٹ کر میں نے وہ تین بھینسے واپس لئے جو میرے سابقہ دورے سے بچ گئے تھے۔ ایک کو میں نے چوتھے سنگ میل کے ساتھ باندھا، دوسرے کو پلی بونو اور تیسرے کو ناگا پتلی سے دو میل دور دریائے کالایانی کی تہہ میں باندھا۔

اگلی صبح تینوں بھینسے زندہ سلامت تھے۔ شیر کے پگ مجھے پلی بونو کی سڑک پر ملے۔ یہاں شیر تیسرے سنگ میل سے ذرا پہلے سڑک پر آیا تھا۔ چوتھے میل پر وہ میرے بھینسے کے پاس سے اسے چھوئے بنا گذرا۔ چھٹے میل پر پلی بونو سے ذرا قبل وہ مڑا اور سڑک سے نیچے اتر گیا۔ اب اس کا رخ مشرق کی طرف تھا۔ یہاں آگے چل کر ایک پتھریلی پہاڑی آتی ہے جسے منکی ہل یعنی بندر کی چٹان کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

یہاں پگ بالکل واضح تھے لیکن ان سے آدم خور کی کسی بھی معذوری کا پتہ نہیں چل سکا۔ وہ بھینسے سے چند فٹ کے فاصلے سے گذرا۔ یہ آدم خور کی عام عادت ہوتی ہے۔ مجھے اب اطمینان ہو چلا کہ یہ شیر وہی آدم خور ہے۔

جیسا کہ میں نے پہلے بتایا، شیر کا رخ بندر کی چٹان کی طرف تھا جہاں وہ شاید ڈھلوان پر موجود جنگل میں یا پھر اس کے آس پاس کہیں رہتا تھا۔ موہوم سی امید یہ بھی تھی کہ شیر شاید اسی راستے سے پلٹتا۔ چاند تقریباً پورا ہی تھا، اس لئے گولی چلانے کا آسان موقع ملتا۔

چوتھے میل سے ڈیڑھ سو گز دور ایک بڑا ٹیک کا درخت تھا۔ اپنی نسل کے دیگر درختوں کی مانند یہ درخت بھی بالکل سیدھا تھا۔ اس پر چڑھنا کافی محنت طلب کام تھا۔ میں نے زمین پر بیٹھ کر اس کے تنے سے ٹیک لگا سکتا تھا۔ یہاں سے میرا بھینسا ڈیڑھ سو گز دور تھا۔ میں سڑک کے دونوں اطراف اور ہر طرف کم از کم سو گز تک با آسانی دیکھ سکتا تھا۔ یہاں گذشتہ سال لگنے والی آگ کے سبب یہ علاقہ ہر قسم کی نباتات سے پاک تھا۔

پانج بجے میں اپنی جگہ پر تھا۔ جونہی سورج غروب ہوا، چاند نمودار ہو چلا تھا۔ اس کی مدھم اور سفید روشنی میں پورا جنگل منور ہو رہا تھا۔ دن مٰں اس جگہ کو میں نے بہت محفوظ سمجھا تھا لیکن اب اندھیرے میں مجھے یہ وہم ستانے لگا کہ آیا شیر عقب سے گھات نہ لگا رہا ہو۔ پھر میری عقل مدد کو آئی کہ جب تک شیر مجھے دیکھ نہ لے یا میری موجودگی سے آگاہ نہ ہو، گھات نہیں لگائے گا۔ شیروں میں سونگھنے کی حس بالکل نہیں ہوتی۔ میں شام سے اب تک بالکل ساکت بیٹھا تھا۔ میری کمر درخت کے تنے سے لگی ہوئی تھی۔ میں نہ تو تمباکو پی سکتا تھا اور نہ ہی کچھ کھا پی سکتا تھا۔ تاہم میں نے احتیاطاً گرم کپڑے پہن رکھے تھے جو اس سرد رات میں مجھے سردی سے بچاتے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس رات جنگل بالکل خاموش تھا۔ اس کا ایک ہی مطلب ہو سکتا تھا کہ شیر نزدیک یا دور موجود نہیں۔ علی الصبح میری توقع کے عین مطابق درجہ حرارت اچانک گرا اور ساتھ ہی اچھی خاصی شبنم پڑی۔ میرے کپڑے اچھی طرح بھیگ گئے اور رائفل کی نال یخ ہو رہی تھی۔

میں بار بار بھینسے کو بھی دیکھتا رہا۔ پہلے پہل تو وہ بے پرواہی سے گھاس چرتا رہا۔ پھر رات گئے وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ شاید زمین سے اسے کچھ حرارت مل رہی ہوگی ورنہ باقی ماحول تو بہت سرد ہو چلا تھا۔

روشنی نمودار ہوتے ہی میں نے انتہائی مایوسی اور تھکن کے ساتھ واپسی اختیار کی۔ یہاں گرم پانی سے نہا کر فارغ ہوا تو بھاپ اڑاتی گرم چائے، گوشت کے تلے ہوئے پارچے اور انڈے میرے منتظر تھے۔ ناشتے سے فارغ ہو کر دو گھنٹے کی نیند پوری کر کے جب بیدار ہوا تو بالکل تازہ دم ہو چکا تھا۔

اب گاڑی کے دونوں مڈ گارڈوں پر میں نے دو دو کھوجی بٹھائے جو اپنے کام میں خاصے ماہر تھے۔ اب ہم لوگ کینچوے کی رفتار سے چلتے ہوئے سڑک پر نکلے لیکن شیر رات کو ادھر سے نہ گذرا تھا۔ پلی بونو پہنچ کر ہم نے کالایانی دریا کے دونوں اطراف کو بھی چھانا۔ اس کے علاوہ وہاں کی پگڈنڈیوں کو بھی میل بھر دونوں اطراف میں دیکھا۔ شیر کے گذرنے کی کوئی علامت نہ دکھائی دی۔

دوپہر کو ہم پلی بونو پلٹے اور میں جنگل کے کنارے بیٹھ کر پائپ پیتے ہوئے اپنی حکمت عملی پر غور کرنے لگا۔

جہاں میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے کوئی دو فرلانگ دور دریائے کالایانی کے دوسرے کنارے املی کا ایک بڑا درخت تھا جو جنگل سے گذرنے والی پگڈنڈی کے دونوں سروں کا اچھا نظارہ پیش کرتا تھا۔ میں نے سنا تھا کہ اس درخت پر بیٹھ کر شکاریوں نے کئی شیر مارے ہیں۔ ڈیڑھ سال قبل میں نے خود بھی اسی درخت سے ایک چھوٹا تیندوا مارا تھا۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اگلی چند راتیں اسی درخت پر مچان باندھ کر گذاروں؟ اگرچہ راتیں چاندنی تھیں لیکن پھر بھی زمین پر بیٹھ کر آدم خور کا انتظار کرنا، کچھ زیادہ عقلمندی کا کام نہ لگا۔

یہ فیصلہ کرتے ہی میں نے اپنے دو آدمیوں سے کہا کہ وہ انہی شاخوں پر میری مچان باندھیں جہاں میں ڈیڑھ سال قبل بیٹھا تھا۔ یہ ہدایات دے کر میں درخت کی جڑ میں ہی سو گیا۔ یہ آدمی بخوبی جانتے تھے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ انہوں نے مجھے نصف گھنٹے بعد جگا دیا۔ پھر ہم نے مل کر اس میں کچھ معمولی سی تبدیلیاں بھی کیں۔

میرے پاس چارپائی کا ڈھانچہ ہمیشہ گاڑی میں موجود رہتا ہے۔ تجربے سے معلوم ہے کہ یہ سب سے بہترین مچان بن سکتی ہے۔ ہلکی لیکن مضبوط ہے۔ اس پر بیٹھ کر اگر حرکت کی جائے تو شور نہیں ہوتا۔ اس پر بیٹھنا بہت آرام دہ ہے۔ اس کو اتارنا اور چڑھانا بھی بہت آسان کام ہے۔ چھپانے میں وقت نہیں لگتا۔ سستی اور آسانی سے منتقل بھی کی جا سکتی ہے۔

اس چارپائی کو دو شاخوں پر سوتی رسی سے باندھا گیا تھا۔ یہ رسی بھی میرے ساتھ ہی ہوتی ہے۔ اس کو چاروں اطراف سے چھپا دیا گیا تھا۔ اس میں کئی سوراخ بھی تھے جو بظاہر نادیدہ تھے۔ ان سوراخوں سے میں نیچے سے گذرنے والی پگڈنڈی کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔

سب کچھ میری توقع کے عین مطابق ہوا تھا۔ میں نے اپنے آدمیوں کو ناگا پتلا پہنچایا۔ پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور پھر ہلکا سا قیلولہ بھی کیا۔ چار بجے میں کمبل، ٹارچ، پانی کی بوتل، سینڈوچ اور چائے کی تھرمس لے کر اکیلا ہی پلی بونو کی طرف پلٹا۔ یہاں میں نے اپنی کار کو چھپا دیا اور خود پیدل ہی اس درخت کی طرف چل پڑا جہاں میری مچان تھی۔ چھ بجے میں مچان پر بیٹھ گیا۔

گھنٹوں پر گھنٹے گذرتے رہے۔ گیارہ بجے ایک تیندوے نے بولنا شروع کیا۔ یہ آواز بالکل ایسی ہی تھی جیسے کوئی لکڑہارا آری سے لکڑی کاٹ رہا ہو۔ یہ آواز امبل میرو والے راستے سے آئی تھی۔

کچھ دیر بعد یہ تیندوا موڑ سے نمودار ہوا۔ بہت خوبصورت اور شاندار جانور تھا۔ چاندنی میں اس کی کھال چمک رہی تھی۔ وہ میرے درخت کے نیچے سے ہوتا ہوا دوسرے سرے پر غائب ہو گیا۔ اگر میں آدم خور کے انتظار میں نہ ہوتا تو اسے کسی بھی قیمت پر نہ جانے دیتا۔

اس طرح یہ رات بھی گذر گئی۔ اگلی رات مزید اکتا دینے والی تھی۔ نہ کچھ دیکھا اور نہ ہی کچھ سنا۔

اگلی صبح پلی بونو لوٹتے ہی میں سو گیا۔ دس بجے میں اٹھایا گیا کہ نصف گھنٹہ قبل آدم خور نے ایک چرواہے کو ہلاک کر دیا ہے۔

عجلت میں رائفل اٹھاتے ہوئے میں اس کے غم زدہ بھائی اور دیگر چند افراد کے ساتھ پون میل دور اس جگہ کی طرف چل پڑا جہاں دریائے کالایانی گذرتا ہے۔ یہاں وہ آدمی اپنے مویشی چرا رہا تھا کہ شیر نے اس پر حملہ کیا۔ شاید شیر دریا کے کنارے کی جھاڑیوں میں چھپا ہوا تھا۔ اس کی چیخ سن کر اس کا بھائی جو کہ اس کے ساتھ ہی تھا، اس کی طرف لپکا۔ بھائی نے یہ پورا واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس آدمی کو شیر نے شانے سے پکڑا تھا۔ بیچارہ متوفی مسلسل چیخ و پکار کرتا رہا۔ شیر اسے لے کر دریا کے کنارے والی جھاڑیوں میں گھس گیا۔ اس کا بھائی فوراً گاؤں کی طرف بھاگا اور سب کو یہ خبر سنائی۔ وہاں سے یہ سب افراد مل کر میرے بنگلے کی طرف آئے جہاں میں سو رہا تھا۔

جائے حادثہ پر جا کر ہم نے شیر کے پگوں کا پیچھا شروع کیا۔ یہاں جھاڑیاں ابھی تک شیر اور اس کے شکار کے گذرنے کے باعث جھکی ہوئی تھیں۔ اس کی پگڑی انہیں جھاڑیوں میں الجھی ہوئی تھی۔ دریا کہ تہہ میں پہنچ کر شاید متوفی کی چیخوں سے ناراض ہو کر آدم خور نے اسے زمین پر ڈالا اور اب اسے گلے سے پکڑ لیا۔ یہاں سے تازہ خون کی لکیر دکھائی دے رہی تھی اور ساتھ ہی شیر کے پنجوں کے نشانات بھی۔ اس کے علاوہ متوفی کے پیر بھی ایک طرف گھسٹنے کے نشانات تھے۔ یہ سب نشانات دریا کی تہہ کی ریت پر بالکل واضح تھے۔

بڑی احتیاط سے آگے بڑھتے ہوئے ہم دریا میں اگی جھاڑیوں سے ہوتے ہوئے گذرے۔ جلد ہی گھاس کا قطعہ آ گیا۔ یہاں سے گذرتے ہوئے شیر کے وزن کے سبب جو گھاس کچلی گئی تھی، ابھی تک سر نہ اٹھا پائی تھی۔ یہاں سے تھوڑا سا آگے چل کر یہ زمین ڈھلوان ہوتی ہوئی بالآخر دریا سے جا ملتی تھی۔ میرا اندازہ تھا کہ شیر اس ندی میں ہی چھپ کر اپنا شکار کھانا شروع کرے گا۔ میرا اندازہ تھا کہ اس وقت شیر اپنا پیٹ بھر رہا ہوگا۔

اس جگہ سے نشانات کا براہ راست پیچھا کرنا نا ممکن تھا کہ میری تمام تر احتیاط کے باوجود شیر میری آواز سن لیتا کیونکہ یہاں کانٹے دار جھاڑیاں بکثرت تھیں۔ اس طرح آدم خور کو اپنے تعاقب کا اندازہ ہو جاتا۔ اس صورت میں آدم خور مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ براہ راست حملہ کر دیتا یا پھر شکار کو لے کر دور نکل جاتا یا پھر فرار ہو جاتا۔ اس کے علاوہ یہاں گھنی گھاس بہت زیادہ تھی۔ شیر کسی بھی جگہ چھپ کر سامنے سے، عقب سے یا اطراف سے حملہ کر سکتا تھا۔ صورتحال کا تیزی سے جائزہ لیتے ہوئے میں نے فوراً راستہ بدلا اور دائیں طرف سے ہوتا ہوا بڑھا جہاں چوتھائی میل دور جا کر میں دوبارہ اسی ندی میں پہنچ کر اوپر کی طرف شیر کو تلاش کرتا۔ اس طرح اگر میں محتاط ہو کر چلتا تو شیر کو اس کی بے خبری میں جا لیتا۔

اس طرح میں واپس پلٹا اور جھک کر چلتے ہوئے فرلانگ بھر گیا۔ یہاں رک کر میں نے اپنا سانس بحال کیا۔ اب میں نے نالے میں اتر کر نرم ریت پر چلنا شروع کیا۔ میری ہر ممکن کوشش تھی کہ میں نالے کے بالکل وسط میں رہوں تاکہ شیر کے اطراف سے حملے کی صورت میں کچھ بچاؤ ہو سکے۔

مجھے یہ وقت کسی بھیانک خواب کی طرح ہمیشہ یاد رہے گا۔ یہاں نالا بعض جگہ دس گز جتنا ہی چوڑا تھا۔ کسی بھی مقام پر اس کی چوڑائی تیس گز سے زیادہ نہ تھی۔ میں پنجوں کے بل چلتا ہوا ہر طرح سے تیار تھا۔ دونوں اطراف کی جھاڑیوں کو بھی اچھی طرح دیکھ بھال کر آگے بڑھنا پڑ رہا تھا۔ اسی طرح ہر کچھ فاصلے کے بعد رک کر سن گن لینے کی کوشش کرتا تاکہ اگر شیر شکار کو کھا رہا ہو تو مجھے اس کی آواز سنائی دے سکے۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ پورا علاقہ ہی مردہ ہو چکا ہے۔ میری خواہش تھی کہ کسی پرندے یا جھینگر کی آواز ہی اس خاموشی کو توڑتی لیکن وائے قسمت، ہر طرف مکمل خاموشی کا راج تھا۔ صرف میرے اپنے قدموں کی بہت مدھم آوازیں ہی سنائی دے رہی تھیں۔

میں بمشکل نصف فرلانگ ہی چلا ہوں گا کہ یہاں سے نالا اب ایک ہلکا سا موڑ مڑتا تھا۔ اس جگہ سے تھوڑا سا پہلے میں رکا اور سن گن لینے کی کوشش کی۔ شکر ہے کہ میں رک گیا تھا۔ اگلے ہی لمحے خاموشی اور بالکل ہی غیر متوقع طور پر شیر اپنے شکار کو کمر سے پکڑے ہوئے موڑ سے نمودار ہوا۔

ہماری حیرت یقیناً مشترکہ ہی تھی۔ شیر کو یقیناً تعاقب کا شبہ ہو گیا تھا۔ تبھی وہ اپنا پیٹ بھرنے کے لئے کہیں نہ رکا۔ شاید اس نے سوچا کہ مزید دور جا کر کھانا شروع کرے۔ دوسری طرف اگرچہ میں بہت زیادہ محتاط اور بالکل تیار ہو کر چل رہا تھا لیکن شیر سے اتنی جلدی مڈبھیڑ کا کوئی اندازہ نہ تھا۔

یہ حیرت صرف لمحہ بھر ہی رہی۔ شیر نے اگلے ہی لمحے متوفی کی لاش کو زمین پر ڈالا اور اگلی ٹانگوں پر جھکتے ہوئے اس نے دم سیدھی کی۔ یہ یقینی طور پر حملے کی علامت تھی۔ اسی لمحے میری رائفل بول پڑی۔ گولی آدم خور کی آنکھوں سے انچ بھر ہی نیچے لگی۔ اگرچہ یہ انچ بہت معمولی سا فاصلہ ہے لیکن پھر بھی یہ گولی دماغ تک نہ پہنچ پائی اور مہلک نہ ثابت ہوئی۔ نتیجتاً شیر نے فوراً ہی چھلانگ لگائی اور متوفی کی لاش سے ٹھوکر کھا کر گرا اور مجھ تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگا۔ ایک طرف گرتے ہوئے میں نے متواتر فائر پر فائر جاری رکھے۔ جونہی رائفل خالی ہوئی، شیر میرے قدموں میں پڑا تڑپ رہا تھا۔ اس کی کھوپڑی سے خون فوارے کی طرح نکل رہا تھا۔

دوسرے ہی لمحے میں تقریباً غش کھا کر گرتے گرتے بچا۔ مجھے لگا کہ مرنے والا ہوں۔ شکر ہے کہ فوراً ہی سنبھل گیا۔ اب میں اپنے ہمراہیوں کی طرف پلٹا جو میری پے در پے پانچ گولیوں کی آوازیں سن چکے تھے۔ اس سے وہ اندازہ لگا چکے تھے کہ آدم خور اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔

آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ کھال اتارنے سے قبل اور کھال اتار کر ہونے والے معائینے سے کسی بھی قسم کی معذوری نہ دکھائی دی کہ جس کے سبب اس شیر کو آدم خوری کا انتخاب کرنا پڑتا۔ بالکل تندرست و توانا شیر تھا جو اپنے قدرتی اور فطری شکار کی اہلیت رکھتا تھا۔ معلوم نہیں کہ اس نے کس وجہ سے آدم خوری کا انتخاب کیا۔ یہ کہاں سے آیا، کوئی نہ جانتا تھا۔ لیکن اب سب جان گئے تھے کہ اب جہاں اسے بھیجا گیا ہے، وہاں سے اس کی واپسی ممکن نہیں۔

 

Rate this item
(2 votes)
  • Last modified on Thursday, 29 May 2014 21:21
  • font size