سیگور کا آدم خور

  • Thursday, 03 October 2013 04:58
  • Published in شکاریات
  • Read 2096 times
سیگور کا آدم خور All images are copyrighted to their respective owners

وادیِ سیگور شمال مشرقی پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع ہے۔ یہ پہاڑ نیلگری کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ان پہاڑی سلسلوں کی بلندی پر "اوکتامند"

کا مشہور صحت افزا مقام واقع ہے۔ اس سلسلے کی اوسط اونچائی 7500 فٹ سے بلند ہے۔

 پورے ہندوستان کے طول و عرض کے لوگوں کے لئے یہ پرکشش تفریحی مقام ہے اور اسے بلا شبہ پہاڑی صحت افزا مقامات کی ملکہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ "اوکتا مند" کی اپنی بے پناہ خوبصورتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کی آب و ہوا ہر قسم کے برطانوی پھولوں کی بے مثال افزائش گاہ ہے۔ یہاں پھیلی ہوئی سفیدے، فر اور پائن کے درختوں کی خوشبوئیں مست کر دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ نسبتاً خنک موسم میدانی علاقوں سے آنے والے سیاحوں کی اس طرح سواگت کرتا ہے کہ انہیں "اوکتا مند"‌یعنی "اوٹی" زندگی بھر یاد رہتا ہے۔

 "اوکتا مند" سے نکلنے والی بارہ میل لمبی سڑک جو کہ "گھاٹ روڈ" کے نام سے جانی جاتی ہے، ہموار ڈھلوانوں سے گزرتی ہوئی اس علاقے کو جاتی ہے جو کبھی لومڑیوں کے شکار کے لئے مشہور تھا۔ بے تحاشہ شکار کے باعث لومڑیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور اس کی جگہ مقامی گیدڑوں نے لے لی ہے۔ اس مقام کے بعد اچانک استوائی جنگلات شروع ہو جاتے ہیں۔ یہاں سڑک اتنی ڈھلوان ہو جاتی ہے کہ صرف طاقتور انجن والی گاڑیاں ہی اسے عبور کر سکتی ہیں۔ سیگور پہنچ کر سڑک دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔۔ ایک حصہ شمال مغرب کی طرف گھنے جنگلوں سے ہوتا ہوا "ماہن وان ہالا" کی وادی سے گزرتا ہے اور "سینی گنڈی" سے ہوتا ہوا ٹرنک روڈ سے جا ملتا ہے۔ یہ ٹرنک روڈ بنگلور اور میسور کو "اوکتا مند" سے ملاتی ہے اور یہاں ٹیپو کاؤو کے مقام پر ایک چوکی بھی قائم ہے۔ دوسرا حصہ مشرق کی طرف جاتا ہے اور گھنے جنگلوں، نیلے پہاڑوں کے دامن سے ہوتا ہوا "انیکٹی" کے فارسٹ بنگلے کی طرف جاتا ہے جو یہاں سے کل نو میل کی مسافت پر ہے۔ دو دریا اس علاقے کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ ان کے نام دریائے سیگور اور دریائے انیکتی ہیں۔ پندرہ میل آگے جا کر یہ مویار کے دریا سے جا ملتے ہیں۔ مویار دریا شمال کی جانب ریاست میسور کی سرحد بناتا ہے۔

 متذکرہ بالا تمام جنگلات بہت گھنے اور سدا بہار جنگلات ہیں۔ ان میں میسور، مالاہار اور نیلگری کے گیم ریزرو موجود ہیں اور ہاتھی، جنگلی بھینسے، شیر، چیتے، سانبھر، چیتل اور دیگر دوسرے جانوروں کی قدرتی آماج گاہ ہیں۔

 فارسٹ بنگلہ ایسی جگہ بنایا گیا ہے جہاں دریائے انیکٹی پورے زور و شور سے گزرتا ہے۔ گرمیوں میں یہ مقام نہایت مضر صحت ہوتا ہے اور یہاں ملیریا پھیلانے والے مچھروں کی بھرمار ہوتی ہے۔ یہاں بہت بار "بلیک واٹر" نامی وبا بھی پھیل چکی ہے۔ سردیوں میں یہ جگہ جنت کا نمونہ بن جاتی ہے۔ صبح کو چمکیلی دھوپ پھیلی ہوتی ہے اور گھومنے پھرنے کے لئے بہت عمدہ وقت ہوتا ہے۔ سہ پہر تک موسم کافی سرد ہو جاتا ہے اور رات کو پہاڑوں سے آنے والی یخ بستہ ہوائیں برداشت سے باہر ہو جاتی ہیں۔ رات اتنی سرد ہو جاتی ہے کہ آدمی سے بنگلے سے باہر نکلنا نہیں ہو پاتا۔ بنگلے کے ہر کمرے میں آتش دان موجود ہیں۔ رات کو ان کے گرد محفل جمتی ہے اور جن بھوتوں کی کہانیاں رونگٹے کھڑے کر دیتی ہیں۔ بنگلے کے صحن میں رات کو ہاتھی، چیتے اور شیر دھاڑتے پھرتے ہیں جن کو سن کر بنگلے میں کمبل میں دبکا ہوا بندہ اچھی طرح محسوس کرتا ہے کہ وہ اس وقت بھی جنگل کے درمیان میں ہے۔

 انہی جنگلات میں میں کئی بار مہمات کے سلسلے میں وقت گزار چکا ہوں اور یہ میرے پسندیدہ ترین جنگلات ہیں۔ ان مہمات کی یاد آج بھی میرے جسم میں خون کی گردش تیز کر دیتی ہے۔

 مثال کے طور پر جنگلی کتوں کو ہی لے لیجئے۔ یہ غول در غول پورے ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی تعداد تین سے تیس تک ہو سکتی ہے۔ یہ غول بیابانی ہر قسم کے جانور کے لئے خطرہ ہیں۔ ہرن اور سانبھر جیسے جانور کو زندہ ہی چیر پھاڑ کر کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ انہی جنگلوں میں کتنی بار مجھے یہ کتے سانبھر کا پیچھا کرتے دکھائی دیئے ہیں۔ ان کے شکار کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ غول کے اکثر کتے نیم دائرے کی شکل میں پھیل جاتے ہیں۔ چند کتے کسی جانور کو ہانک کر ادھر لاتے ہیں اور پھر یہ سب باری باری اس جانور کو بھگاتے چلے جاتے ہیں۔ جہاں جانور کی ہمت نے جواب دیا، سب مل کر پل پڑے اور کچھ دیر بعد اس جانور کا نام و نشان تک نہیں بچتا۔ میں نے ایک بار ایک سانبھر کو جان بچانے کے لئے تالاب میں کودتے دیکھا۔ کتوں کے تالاب کے دوسرے سرے تک پہنچنے سے قبل سانبھر تیر کر نکل گیا۔ سانبھر بہت سخت جان جانور ہے اور عموماً بیچارہ زندہ ہی برابر کر لیا جاتا ہے۔

 ایک شام 5 بجے جب میں بنگلے سے کوئی میل بھر ہی دور ہوں گا تو میں نے جنگلی پھولوں کی ایک نادر قسم دیکھی۔ ابھی اس کے معائنے میں مصروف تھا ہی کہ اچانک کچھ عجیب طرح کی آوازیں سنائی دیں۔ میں انہیں شناخت نہ کر پایا۔ مجھے کافی الجھن ہوئی کیونکہ میری زندگی ہی جنگل میں گزری تھی اور میں پھر بھی ان آوازوں کو پہچاننے میں ناکام رہا تھا۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ جنگلی کتے اپنے شکار کا پیچھا کرتے ہوئے کئی عجیب طرح کی آوازیں نکال سکتے ہیں۔ رائفل چھتیاتے ہوئے میں کسی پناہ کی تلاش میں بھاگا۔ ابھی فرلانگ بھر ہی بھاگ پایا ہوں گا کہ ایک موڑ سے شیرنی نمودار ہوتے دکھائی دی۔ اس کے پیچھے نصف درجن جنگلی کتے تھے۔ میں نے خود کو ایک بڑے درخت کے تنے کے پیچھے چھپایا ہوا تھا۔

 دیکھتے ہی دیکھتے کتوں نے شیرنی کو گھیرے میں لیا جو بار بار اب غصے سے دھاڑ رہی تھی۔ وقتاً فوقتاً ایک کتا پیچھے سے شیرنی کو نوچنے کی کوشش کرتا اور شیرنی جونہی اس کی طرف مڑتی تو پیچھے سے مزید کتے اس پر حملہ کر دیتے۔ مجھے اچھی طرح اندازہ ہو چلا تھا کہ شیرنی اب زیادہ دیر نہیں زندہ رہ پائے گی۔

 اس دوران کتے بہت زیادہ شور مچا رہے تھے۔ اچانک عقب سے مزید کتوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ یہ کتے جو شیرنی کو گھیرے ہوئے ہیں محض ہراول دستہ ہی ہیں۔ اصل جھنڈ تو پیچھے ہے اور اپنے ہراول دستے کی ہمت بڑھانے کے لئے شور کرتا آ رہا ہے۔ شیرنی نے بھی یہ شور سنا اور ایک نئی ہمت کے ساتھ کتوں پر حملہ کیا۔ دو کتے اس کی زد میں آ گئے۔ ایک تو خیر جھکائی دے کر بچ گیا، دوسرے کی کمر پر شیرنی کا پنجہ پڑا اور وہ سوکھی ٹہنی کی طرح ٹوٹ گئی۔ یہ دیکھ کر کتے پیچھے ہٹ گئے۔ شیرنی نے فوراً چھلانگ لگائی اور دوڑ پڑی۔ بقیہ کتوں نے بھی اس کا پیچھا شروع کر دیا۔ بقیہ جھنڈ بھی پہنچ گیا۔ انہوں نے یا شیرنی نے میری موجودگی کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور میرے پاس سے ہی نکلتے چلے گئے۔ کتوں کی ہمت اور بہادری کی وجہ سے میری دلچسپی بہت بڑھ گئی تھی اور میں اتنا محو ہو گیا تھا کہ شیرنی پر یا کتوں پر گولی چلانے کا خیال تک نہ آیا۔

اگلی صبح میں نے اپنے کھوجیوں کو اس قصے کی بقیہ تفصیلات معلوم کرنے بھیجا۔ دوپہر تک وہ لوٹ آئے۔ ان کے پاس شیرنی کی کھال کے کچھ ٹکڑے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کتوں نے شیرنی کو مزید پانچ میل بھگایا تھا۔ اس کے بعد آخری لڑائی میں پانچ مزید کتے مارے گئے اور بقیہ کتوں نے شیرنی کی دھجیاں اڑا دی تھیں۔ اس کے علاوہ ان کے مردہ ساتھیوں کی لاشوں کا بڑا حصہ بھی ان کے پیٹ کا ایندھن بنا۔

 اس علاقے میں تین مختلف مقامی قبائل آباد ہیں۔ ان میں سے کارومبا قبائل بہترین شکاری اور اتنے ہی بہترین کھوجی ہوتے ہیں۔ عموماً ان کی پیدائش سے ان کی موت تک انہی جنگلات میں ہوتی ہے اور شاذ و نادر ہی ان میں سے کسی نے جنگل سے باہر کی دنیا دیکھی ہوتی ہے۔

 اب چلتے ہیں اصل آدم خور کی طرف۔ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شیر ضلع مالابار اور ویناد کے جنگلوں سے آیا تھا۔ اس علاقے میں ہاتھی اور جنگلی بھینسے بکثرت موجود ہیں۔ یہاں کے ہاتھی بھی اکثر و بیشتر پاگل ہوتے رہتے ہیں۔ اصولاً اس طرح کے جنگلات میں شیر نہیں پائے جاتے۔ خاموش وادی میں کئی انسانی شکار ہوئے اور تب سے اسے مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔ کوئی شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ شیر نے آدم خوری کیوں شروع کی۔

 گرمیوں کے وسط کا زمانہ تھا اور شیر کافی فعال ہو چکا تھا۔ ہر ہفتے انیکٹی اور سیگور کے درمیان شکار کرتا تھا اور میں بھی انہی دنوں ادھر پہنچا۔ آدم خور کا آخری شکار ایک مقامی چرواہا تھا جو اپنی نیم پالتو نیم جنگلی بھینسوں کو چرا رہا تھا۔ آدم خور نے اس پر باقاعدہ گھات لگا کر حملہ کیا تھا جبکہ اس نے اپنے اردگرد موجود بھینسوں کو دیکھا تک نہیں۔ اس نے اپنے شکار کو ختم کیا اور اسے اٹھا ہی رہا تھا کہ بھینسوں کو اس کی موجودگی کا علم ہوا۔

 یہ بھینسیں نیم وحشی ہیں اور کسی بھی اجنبی کے لئے خاصی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ خصوصاً اگر اجنبی نے یورپی طرز کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں۔ اس طرح کے افراد پر وہ نظر پڑتے ہی حملہ کر دیتی ہیں۔ شیر کو دیکھتے ہی انہوں نے جمع ہو کر شیر پر حملہ کر دیا جس کے بعد شیر اپنے شکار کو چھوڑ کر فرار ہو گیا۔

 اس رات نہ تو چرواہا اور نہ ہی بھینسیں واپس آئیں۔ اگلی صبح ایک بڑی جماعت ان کی تلاش میں بھیجی گئی۔ مردہ چرواہے کو تلاش کرنے میں انہیں کوئی مشکل نہ پیش آئی۔ اس کی بھینسیں اس کی حفاظت کی غرض سے ابھی تک اس کے گرد جمع تھیں۔شاید اسی وجہ سے شیر کو واپس آ کر چرواہے کو لے جانے کا موقع نہ مل سکا۔

 ہفتے بھر قبل شکار ہونے والی ایک عورت تھی جو سیگور میں رہتی تھی۔ وہ بیچاری دریائے سیگور سے پانی بھرنے گئی تھی کہ شیر اسے پکڑ کر لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس وقوعے کا ثبوت ٹوٹا مٹکا، شیر کے پنجوں کے نشانات، خون کی بوندیں، پھٹی ہوئی ساڑھی اور کچھ انسانی بال ہی باقی تھے۔

 میں نے اس جگہ کے ارد گرد کا چکر لگایا اور شیر کے پنجوں کے نشانات کا بڑی احتیاط سے جائزہ لیا۔ ان کی پیمائش سے پتہ چلا کہ شیر نسبتاً چھوٹی جسامت کا حامل اور نابالغ ہے۔

 اطلاعات یہ تھیں کہ شیر کو سیگور اور انیکٹی کے درمیان بکثرت دیکھا گیا ہے اور اس کے قدموں کے نشانات بھی سیگور اور انیکٹی کے گردو نواح اور راستے میں بھی بکثرت پائے جاتے ہیں۔ حفظ ماتقدم کے طور پر میں نے راستے کے اطراف میں مختلف جگہوں پر بیٹھنے کا منصوبہ بنایا۔ تفصیلات میں جائے بغیر اتنا بتا دیتا ہوں کہ اس پورے ہفتے میں ایک بار بھی شیر نہ دکھائی دیا۔

 میں نے اب 20 افراد پر مشتمل ایک کھوجی جماعت بنائی اور ان کے ساتھ جنگل کے اس حصے کی طرف چل پڑا جہاں شیر کی موجودگی کا امکان ہو سکتا تھا۔ یہاں پہنچ کر میں نے پانچ پانچ افراد کے چار گروہ بنائے تاکہ ان پر آدم خور حملہ نہ کر سکے۔ دوپہر تک ہم نے تلاش جاری رکھی۔ اس کے بعد ایک بندے نے ایک نالے میں انسانی لاش کی موجودگی کی اطلاع دی۔ میں فوراً اس مقام پر پہنچا اور دیکھا کہ اس بندے کی موت شیر کے گلا دبوچنے سے ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی مٹی کے تیل کا ڈبہ موجود تھا جس میں اس نے شہد جمع کی ہوئی تھی جو اب ہر طرف بکھر چکی تھی اور اس پر کالی چیونٹیوں کے جتھے حملہ آور تھے۔

 مجھے فوراً خیال گذرا کہ شیر نے ہلاک کر کے اسے کھایا کیوں نہیں۔ لاش بالکل ان چھوئی حالت میں تھی۔ جگہ بھی اتنی چھپی ہوئی تھی کہ شیر با آسانی پیٹ بھرتا اور کسی کو علم تک نہ ہو سکتا۔ ہم نے پنجوں کی تلاش شروع کی تو پتہ چلا کہ وہ کسی مادہ ریچھنی کا شکار ہوا ہے جو کہ اپنے بچے کے ہمراہ تھی۔ ریچھنی کے پیروں کے نشانات بالکل انسانی قدموں سے مشابہ ہوتے ہیں۔

 ریچھ کے بارے کچھ بھی یقین سے کہنا مشکل ہے۔ ان کی بصارت بہت کمزور ہوتی ہے۔ ہمارا اندازہ یہ تھا کہ یہ بچیارہ قبائلی شہد کی تلاش میں ریچھنی تک پہنچا ہوگا اور یا تو اس وقت ریچھنی سو رہی ہوگی یا پھر نالہ عبور کر رہی ہوگی کہ ان کی مڈبھیڑ ہو گئی۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ ریچھ کی نظر بہت کمزور ہوتی ہے اور یہ انسانی موجودگی سے تب آگاہ ہوتے ہیں جب وہ بہت قریب پہنچ جائیں۔ پھر حیرت زدہ ریچھنی نے اس پر حملہ کر دیا ہوگا تاک اپنے بچے کو بچا سکے۔ اس لئے اس نے اس بیچارے کو گلے سے پکڑا ہوگا اور شہ رگ کٹ جانے سے وہ وہیں ہلاک ہو گیا اور ریچھنی بچے کے ہمراہ فرار ہو گئی۔

 میری اپنی خواہش یہ تھی کہ میں خوامخواہ اس ریچھنی کا پیچھا نہ کروں کیونکہ اس نے محض اپنے بچے کو بچانے کے لئے حملہ کیا تھا۔ میں نے انیکٹی اپنے بنگلے کی طرف رخ کیا ہی تھا کہ چار مزید آدمی آن پہنچے۔ انہوں نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس ریچھنی کو ہلاک کروں کیونکہ وہ بھی شہد جمع کرتے ہیں اور کل کو یہ واقعہ ان کو بھی پیش آ سکتا ہے۔ ان کو خوش کرنے کے خیال سے میں نے اپنے ہمراہیوں کو واپس جانے کی ہدایت کر دی اور خود ان نئے آنے والے افراد کے ساتھ چل پْڑا۔ ریچھنی کے قدموں کے نشانات نالے سے ہوتے ہوئے ایک ندی میں جا پہنچے جہاں ریچھنی اور اس کا بچہ کچھ دیر تک رہے اور پھر واپس جنگل کی طرف پلٹ پڑے۔ اس جگہ جنگل میں پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔ یہاں بے شمار غار موجود تھے اور ان میں لگے ہوئے پہاڑی شہد کی مکھیوں کے لاتعداد چھتے۔ ان چھتوں کی لمبائی ایک گز سے زیادہ، اونچائی پانچ فٹ سے زیادہ اور موٹائی ایک فٹ تک ہو سکتی ہے۔ اب ہم جس زمین پر تھے وہ بالکل سخت اور پتھریلی تھی۔ میری نا تجربہ کار نگاہوں سے ریچھنی کے تمام تر نشانات اوجھل تھے۔ لیکن میرے ہمراہی اس کام کے ماہر تھے۔ دو گھنٹے تک وہ ادھر سے ادھر اور پہاڑی کے اوپر نیچے لئے پھرتے رہے۔ اپنی جگہ سے ہٹا ہوا پتھر، ہلا ہوا پتہ، رگڑ یا چھلینے کے معمولی سے نشانات یا ہلکی سی کھدائ، کوئی بھی نشانی میرے ہمراہیوں سے چھپی نہ تھی۔ بالآخر ہم ایک غار کے دہانے تک جا پہنچے جو کہ ایک بڑی چٹان کے پیچھے پوشیدہ تھی اور اس کے منہ پر لٹکے ہوئے 23 چھتے میں نے خود گنے۔ میرے ہمراہیوں کا کہنا تھا کہ یہ غار ہی اس ریچھنی کی رہائش گاہ ہے۔

 غار کے دہانے سے دس گز کے فاصلے پر ایک طرف ہٹ کر میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ غار میں پتھر پھینکیں۔ یہ سلسلہ کوئی 20 منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد ان لوگوں نے گھاس جمع کر کے مشعل سی بنائی اور اسے آگ لگا کر غار میں پھینک دیا۔ لیکن کچھ بھی نہ تبدیل ہوا۔ آخر انہوں نے 5 مزید مشعلیں بنائیں، ایک کو جلا کر ایک شخص میرے آگے اور تین بقیہ چار اضافی مشعلیں اٹھائے میرے پیچھے تھے۔

 غار متوقع طور پر خالی ملی۔ ہمارا اندازہ تھا کہ ریچھنی یا تو ہماری آمد سے قبل ہی یا پھر ہماری آمد کے شور کے باعث فرار ہو گئی۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا کہ میری ریچھنی سے کوئی دشمنی نہ تھی اور اسے مار کر مجھے افسوس ہوتا کہ اس کا بچہ لا وارث ہو جاتا۔

 ہم نے تیسری مشعل جلائی اور واپس ہونے ہی والے تھے کہ ایک ساتھی کو اچانک ایک عجیب چیز دکھائی دے گئی جس کے بارے میں میں عرصہ سے سنتا چلا آ رہا تھا لیکن کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔

 اس کو جو چیز ملی تھی تو کونے میں پڑی ایک روٹی نما چیز تھی۔ اسے مقامی لوگ ریچھ کی روٹی کہتے تھے۔ یہ دس انچ لمبی اور ایک انچ موٹی گول شکل میں تھی۔ مٹیالے سے رنگ کی اور لیس دار تھی۔ ریچھنیوں کے بارے مشہور ہے کہ وہ "جاک" کے درخت کا پھل اور شہد کے چھتے کو کھا کر اگل دیتی ہیں اور پھر اسے گول شکل دے کر اس کو سخت ہونے تک چھوڑ دیتی ہے۔ پھر اسے اس کے بچے کھاتے ہیں۔

 ریچھ کے لمبے بالوں کی وجہ سے اس پر شہد کی مکھیوں کے ڈنک اثر نہیں کرتے۔ حالانکہ اگر یہی ڈنک انسان کو لگیں تو وہ مہلک بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ریچھنی کے غار میں ایک سے لے کر درجن بھر تک اس طرح کی روٹیاں ہو سکتی ہیں۔ ریچھ پھلوں کی تلاش میں بہت تیزی سے درخت پر چڑھ سکتا ہے۔ خیر ہمیں اس غار سے صرف ایک ہی روٹی ملی۔ میرے لئے یہ حیرت انگیز چیز تھی۔ میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے میرے ساتھیوں نے مجھے پیش کش کی کہ میں اس روٹی کو کھا لوں۔ میں نے نرمی سے انکار کر دیا۔ انہوں نے میرے سامنے اس روٹی کے چار حصے کئے اور فوراً ہی کھا گئے۔

 ہم لوگ غار کے دہانے پر پہنچے ہی تھے کہ شاید مشعل کی روشنی، دھوئیں یا پھر ہماری باتوں سے گھبرا کر شہد کی مکھیوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔ ہم نے باہر کی طرف دوڑ لگائی۔ مکھیاں ہمارے پیچھے تھیں۔ میرے ہاتھ میں رائفل تھی اور میں تیز نہیں بھاگ سکتا تھا۔ خوش قسمتی سے میرے جسم پر پورے کپڑے تھے۔ اسی دوران میری گردن اور ہاتھوں پر کوئی 20 عدد ڈنک لگ چکے تھے۔ میرے ساتھیوں کے جسموں پر کم از کم 40 40 ڈنک تھے۔ انہوں نے صرف لنگوٹیاں پہنی ہوئی تھیں۔

 رات کو ساڑھے آٹھ بجے میں پھر باہر نکلا۔ میرے ہمراہ ایک مقامی بندہ بھی ساتھ تھا۔ وہ کار کی اگلی سیٹ پر بیٹھا میری طاقتور برقی ٹارچ کو ادھر ادھر جھاڑیوں میں گھما رہا تھا۔ شمال مغربی طرف سے سڑک پر ہم 6 میل تک گئے لیکن کچھ نہ دکھائی دیا۔ فارسٹ چوکی سے 4 میل آگے تک بھی کچھ نہ ملا۔ واپسی سے پہلے ہم نے گھنٹہ بھر یہاں قیام کیا۔ اس بار واپسی پر ہم نے جنگلی بھینسوں کا جھنڈ دیکھا۔

 جونہی کار نزدیک پہنچے تو وہ ہٹ گئے۔ راستے میں کئی چیتل بھی دکھائی دیئے۔ پھر ایک جگہ سڑک کے بیچوں بیچ ایک ہاتھی کھڑا ملا۔ ایک بار میں نے ہلکا سا ہارن بجایا۔ ہاتھی فوراً ہٹ گیا۔ بلاخر ہم انیکٹی پہنچے تو آدم خود کا نشان تک نہ ملا۔

 اگلی صبح خوب چمکیلی دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ ناشتے کے بعد مقامی بندے کے ہمراہ میں دوبارہ مویار دریا کی طرف نکلا۔ یہاں 9 میل میں ہمیں آدم خور کا کوئی نشان نہ دکھائی دیا۔ آخر کار ایک جگہ ایک غیر معمولی بڑے جسامت کے تیندوے کے پنجوں کے نشانات ملے۔ اس کے نشانات سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ چھوٹی جسامت کی شیرنی کے برابر ہے۔ میرا بہت دل للچایا لیکن آدم خور کا پیچھا کرنا زیادہ ضروری تھا۔

 رات کو ہم نے پھر ایک بار چکر لگایا لیکن صرف ایک سانبھر ہی دکھائی دیا۔

 اگلی صبح ہم پھر نکلے اور اس بار ہمارا رخ جنوب مشرق کی طرف تھا۔ نیلگری کی طرف ہمیں چوتھے میل پر ایک جنگلے بھینسے کی لاش ملی۔ سرسری معائنے سے معلوم ہوا کہ وہ اس وبائی بیماری کا شکار ہوا تھا جو ان دنوں اس علاقے میں پھیلی ہوئی تھی۔

 اسی شام ماہن ہالا سے اطلاع آئی کہ شیر ایک عورت کو اٹھا گیا ہے۔ یہ حادثہ اس جگہ کے قریب ہوا تھا جو ماہن ہالا ندی کے دریائے سیگور سے ملنے کی جگہ ہے۔ موٹر پر ہم سوار ہو کر جائے حادثہ تک پہنچے جہاں گذشتہ شام کو یہ وقوعہ ہوا تھا۔ یہ عورت چرواہوں کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔ ان لوگوں کے پاس مختلف جانور تھے۔

 بظاہر اس حادثے کا کوئی عینی شاہد نہ تھا کہ یہ عورت حادثے کے وقت باقی افراد سے الگ ایک دوسری جگہ تھی۔ اس عورت کی چیخیں سن کر اس کے ساتھیوں نے فوراً بستی کا رخ کیا۔ یہاں وہ مزید 6 ساتھی لے کر پلٹے جن میں اس عورت کا شوہر بھی شامل تھا۔ یہاں انہیں اس عورت کی ٹوکری اور اس کے ساتھ شیر کے پنجوں کے نشانات بھی دکھائی دیئے۔ یہ پارٹی فورا پلٹی اور اگلی صبح 4 نوجوانوں کی پارٹی میری طرف بھیجی گئی جو 10 میل کی مسافت طے کر کے میرے پاس پہنچے کیونکہ یہاں پورا علاقہ اب تک جان چکا تھا کہ میں یہاں کیوں آیا ہوا ہوں۔ ہم لوگ جائے حادثہ پر پہنچے اور میرے مقامی ساتھی نے فوراً ہی شیر اور اس کے شکار کے نشانات پا لئے۔ اب میں نے پیچھا کرنے سے قبل سب کو واپس بھیج دیا۔ جانے سے قبل متوفیہ کے شوہر نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں اس کی بیوی کی کچھ نہ کچھ باقیات ضرور لاؤں گا تاکہ وہ اس کی رسومات پوری کر سکے۔

 اب ایک لمحہ ضائع کئے بغیر میرے ساتھی نے ان نشانات کا پیچھا شروع کر دیا جو بظاہر مجھے دکھائی بھی نہ دے رہے تھے۔ یہاں سے شیر نے اس علاقے کی طرف کا رخ کیا جو نسبتاً بلندی پر تھا۔ اس علاقے میں میں نے کئی سال پہلے کسی اچھے جنگلی بھینسے کی تلاش میں چکر لگایا تھا۔ یہ پوری پہاڑی تیز اور نوکیلی گھاس سے ڈھکی ہوئی ہے۔ مجھے علم تھا کہ اس علاقے میں شیر کو یا اس کے شکار کو تلاش کرنا بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے کے برابر ہوگا۔

 میرے ہمراہی نے بغیر رکے کامیابی سے نشانات کا پیچھا جاری رکھا اور میل بھر بعد ہمیں اس عورت کی ساڑھی ملی جو ایک جھاڑی میں اٹکی ہوئی تھی۔ یہاں شاید شیر نے اپنا ارادہ بدل دیا اور ادھر ادھر گھومنا شروع کر دیا۔ نشانات کا پیچھا کرتے کرتے ہم لوگ ایک نالے میں جا پہنچے۔ یہاں بانس کے درختوں کا ایک جھنڈ تھا۔ بانس کے درخت گھنے تر ہوتے چلے گئے۔ جھنڈ کے نزدیک پہنچنے پر ہمیں گدھ دکھائی دیئے۔ آگے چل کر ہم نے دیکھا کہ جھنڈ میں اس عورت کی لاش موجود تھی۔ پہلے اسے شیر نے اور پھر گدھوں نے پیٹ بھرنے کے لئے استعمال کیا تھا۔ اس کا سر ایک طرف پڑا تھا۔ گدھوں نے آنکھیں نوچ کر الگ کر دی تھیں اور چہرے کا زیادہ تر گوشت بھی کھا چکے تھے۔ اس کے ہاتھوں، پیروں، چوڑیوں، پازیب اور سر کو ہم نے احتیاط سے گھاس کے گٹھر میں باندھ لیا تاکہ متوفیہ کے شوہر سے کیا ہوا وعدہ پورا کر سکوں۔ یہاں بیٹھ کر شیر کا انتظار کرنا کار وارد تھا۔ شیر ان چند ٹکڑوں کے لئے واپس کبھی بھی نہ آتا۔

 اگلی رات میں نے پھر چکر لگایا مگر ناکامی ہوئی۔ اگلی صبح ہم نے ایک بچھڑا خرید کر اس جگہ کے قریب باندھا جہاں عورت کی لاش ملی تھی۔ چونکہ یہاں شیر کی واپسی کا بہت کم امکان تھا اس لئے میں نے سوچا کہ اگر بچھڑا مارا گیا تو میں ادھر بیٹھوں گا۔

 شومیِ قسمت، میرا یہ اندازہ غلط نکلا۔ اگلی صبح میرے ہرکاروں نے بچھڑے کے مارے جانے کی اطلاع دی۔ تین بجے تک مچان تیار تھی اور اس پر بیٹھا میں زمین سے پندرہ فٹ کی بلندی پر محفوظ تھا۔

 سب سے پہلا جانور جو یہاں نمودار ہوا وہ ایک لال رنگ کا مارٹن تھا۔ اس نے ساڑھے پانچ بجے شکل دکھائی۔ اس نے پہلے تو گرد و پیش کا جائزہ لیا اور پھر بچھڑے کو کھانا شروع کر دیا۔ 6 بجے تک وہ اچھی طرح سیر ہو چکا تھا۔ میرا خیال تھا کہ اس نے اتنا کھا لیا تھا کہ پوری رات بدہضمی کا شکار رہتا۔

 اندھیرا چھاتے ہی تین گیدڑ آئے۔ بچھڑے کی لاش کو سونگھتے وقت وہ بار بار ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے وہ بری طرح بھڑک کر بھاگتے اور چند لمحے بعد پھر واپس آ جاتے۔ چوتھی بار واپسی پر انہوں نے وہیں ڈیرہ جما لیا اور آرام سے کھانا شروع کر دیا۔ مگر چند ہی لقمے کھاتے ہی اچانک وہ رفو چکر ہو گئے۔

 یقیناً یہ شیر کی آمد تھی جس نے انہیں اس طرح بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ سرمئی رنگ کے ایک عجیب الخلقت جانور نے چھلانگ لگا کر بچھڑے کی لاش تک پہنچنے کی کوشش کی۔ شیر کبھی بھی اتنی بزدلی سے اپنے شکار پر نہیں لوٹتا۔ یہ لازماً لگڑ بگڑ تھا جو گیدڑ کی طرح بزدل ہوتا ہے۔

 دائیں بائیں دیکھتے ہوئے اس نے لاش کو کئی بار سونگھا پھر لاش کے آس پاس گھوم پھر کر دیکھا کہ کوئی خطرہ تو نہیں۔ اس کے بعد اس نے بچھڑے کو کھانا شروع کر دیا۔ دو تین بار اس نے کھانے کے دوران لاش کے گرد چکر بھی لگایا کہ کہیں شیر کی آمد کا وقت تو نہیں ہو چلا۔ نصف گھنٹے تک وہ بار بار یہی کچھ کرتا رہا پھر لگڑ بگڑ نے مطمئن ہو کر کھانا شروع کیا۔

 ابھی دس ہی منٹ گذرے ہوں گے کہ شیر کی دھاڑ سنائی دی۔ شیر دو تین بار دھاڑا اور لگڑ بگڑ اس طرح بھاگا جیسے موت اس کا پیچھا کر رہی ہو۔

 میں تیار ہو گیا کہ اب شیر کی آمد کا واضح اعلان ہو چکا تھا۔ لیکن کئی گھنٹے گزر گئے اور شیر نہ ظاہر ہوا۔ صبح ہونے تک شیر نہ پہنچا۔ گرمیوں کا موسم تھا لیکن خنکی اتنی بڑھ گئی تھی کہ میں اچھا خاصا ٹھٹھر رہا تھا۔ نا معلوم شیر کیوں نہیں آیا۔ روشنی اچھی طرح پھیلنے تک میں مچان پر ہی رکا رہا۔ جب نیچے اترا تو پورا جسم سخت اکڑا ہوا اور میں بہت تھکن محسوس کر رہا تھا۔ پوری دنیا کے لئے بالعموم اور شیر کی شان میں بالخصوص قصیدے پڑھ رہا تھا۔ کوئی نہیں بتا سکتا کہ شیر اتنا قریب پہنچ کر بھی بچھڑے کو کھانے کیوں نہ آیا۔

 اگلے دن میں سارا دن آرام کیا۔ رات کو حسب معمول موٹر پر گشت شروع کر دی۔ لیکن شیر کا کوئی نشان تک نہ ملا۔ انیکٹی کے موڑ سے ذرا پہلے ایک چھوٹے تیندوے نے سڑک کو چھلانگ لگا کر عبور کیا اور سڑک کے کنارے ہی بیٹھ کر مجھے گزرتا ہوا دیکھنے لگا۔ سرچ لائٹ میں اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔ میں نے اس خوبصورت جانور کو زندگی کے مزے لینے کے لئے چھوڑ دیا۔

 اگلا ہفتہ پرسکون گزرا۔ ہمیں کسی طرف سے شیر کی کوئی خبر نہ ملی۔ میں نے سوچا کہ روانہ ہونے سے قبل میں تین دن مزید رک جاؤں۔ اگلا دن بھی گزر گیا۔ اس سے اگلے دن دوپہر کو علم ہو اکہ ایک مقامی امیر زمیندار کے لڑکے کو شیر لے گیا ہے۔ یہ لڑکا اپنے باپ کے لئے دوپہر کا کھانا لے کر جا رہا تھا۔

 جلد ہی میں اپنے مقامی کھوجیوں کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچا۔ شیر لڑکے کو ختم کرنے کے بعد اسے اٹھا کر دریائے سیگور سے ہوتا ہوا شمال کی طرف جنگل میں گھسا۔ ہم نے فوراً ہی پنجوں کے نشانات کا پیچھا شروع کر دیا۔ جلد ہی ہمیں لڑکے کی ادھ کھائی لاش نالے میں ہی ایک جگہ چھپی ہوئی ملی۔ بدقسمتی سے لڑکے کا باپ بھی وہیں آ پہنچا اور اس نے فوراً ہی لاش کو ہٹانے پر اصرار کیا۔ گھنٹہ بھر اس سے مغز ماری ہوتی رہی کہ ابھی لاش کو نہ لے جائے تاکہ میں شیر پر گھات لگا سکوں۔

 لاش کے موجودہ مقام کے نزدیک کوئی بھی درخت یا چٹان ایسی نہ تھی جہاں میں خود کو چھپا سکتا۔ آخر طے یہ پایا کہ لاش کو اس کے موجودہ مقام سے ہٹا کر پچاس فٹ دور بانس کے ایک جھنڈ تک لے جایا جائے۔ وہاں بانس کے کٹے ہوئے تنوں پر مچان باندھی اور میں اس پر بیٹھ گیا۔ یہ میری زندگی کی سب سے بری مچان تھی۔ ذرا سے جھونکے سے بھی یہ ہلنے لگتی اور اگر میں حرکت کرتا تو بے اندازہ شور پیدا کرتی۔ دوسرا یہ بھی مسئلہ تھا کہ اس جگہ سے لاش تقریباً نظروں سے اوجھل تھی۔ یہاں سے لاش کا فاصلہ تیس گز کے لگ بھگ ہوگا۔ ارد گرد اگے ہوئے بانس کے درختوں نے آس پاس کا تمام تر حصہ چھپایا ہوا تھا۔

 آج کی مہم کا آغاز بہت برا تھا۔ ما سوائے ایک مور کے کوئی ذی روح نہ دکھائی دیا۔ مور نے زمین پر چلتے ہوئے نالے کے کنارے سے نیچے اترنا شروع کیا۔ جونہی اس کی نگاہ لاش پر پڑی، بوکھلا کر وہ پر پھڑپھڑاتا ہوا میرے اوپر سے گذرا۔ اس کی دم میرے بالوں سے چھوتی ہوئی گزری۔

 نو بجے شیر کی آمد کا اس طرح علم ہوا کہ جہاں اس نے لاش کو چھوڑا تھا، اس طرف سے ہلکی سی غراہٹ سنائی دی۔ پہلے تو میں نے خود کو کوسنا شروع کیا کہ لاش کو ہٹانے کا خیال ہی کیوں آیا۔ پھر یاد آیا کہ ادھر میرے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں تھی۔ کھلی زمین پر آدم خور کے انتظار سے بہتر بھی خود کشی کے کئی آسان طریقے ہیں۔

 خیر شیر جہاں تھا وہاں سے وہ لاش کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ اس طرح اس کے لاش پر آنے کی توقع تھی۔ کم از کم اگر میں آدم خور شیر ہوتا تو یہی کرتا۔ لیکن ہماری طرف سے لاش کو ہٹانے سے شاید شیر کو شبہ ہو گیا تھا۔

 اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آدم خود درندہ چاہے وہ شیر ہو یا تیندوا یا چیتا، بہت ہوشیار اور در حقیقت بزدل بھی ہوتا ہے۔ کسی آدمی کو ہلاک کرنے سے قبل وہ پوری طرح گھات لگاتا ہے۔ اچھی طرح یہ اطمینان کر کے کہ اس کا شکار اکیلا ہے، وہ حملہ کرتا ہے۔ ایک سے زائد آدمی ہوں تو وہ بالعموم حملہ نہیں کرتا۔ میری علم میں شاید ہی کوئی ایسا واقعہ ہو کہ آدم خود نے کسی ایسے شخص پر حملہ کیا ہو جو اکیلا نہ ہو۔ اس کے علاوہ ایسی بھی بے شمار مثالیں ہیں کہ شیر کے حملہ کرتے ہوئے اگر دوسرا کوئی شخص مداخلت کرے تو شیر اپنے شکار کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ ان میں ایک اور اضافی صلاحیت یا چھٹی حس کہہ لیں، ہوتی ہے۔ وہ مسلح اور غیر مسلح آدمی میں تمیز کر سکتے ہیں۔ عموماً وہ مسلح شخص کی موجودگی بھانپ کر بھاگ جاتے ہیں۔ ان کا حملہ عموماً اس وقت ہی ہوتا ہے جب آدمی یا تو غیر مسلح ہو یا پھر بے خبر

 اس آدم خور کی چھٹی حس بہت طاقتور تھی اور اس نے فوراً ہی کسی قسم کی گڑ بڑ محسوس کر لی تھی۔ اپنے شکار تک پہنچنے کے لئے اس نے عام راستے سے ہٹ کر چکر لگانے شروع کر دیئے۔ بار بار دھیمی آواز میں غراتا رہا جیسے اسے شکار کا دوسری جگہ منتقل کیا جانا ناگوار گزرا ہو۔ گھنٹہ بھر وہ ادھر ادھر پھرتا رہا۔ آخر کار اس نے اپنا ارادہ بدل دیا اور جنوب کی طرف نکل گیا۔ اس کی جنوب کی طرف دھیمی ہوتی غراہٹوں سے اس کے جانے کا علم ہوا۔ شاید اس طرف اس کی کمین گاہ تھی۔

 اس بار آدم خور کے رویئے نے مجھے مجبور کیا کہ میں واپسی کا ارادہ ترک کر دوں۔ مجھے یہ جانور بہت غیر معمولی لگا۔ اس کے علاوہ میں نے سوچا کہ اگر مجھے چھٹی بڑھانی بھی پڑی تو میں بڑھا لوں گا۔

 میرے ہمراہیوں کا خیال تھا کہ شیر سے بڑی سڑک پر مڈھ بھیڑ کے امکانات بہت کم ہیں۔ اس لئے ہمیں جنگل میں موجود کچے پکے راستوں اور پگڈنڈیوں پر مٹر گشت کرنی چاہیئے۔ یہ پگڈنڈیاں کار کے سفر کے قابل نہ تھیں۔ میں نے ایک بیل گاڑی کرائے پر لی تاکہ ان پگڈنڈیوں کو چھان سکوں۔ گاڑی بان ایک نڈر اور مضبوط جسامت کا حامل جوان تھا۔ میرے ہمراہی بھی قابل اعتماد اور نہایت عمدہ کھوجی تھے۔ ہمیں امید تھی کہ ہم اس طرح کچھ نہ کچھ کر سکیں گے۔

 اگلی تین راتیں اسی طرح گذریں۔ ہم نے اس دوران صرف سانبھروں اور چیتلوں کو دیکھا۔ تیسری رات ایک ہاتھی بھی راستے کے درمیان میں دکھائی دیا۔ ایک بڑے درخت کے نیچے وہ بے حس و حرکت کھڑا تھا۔ بیل گاڑی میں کار کی بیٹری رکھ کر اس سے ہم نے سرچ لائٹ جوڑی ہوئی تھی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اچھی خاصی روشنی کر سکیں۔ عام استعمال کے لئے پانچ اور سات سیلوں والی ٹارچیں تھیں۔ ہمیں ہاتھی کی موجودگی کا علم تب ہوا جب وہ ہماری روشنیاں دیکھ کر ہماری طرف لپکا۔ ہم نے اس کی آواز سن کر فوراً سرچ لائٹ جلائی۔ ہاتھی ہم سے کوئی تیس گز دور تھا۔ سرچ لائٹ کی تیز روشنی جب اس کی آنکھوں پر پڑی تو وہ رک گیا۔ ہم نے چھوٹی ٹارچیں بھی جلائیں اور خوب شور مچایا تو ہاتھی ڈر کر بھاگ گیا۔

 اسی طرح اگلی تین راتیں بھی گذریں۔ ساتویں دن صبح کو اطلاع ملی کہ شیر نے انیکٹی کے فارسٹ گارڈ کے بیٹے کو ہلاک کر دیا ہے۔ نو بجے جب اچھی طرح روشنی پھیل چکی تھی تو وہ ڈاک بنگلے سے نکل کر اس جگہ آیا جو میرے بنگلے اور اس کی گھر کے درمیان تھی۔ شاید وہ اپنے کتے کو واپس بلانے آیا تھا جو اکثر میرے پاس کھانے کی تلاش میں آ جاتا تھا۔ اس لڑکے کو پھر زندہ نہ دیکھا گیا۔

 فارسٹ گارڈ یہ سمجھا کہ لڑکا میری طرف آیا ہوا ہے، اس نے سکھ کا سانس لیا۔ جب لڑکا دوپہر کے کھانے تک نہ پلٹا تو فارسٹ گارڈ نے سوچا کہ وہ خود جا کر اسے واپس لاتا ہے۔ دریا سے فرلانگ بھر ہی دور اسے لڑکے کی ٹوپی دکھائی دی۔ اسے گڑبڑ محسوس ہوئی۔ اس نے فوراً ہی لڑکے کو بلانے کے لئے آواز دینی شروع کر دی۔ جب اسے کوئی جواب نہ ملا تو وہ فوراً میری طرف دوڑا تاکہ ہم مل کر اس کے بیٹے کو تلاش کر سکیں۔

 پریشان حال باپ کے ساتھ میں نے رائفل اٹھائی اور فوراً ہی چل پڑا۔ لڑکے کی ٹوپی ابھی تک وہیں پڑی تھی۔ تلاش کرنے پر اس کا ایک سلیپر دس گز دور ایک جھاڑی سے ملا۔ ہمیں بخوبی اندازہ ہو چکا تھا کہ لڑکا جان سے ہاتھ دھو چکا ہے۔ میں نے فارسٹ گارڈ سے کہا کہ وہ فوراً بستی جا کر میرے کھوجیوں کو بلا لائے۔

 پندرہ منٹ میں وہ بھی پہنچ گئے۔ ہم نے مل کر تلاش شروع کر دی۔

 بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ لڑکے نے سخت مزاحمت کی تھی۔ شاید چلایا بھی ہوگا۔ مگر اس وقت وہاں اور کون تھا جو اس کی مدد کے لئے آتا۔ شیر نے اسی بری طرح بھنبھوڑا تھا کیونکہ گھاس پر خون ہی خون بکھرا ہوا تھا۔ اس کے بعد شیر اسے لے کر آگے بڑھا۔ ہمیں خون کی لکیر دکھائی دی۔

 یہاں دریا مغرب کی طرف مڑتا ہے۔ یہاں بھی ہمیں شیر کے پنچوں کے نشانات دکھائی دئیے۔ خون کی لکیر بھی ابھی تک چل رہی تھی۔

 یہاں کی نرم مٹی پر ہمیں شیر کے پنجوں کے بہت گہرے نشانات ملے۔ یہاں سے شیر کم گہرے پانی سے ہوتا ہوا دوسرے کنارے پر چڑھ گیا۔ تھوڑا سا آگے چل کر ہم نے جھاڑیوں سے لڑکے کی لاش برآمد کر لی۔ لڑکے کو شیر آدھا کھا چکا تھا اور بقیہ لاش بہت ڈراؤنی لگ رہی تھی۔ ہمارا اندازہ تھا کہ یہاں پہنچنے تک لڑکا زندہ ہی تھا۔ تبھی پورا راستہ خون بہتا رہا۔ شاید یہاں پہنچ کر شیر نے لڑکے کے شور سے ناراض ہو کر اس کی کھوپڑی پر پنجہ رسید کیا۔ کھوپڑی ریزہ ریزہ ہو گئی۔ تیز پنجوں نے کھوپڑی کو چیر کر رکھ دیا تھا۔ کھوپڑی انڈے کی طرح پچکی ہوئی تھی۔ اس پنجے کے سبب ایک آنکھ بھی اپنے حلقے سے نکل کر باہر کی طرف لٹک گئی۔

 بیچارہ باپ جو اس وقت لاش سے صرف فٹ بھر ہی دور تھا، نے بقیہ لاش کو چوما اور پھر سر پر خاک اڑانی شروع کردی۔ یقیناً اس کی آہ و زاری سے آسمان کا کلیجہ دہل گیا ہوگا۔

 بیچارے غم زدہ باپ کو ہم نے جھنجھوڑ کر سمجھانا شروع کیا کہ وہ جتنا شور کرے گا اور جتنی تاخیر ہوتی جائے گی، شیر کی واپسی کے امکانات اتنے ہی کم ہوتے چلے جائیں گے۔ آخر کار اس بیچارے کی آہ و بکا ہچکیوں اور سسکیوں میں بدل گئی۔

 لاش آلو بخارے کی جھاڑی تلے تھی۔ اس جھاڑی پر ایک بڑے جامن کے درخت کا سایہ تھا۔ ہم نے اس درخت پر مچان باندھنے کا منصوبہ بنایا۔ میں نے لڑکے کے باپ اور کھوجیوں کو بنگلے جانے کی ہدایت کی تاکہ وہ میری مچان ادھر لا سکیں۔ ان کی واپسی پر ہم لوگ سب ادھر ہی رہ جاتے تاکہ مچان باندھنے یا پھر مچان پر جاتے وقت اگر اچانک شیر پہنچ جائے تو اسے ہلاک کرنے کا موقع ضائع نہ ہو۔

 دونوں کھوجی گھنٹے سے بھی کم وقت میں واپس لوٹ آئے۔ انہوں نے بڑی پھرتی سے میری مچان پندرہ فٹ کی بلندی پر باندھ دی۔ وہ میری ہدایت کے عین مطابق میری ٹارچ، کمبل اور پانی کی بوتل بھی لائے تھے۔ سہ پہر ہوتے ہوتے میں مچان پر بیٹھ گیا۔

 سہ پہر شام اور شام رات میں ڈھل گئی۔ شیر کی آمد کا دور دور تک نشان نہ تھا۔ اچانک تیز اور طوفانی بارش شروع ہو گئی۔ بارش کے اختتام پر اولے بھی پڑے۔

 بارش اتنی تیز تھی کہ منٹ بھی نہ گزرا ہوگا کہ میں پوری طرح بھیگ گیا۔ میری آنکھوں کے سامنے ہی دریا کا پانی بڑھتے بڑھتے کناروں سے چھلکنے لگا۔

 رات گئے تک بارش جاری رہی۔ پھر ہلکی ہوتے ہوتے بوندا باندی میں بدل گئی۔ کچھ دیر بعد بوندا باندی بھی تھم گئی۔ ہوا نے جلد ہی میرے کپڑے خشک کر دیئے۔ سردی بہت بڑھ گئی تھی اور اب ناقابل برداشت ہو چلی تھی۔

 اس وقت بنگلے واپس جانے کے لئے میں درجن بھر آدم خوروں کا بھی مقابلہ کر سکتا تھا لیکن طغیانی پر آئے دریا کو عبور کرنا میرے بس سے باہر تھا۔ پانی کے ساتھ درخت، تنے، جھاڑیاں، پتھر، غرض اتنی چیزیں آ رہی تھیں کہ دریا عبور کرنے کی کوشش میں میرے چیتھڑے اڑ جاتے۔

 میری مشکلات میں اضافہ کرنے کے لئے سردی اب ناقابل برداشت ہو چلی تھی۔ نیند کی کمی اس پر مستزاد۔ ساتھ ہی اچانک ملیریا کا حملہ ہو گیا۔ گھنٹہ بھر ہی میں میرے دانت بجنے لگے۔ بخار نے بھی شدت پکڑ لی تھی۔ اس حالت میں شیر کا خیال تو کجا مجھے اپنی زندگی خطرے میں دکھائی دینے لگی۔ میں نہیں جانتا کہ میں کیسے مچان پر ہی رہا، نیچے کیوں نہ گرا۔

 اگلی صبح آٹھ بجے حسب ہدایت میرے ہمراہی آئے تو میں بیہوش تھا۔ کسی نہ کسی طریقے سے انہوں نے مجھے نیچے اتارا اور پھر دریا کے پار لے گئے۔ اگلے دو دن ملیریا کا زور رہا۔ خوش قسمتی سے میرے پاس مطلوبہ ادویات تھیں۔ تیسرے دن تک میں کافی بہتر ہو چکا تھا۔

 ان حالات میں مجھے نمونیہ کیوں نہ ہوا، اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتا۔

 تین دن بعد میں جب کچھ بہتر ہوا تو مجھے میرے ساتھیوں نے بتایا کہ اس رات کو طوفان کے دوران یا بعد میں شیر واپس آیا تھا۔ مجھے اپنی خوش قسمی پر ناز سا ہونے لگا کہ اگر میں اس رات نیچے گر جاتا تو شیر کو مفت میں دوسرا تازہ شکار مل چکا ہوتا۔

 میں اگلے دو دن تک آرام کرتا رہا اور انتظار رہا کہ کب شیر کی مزید کسی سرگرمی کی اطلاع ملتی ہے۔ تیسرے دن میں نے تین بچھڑے خریدے۔ ایک کو سیگور، دوسرے کو انیکٹی اور تیسرے کو ماہن ہالا میں باندھا۔ اگلی صبح تینوں ہی زندہ سلامت تھے۔ میں نے اب اپنی معمول کی سرگرمیاں بحال کر دی تھیں اور جنگل میں مٹر گشت بھی بحال ہو گئی تھی مبادا کہ شیر سے اتفاقاً ملاقات ہو جائے۔

 دو دن بعد ہی اچانک قسمت کی دیوی مہربان ہو گئی۔ میں نے ویسے ہی سوچا تین ہفتے تو بیکار گزرے۔ کیوں نہ اپنے کھوجیوں کے ہمراہ دریائے سیگور کے ساتھ ساتھ چند میل چل کر دیکھ لوں۔ کیلے کے جھنڈ کے پاس میں نے کار چھوڑی اور ہم لوگ روانہ ہو گئے۔

 اس جگہ سے بمشکل میل بھر نیچے کی طرف ہی ایک دلدلی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ کئی سال پہلے تک جنگلی بھینسوں کی بہت عمدہ پناہ گاہ تھی۔ آج بھی مقامی لوگ اسے جنگلی بھینسوں کی دلدل کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس سے نصف میل دور دریا کے دونوں اطراف بانس کے گھنے جھنڈ ہیں۔ یہ جھنڈ ہاتھیوں، سانبھروں اور کبھی کبھار شیروں کو بھی مرغوب ہوتے ہیں۔

 ساڑھے آٹھ بجے ہم جھنڈ میں داخل ہوئے۔ اسی وقت دریا کے دوسری طرف سے سانبھر کی آواز آئی۔ اس کے ساتھ ہی ایک بارہ سنگھا بھی بولا۔ ہم لوگ فوراً گھاس میں دبک گئے۔ دونوں جانور وقفے وقفے سے بولتے رہے۔ صاف ظاہر تھا کہ انہوں نے کوئی خطرہ محسوس کیا تھا۔

 پہلے تو میں یہ سمجھا کہ ان جانوروں نے ہمیں دیکھ لیا ہے۔ لیکن فوراً ہی اس خیال کی تردید ہو گئی کہ ہوا مخالف سمت میں چل رہی تھی اور ہم لوگ اتنی گھنی جھاڑیوں میں تھے کہ ہمارا دیکھا جانا ناممکن تھا۔ اس کے علاوہ ہم لوگ بہت محتاط اور آہستہ انداز سے چل رہے تھے۔ اس لئے صرف یہی امکان تھا کہ شیر یا تیندوے کو دیکھ کر ہی یہ جانور بول رہے تھے۔ ورنہ اس وقت اس خطرناک علاقے میں انسان کی موجودگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

 ہم جھاڑیوں کے قریب تقریباً 10 منٹ تک دبکے رہے۔ پھر اچانک دریا سے ہمیں بہت سارے چھوٹے چھوٹے پتھروں کے لڑھکنے کی آواز آئی۔ ایک فاختہ اور اس کے پیچھے بارہ سنگھا دوڑتے ہوئے گزرے اور ہماری طرف سے جنگل میں گھس گئے۔

 چند ہی لمحوں میں ہم نے خاموشی، نفاست اور نڈر پن کے ساتھ شیر دریا کے سامنے والے کنارے سے نکلا۔ اس نے پانی میں قدم رکھا اور چلتا رہا۔ جب پانی اس کے سینے تک پہنچا تو اس نے چھلانگیں لگانا شروع کر دیں۔

 نہایت احتیاط سے نشانہ لیتے ہوئے میں نے اس کے بائیں شانے کے پیچھے فائر کیا۔ گولی کھاتے ہی شیر اچھل کر گرا اور کراہتے ہوئے واپس اسی طرف مڑ گیا جہاں سے وہ آ رہا تھا۔ اپنی پناہ گاہ سے نکلتے ہوئے میں نے چالیس گز کا فاصلہ تقریباً دوڑ کر عبور کیا جہاں سے شیر کا چہرہ مجھے صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اس کا بقیہ حصہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہاں میں نے مزید پندرہ منٹ تک انتظار کیا کہ جونہی شیر ہلے میں دوسری گولی چلاؤں۔ لیکن شیر مر چکا تھا۔

 جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ آدم خور کے پنجوں کے معائنہ کر چکا تھا، اس شیر کے نشانات اسے آدم خور ہی ثابت کرتے تھے۔ اس طرح مجھے یقین ہوا کہ اتنی کوششوں کے بعد بالآخر آدم خور مارا جا چکا ہے۔

 شیر کے آدم خور بننے کی وجہ صاف ظاہر تھی کیونکہ اس شیر کی صرف ایک آنکھ تھی۔ دوسری آنکھ سکڑ کر نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ کھال اتارتے ہوئے میں نے چاقو سے اس سکڑی ہوئی آنکھ کو نکال کر کریدا تو اس میں سے بندوق کا ایک چھرہ نکلا۔

 ظاہر ہے کہ شیر کو اسی معذوری نے آدم خوری کی طرف مائل کیا۔ کسی غیر قانونی شکاری نے اس پر اپنی مزل لوڈنگ بندوق سے فائر کیا ہوگا جس سے شیر کانا ہو گیا۔ درد کی شدت سے مجبور ہو کر اور معذوری کی وجہ سے اس نے انسان سے بدلہ لینے کے لئے آدم خوری شروع کی ہوگی۔

 

Rate this item
(0 votes)
  • Last modified on Thursday, 29 May 2014 21:33
  • font size
More in this category: تگراٹھی کے شیر »