سفر خنجراب: بشام سے کوہستان تک

  • Wednesday, 13 July 2016 17:00
  • Published in سفرنامہ
  • Read 619 times
سفر خنجراب: بشام سے کوہستان تک All images are copyrighted to their respective owners.

تحریر : عدنان خان کاکڑ

بشام میں شام کے وقت ہماری وین کا ڈرائیور رفیق ویسے ہی آیا جیسے سند باد جہازی کے بحری جہاز کا ناخدا طوفان دیکھ کر آیا کرتا تھا۔ سر پہ خاک، منہ پر ہوائیاں، طبیعت میں پریشانی، چودہ کے چودہ طبق روشن۔ ہم نے پریشان ہو کر پوچھا کہ کیا ماجرا ہے۔

وہ کہنے لگا کہ ’آگے کوہستان ہے‘۔ ہم نے خوش ہو کر کہا کہ ’شکر الحمد للہ، ہم پہاڑ دیکھنے ہی آئے ہیں۔ شکر ہے کہ اب میدان سے نکل چکے ہیں اور کوہستان شروع ہو گیا ہے۔ لیکن پہاڑ تو کل سے نظر آ رہے ہیں۔ شاید اب زیادہ اونچے والے ہوں گے۔ لیکن گاڑی اچھی ہے، چڑھائی چڑھ جائے گی‘۔

وہ ہراساں ہو کر بولا کہ ’نہیں صاحب، آپ نہیں سمجھ رہے ہیں۔ آگے کوہستان کا ضلع ہے۔ نہایت فسادی لوگ ہیں۔ لوٹ مار بھی کرتے ہیں اور مخالف فرقے والوں کو مار بھی ڈالتے ہیں۔ لٹیرے بھِی ہیں اور مذہبی شدت پسند بھی‘۔ ہمارے چہرے پر اب بھی زیادہ پریشانی کے آثار نہ دیکھ کر اسے تشویش ہوئی۔ کہنے لگا کہ ’صاحب، وہ پیسے بھی لوٹ لیتے ہیں، موبائل بھی اور کیمرہ بھی‘۔ ہم پریشان ہوگئے، ’کیمرہ بھی لوٹ لیتے ہیں اور موبائل بھی؟ پھر اب کیا کریں؟‘۔

ہمیں پریشان دیکھ کر اس کے چہرے پر کچھ سکون کے آثار نمایاں ہوئے۔ کہنے لگا کہ ’صبح سویرے کانوائے چلتا ہے چھے بجے۔ اس کے ساتھ ہمیں جانا پڑے گا۔ آگے بھی رینجرز کی گاڑی ہوتی ہے اور پیچھے بھی۔ کچھ آگے چلیں گے تو پھر خطرے سے نکل کر کانوائے ختم ہو جائے گا۔ بس آپ صبح سویرے ساڑھے پانچ بجے تیار ہو جائیں تاکہ کانوائے مس نہ ہو‘۔

قبیلے پر ہم نے مارشل لا نافذ کر دیا اور ہر چھوٹے بڑے کو صبح تیار ہونے کا کہا۔ صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب اٹھ کر رفیق سے رابطہ کیا تو وہ کافی مطمئن سا گھوم رہا تھا۔ کہنے لگا کہ ’ساڑھے آٹھ نو بجے نکلتے ہیں۔ ہم نے پوچھا کہ وہ کانوائے کا کیا ہوا؟ اس کے ساتھ نہیں جانا تھا؟‘ تس پہ ویگن کا وہ ناخدا بولا کہ ’پرائیویٹ گاڑی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اسے کانوائے کے بغیر جانے دیتے ہیں۔ کوہستانی صرف بسیں روک کر ان کو لوٹتے اور قتل کرتے ہیں‘۔

ہم نے پوچھا کہ ’اچھا کوہستان سے آگے تو سب ٹھیک ہے نہ؟ وہ لوگ تو اچھے ہیں؟‘ رفیق نے ہمیں بتایا ’آگے چلاس کے لوگ تو بہت اچھے ہیں، کوہستانیوں کی طرح لٹیرے نہیں ہیں۔ چلاس والے بس روک کر دوسرے فرقے والوں کو مار ڈالتے ہیں۔ اور اس سے آگے گلگت سے پہلے بھِی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ وہ کوہستانیوں کی طرح لٹیرے یا چلاسیوں کی طرف فسادی نہیں ہیں، بس کبھی زیادہ فرقہ واریت پھیل جائے تو پھر ہی بس روک کر دوسرے فرقے والوں کو مارتے ہیں ورنہ عام طور پر کچھ نہیں کہتے۔ بہت اچھے ہیں‘۔ ہم نے کچھ کچھ پریشان ہو کر پوچھا کہ ’پچھلی بار کب یہ قتل و غارت ہوئی تھی؟‘ کہنے لگا کہ کوئی چھے سال تو ہو گئے ہوں گے، ممکن ہے زیادہ ہوں، مجھے یاد نہیں آ رہا ہے۔ ہاں ہنزہ میں پورا امن سکون ہے۔ وہاں جرم بھی نہیں ہے اور فساد بھی نہیں ہوتا ہے‘۔

رفیق کی زبانی اہل علاقہ کے حالات سن کر ہم نے جلدی جلدی پیسے ادھر ادھر چھپائے، اور افسوس کیا کہ ہم جادوگر یا دیو نہیں ہیں ورنہ اپنی جان بھی لاہور میں ہی کسی طوطے وغیرہ میں چھپا کر آ جاتے۔ ویسے یہ جادوگر اور دیو وغیرہ اپنے جانی طوطے کو بلی سے پتہ نہیں کیسے بچا کر رکھتے ہوں گے۔ برخوردار خان کو ہم نے ہوٹل والے کا بل چکتا کرنے بھیجا اور رفیق سے راستے کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کیں۔

ہم نے پوچھا کہ ’یا رفیق، یہ ہم کتنی دیر میں چلاس پہنچ جائیں گے؟‘ تس پہ وہ مردک بولا کہ ’بس نو دس گھنٹے کا سفر ہے۔ کوئی دو سو کلومیٹر بنتے ہیں‘۔ ہمیں یقین تو نہ آیا مگر پھر یاد آیا کہ ہم نے کلر کہار پر بسوں ٹرکوں کو چڑھائی پر رینگ رینگ کر چلتے ہوئے دیکھا ہے اور شاید یہاں بھی گاڑی چڑھائی پر بہت آہستہ چڑھتی ہو گی۔ ظاہر ہے کہ اس علاقے میں نانگا پربت وغیرہ جیسے اونچے پہاڑ ہیں تو چڑھائی تو خوب ہو گی۔ اپنے قبیلے کو گاڑی میں سوار کیا کہ خاندان بھر کی بیگمات اور ہر سائز کے بچے اس میں شامل تھے، اور روانہ ہوئے۔

پی ٹی ڈی سی موٹل سے بشام شہر پہنچے ہی تھے کہ تین گورے نظر آئے۔ لباس اور سواری سے غریب غربا لگ رہے تھے۔ ہماری طرح گاڑی پر اتنا فاصلہ طے کرنے کی بجائے سائیکلوں پر سوار تھے، اور غالباً سائیکلیں بھی خوب پرانی تھیں کہ ایک خراب ہوئی ہوئی تھی اور بشام بھر کے بچے اور چند مولانا حضرات اس کے ارد گرد کھڑے نہایت دلچسپی سے دیکھ رہے تھے کہ سائیکل کا یہ گورا مستری اسے کیسے ٹھیک کر رہا ہے۔ لیکن پھر غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہاں ایک دکان سے ان گوروں نے پانی کی بوتلیں خریدی تھیں اور سارا مجمع یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ پانی کی بوتل کو سائیکل پر کیسے رکھا جاتا ہے۔

کچھ آگے روانہ ہوئے تو بے شمار بکریوں نے سڑک پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ دائیں طرح کھائی تھی اور نیچے دریا۔ بمشکل انہیں عبور کیا تو ایک آواز آئی ’ابو آپ نے ہوٹل کے ریسپیشن سے اپنا شناختی کارڈ واپس لے لیا تھا ناں؟‘ ہم نے جواب میں برخوردار خان سے جواب طلبی کی، تو اس نے بتایا کہ کیونکہ اسے کہا ہی نہیں گیا تھا تو اس نے کارڈ نہیں لیا۔ رفیق نے تسلی دی کہ ’خیر ہے، خنجراب سے واپسی پر اگلے ہفتے کارڈ واپس لے لیں گے، کہیں نہیں جائے گا‘۔ لیکن ہم طبیعت کے وہمی ہیں۔ واپس بشام گئے اور آدھے گھنٹے بعد اپنا سفر دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

دوبارہ ان بکریوں سے آگے نکلتے ہی ہمیں خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ شاید کوہستانیوں کو ہماری آمد کی اطلاع مل چکی تھی۔ انہوں نے ایک پل پر خیر مقدمی طغرہ لگایا ہوا تھا۔ ’ہم قاری عدنان جے ٹی آئی کو خوش آمدید۔۔۔ حلقہ رانولیہ کوہستان‘۔ قاری؟ ہم نے سوچا کہ شاید یہاں عزت کے لیے ویسے ہی معززین کو قاری کہتے ہوں گے جیسے لاہور میں حاجی صاحب کہتے ہیں، مگر جے ٹی آئی کی ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ کیا بلا ہے۔ بہرحال اپنے لیے یہ خیر مقدمی وال چاکنگ دیکھ کر طبیعت خوش ہو گئی کہ واقعی یہ لوگ مہمان کی خوب قدر کرتے ہیں اور دیدہ و دل فرش راہ کرتے ہیں۔

کچھ آگے چلے تو اوپر قلہ کوہ سے پانی کی ایک دھار عین سڑک پر گرتی دکھائی دی۔ آبشار کے ساتھ ربڑ کے پائپ بھی اونچائی سے آ رہے تھے اور نیچے چند ٹرکوں والے تیز پریشر کا پانی اپنے ٹرکوں پر مار رہے تھے۔ ہم حیران ہوئے کہ ایک کلومیٹر نیچے دریا سے لے کر یہ پانی کس نے اتنے اونچے پہاڑ کے اوپر چڑھایا ہو گا۔ لیکن بہرحال جس نے بھی چڑھایا تھا وہ موٹر بند کرنی بھول چکا تھا کیونکہ ٹینکی اوور فلو کر کے آبشار کی صورت میں پانی نیچے پھینک رہی تھی۔ پورے سفر میں بہت سے مقامات پر ایسی آبشاریں سڑک پر گرتی دکھائی دیں۔ یہ غالباً وہاں کی حکومت کا کیا ہوا انتظام ہو گا۔ بہرحال رفیق نے گاڑی وہاں روکی اور ہمیں مطلع کیا کہ ’گاڑی کو سانس دلانا ہے‘۔

رفیق کو اپنی گاڑی سے اتنا ہی پیار تھا جتنا کہ پرانی داستانوں میں مجاہد ہیرو کو اپنے گھوڑے سے ہوا کرتا تھا۔ گاڑی کی حرارت کی سوئی نارمل ہوتی تھی مگر وہ گاڑی روک کر ہمیں یقین دلاتا تھا کہ گاڑی کو سانس دلانا ضروری ہے۔ شروع میں بچے اس پر حیران ہوئے کہ گاڑی کیسے سانس لے سکتی ہے، پھر پریشان ہوئے، اور آخر میں یہ مذاق بن گیا کہ گاڑی کو سانس دلانا ہے۔ خیر گاڑی کو سانس دلا کر آگے روانہ ہوئے۔

راستے میں دیکھا کہ ایک کھائی کے بیچ میں سے ایک دریا، جسے یہ لوگ نالہ کہتے ہیں، گزر رہا تھا۔ اوپر چند افراد ایک پل بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

بالآخر ہم یہ جان ہی گئے کہ پل کیسے بنتے ہیں۔ کھائی کے دونوں اطراف سے انجینئیر اپنے اپنے حصے کا پل بنانا شروع کر دیتے ہیں، اور درمیان میں جب وہ مل جاتا ہے تو پبلک کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ مگر یہ تحقیق نہ ہو پایا کہ وہ ہوا میں معلق کیسے رہتے ہیں اور پل کے دونوں سرے آپس میں ملنے تک نیچے کیوں نہیں گرتے ہیں۔

Rate this item
(0 votes)

Related items