گلزار…. فلم سے ادب تک

  • Sunday, 10 July 2016 23:15
  • Published in شخصیات
  • Read 431 times
گلزار…. فلم سے ادب تک All images are copyrighted to their respective owners.

تحریر : حیدر قریشی(جرمنی)

گلزار کی شاعری پر بات کرنے سے پہلے میں ان کی شخصیت کے بعض ایسے پہلووں پر بات کرنا چاہوں گا جو مجھے دور سے لیکن صاف صاف دکھائی دئیے ہیں۔ممکن ہے یہ سچ مچ میں ایسے نہ ہوں لیکن مجھے گلزار ایسے ہی دکھائی دئیے ہیں تو ان کے بارے میں مجموعی تاثر بھی اس سارے پس منظر سے بنا ہے۔

گلزارکی شاعری اور شخصیت دونوں میں ایک انوکھی سی کشش ہے۔ہندوستانی فلم انڈسٹری کے ایک ممتازگیت کارجن کے گیتوں کی اپنی لفظیات اور اپنا ذائقہ ہے۔

”ہم نے دیکھی ہے ان آنکھوں کی مہکتی خوشبو“سے لے کر” سُریلی اکھیوں والے….“ تک گلزار کے گیت خود بول اٹھتے ہیں کہ ہم گلزار کی تخلیق ہیں۔ویسے تو گلزار کا شمار ان چند اہم گیت کاروں میں ہوتا ہے جن کے گیتوں میں ایک ادبی شان ہمیشہ سے موجود رہی ہے،تاہم گلزاراپنے نئے بلکہ جدید لب و لہجے کے باعث اپنے گیتوں کی الگ پہچان بھی قائم کرتے ہیں۔میں اپنے بچپن سے گلزار کے فلمی گیت سنتا آرہا ہوں۔میری شعری تربیت میں جہاں بہت سارے عوامل کا اپنا اپنا حصہ شامل ہے،ویسے ہی خوبصورت اور معیاری فلمی شاعری بھی میری شعری تربیت کا ایک سبب بنی ہے۔اور اس خوبصورت اور معیاری فلمی شاعری میں ساحر لدھیانوی کی شاعری ترقی پسند حوالے سے اور گلزار کی شاعری جدید حوالے سے میرے لیے ہمیشہ کشش کا باعث رہی ہے۔ویسے اور بھی بہت سارے پرانے فلمی شعراءکے گیتوں نے مجھے اپنے سحر میں گرفتار رکھا ہے۔گلزار کے انداز سے ملتی جلتی شاعری مجھے دو اور گیت کاروں کے ہاں بھی نمایاں طور پر دکھائی دی ہے۔کمال امروہوی اور جاں نثار اختر کے فلم شنکر حسین اور فلم رضیہ سلطان کے بعض گانے۔جاں نثار اخترہی کا فلم نیلا پربت کا شاہکار گیت۔یہ سب گلزار کے فلمی گیتوں سے ملتے جلتے لگتے ہیں۔بہر حال میںان فلمی شعراءسے جو کچھ بھی سیکھ سکا ہوں،اس کا برملا اقرارکرتے ہوئے مجھے خوشی ہورہی ہے اور ان سارے لوگوں میں ساحر لدھیانوی اور گلزار دو مختلف ذائقوں کے حوالے سے مجھے بہت زیادہ پسند رہے ہیں۔

گیت نگاری سے ہٹ کر فلم میکنگ کے مختلف شعبوں میں گلزار کی کار کردگی میں بھی ایک تخلیقی وفور دکھائی دیتا ہے۔”ہوتوتو“جیسی تجرباتی اور” چپکے چپکے“ جیسی پاپولر سماجی فلموں سے لے کر”آندھی“ اور” موسم“ جیسی شاہکار فلموں تک گلزار کے تخلیقی وفور کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ ”آندھی“ اور” موسم“ کو تو بحیثیت فلم ڈائریکٹرگلزار کی پہچان قرار دیا جا سکتا ہے۔دونوں فلموں کے گیت اپنی اپنی جگہ خوبصورت ہیں،لیکن فلم” موسم “کے دو گیتوں نے تو ایک عرصہ تک مجھے اپنے سحرمیں گرفتار رکھا ہے۔

چاکلیٹی ہیروشمی کپورپر فلمایا گیاشوخ گیت ”لال چھڑی میدان کھڑی“ایک عمر کے نوجوانوں کے لحاظ سے،اُس عمر میں مجھے بھی اچھا لگتا رہا ہے۔لیکن جب گلزار کی فلم ”موسم“میں ”چھڑی رے چھڑی کیسی گلے میں پڑی“کو سنا اور دیکھا تو شمی کپور کی چھڑی بھول گئی۔

چھڑی رے چھڑی کیسی گلے میں پڑی

پیروں کی بیڑی،کبھی لگے ہتھکڑی

سیدھے سیدھے راستوں کوتھوڑا سا موڑ دے دو

بے جوڑ روحوں کو ہلکا سا جوڑ دے دو

جوڑ دو نہ ٹوٹ جائے سانسوں کی لڑی

چھڑی رے چھڑی کیسی گلے میں پڑی

لگتا ہے سانسوں میں ٹوٹا ہے کانچ کوئی

چبھتی ہے سینے میں بھینی سی آنچ کوئی

آنچل سے باندھ لی ہے آگ کی لڑی

چھڑی رے چھڑی کیسی گلے میں پڑی

اس گیت کی لفظیات صرف گلزار جیسے شاعر سے ہی تخلیق کا روپ دھار سکتی تھی۔گیت کی پکچرائزیشن بجائے خود گلزارکا تخلیقی کمال ہے۔گیت کے آخر میں ہیرو ،ہیروئن چھڑی کو ایک دوسرے سے چھین رہے ہیں۔اسی چھینا جھپٹی میں ہیروئن چھڑی چھین کر دور پھینک دیتی ہے۔ہیرو چھڑی کو اُٹھانے کے لیے جھکتا ہے اور جب چھڑی کو اُٹھا کر سیدھا کھڑا ہوتا ہے تو اس کی جوانی کی عمر کے بیس سال گزر چکے ہوتے ہیں۔سیاہ بال سفید ی میں ڈھل رہے ہوتے ہیں۔یہاں گلزار فلیش بیک کی تیکنیک کو میکانکی انداز سے نہیں بلکہ واقعتاََایک باکمال تخلیق کار کے تخلیقی انداز سے بروئے کار لائے ہیں اور جوانی اور بڑھاپے کے دونوں زمانوں کو یکجا کر دیا ہے۔

اسی فلم میں گائی گئی ایک غزل،اپنی سچوئیشن کے پس منظرسے ایسے ابھرتی ہے کہ جیسے دل کو مٹھی میں لے لیتی ہے۔

رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے

قرار لے کے تیرے در سے بے قرار چلے

صبح نہ آئی کئی بار نیند سے جاگے

تھی ایک رات کی یہ زندگی،گزار چلے

(گلزار کے شعری مجموعہ میں غزل کا یہ شعر یوں درج ہے:

سحر نہ آئی کئی بار نیند سے جاگے تھی رات رات کی یہ زندگی گزار چلے)

فلم موسم اور آندھی کے گیتوں کی تفصیل میں جانے لگوں تو شاید ایک الگ مضمون بن جائے ۔لیکن صرف ان دو گیتوں پر اکتفا کرتا ہوں۔گلزار کاایک شاندار کام مرزاغالب کی ٹی وی سیریل ہے۔غالب پر فلموں اور ڈراموںمیں تھوڑا بہت کام ہوتا رہا ہے۔لیکن گلزار کا کام پہلے سارے کام سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔یہ گلزار کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں غالب پر اس نوعیت کا کام کرنے کا موقعہ ملا اور غالب کی بھی خوش قسمتی ہے کہ ایک زمانے کے بعد انہیں گلزار جیسے تخلیق کار نے ایک ٹی وی سیریل میں متحرک کر دیا۔

گلزار کی شخصیت میں مجھے ہمیشہ ایک انوکھی کشش دکھائی دی ہے۔ان کا اپنا سراپامحبوبانہ ہے۔انہیں مینا کماری(مہ جبیں) سے محبت ہوئی لیکن ان سے شادی نہ ہو سکی ۔

ہم تو کتنوں کو مہ جبیں کہتے

آپ ہیں اس لیے نہیں کہتے

میرا خیال ہے کہ میناکماری کی محبت ہی گلزارکو راکھی تک لائی۔راکھی کو براہ راست دیکھا جائے تو ایک خوبصورت اور بھرپور ہیروئن ہیں۔بلیوں جیسی آنکھوں،بھرے ہوئے جسم اور گورے چٹے رنگ کے باعث وہ بلا شبہ خوبصورت ہیروئنوں میں شمار کی جا سکتی ہیں۔لیکن جب بندہ مینا کماری کی محبت کا اسیر ہو تو پھرمینا کماری جیسا’ مہاندرا‘ رکھنے کے باوجود مینا کماری کی ملاحت کے جادو کے سامنے سب کچھ ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔(بعض لوگ اسی لیے عشق ،محبت کو حماقت بھی کہتے ہیں) سو گلزار ،مینا کماری کے سحر سے کبھی نہیں نکل سکے۔میری معلومات کے مطابق مینا کماری نوبل انعام یافتہ بنگالی کے مشہورشاعر اور دانشوررابندر ناتھ ٹیگورکی پڑ نواسی تھیں۔ (اس کا ایک اشارہ وکی پیڈیا پرمینا کماری کے صفحہ پر ملتا ہے،جبکہ ٹیگور کے صفحہ پران کے پانچ بچوں کا ذکر ملنا مگر ان کے نام درج نہ کیے جانا،محققین کے لیے ایک نئی تحقیق کا موجب بن سکتا ہے)بہر حال مینا کماری کوشاعرانہ مزاج اپنے پڑ نانا سے ورثہ میں ملا تھا۔ انہوں نے تھوڑی بہت شاعری کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی شعری صلاحیتیں پالش نہ ہو سکیں۔شاید فلمی دنیا کی مصروفیات نے انہیں اس طرف زیادہ توجہ کرنے کی مہلت نہیں دی۔خود گلزار بھی اتنا وقت نہ نکال پائے کہ مینا کماری شاعرہ کے طور پر کوئی نمایاں کام کر جاتیں۔ہر بندے کے دل کے معاملات کی اپنی نوعیت ہوتی ہے۔مینا کماری اور راکھی دونوں کی اہمیت کے باوجود مجھے گلزار ان دونوں کے مقابلہ میں زیادہ خوبصورت لگے ہیں۔میں یہاں مرد اور عورت کی تفریق والی خوبصورتی کی بات نہیں کر رہا،بلکہ عمومی انسانی خوبصورتی کی بات کر رہا ہوں۔

اس وقت گلزار کی شاعری کی چھ کتابیں میرے پاس ہیں۔”رات پشمینے کی“(شاعری۔۲۰۰۲ء۔مطبوعہ۔ پاکستان)،”پندرہ پانچ پچھتر“(نظمیں۔۲۰۱۰ء۔انڈیا) ، ”تروینی“(۲۰۱۲ء۔پاکستان)،”کچھ اور نظمیں“(۲۰۱۲ء۔پاکستان)،’ ’گلزار ۔ نظمیں، غزلیں، گیت، تروینی“ (۲۰۱۴ء۔ پاکستان )،”پلوٹو“(نظمیں۔۲۰۱۴ء۔مطبوعہ انڈیا)،

یہ ساری کتابیں گلزارصاحب نے بمبئی سے عنایت کی تھیں۔میں ان سب کو پڑھ چکا ہوں اور گلزار کی شاعری سے لبالب بھرا ہوا ہوں۔گلزار کی نظمیں ہوں،یا غزلیں،گیت ہوں یا تروینی کا تجربہ،سب میں گلزارکا مخصوص رنگ جھلکتا ہے۔

گلزار کی نظمیں اپنی مقدار کے لحاظ سے ان کی باقی ساری شاعری پر حاوی ہیں،اس لحاظ سے ان کی نظمیں باقی اصناف پر تھوڑی سی فوقیت رکھتی ہیں۔اس لیے میں ترتیب کے مطابق پہلے گلزار کی نظموں کا مطالعہ کرنا چاہوں گا۔گلزار کی نظموں میں موضوعاتی تنوع ہے۔محبت کا موضوع اپنے آپ میں بے حد وسیع ہے۔لیکن اس سے ہٹ کر بھی گلزار نے مقامی سے لے کر بین الاقوامی سیاست تک کیے جانے والے فریب کو بھی اپنا موضوع بنایا ہے اور اس کے نتیجہ میں ہونے والے فسادات سے لے کر عالمی خونریزی تک کتنے ہی مناظر دکھا کر انسانی المیوں کو اجاگر کیا ہے۔اپنی بہت ہی نجی دنیا سے لے کر فلمی دنیا اور ادبی دنیاتک کی کئی اہم شخصیات سے اپنے تعلقِ خاطرکو اپنی نظموں کے ذریعے بیان کیا ہے۔

اپنی دھرتی کے مختلف خوبصورت مناظر سے لے کر دنیا بھر میں جہاںجہاں کی سیاحت کی وہاں تک کے خوبصورت مقامات کی بھی اپنی نظموںمیں عمدگی کے ساتھ تصویر کشی کی ہے۔

روزانہ کے معمولاتِ زندگی سے لے کرزندگی کے فلسفیانہ افکارتک کو اپنا موضوع بنایا ہے۔کائناتی وسعتوں کو حیرت کے ساتھ دیکھتے ہیں مگراس کے کسی خالق کی ہستی ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔اس کے باوجود کہیں کہیں نظموں میں سجدہ کرتے یا سجدے سے سراُٹھاتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔اپنے ماضی کو اور جنم بھومی دینہ کو مسلسل یاد کرتے ہیں اور کرتے ہی رہتے ہیں۔یہ گلزارکی نظموں کے موضوعات کے حوالے سے انتہائی اختصار کے ساتھ میرامجموعی تاثر ہے۔

جس طرح اپنی جنم بھومی دینہ کے معاملہ میں گلزار بہت زیادہ جذباتی ہیں، ویسے ہی اپنے گزرے ہوئے زمانے کے معاملہ میں بھی حساس ہیں۔ اپنی عمر کے گزر چکے وقت اور گزرتے جاتے وقت کے حوالے سے گلزار کی چند نظموں کی مختلف کیفیات دیکھیں۔

٭٭٭میں اڑتے ہوئے پنچھیوں کو ڈراتا ہوا کچلتا ہوا گھاس کی کلغیاں گراتا ہوا گردنیں ان درختوں کی، چھپتا ہواجن کے پیچھے سےنکلا چلا جا رہا تھا وہ سورج۔ ۔ ۔ ۔ تعاقب میں تھا اس کے میں! گرفتار کرنے گیا تھا اسےجو لے کے مِری عمر کا ایک دن بھاگتا جا رہا تھا(وقت۔ ۱)

 ٭٭٭شیشم اب تک سہما سا چپ چاپ کھڑا ہےبھیگا بھیگا، ٹھٹھرا ٹھٹھرا بوندیں پتّہ پتّہ کرکےٹپ ٹپ کرتی ٹوٹتی ہیں تو سسکی کی آواز آتی ہے بارش کے جانے کے بعد بھی دیر تلک ٹپکا رہتا ہےتم کو چھوڑے دیر ہوئی ہےآنسو اب تک ٹوٹ رہے ہیں(آنسو۔ ۳)

 ٭٭٭منہ ہی منہ کچھ بڑ بڑکرتا، بہتا ہے یہ بڈھا دریا پیٹ کا پانی دھیرے دھیرے سوکھ رہا ہےدبلا دبلا رہتا ہے اب کود کے گرتا تھا یہ جس پتھر سے پہلےوہ پتھر اب دھیرے سے لٹکا کے اس کواگلے پتھر سے کہتا ہےاس بڈھے کو ہاتھ پکڑ کے پار کرا دے(بڈھا دریا۔ ۳)

عمرِ رواں کے رنگ دیکھتے ہوئے اور ان رنگوں میں گھلتے ہوئے گلزاروقت کو ایک اور انداز سے دیکھنے لگتے ہیں:

٭٭٭منو اکثرپوچھتی ہے دائی ماں سے۔ ۔ ۔ ۔ ”ماں! کھلونے بھی بڑے ہوتےانہیں بھی عمر لگ جاتی۔ ۔ ۔ ۔ تو کیا ہوتا؟“ (کھلونے)

٭٭٭ہم نے دیکھا تھا بہت دیر تلک ڈوبتے سورج کی طرف اور جب چلتے ہوئے ہاتھ ملایا تھا، کہا تھا اس نےتم نے وعدہ تو کیا ہے کہ یہیں کل بھی ملو گےاور مجھ سے بھی کہا ہے کہ گواہی دینامیں نہیں آؤں گا، کل دوسرا سورج ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے دیکھا تھا بہت دور تلک ڈوبتے سورج کی طرف دوسرے دن بھی مگر دیکھ کے ہم کو، وہ ہنسا کیوں تھا؟ (ہم نے دیکھا تھا بہت دیر تلک )

گلزار نے اپنے خون کے رشتوں میں سے اپنے”ابو“اور بیٹی”بوسکی“ (میگھنا) کو خاص اہمیت دی ہے۔ اسے میں یوں دیکھتا ہوں جیسے وہ ماضی کی گہری یادوں کے باوجود اپنے مستقبل کو بھی دیکھنے لگے ہیں۔ ہجرت کی داستان بیان کرتے ہوئے ماں اور بہن کا ذکر آتا ہے تاہم بیوی کا ذکر براہِ راست دکھائی نہیں دیتا۔ میرا قیاس ہے کہ گلزار کی محبت کی شاعری کا بیشتر حصہ یا ایک بڑا حصہ اپنی بیوی کے لیے ہے۔ ہجر اور وصال کی متعدد کیفیات اس کی گوہی دیتی ہیں کہ یہ تو بیوی سے محبت یا جھگڑے کی بات ہو رہی ہے۔ مثلاَ یہ نظم دیکھیں:

٭٭٭رات بھر ایسے لڑی جیسے کہ دشمن ہو مِری! آگ کی لپٹوں سے جھلسایا، کبھی تیروں سے چھیدا جسم پر دُکھتی ہیں ناخونوں کی مرچیلی کھرونچیںاور سینے پہ مِرے، داغی ہوئی دانتوں کی مُہریںرات بھر ایسے لڑیں جیسے کہ دشمن ہو مِری!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھنبھناہٹ بھی نہیں صبح سے گھر میں اس کی میرے بچوں میں گھری بیٹھی ہےاپنی ممتا سے بھرا شہد کا چھتّا لے کر!!(رات بھر ایسے لڑی جیسے کہ دشمن ہو مِری!)

میاں بیوی کی محبت اور جھگڑوں میں الجھی ہوئی زندگی کی مزید روداد ان چار نظموں سے بخوبی عیاں ہورہی ہے۔ یہ نظمیں بیک وقت خوبصورت بھی ہیں اور اداس کرنے والی بھی ہیں۔

٭٭٭ہے سوندھی تُرش سی خوشبودھوئیں میں ابھی کاٹی ہے جنگل سےکسی نے گیلی سی لکڑی جلائی ہےتمہارے جسم سے سرسبزگیلے پیڑ کی خوشبو نکلتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گھنیرے کالے جنگل میںکسی دریا کی آہٹ سُن رہا ہوں میں کوئی چپ چاپ چوری سے نکل کے جا رہا ہےکبھی تم نیند میں کروٹ بدلتی ہو تو بل پڑتا ہے دریا میں۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری آنکھ میں پرواز دِکھتی ہے پرندوں کی تمہارے قد سے اکثر آبشاروں کی بلندی یاد آتی ہے(ہے سوندھی تُرش سی خوشبو۔ ۔ ۔ )

٭٭٭وہ شب جس کو تم نے گلے سے لگا کرمقدس لبوں کی حَسیں لوریوں میں سُلایا تھا سینے پہ ہر روزلمبی کہانی سنا کر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ شب جس کی عادت بگاڑی تھی تم نےوہ شب آج بستر پہ اوندھی پڑی رو رہی ہے(وہ شب جس کو تم نے گلے سے لگا کر)

٭٭٭میں اپنے گھر میں ہی اجنبی ہو گیا ہوں آکرمجھے یہاں دیکھ کر مِری روح ڈر گئی ہےدبک کے سب آرزوئیں کونوں میں جا چھپی ہیںلویں بجھا دی ہیں اپنے چہروں کی حسرتوں نےکہ شوق پہچانتا نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ مُرادیں دہلیز پر ہی سر رکھ کے مر گئی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں کس وطن کو تلاش کرنے چلا تھا گھر سےکہ اپنے گھر میں بھی اجنبی ہو گیا ہوں آکر(میں اپنے گھر میں ہی اجنبی ۔ ۔ ۔ ۔ )

٭٭٭مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہے!اکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بُنتےجب کوئی تاگا ٹوٹ گیا یا ختم ہوا پھر سے باندھ کےاور سرا کوئی جوڑ کے اس میں آگے بُننے لگتے ہو تیرے اس تانے میں لیکن ایک بھی گانٹھ گرہ بُنترکی دیکھ نہیں سکتا ہے کوئی میں نے تو اک بار بُنا تھا ایک ہی رشتہ لیکن اس کی ساری گرہیں صاف نظر آتی ہیں میرے یار جلاہے!(مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہے!)

میں بار بار بیوی سے محبت اور جھگڑے کی بات کر رہا ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ گلزار کی زندگی میں اور کوئی محبت نہیں ہے۔ گلزار کسی محلے کے عام نوجوان بھی ہوتے تو اپنے محلے کی کئی لڑکیوں کے ہیرو ہوتے۔ پھر ان کی عمر کا بڑا حصہ تو بالی ووڈ کی چمک دمک والی زندگی میں گزرا ہے۔ سو ان کی زندگی میں ایک نہیں مختلف نوعیت کی کئی محبتیں آئی ہوں گی۔ مجھے لگتا ہے کہ وصال کی سرشاری کے باوجود گلزارہجرکی لذت میں زیادہ گم رہتے ہیں۔ وصال صرف یاد کرتے رہنے کا ایک جوا زہوتا ہے، پگھلنے کا سامان کرتا ہے۔ باقی اصل مزہ ہجر میں ہی آتا ہے۔

٭٭٭یاد ہے اک دن میرے میز پہ بیٹھے بیٹھےسگریٹ کی ڈبیہ پر تم نےچھوٹے سے اک پودے کاایک اسکیچ بنایا تھاآکر دیکھواس پودے پر پھول آیا ہے(سکیچ)

٭٭٭میں اپنے بزنس کے سلسلے میں کبھی کبھی اس کے شہر جاتا ہوں تو گزرتا ہوں اُس گلی سےوہ نیم تاریک سی گلی اور اسی کے نکڑ پہ اونگھتا سا پرانا کھمبا اسی کے نیچے تمام شب انتظار کرکےمیں چھوڑ آیا تھا شہر اس کا۔ ۔ ۔ بہت ہی خستہ سی روشنی کے عصا کو ٹیکےوہ کھمبا اب بھی وہیں کھڑا ہے! فتورہے یہ، مگر میں کھمبے کے پاس جا کرنظر بچا کے محلّے والوں کی پوچھ لیتا ہوں آج بھی یہ وہ میرے جانے کے بعد بھی، آئی تو نہیں تھی؟(وہی گلی تھی۔ ۔ ۔ )

٭٭٭سبھی دھندلا گیا پھر سےاندھیرا پھر سے بہنے لگ گیا ہے پگھل کر پھر کوئی شے بہہ رہی ہےٹپکتا جا رہا ہے قطرہ قطرہ کوئی چہرہسبھی کچھ تیرتا ہے اور پھر کچھ دیر میں سب ڈوب جاتا ہے۔ ۔ ۔ مِری آنکھوں میں شاید پھر سے آنسو بھر گئے ہیں!(سبھی دھندلا گیا پھر سے!)

ایک شاعر کی حیثیت سے گلزار کو کبھی خیال اور الفاظ کے چناؤ کی کشمکش میں نظم کی تخلیق کا عمل دُکھی کرنے لگا تو ان سے یہ نظم تخلیق ہو گئی:

٭٭٭ایک خیال کوکاغذ پر دفنایا تواک نظم نے آنکھیں کھول کے دیکھا ڈھیروں لفظوں کے نیچے وہ دبی ہوئی تھی!۔ ۔ سہمی سی، اک مدھم سی، آواز کی بھاپاُڑی کانوں تک کیوں اتنے لفظوں میں مجھ کو چنتے ہو؟باہیں کس دی ہیں مصرعوں کی تشبیہوں کے پردے میں ہر جنبش تہ کر دیتے ہو!۔ ۔ اتنی اینٹیں لگتی ہیں کیا ایک خیال دفنانے میں؟(ایک خیال کو۔ ۔ )

جس شاعر کو اپنے تخلیقی عمل کے دوران خیال اور الفاظ کے چناؤ  کی کشمکش اتنا مضطرب کر رہی ہو، اسے نقادوں کے ہاتھوں اپنی نظموں کا تجزیہ کیسا لگے گا؟اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اندازہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے گلزار نے سکہ بند نقادوں کی طرف سے نظموں کے کھوکھلے تجزیوں پر اپنی رائے ایک نظم میں یوں بیان کر دی ہے۔

٭٭٭نظم کا تجزیہ کرتے کرتے، پورا گلاب ہی چھیل دیا مصرعے الگ ، الفاظ الگ ڈنٹھل سا بچا، نہ کھانے کو، نہ سونگھنے کو!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خوشبو کچھ ہاتھ پہ مسلی گئی کچھ مٹی میں گر کے گرد ہوئی نظم پڑھوں تو وہ بھی اب خالی برتن سی بجتی ہے!!(نظم کا تجزیہ کرتے کرتے۔ ۔ ۔ ۔ )

اپنے شعری مجموعہ”پلوٹو“کے شروع میں گلزار لکھتے ہیں:

”پلوٹو: پلوٹو سے پلینیٹ کا رتبہ تو حال ہی میں چھنا ہے، سائنسدانوں نے کہہ دیا:”جاؤ ۔ ۔ ۔ ہم تمہیں اپنے نو گِرہوں میں نہیں گنتے۔ ۔ ۔ ۔ تم پلینیٹ نہیں ہو! “میرا رُتبہ تو بہت پہلے چھن گیا تھا، جب گھر والوں نے کہہ دیا:”بزنس فیملی میں یہ ’میراثی‘کہاں سے آگیا!“خاموشی کہتی تھی۔ تم ہم میں سے نہیں ہو!اب’ پلوٹو‘کی اداسی دیکھ کر، میرا جی بیٹھ جاتا ہے۔ بہت دور ہے۔ ۔ ۔ ۔ بہت چھوٹا ہے۔ ۔ ۔ میرے پاسجتنی چھوٹی چھوٹی نظمیں تھیں۔ سب اس کے نام کر دیں۔ بہت سے لمحے چھوٹے، بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ اکثر کھوجاتے ہیں۔ مجھے شوق ہے انہیں جمع کرنےکا۔ موضوع کے اعتبار سے، اس مجموعے میں بہت سی نظمیں غیر روایتی ہیں۔ ۔ ۔ لیکن ۔ ۔ ۔ وہ کیا بری بات ہے؟ گلزار“

لیکن مجھے اس مجموعہ میں پلوٹو کے بارے میں کوئی نظم نہیں ملی۔ البتہ ان کے ایک اور شعری مجموعہ”پندرہ پانچ پچھتر“میں پلوٹو کے عنوان سے یہ ایک نظم ملتی ہے:

٭٭٭سینکڑوں بار گنے تھے میں نےجیب میں نو ہی کنچے تھےایک جیب سے دوسری جیب میں رکھتے رکھتےاک کنچہ کھو بیٹھا ہوں نہ ہارا نہ گرا کہیں پر’پلوٹو‘میرے آسمان سے غائب ہے۔ (سینکڑوں بار گنے تھے میں نے)

تاج محل کے حوالے سے ساحر لدھیانوی کے بعد کوئی نئی نظم لکھنا اچھا خاصا آزمائش کا بلکہ ابتلا کا مقام بن سکتا ہے۔ ساحرلدھیانوی نے اس موضوع کو مس کیا تو ترقی پسند گھن گرج کے ساتھ خون کو گرما دینے والی نظم لکھ ڈالی۔ گلزار نے تاج محل کوجدید لب و لہجے میں پانی پہ رکھا ہوا آنسو بنا دیا ہے۔ کوئی غم و غصہ نہیں، کوئی نعرہ نہیں (غم و غصہ اور نعرہ کی گونج کے باوجود ساحر لدھیانوی کی نظم شاندار فن پارہ ہے)، بس ایک اداس سی کیفیت ہے جس میں قاری اپنی یادوں کے ساتھ مزید اداس ہوتاچلا جاتا ہے۔

٭٭٭تاج ایک لَے ہے ، ڈولتی ہوئی تاج”سم“ ہے درد کا چاندنی میں ایک بلبلہ سا تیرتا ہوانیلی کانچ رات میں۔ ۔ ۔ کسی نے اک خیال رکھ دیا ہے یہ تاج استعارہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پانی پر رکھا ہوایہ صرف ایک آنسو ہےایک اداس یاد ہے(تاج محل)

صندل چندن کے بارے میں میری معلومات زیادہ نہیں ہے۔ بچپن میں صندل کا شربت پینا یاد ہے۔ ایک بار ایک کوٹھی میں جانا ہوا تھا تواس کے چندن کے دروازوں کی خوشبو سے گزرتا ہوا اندرپہنچا تھا۔ یہاں جرمنی میں صندل کی خوشبو بھی کبھی کبھار استعمال کی ہے۔ گیتوں کی حد تک ”چندن سا بدن، چنچل چتون“بہت اچھا گانا لگتا ہے۔ اپنے ادبی معرکوں کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے میں نے ایک غزل کہی تھی

جب اس نے خاک اُڑانے کا ارادہ کر لیا ہے      تو ہم نے دل کے صحرا کو کشادہ کر لیا ہے

نہیں، اس جیسی عیّاری تو ممکن ہی نہیں تھی     زمانے سے ذرا بس استفادہ کر لیا ہے

چلو حیدر غنیمت ہے یہ صندل کی مہک بھی      کہ یاروں نے تو لکڑی کا برادہ کر لیا ہے

معرکوں کے مختلف مراحل کی تفصیل میں جانے کا یہ محل نہیں ہے لیکن ان تین اشعار سے تین مختلف مقامات کا اندازہ ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اپنا معاملہ صندل کی لکڑی کے برادے والا رہا ہے۔ اس تمہید طولانی کا مقصد در اصل گلزار کی اس مختصر نظم تک لانا تھا:

٭٭٭اُس کے گیٹ پہ ’چندن‘کا اک پیڑ کھڑا ہےجب بھی اس کے گیٹ میں داخل ہوتا ہوںاک شاخ اُوپر سے جھک کر آنکھ پہ آجاتی ہےجتنی بار ہٹایا ہےکان پہ ایک خراش بچی ہےچندن کے بدن میں خوشبو ہےچندن پر پھول نہیں آتے!!(اُس کے گیٹ پہ ۔۔۔)

مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ چندن کے درخت پر پھول نہیں آتے،البتہ چندن کا پورا درخت مہکتا ہے۔

گلزار کی تین نظمیں ایک ساتھ پیش کرتا ہوں۔ یہ نظمیں الگ الگ ہوتے ہوئے بھی جیسے زندگی کی داستان کو مربوط کرکے بیان کرر ہی ہیں۔

٭٭٭ٹہنی پر بیٹھا تھا وہ۔۔۔!نیچے تھا تالاب کا پانی،اور،تالاب کے اندرآسمان تھاڈوبنے سے ڈر لگتا تھانہ تَیرا،نہ اُڑا،نہ ڈوباٹہنی پر ہی بیٹھے بیٹھے بالآخر وہ سوکھ گیا!

ایک اکیلی شاخ کا پتّہ(ٹہنی پر بیٹھا تھا وہ۔۔۔۔)

٭٭٭پانی کی عادت ہے بہنا،بہتے رہنا۔۔۔۔۔۔پَیر نہیں ٹکتے دریا کےدوڑ دوڑ کے چٹّانوں سےجھرنے کودتے رہتے ہیںآبشار پہاڑ پکڑ کے نیچے اترتا ہےتھک جاتا ہے دوڑتے بھاگتے بہتا پانیجھیل میں جا کر نیند آتی ہے پانی کو!!(پانی کی عادت ہے بہنا۔۔۔)

٭٭٭مجھے مرا جسم چھوڑ کر بہہ گیا ندی میں!ابھی اسی دن کی بات ہے میں نہانے اترا تھا گھاٹ پر جب ٹھٹھر رہا تھا۔۔ وہ چھو کے پانی کی سرد تہذیب ڈر گیا تھا۔۔۔۔میں سوچتا تھا بغیر میرے وہ کیسے کاٹے گا تیز دھاراوہ بہتے پانی کی بے رُخی جانتا نہیں ہے وہ ڈوب جائے گا۔ سوچتا تھا!۔۔۔۔۔اب اُس کنارے پہنچ کے مجھ کو بلا رہا ہے میں اِس کنارے پہ ڈوبتا جا رہا ہوں پیہم میں کیسے تیروں بغیر اس کے! ۔۔۔۔ مجھے مرا جسم چھوڑ کر بہہ گیا ندی میں!! (مجھے مرا جسم چھوڑ کر بہہ گیا ندی میں)

اردو شاعری میں ترقی پسندوں کی انقلابی شاعری کا اپنا ایک مقام ہے اور اس تحریک کے شروع ہونے سے کہیں پہلے علامہ اقبال نے بھی غریبوں کے حق میں کلمہ انقلاب بلند کیا تھا۔

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روٹی اُس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

لیکن تمام تر انقلابی نعروں کے باوجود زمینی حقائق کیا کہتے ہیں۔ گلزار کی دو نظموں میں دیکھئے۔ ایک نظم میں اقبال کے حوالے سے جب کہ دوسری نظم میں فیض کے حوالے سے نئی صورت ِحال بتائی گئی ہے۔

٭٭٭ذرا علامہ کو کوئی خبر کر دےکہ جن کھیتوں سے دہقاں کو میسر نہ ہوئی روٹی کسی نے کھیت میں جا کر جلایا بھی نہیں گندم کے خوشوں کو۔۔۔ کہیں کوئی نہیں اُٹھا، نہ کوئی انقلاب آیا۔۔۔۔جنازے اُٹھ رہے ہیں گاوں گاوں سے یہ سب کے سب جنازے ہیں کسانوں کےجنہوں نے قرض کی مٹی چبا کر خوشی کر لی (ذرا علامہ کو کوئی خبر کر دے )

٭٭٭قفس اُداس ہے یارو۔۔!ہری مرچی کا اک ٹکڑا پڑا ہےکٹوری پانی کی خالی ہے، اوندھی ہو گئی تھی پرندہ جا چکا کب کا، قفس میں کچھ نہیں ہے!!(قفس اُداس ہے یارو)

ایک اور نظم میں گلزار نے انقلاب ے سے بڑے پتے کی بات کی ہے۔

٭٭٭سلاخوں کے پیچھے پڑے انقلابی کی آنکھوں میں بھیراکھ اُترنے لگی ہے!دہکتا ہوا کوئلہ دیر تک جب نہ پھونکا گیا ہوتو شعلے کی آنکھوں میں بھیموتیے کی سفیدی اتر آتی ہے(راکھ)

اپنے تمام ترجدید لب و لہجے کے باوجود گلزار کے اندر بھی ایک چھوٹا سا انقلابی کہیں نہ کہیں موجود ہے،یہ انقلابی کہیں ترقی پسندوں کے انداز میں اور کہیں علامہ اقبال کی بات سے ملتے جلتے ہوئے الفاظ میں بات کہنا چاہتا ہے لیکن شاید زیادہ ہمت نہیں رکھتا، اس لیے اپنے غصہ کا اظہار کرکے رہ جاتا ہے تاہم برہمی کا ایسا اظہار بھی اپنی جگہ کچھ نہ کچھ اہمیت رکھتا ہے۔ان دو نظموں سے میری بات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے

٭٭٭کہیں جانا نہیں ہے،بس یونہی سڑکوں پہ گھومیں گے کہیں پر توڑیں گے سگنل کسی کی راہ روکیں گےکوئی چلّا کے گالی دے گا کوئی ’ہورن‘بجائے گا!۔۔۔۔ ذرا احساس تو ہوگا کہ زندہ ہیں ہماری کوئی ہستی ہے!!(کہیں جانا نہیں ہے۔۔۔)

٭٭٭میں سگریٹ تو نہیں پیتا۔۔۔۔ مگر ہر آنے والے سے بس اتنا پوچھ لیتا ہوںکہ”ماچس ہے؟“بہت کچھ ہے جسے میں پھونک دینا چاہتا ہوں مگر ہمت نہیں ہوتی!(میں سگریٹ تو نہیں پیتا۔۔۔۔)

خالقِ کائنات کے بارے میں گلزار کے تصورات کو میں ان کے عقیدہ کی آزادی کا حق سمجھتا ہوں، لیکن گلزار کی ایسی نظموں کو پڑھتے ہوئے مجھے کئی بار یہ خیال آیا ہے کہ اپنے عقائد اور تصورات کے ساتھ گلزار نے”او مائی گاڈ!“جیسی کوئی فلم کیوں نہیں بنائی؟ مجھے گلزار کی اس موضوع پر لکھی گئی ساری نظموں سے زیادہ ”او مائی گاڈ!“جیسی فلم زیادہ دلچسپ اور بڑی تخلیق محسوس ہوتی ہے۔ خدا کرے کہ صحت اجازت دے اور گلزار ہمت سے کام لیں تواس موضوع کی بنیاد پر ابھی بھی ایک نئی فلم بنا ڈالیں۔

گلزاراپنی نظموں میں اپنی جنم بھومی دینہ کی یاد میں ایک عمرنہیں، ساری عمریں گزار دیتے ہیں۔ جنم بھومی کی اتنی شدید یاد گلزارکے اندر کا دراوڑی رویہ ہے۔ جنم بھومی سے نکالے گئے،ابوکی ناراضی کے باعث گھر سے نکالے گئے، لیکن دینہ کی یاد ہو یا ابو کی یاد دونوں ہی گلزار کے اندر دھونی رما کر بیٹھی ہوئی ہیں۔ وہ اپنے حال سے گزرتے ہوئے ماضی کی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہاں بوسکی کی صورت میں انہیں یادوں کے سحر سے نکل کرمستقبل کی طرف جانے کے لیے مواقع ملتے رہے ہیں۔گلزار کو بھی اس کا ادراک ہے۔

اس ادراک کی ایک جھلک اس نظم میں دیکھئے:

٭٭٭ابھی نہ پردہ گراو ٹھہرو،کہ داستاں آگے اور بھی ہے ابھی نہ پردہ گراو ٹھہرو۔۔۔ ابھی تو ٹوٹی ہے کچی مٹی، ابھی تو بس جسم ہی گرے ہیں ابھی تو کردار ہی بجھے ہیں ابھی سلگتے ہیں روح کے غم ابھی دھڑکتے ہیں درد دل کےابھی تو احساس جی رہا ہےیہ لَو بچا لو،جو تھک کے کردار کی ہتھیلی سے گر پڑی ہے یہ لَو بچا لو، یہیں سے اُٹھے گی جستجو پھر بگولا بن کریہیں سے اُٹھے گا کوئی کردارپھر اسی روشنی کو لے کرکہیں تو انجام و جستجو کے سرے ملیں گےابھی نہ پردہ گراو ٹھہرو!(ابھی نہ پردہ گراو ۔۔۔)

عام طور پر جو شعراء نظم اور غزل دونوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں،ان کی نظموں پر بھی غزلیہ انداز تھوڑا بہت حاوی ہوجاتا ہے۔ لیکن گلزار کی نظمیں اتنی بھرپور ہیں کہ ان کی غزلوں پر بھی نظمیت سی چھائی ہوئی ملتی ہے۔تاہم جہاں کہیں وہ نظمیت کے اثر سے باہر آتے ہیں، ان کی غزلیں ایک نئی چھب کے ساتھ دکھائی دینے لگتی ہیں۔ان کی غزل کے اس نوعیت کے چند خوبصورت اشعار یہاں پیش کررہا ہوں۔

کائی سی جم گئی ہے آنکھوں پر سارا منظر ہرا سا رہتا ہے

جسم اور جاں ٹٹول کر دیکھیں یہ پٹاری بھی کھول کر دیکھیں

کوئی اٹکا ہوا ہے پل شاید وقت میں پڑ گیا ہے بل شاید

خون نکلے تو زخم لگتی ہے ورنہ ہر چوٹ نظم لگتی ہے

پھول نے ٹہنی سے اُڑنے کی کوشش کی اک تتلی کا دل رکھنے کی کوشش کی

کتنی لمبی خاموشی سے گزرا ہوں ان سے کتنا کچھ کہنے کی کوشش کی

جانے کس کا ذکر ہے اس افسانے میں درد مزے لیتا ہے جو دوہرانے میں

صبر ہر بار اختیار کیا ہم سے ہوتا نہیں،ہزار کیا

عادتاََ تم نے کر دئےے وعدے عادتاََ ہم نے اعتبار کیا

ہم نے اکثر تمہاری راہوں میں رُک کے اپنا ہی انتظار کیا

مجھے اندھیرے میں بے شک بٹھا دیا ہوتا مگر چراغ کی صورت جلا دیا ہوتا

کتاب بند کی اور اُٹھ کے چل دیا تمام داستان ساتھ لے گیا

تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے کچھ بھنور ڈوب گئے پانی میں چکراتے ہوئے

ہرایک غم نچوڑ کے، ہر ایک رس جیے دو دن کی زندگی میں ہزاروں برس جیے

زمیں سا دوسرا کوئی سخی کہاں ہو گا ذرا سا بیج اسے دوتو پیڑ دیتی ہے

آکے ہم آستاں پہ بیٹھ گئے چل چلاو کا وقت ہے بھائی

آدمی خود ہی دوڑے جاتا ہے خود ہی چابک بدست ہے بھائی

گرم لاشیں گریں فصیلوں سے آسماں بھر گیا ہے چیلوں سے

پیاس بھرتی رہی مرے اندر آنکھ ہٹتی نہیں تھی جھیلوں سے

سہ مصری شاعری میں ہائیکو، ماہیا، ثلاثی اور تروینی کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ گلزار تروینی کے بانی ہیں اور میں ماہیا کا محض خدمت گزار۔ (اردوماہیا کے بانی ہمت رائے شرما ہیں)۔ مذکورہ بالا چاروں شعری اصناف میں سے ماہیا واحد صنف ہے جس کی جڑیں اپنی دھرتی میں پیوست ہیں اور جس کے ذریعے ہمارا مقامی کلچراز خود اُگ کر آجاتا ہے۔

اس لحاظ سے ماہیا کے اندر اپنی مقامیت اور اپنی ثقافت کے امکانات کسی بھی دوسری سہ مصرعی صنف سے کہیں زیادہ ہیں۔ یوں تو ہر شاعر کو حق حاصل ہے وہ جس صنف میں چاہے اپنا اظہار کرے۔تاہم مجھے کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر گلزارجیسے ایک دو شاعروں نے ماہیا کو مس کیا ہوتا تو یہ صنف اردو میں کہیں زیادہ مستحکم ہو گئی ہوتی۔  گلزار کی تروینی میں بھی کچھ خاص بات ضرور ہے۔

وہ میرے ساتھ ہی تھا دور تک، مگر اک دن

جو مُڑ کے دیکھا تو وہ دوست میرے ساتھ نہ تھا

پھٹی ہو جیب تو کچھ سکے کھو بھی جاتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ ہر سحر کا وہ جھگڑا نہ شب کی بے چینی

نہ چولھا جلتا ہے گھر میںنہ آنکھیں جلتی ہیں

میں کتنے امن سے گھر میں اداس رہتا ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں بس میں بیٹھا ڈھونڈنے لگا مڑ کے

نہ جانے کیوں یہ لگا، تم وہیں کہیں پر ہو

تمہار ا’سینٹ‘ کسی اور نے لگایا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے بکھرے ہیں رات دن،جیسے

موتیوں والا ہار ٹوٹ گیا

تم نے مجھ کو پرو کے رکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جہاں تک گلزار کے فلمی گیتوں کا تعلق ہے،اپنے الگ ذائقہ کے باعث یہ مجھ جیسے بے شمار سننے والوں کو ہمیشہ اچھے لگے ہیں، اچھے لگتے رہیں گے۔ میں نے شروع میں گلزار کے امر گیت ”ہم نے دیکھی ہے ان آنکھوں کی مہکتی خوشبو“ کا اور تازہ گیت”سُریلی اکھیوں والے۔۔۔۔۔“کا ذکر کیا ہے۔ایسے گیت جن کے درمیان فلم آندھی اور موسم کے شاہکار گیت ہوں۔ اور ایسے ہی اور بہت سارے گیت ہوں، بندہ کس کس گیت کا ذکر کرے؟ اس کے لیے ایک الگ مضمون درکارہوگا کہ ایسے گیتوں کے ساتھ خود ہماری اپنی یادیں بھی وابستہ ہوتی ہیں اور ہر گیت ہماری ایک کہانی اپنے دامن میں لیے ہوتا ہے۔ہاں یہاں میں یہ وضاحت ضرور کروں گا کہ ہماری ادبی دنیا میں بعض لوگ ادب کے نام پر فلموں کے لیے لکھے گئے گیتوں کو ہی کم تر نہیں قرار دیتے، فلمی گیت لکھنے والے اچھے سے اچھے شاعر کو بھی اچھا شاعر ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ یہ در اصل ادب کے نام کی آڑ لے کر ہماری بعض ادبی شخصیات کا اپنا احساسِ کمتری ہوتا ہے۔ جس طرح ادبی دنیا میں بے شمار شاعرہیں۔ ان میں سے بعض بہت عمدہ ہیں، بعض اوسط درجہ کے ہیں، بعض معمولی ہیں اور بہت سارے معمولی سے بھی کم تر درجہ کے ہیں، ایسے ہی فلمی دنیا میں بھی درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔اگر کوئی شاعر اچھا ہے تو وہ فلم کے لیے بھی لکھے گا تو گیتوں میں جان ڈال دے گا۔ اگر کوئی اچھا شاعر نہیں ہے تو بے شک وہ فلموں کے لیے نہ لکھتا ہو، (یا لکھنے کے لیے ترستا رہتا ہو) تو فلمی گیت نہ لکھنے کے باوجود وہ بُرا شاعر ہی رہے گا۔

گلزارفلمی شاعر ہو کر بھی نہایت عمدہ ادبی شاعر ہیں۔ پاکستان اور انڈیا دونوں طرف ادبی لحاظ سے ان کا خاص حلقہ احباب ان بزرگوں پر مشتمل ہے جن سے میرا مزاج نہیں مل سکا۔ ایسے ادبی احباب کا پس منظر رکھنے والے گلزار کے لیے میں نے یہ مضمون اتنی ادبی چاہت کے ساتھ لکھا ہے تو یہ دراصل گلزار کی شاعری کا جادو ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گلزار کی نظموں کے کئی پہلو میں نے نظر انداز کیے ہیں، ان پر ابھی مزید لکھنے کی بہت ساری گنجائش موجود ہے۔غزلیں اور تروینیاں بھی ایک ایک الگ مضمون کا مزید تقاضا کرتی ہیں۔اور گیتوں کے بارے میں پہلے ہی اقرار کر چکا ہوں کہ ان کے لیے ایک الگ مضمون درکار ہوگا۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ مجھے زندگی کی طرف سے اتنی مہلت نہیں مل پائے گی کہ میں یہ سارے کام کر سکوں۔ سو اسی ایک مضمون کے ذریعے اپنے پسندیدہ شاعر کے بارے میں اپنی بات کرکے اپنی ادبی محبت کا تھوڑا سا قرض ادا کررہا ہوں!

Rate this item
(0 votes)
More in this category: « ابراہیم جلیس