رمضان، کھیل اور زندگی

  • Monday, 20 June 2016 07:55
  • Published in افسانے
  • Read 422 times
رمضان، کھیل اور زندگی All images are copyrighted to their respective owners.

تحریر : ربیعہ کنول مرزا

’’وووہ ہووو۔ یس۔ ونس مور ونس مور‘‘ لگاتار دو چوکوں نے اسکور بنا دیا، اب عادل کی ٹیم بہتر پوزیشن میں تھی، گلی تالیوں اور دوستوں یاروں کی آوازوں سے گونج اٹھی، سب کی طرف سے داد اور مبارکباد وصول ہوئی اور اک اور شاندار ہٹ۔ اس بار عادل مصطفوی نے چوکا مار کر بلیو ڈیولز کو کامیابی دلادی۔ گلی میں لائٹنگ، کھانے پینے کے انتظام اور کراوڈ کے شور میں میچ کا مزہ دوبالا ہوگیا۔

’’یار کل کے میچ میں اورنج لیجنڈز سامنے ہوں گے ہمیں ہر صورت یہ میچ جیتنا ہے ہماری ٹیم کی عزت کا سوال ہے۔ ‘‘ ساغر نے عادل کی پیٹھ تھپتپا کر گلے لگایا اور آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنے کی صلاح دی۔ ’’ہاں ٹھیک ہے کل ہی دیکھیں گے‘‘۔ عادل جو میچ کے دوران اور جیت پر خوشی سے پھولے نہ سمارہا تھا اب قدرے اداس دکھائی دیا’’ کیا ہوا عادل تم پچ پر تو کافی ایکٹو تھے اب یہ اداسی پریشانی کیوں؟‘‘ سوال مکمل ہوا ہی تھا کہ اذان کی آواز سنائی دینے لگی، مسجد قریب ہی تھی۔ لیکن رات بھر کے میچ اور تھکاوٹ نے گھر جانے پر مجبور کردیا۔ دونوں نے تیز تیز قدم بڑھانا شروع کردئیے۔ نیند کا غلبہ بھی بڑهتا گیا اس سے قبل ہی گلی کی رونق پلک جھپکتے معدوم ہوگئی تھی۔ عادل اور ساغر آخر میں میدان چھوڑنے والوں میں تھے تاکہ کسی کو کسی بھی طرح کی پریشانی کا سامنا نہ ہو

’’عادل آج تم پھر اتنی دیر سے آئے ہو، یہ اچھی بات نہیں، ناشتہ بنا دوں ؟سحری کی ؟ روزہ رکھا؟‘‘ شفقت، محبت، ناراضی اور تحکمانہ سوالات کے ملے جلے تاثرات لیے ماں نے عادل کے قریب ہونے کی کوشش کی۔ ’’کیا ہے مسئلہ؟ کیوں پریشان کر رکھا ہے؟ روزہ میرا اور میرے خدا کامعاملہ ہے۔ کیوں ہر وقت سوال کرتی ہیں؟ سکون سے کیوں نہیں جینے دیتیں ؟‘‘ عادل نے بپھرے ہوئے انداز میں ماں کے سامنے چیخنا شروع کردیا۔ ماں نے پانی کا گلاس میز پر رکها اور تلاوت کے لیے اپنے کمرے میں چلی گئی ’’یا اللہ میرا بیٹا نادان ہے، جلد غصے میں آجاتا ہے، روزے اور نماز کا پابند بھی نہیں، لیکن تو تو رحیم و کریم ہے بخشنے والا ہے میرے بیٹے کو بخش دے، اپنے یا میرے معاملے پر اس کی گرفت نہ کرنا، بلکہ ہدایت و نور دے سمجھ دے دین کا علم کا شعور دے اور جن بچوں کے ساتھ اس نے اپنا یہ حال کیا ہے ان کی بھی رہنمائی فرما” ماں نے دعا میں عادل کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی طلب کی حقوق اللہ اور حقوق العباد معاف کرنے کی دعا کی۔ عادل نے پانی کا گلاس میز پر چھوڑا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ منہ تک چادر اوڑھی اور سو گیا۔

آہ! یہ مجھے کیا ہوا؟ عادل بڑی آنکھوں کو کمرے کے چاروں اطراف گھما کر سمجھنے کی کوشش کر رہاتھا۔ دل و دماغ میں جھماکا سا ہوا اور وہ اٹھ بیٹھا، مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے میں صدیوں سوتا رہا ہوں۔ مجھ میں کون جاگا ہے کہ جس کا مجھے ادراک نہیں ہورہا عادل خود کلامی کرتے ہوئے واش روم گیا. بے دهیانی میں یا پھر انجان سوچ کے گہرے قبضے میں وضو کیا اور افطار کی جانب آگیا. کھجور کھائی، شربت پیا اور گھر میں ہی نماز پڑهی۔ کھانے کے انتظار میں میز پر گھر والوں کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اور میاں کیا مصروفیات ہیں ؟ روزے کیسے چل رہے ہیں؟ وہ ابو میچز رکھے ہیں رمضان کے رمضان ۔ ساغر کی ٹیم کا وائس کپتان ہوں کل رات میچ بہت زبردست رہا ہم جیت گئے. اوہ! والد نے گلا صاف کرتے ہوئے مبارک دی۔ پھر دوبارہ پوچھا “اور روزے؟” وہ بھی ٹھیک ہیں۔ “اور قرآن پاک کے کتنے پارے ہوئے؟” وہ، وہ میں جلد پڑهوں گا۔ عادل نے جواب دیا.

“دیکھو میاں زندگی موت کا کچھ پتہ نہیں، ہر اک کو اپنی قبر میں جانا ہے اور ہر بات کا جوابدہ خود ہونا ہے. میں، تمھاری ماں یا بہن بھائی بچانے نہیں آئیں گے.”

“جی ابو میں کوشش کرتا ہوں”.

“یہ تمھاری ماں کی آنکھیں کیوں سوجی ہیں؟ یہ خاموس اور اداس کیوں ہے؟ رمضان میں ہر عمل کا اجر دگنا ہوتا ہے چاہے عمل اچھا ہو یا برا۔ تم تو گھر پر ہی تھے نا کیا ہوا تھا؟”بولو!

لاش کے پاس سے کرکٹ کا سامان بھی ملا ہے۔ اک بار پھر آپ کو بتاتے چلیں علی الصبح مخالف سمت سے آنے والے آئل ٹینکر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار ہلاک ہوگیا۔ ٹی وی پر چلنے والی اس خبر سے تمام گھر والے ہی دنگ رہ گئے۔ فوٹیج میں دکھایا جانے والا مقتول کا شناختی کارڈ اور متعلقہ اشیاء ساغر کی تھیں۔ میز پر کھانا لگ گیا تھا لیکن سب کی آنکھیں اور دل کبھی ٹی وی پر اور کبھی عادل پر آکر ٹھہر جاتیں۔ جو بنا آواز رو رہا تھا، میں اس کے ساتھ ہوتا تو اسے کبھی مرنے نہ دیتا۔ عادل کے دماغ میں اب کئی باتیں گونج رہی تھیں “کل جیتنا ہوگا” “عزت کا سوال ہے” ۔”حئی علی الفلاح” “تم نے روزہ رکھا” “یہ میرامعاملہ ہے” “رمضان میں ہر عمل کا اجر دگنا ہے” “قبر میں ہم ساتھ نہیں ہوں گے”۔

سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں۔

آج ہم ساتھ ہیں کل کس نے دیکھی ہے۔

عادل گہری سوچوں کے ساتھ کچن میں گیا اور ماں سے لپٹ گیا۔

Rate this item
(1 Vote)
  • Last modified on Monday, 20 June 2016 08:01
  • font size