اڑان

اڑان All images are copyrighted to their respective owners.

اگر یہ کتاب آپ کو کسی نے مفت بھجی هے تو مجھ پر احسان کِیا هے ، اگر آپ نے کہیں سے چُرائی هے تو میں آپ کے ذوق کی داد دیتا هُوں

 

(۱)قصہ میرے بھتیجے سے شروع ہوتا ہے۔

 میرا بھتیجا دیکھنے میں عام بھتیجوں سے مختلف نہیں ، میری تمام خوبیاں اس میں موجود ہیں اور اس کے علاوہ نئی پود سے تعلق رکھنے کے باعث اس میں بعض فالتو اوصاف نظر آتے ہیں۔

 لیکن ایک صفت تو اس میں ایسی ہے کہ آج تک ہمارے خاندان میں اس شدت کے ساتھ کبھی رونما نہیں ہوئی تھی۔

 وہ یہ کہ بڑوں کی عزت کرتا ہے۔

 اور میں تو اس کے نزدیک بس علم وفن کا ایک دیوتا ہوں۔

 یہ خبط اس کے دماغ میں کیوں سمایا ہے؟

اس کی وجہ میں یہی بتا سکتا ہوں کہ نہایت اعلیٰ سے اعلیٰ خاندانوں میں بھی کبھی کبھی ایسا دیکھنے میں آجاتا ہے۔

 میں شائستہ سے شائستہ دو زمانوں کے فرزندوں کو بعض وقت بزرگوں کا اس قدر احترام کرتے دیکھا، کہ ان پر پنچ ذات کا دھوکا ہونے لگتا هے ۔

 

(۲)ایک دو غلط فہمیاں البتہ ضرور رفع کرنا چاہتا ہوں۔

 لاہور پنجاب میں واقع ہے۔

 لیکن پنجاب اب پنج آب نہیں رہا۔

 اس پانچ دریاؤں کی سرزمین میں اب صرف چار دریا بہتے ہیں۔

 اور جو نصف دریا ہے، وہ تو اب بہنے کے قابل بھی نہیں رہا۔

 اسی کو اصطلاح میں راوی ضعیف کہتے ہیں۔

 ملنے کا پتہ یہ ہے کہ شہر کے قریب دو پل بنے ہیں۔

 ان کے نیچے ریت میں دریا لیٹا رہتا ہے۔

 بہنے کا شغل عرصے سے بند ہے، اس لیے یہ بتانا بھی مشکل ہے کہ شہر دریا کے دائیں کنارے پر واقع ہے یا بائیں کنارے پر۔

 

(۳) اگر یہ کتاب آپ کو کسی نے مفت بھجی هے تو مجھ پر احسان کِیا هے ، اگر آپ نے کہیں سے چُرائی هے تو میں آپ کے ذوق کی داد دیتا هُوں ، اپنے پیسوں سے خریدی هے تو مجھےآپ سے همدردی هے ، جو صاحب اِس کتاب کو کسی غیر مُلکی زبان میں ترجمہ کرنا چاهیں پہلے اُس مُلک کے لوگوں سے اجازت حاصل کر لیں

 

پطرس بخاری

Rate this item
(0 votes)
  • Last modified on Sunday, 10 April 2016 21:45
  • font size

Related items

  • کتّے

    علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا۔ سلوتریوں سے دریافت کیا۔ خود سر کھپاتے رہے۔ لیکن سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کا فائدہ کیا ؟

More in this category: « کتّے