آفتاب حسنین: عہد ِ حاضرکا ڈراما نگار

  • Thursday, 17 March 2016 04:31
  • Published in شخصیات
  • Read 796 times
ْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْآفتاب حسنین۔ عہد ِ حاضرکا ڈراما نگار Voice of Urdu

 آج کے مشینی دور میں جہاں انسان خود اپنے لیے وقت نہیں نکال پاتا، اپنے کسی عزیز

آج کے مشینی دور میں جہاں انسان خود اپنے لیے وقت نہیں نکال پاتا، اپنے کسی عزیز کے لیے یا دوست کے لیے وقت نکالنا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ ان سب کے باوجود بھی اگر کسی کے لیے وقت نکالا جائے اور کچھ تحریر کیا جائے تو یقینا اس شخص کی گرانقدر خدمات ہوں گی جسے نظر انداز کیا جانا ممکن نہ ہوگا۔ ایسی ہی ایک شخصیت آفتاب حسنین کی ہے جن کو اُردو تھیٹر اور ادب کی خدمات انجام دیتے ہوئے تقریبا ًپانچ دہائیاں ہو گئیں ہیں۔آفتاب حسنین سے میرا رشتہ محبت کا ہے!وہ میرے استاد بھی ہیں اور دوست بھی۔ کالج میں، میں نے ان سے تھیٹر کے رموز سیکھے ، ان کی ہدایت میں کئی ڈرامے کیے او ر ان کے ساتھ اسٹیج پر اداکاری کرنے کا شرف بھی مجھے ملا ہے۔ اس پچاس سالہ تا بناک ادبی سفر کے لیے اُ ن کا ایک اعترفیہ کا حق تو بنتا ہے!

        مشق کرتے ہوئے اِک عُمر گزر جاتی ہے            تب قلم میں کہیں اوصاف قلم آتے ہیں!

    ادب کا یہ آفتاب ۲۱؍ ستمبر ۱۹۵۱؁ کو ممبئی میں طلوع ہوا اور آ ج پورے آب و تاب کے ساتھ ادبی دنیا پر جگمگا رہا ہے! لکھتے تو بہت ہیں لیکن بہت سے لوگ وہ نہیں لکھتے جو ادب میں اپنی شناخت بنائے اور ادب کا سرمایہ کہلائے! آفتاب حسنین پچھلے پچاس برسوں سے فعال طور پر اچھوتے اور سلگتے ہوئے موضوعات پر قلم چلا رہے ہیںاور ڈرامے کے ادب اور ادب اطفال کوانہوں نے وہ تصانیف عطا کی ہیں جو ہزاروں، لاکھوں تصانیف میں بھی اپنی پہچان آپ ہیں۔

     انہوں نے اپنا پہلا ڈراما، ’انقلابی خاندان ‘اسکول کے زمانے میں۱۹۶۴-۶۵؁ میں تحریر کیا اور اسی زمانے میں ’ اچھوت گھرانہ‘ بھی لکھ کر اسٹیج کیا ۔ کالج میں پہونچے تو ڈراما نویسی کا شوق جنون میں بدل گیا اور اپنے بڑے بھائی، آج کے مشہور فلم رائٹر امتیاز حُسین کی سر براہی میں ’یہ بڑھتا فیشن‘، ’ زرا آنکھ میں بھر لو پانی‘ اور ’ ایسے بھی ہیں لوگ جہاں میں‘ جیسے  ڈرامے لکھے اور اسٹیج کر کے داد تحسین حاصل کی۔ ڈراما نویسی کا وہ سلسلہ عصر حاضر تک جاری ہے اور اب تک کئی یک بابی اور فُل لینتھ ڈرامے لکھ چکے ہیںاور ان کے لیے بجا طور پر کئی گرانقدر ا عزازات و انعامات سے نوازے گئے ہیں ۔

        آفتاب حسنین طبیعت سے کم گو لیکن فطرت سے پارہ صفت اور بیباک ہیں اور ان کی یہ بیباکی ان کی تحریر میں بھی نظر آتی ہے۔وہ ایک جیدڈراما نگار ہیں   جنہوںنے کبھی اپنی تخلیق کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کیا اور نہ کسی سے متاثر ہوکر اپنے لکھے کو تبدیل کیا ہے۔ان کے مشہور فُل لینتھ ڈرامے، ’ یہاں امینہ بکتی ہے‘ کے پیش لفظ میں مراٹھی کے مشہور ڈراما نگار وجے تیندلکر لکھتے ہیں، ’ آفتاب حسنین کی قلم آگ اگلتی ہے جو سماج کے منفی رحجا نات کو جلا کر خاک کرتی ہے !‘ آفتاب حسنین کے ڈرامے عام روش سے ہٹ کر ہوتے ہیں اور ان ڈراموں نے نہ صرف اردو تھیٹر بلکہ ہندوستانی تھیٹر کو بھی ایک نئی سمت اور ایک نئی سوچ دی ہے۔انھوں نے مسلم معاشرہ کے سلگتے ہوئے مسائل پر ہی نہیں بلکہ ایک سچے ہندوستانی ہونے کے ناطے ملک وقوم کے ان مسائل پر بھی قلم اٹھایا ہے جن پر دوسرے موقع پرست قلم کار محض اس لئے انگشت نمائی کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ کہیں ان کی قلم کاری صاحبِ اقتدار کے عتاب کی شکار نہ ہو جائے۔ بنیادی اعتبار سے آفتاب حسنین ایک سیکو لر ذہن کے سلجھے ہوئے ادیب ہیں ۔ ان کی تحریریں ہر قسم کی سیاسی ، ادبی اور مذہبی منافرت سے مبرّا ہیں ۔ وہ محبت، ایکتا ، مذہبی رواداری اور قومی یک جہتی کے مبلغ ہیں اور انسان دوستی کے غماز!

    آفتاب حسنین کا ڈراما لکھنے کا کا اپنا ایک انفرادی انداز ہے، چھوٹے چھوٹے مگر دلچسپ اور با مقصد مکالموں کے ذریعہ وہ کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں اور ڈرامے کے اختتام تک ناظرین کو باندھے رکھنے کے فن میں انہیں کمال حاصل ہے۔ ہندی کے مشہور صحافی، راجیش وکرانت آفتاب حسنین پر لکھے اپنے ایک آرٹیکل میں کہتے ہیں،’ آفتاب حسنین اپنے آپ میں ڈراما نویسی کا ایک مکتب ہیں، اگر ہم ان کی ڈراموں کی کتابوں کا بخوبی مطالعہ کریں تو ہم ڈراما نویسی کے فن کو اچھی طرح سمجھ اور سیکھ سکتے ہیں !‘ اپنی انہیں خصوصیات کی بنا پر انہوں نے ہندوستانی ڈراما نگاروں میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے اور اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں یکساں مقبولیت حاصل کی۔

    آفتاب حسنین کے ڈرامے کتابی شکل میں دستیاب ہیں اور ملک بھرمیں ان کے شوز ہوتے رہتے ہیں۔ ان کے تمام ڈراموں کا ذکر کرنے کے لیے کئی صفحات درکار ہیں۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ ان کے تمام ڈرامے طبعزاد ہیں۔ ان کا فُل لینتھ ،ڈراما، ’چل اڑ جا رے پنچھی گلف میں ملاز مت کرنے والے پر دیسیوں کا کرب انگیز اظہار ہے۔ اس اچھوتے موضوع کو سراہتے ہوئے ساہتیہ کلا پریشد (نئی دہلی) نے انہیں ۱۹۸۹؁  میں اردو کے بہترین ڈراما نگار کا ’ساہتیہ کلا پریشد ایوارڈ ‘ تفویض کیا! ان کے ایک اور فُل لینتھ ڈرامے، ’روشنی‘ کے لیے ساہتیہ کلا پریشد (نئی دہلی) نے ہی انہیں ۲۰۰۳؁ میں ’موہن راکیش سمّان‘ سے سرفراز کیا!مسلمانوں میں مسلکی تفرقہ و تنازع ایک ایسا موضوع  ہے جس پر قلم چلاتے وقت اگر قلمکار کی قلم میں زرا بھی لغزش ہو تو اس کا سر قلم کر دیا جائے اور شاید یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے اور اپنے آپ کو ادب کا ستون کہلوانے والے ادیب بھی اس موضوع پر کچھ کہنے یا لکھنے کے لیے کنّی کاٹتے ہیں۔آ فتاب حسنین نے اس دہکتے اور بولڈ موضوع پر بھی بڑی بیباکی سے قلم چلایاہے اور اللھُمَّ لبِّک جیسا بولڈ ڈراما لکھ کر اور اس کے متعدد کامیاب شوز کر کے مسلکی اتحاد کا پیغام دیا۔قومی یک جہتی کے سلگتے ہوئے موضوع پر لکھا ان کا منفرد ڈراما، ’اس آگ کو بجھا دو‘ ۱۹۹۲-۹۳؁کے فسادات کے دوران بے حد مقبول ہوا اور ہندو-مسلم ایکتا کے پیغام کو عوام تک پہونچانے کے لیے  اس کے کئی شوز کیے گئے۔ ان کا حالیہ ڈراما، ’ آرام باغ‘ کا موضوع بھی اچھوتا ہے۔ مذہب سے دور ہوتی ہوئی نئی نسل کو مذہب کی طرف راغب کرنے کی کامیاب کوشش ہے۔

    آفتاب حسنین اُردو تھیٹر اور ادب کے خاموش خادم ہیں۔انہوں نے کبھی اپنا ڈھنڈورا نہیں پیٹا اور نہ ہی کبھی اپنی سچی جھوٹی پبلی سٹی چاہی ہے ۔ نقاد اور مبصرین کی بے توجہی کے باوجود انہوں نے تھیٹر اور ادبی حلقوں میں اپنی جگہ بنا لی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایوارڈس انہیں تلاش کرتے رہتے ہیںاور اب تک ریاستی اور قومی سطح کے چودہ پُروقار ادبی ایوارڈس سے سرفراز ہو چکے ہیں۔ان کے انعامات کا یہ سلسلہ اس زمانے میں شروع ہوا تھا جب منترالیہ میں کسی بھی زبان کی ساہتیہ اکادمی کا دور دور تک وجود نہ تھا، لیکن حکومت مہاراشٹر کی جانب سے ۱۹۷۴؁ میں مراٹھی کے نامور اُدباء وجے تینڈولکر، وسنت سبنیس اور نامدیو ڈھسال کے ساتھ اردو کے ایک کمسن ادیب کو گورنر علی یاور جنگ کے ہاتھوں مہاراشٹر راجیہ پُر سکار سے نوازا گیا۔ یہ پُرسکار پانے والے وہ سب سے کم عمر رایٹر ہیں! مہاراشٹر، بہار، اتر پردیش اور ویسٹ بنگال اردو اکادمیوں کے انعامات سے بھی سرفراز ہوئے ہیں ۔ روزنامہ اُردو ٹائمس نے  ان کی پچاس سالہ ادبی خدمات اور اردو ڈراما اور تھیٹر  کے  فروغ میں نمایا کا کردگی کے لیے انہیں ’ اردو ٹائمس لائف ٹائم اچیومینٹ ایورڈ‘ (۲۰۱۴؁ ) تفویض کیا ہے !

 

    آفتاب حسنین نے ڈراموں کے علاوہ ادب اطفال میں بھی خاصا کام کیا ہے اور بچوں کے لیے سو سے زیادہ طبعزاد کہانیاں لکھیں ہیں۔ ان کی کہانیوں کے کئی مجموعے شائع ہوئے ہیں جیسے، ـ’کہانیاں جانوروں کی‘ ، ـ’ جادوئی چراغ اور پانچ کہانیاں‘،’ایک گھر کہانیوں کا‘ ، ’کہانی نگر‘اور حال ہی میں’ رحمانی پبلی کیشن‘ (مالیگائوں) نے ان کی منتخب کہانیوں کا مجموعہ،’ کہانیاں آفتاب حسنین کی‘ شائع کیا۔

     آفتاب حسنین کی کتابیں اُردو اور ہندی دونوں زبانوں میں چھپ رہی ہیں اور ہندی والوں میں بھی وہ خاصے مقبول ہیں۔ مہاراشٹر راجیہ ہندی ساہتیہ اکیڈمی نے ۲۰۰۸؁ میں انہیں ان کے ڈراموں کے مجموعے ’ناٹک نگر‘ کے لیے ’وشنوداس بھاوے پرسکار ‘ تفویض کیا اور رائٹرز اینڈ جرنلسٹ ایسو سی ایشن نے ۲۰۱۱؁ میں انہیں ہندی اور اُردوڈراموں کے ادب میں قابل ستائش کار کردگی کے لیے ’ ساہتیہ گورو سمّان‘ دیا۔ ’دوپہر کا سامنا ‘کے سابق مدیر شتروگھن پرساد آفتاب حسنین پر لکھے اپنے ایک فیچر میں لکھتے ہیں،’ اردو والے کہتے ہیں، ’آفتاب حسنین اُردو کے ادیب ہیں!‘ہندی والے کہتے ہیں،’آفتاب حسنین ہندی کے لیکھک ہیں!‘ میں کہتا ہوں ، ’آفتاب حسنین ہندی کے ہیںنہ اُردو کے ،وہ ادب کے ہیں جن کی تصانیف سے ہر زبان کے ادب کو فائدہ پہنچ رہا ہے!‘

    آفتاب حسنین اپنے ڈراما گروپ، ’ بومبے والاز ‘کے ذریعہ مستقل ڈرامے کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’ لکھنا میرا جنون ہے اور میں اس وقت تک لکھتا رہوں گا جب تک  دماغ میں سوچنے کی صلاحیت اور ہاتھ میں قلم تھامنے کی سکت ہے!‘ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ ان کو صحت کے ساتھ لمبی عمر عطا کرے تاکہ وہ اسی طرح اردو ادب اور تھیٹر کو آنے والے کئی سالوں تک اپنی تخلیقات سے نوازتے رہیں!وہ ،ایک ڈراما نگار و ادیب کی زندگی کی پریشانیوں اور تکلیفوں کی عکاسی کرتا ہوا فل لینتھ ڈراما ، ’اور آفتاب حسنین مر گیا‘ تحریر کر رہے ہیں۔ ’’ آفتاب صاحب.... .آفتاب حسنین کبھی نہیں مرے گا ،وہ اپنے ڈراموں اور تخلیقات میں ہمیشہ زندہ رہے گا !‘‘

 

(ڈاکٹر مُصطفیٰ پنجابی)٭

Rate this item
(1 Vote)
  • Last modified on Friday, 01 April 2016 19:05
  • font size