کاش میں بیٹی نہ ہوتی

  • Monday, 19 May 2014 16:56
  • Published in کتابیات
  • Read 1409 times

دنیاوی سب ذایقے وقتی اور نقصان دہ ہیں۔کِسی عمر رسیدہ مائی سے حالِ گزشتہ دریافت کریں کہ آج جو مائی ہے وہ بھی کبھی خوبرو حسینہ تھی۔

ٹرین میں تو ایمرجنسی روکنے کا انتظام ہوتا ہے مگر عمرِ رواں تو حادثات کے انبار لگاتی بنا رُکے ،پلٹے ہی اپنا سفرِ آخر جاری رکھتی ہے۔ویران سا ایک گھر ہے ۔درو دیوار کی حالت خستہ ترین ہو چکی ہے ۔گھر کی چھت پر کھجور کی چٹائی پے دوزانوں بیٹھی ایک مائی اپنی گزشتہ زندی پر پشیمان ہو رہی ہے۔ہمت کر کے لڑکھڑاتی ہوئی بے جان چھڑی کے سہارے بالکونی تک جاتی ہے۔ نیچے ضروریاتِ زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔ شوخ وچنچل نوجوان ہنستے مُسکراتے آجا رہے ہیں۔سورج بھی اُسی آب وتاب سے جگمگا رہا ہے۔ہوائوں کے سرد جھونکوں میں بھی وہی تپش ہے۔پرندوں کی چہچاہٹ بھی صدیوں پرانی جوانی کی مانند ہے۔نوجوان خوبصورت لڑکیاں بھی کالج اور اپنے اپنے کاموں سے اُسی انداز سے چہکتی سی،ادائیں بکھیرتی،نوجوانوں کی توجہ کا مرکز بننے کی خواہش لیے، آ جا رہی ہیں۔عین اُس ہی طرح جیسا کہ اِس مائی کا اپنی سکھیوں کے غول میں اندازِ گزر ہوا کرتا تھا۔

اب کی بار تو وہ کانپ ہی گئی …اِس گزر جانے ولی موٹر ساکل والے کے پیچھے بیٹھی حسینہ نے جِس انداز سے جکڑا ہوا تھا ،یہ ہُنر مائی اپنے کزن بوائے فرینڈ کے ساتھ کئی بار دکھا چکی تھی۔سبھی کچھ وہی پرانا تھا سوائے میرے۔سب لذتیں ،خواہشیں ،ذایقے،احساسات، تجربات،محسوسات،آرزوئیں،تمنائیں،سب ہی تو دم توڑ چکی تھیں۔ سامنے گرم حمام کے جبوترے پر بھی چند نوجوان آتی جاتی حسینائوں کو دیکھ کر لذتی گویا ہیں۔مگر کِسی کا دھیان اِس بالکونی میں کھڑی مائی کی جانب نہیں بٹتا۔حلق میں ہاتھ ڈال کر متوجہ کی غرض سے کھوئی ہوئی سُریلی آواز نکالنا چاہی تو کالی کھانسی نے استقبال کیا۔نوجوان متوجہ ہوئے اور ہنس دیئے!وہ دیکھو یار مائی کو قبر میں ٹانگیں ہیں اور تاڑ رہی ہے اور پھر سے اُن کی نگاہیں کِسی جوانی کی منتظر ہو گئیں۔اِسے جوانی کے وہ پل بھی شدت سے یاد آ رہے ہیں کہ جب یہ کپڑے سکھانے یا چھوٹے بھائی پپو کو گلی میں نیچے کھیلتا دیکھنے آتی تھی، تو سینکڑوں نگاہیں اِس کی جانب یوں متوجہ ہوتیں، جیسے پلکیں جھپکنا بھول ہی گئی ہوں۔آج اِس جادو گرنی کا اثر بے معنی اور بے اثر ہو گیا تھا۔آج تو کوئی بھی پتھر کا بننے کیلئے تیار نہ تھا۔وہ بوئے فرینڈ ٹائپ ،پلے بوائے کہاں گئے ؟چاہنے والے ،دیوانے ،مستانے کہاں گئے؟جھوٹے دعویدار ،بہکانے والے کہاں گئے؟پُجاری ،خادم، دیوان ،غلام سب کہاں گئے؟مائی کو شدت سے آج اِس بات کا احساس ہو رہا تھا کہ کاش میں اِس بے وفا مطلبی دنیا سے دِل نہ ہی لگاتی۔ یہ دنیا والے مجھے تب اِس لیے دیکھتے تھے کہ جب انہیں مجھ سے کچھ مطلب تھا میں جواں تھی، حسین اور خوبرو تھی۔نگاہوں کے سامنے حسد،افسوس اور پشیمانی کے سیاہ گھنے بادل لہرا رہے تھے۔

کاش کا لفظ ذہن میں یوں گردش تھا جیسے موت کے کنوے میں موٹر بائیک چکراتی ہے۔کاش میں جب…کاش میں …کاش ایسا نہ کرتی…کاش ویسا نہ کرتی…کاش حقیقت سے نظریں نہ چراتی…کاش اپنی اور والدین کی عزت پامال نہ کرتی…کاش سنبھل جاتی کاش خدا سے لُو لگاتی…کاش آخرت کو یاد رکھتی…کاش اپنی پاک عظیم ذات عورت کی بے حرمتی نہ ہونے دیتی…کاش پاکیزہ رہتی…کاش نہ محرموں سے نہ ملتی…کاش پاک دامن بیبیوں کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ ہی کر لیتی…کاش اِن مطلبیوں سے دور ہی رہتی…کاش شیطانی اور بے مقصدی لذتوں سے محفوظ رہتی،کاش میں بیٹی نہ ہوتی کاش کاش…کاش… بس یہ کاش ہی اب کل سرمایہ رہ گیا تھا۔خیالی گھوڑے بے لگام تھے،آج مجھ سے کون اور کیوں کر دِل لگائے گا بھلا؟؟اچانک اذانِ ظہر نے ساری فضاء کو سُریلی مہک سے لہرا دیا۔نہ جانے کیوں آج خود ہی نہ چاہتے ہوئے بھی لبوں نے اذان کا جواب دیا۔فوراً ذہن نے پلٹاکھایا …نہیں نہیں ابھی بھی کوئی ہے جو مجھے اپنا سکتا ہے۔اپنا بنا سکتا ہے ۔وہ تو سب کو ہی اپناتا ہے۔اُس کی نظرمیں توغریب ،اُمرا و رئوسا سب ہی برابر ہیں۔ذہن کے خیالی مفتی نے پھر سے جھنجھوڑا! وہ اپنا لے گا اِس میں کوئی شک نہیں ،وہ معاف بھی کر دے گا ،وہ مطلب پرست اور دغا باز بھی نہیں،ارے ہاں وہ تو عمروںمیں ناپ تول بھی نہیں کرتا ،وہ خدائے یکتا یقینا سب انسانوں کا راہ نما اور مخلص عاشق ہے۔وہ تو ہم انسانوں سے ایسا عشق جتاتا ہے کہ ایک ماں بھی اپنے طفل سے کیا جتائے گی۔ایک ہم ہی ہیں جو اُس کی چاہت کو سمجھ نہیں پاتے۔اُس کی رحمت کے دروازے کھلے ہیں ۔سو فیصد وہ مجھے قبول کر لے گا۔

مگر کیا میں اِس لڑکھڑاتے وجود کے ہمراہ ،ضحافت کی جوانی میں اُونٹ کی کمان جیسی قمر لے کر اُس کے شایانِ شان عبادت و ریاضت کر پائوں گی ؟کیا !رکوع ،قیام و سجود کو ساکت رکھ پائونگی؟جوانی میں صبر کی حدوں کو چھو کر جو مقام و مرتبہ اور روحانیت حاصل ہوتی ہے وہ اب اِس بڑھاپے میں کیسے پائوں گی؟ اب توگرم بستر سے اُٹھ کر رفعِ حاجت کیلئے جانا بھی دشوار لگتا ہے ،بار بار وضو کیلئے کِس سہارے سے بھیک مانگوں گی؟ جُھک کر بیٹھ جائوں تو اُٹھنا محال ہے ،اُٹھ جائوں تو چلنا…سجدے و قیام کیسے نبھائوں گی؟نیند آتی نہیں آ جائے تو جاتی نہیں ،تہجد و فجر قضاء ہی کرتی جائوں گی۔ایک بار پھر لفظ کاش نے انگڑائی لی…کاش کہ جوانی میں ہی عقل و دانائیوں کی تہہ ناپ لیتی۔کاش…کاش…مائی کاش کے ساغر میں غوتہ زن تھی کہ عقب سے چند سدائیں بلند ہوئیں۔دادی،دادی دادی اماںآپ وہاں کیا کر رہی ہیں ؟ کالج سے خوبرو حسینائیں لوٹ آئی تھیں۔مائی لڑکھڑاتی ہوئی اِس بار چٹائی کہ بجائے کھردرے بان کی چارپائی پر گرتے گرتے بیٹھ گئی۔آئو !اچھا ہوا تم آگئی تمہیں کچھ سمجھانا تھا۔تینوں جواں سال حسینائیں بھی قریب تر ہو گئیں۔سنو بیٹا ! ابھی تمہارے پاس وقت ہے سنبھل جائو۔تمہاری زندگیوں کے اندھیرے ابھی جواں نہیں ہوئے۔اِس جوانی کی قدر کرلو کہ یہ بے قدروں کیلئے چنڈال بن جاتی ہے۔میری جوانی کا چراغ کب کا بجھ گیا ،تمارے دیے کی لُو تو ابھی برقرار ہے۔ اِس کی چمکیلی روشنائی میں سامانِ آخرت ڈھونڈ لو۔کبھی کِسی نوجوان کی شہد کی سی میٹھی اور جلیبی کی سی سیدھی باتوں میں نہ آنا۔حد سے زیادہ مٹھاس اور چکر دھاری راستے دونوں سے خود کو بچا کر رکھو۔

اِن نوجوان بوائے فرینڈ کی مثال ایک کسائی کی سی ہے جو جانور کو ذبح کرنے سے قبل اُس کی خوب خاطر تواضع کرنے کے ساتھ ساتھ،آخری لمحے تک اُس کے نہ پسندیدہ چہرے پر بھی نگاہِ مسرت ہی ڈالے رکھتا ہے ۔اِن مطلبی مچھیروں سے بچو جو اپنے مطلب کی خاطر سردی ،گرمی کِسی کا لحاظ نہیں کرتے،بس ہر گھڑی دریائوں و سمندروں کا سینہ چیرتے نظر آتے ہیں۔سنو! جوانی برف کی مانند پگھل ہی ہے حاصل شدہ پانی بھی کچھ ہی لمحوں میں گرم ہو جائے گا تب خواہشات کی پیاس کیسے بجھائوں گی؟عورت ذات کی باپردگی میں ہی عافیت ہے ،کھلی ہوئی مٹھاس کو آوارہ مکھیوں کے غلیظ پیروں اور نجاست سے بچایا نہیں جاسکتا۔جوانی کی خواہشات کو آخرت کی لذتوں پر قربان کر دو۔سنبھل جائو… سنبھل جائوب چیوں… سنبھل جائو اور کاش سے خود کو محفوظ رکھو۔او ہو دادی ماں! آپ بھی نہ کالج میں لیکچرار نے دماغ کی دہی بنائی اور اب یہاں گھر میں آپ لَسی بنارہی ہیں ۔ہم بالغ ہیں سمجھ دار ہیں ،اپنا اچھا بُرا سمجھ سکتی ہیں۔ویسے کوشش کریں گی کہ آپ کی باتوں پر نظر ثانی کریں۔ایک بولی…! بئی میں تو چلی نیچے کل لائٹ کی آنکھ مچولی نے بہت سے ڈرامے مِس کر دیئے تھے ،اب دوبارہ ٹیلی کاسٹ ہوں گے میں چلی تو چلی۔

دوسری بولی! ارے یاد آیا میں نے موبائل کی بیٹری بھی چارج کرنی ہے کل رات بھی بور ہی گزری کوئی بات ہی نہ ہو پائی اور نہ کوئی پیغام،یہ لائٹ والے بھی نہ کم از کم موبائل تو چارج ہونے دیا کریں۔تیسری بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی ،مجھے بھی یاد آیا لائٹ آرہی ہے مجھے تو کپڑے استری کرنے ہیں میری فرینڈ میرا انتظار کر رہی ہوگی۔تیسری کی بات سن کر دونوں شیطانی قہقہوں سے ہنسی سہیلی انتظار کر رہی ہوگی یا سہیلی کا بھائی۔اُس نے دادی اماں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خامشی کا سنگنل دیا اور تینوں نیچے کی جانب لپکیں۔بیٹا سنو! میں آج بہت تنہائی محسوس کر رہی ہوں مجھے بھی کچھ وقت دے دیا کرو،میرے پاس بھی گھڑی بیٹھ جایا کرو۔مائی پوتیوں سے التجاء کر رہی تھی کہ نیچے زینے سے ایک زنانہ کوئل سی سُریلی آواز کی فضاء میں سرگوشی سی ہوئی۔آپ کے پاس بیٹھ کر مغز کی کھیر ہی بنوانی ہے اور ایک بار پھر سے مائی تنہائیوں اور یادوں کا استقبال کرنے لگی۔سب کچھ ویسا ہی ترو تازہ محسوس ہو رہا تھا سوائے اپنے باسی ہوجانے کے۔اچانک فضاء میں لہراتے پرندوں کی پروازیں منسوخ ہو گئیں۔مائی نے نظر گھما کر دیکھا تو پرندوں کو جہاں جگہ ملی تھی وہی سمٹ گئے اور جیسے چہکنا بھی بھول گئے ہوں۔فضاء میں غم کی لہر دوڑ گئی ۔ہوائیں سمٹنے لگیں۔شعلہ نما سورج چھپنا چاہتا تھا۔مائی سہم سی گئی،چھڑی سنبھالی اور لڑکھڑاتی ہوئی پھر سے بالکونی کا سہارا لیا۔گرم حمام کی ساتھ والی تنگ گلی سے ایک حجوم کوئی سر پر ٹوپی لیے تو کوئی رومال سے ڈھانپے برآمد ہورا تھا۔آہستہ آہستہ حجوم کا حجم بڑھتا گیا ،یہ کیا چار کندھوں پر ایک جنازہ اپنی آخری آرام گاہ تک جانے کیلئے تیار ہے۔

سب ہی مغموم تھے ،اُداس بھی لیکن سب ہی اُس بے جان مردے کو گاڑنے جا رہے تھے۔بے شک ہم زندوں کو مردہ وجود پسند نہیں سبھی سانس لیتی کلیوں کے طلبگار ہوتے ہیں ‘مجھ جیسی مُر جھائی یا اِس مُردے جیسی سوکھ کر اختتام پزیر ہو جانے والے گل کی قدر کون کرتا ہے بالکونی کی اُنچائی سے مردے کا کفن اور قرآنی آیتوں والی چادر سے سمٹا ہواساکت وجود یوں محسوس ہورا تھا جیسے فرشتوں نے ابھی سے حساب کتاب لینا شروع کر دیا ہو ۔خوف کے مارے مائی کے وجود میں کپکپی طاری ہوگئی۔گھبرا کر واپس لوٹی پر سنبھل نہ پائی اور وہی دیوار کے سہارے سمٹ کردو زانوں بیٹھ گئی۔مائی کو موت کے خیال نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔اُسے تاریک ،پتھریلی زمیں،بنا کھڑکی،بنا دروازے،بنا خوش نما پڑوسی،بنا چراغ،بنا پانی ،بنا بوریے،بنا بسترے،بنا کھانے ،بنا پینے ،بنا ہوا،بنا تپش ،بنا سردی ،بنا دوست، بنا عزیزو اقارب، بنا بہن بھائی ،بنا والدین اور بنا تمام لذتوں و آسائشوں کے قبر کی آغوش اور اپنی آخری کمین گاہ شدت سے نگاہوں کے سامنے طواف کرتی نظر آنے لگی۔ مائی کو یاد آیا کہ اب کیا کروں اب تو میرے پاس وقت بہت ہی کم بچا کے اور کام اتنے ہیں کہ لکھنے بیٹھوں تو ایک دیوان مرتب ہو جائے۔اور ہاں ابھی تو مجھے منکر ناکیر کے سوالوں کے جواب بھی یاد کرنے ہیں ۔وہ ماضی کے پرانے ورق آگے پیچھے کرنے لگی کہ شاید ہی کوئی اچھا اعمال یا کوئی نیکی مِل جائے۔مگر ماضی کی نیکی کی لائبریری میں موجود تمام کتابوں کے ورق گزشتہ کی طرح آج بھی بلکل کورے اور شفاف تھے۔ البتہ گناہوں اوربے حیائی کی لائبریریوں کے تمام ریک سیاہ ورقوں والی کتابوں سے کچا کچ بھرے پڑے تھے۔اُسے شدت سے یاد آرہا تھا کہ اُس نے کوئی بھی تو ایسا نہیں کیا جسے فخر سے قبر میں ساتھ لیجا سکے۔

یادوں کی فہرست بہت لمبی تھی۔چند سطروح پر نظر گئی تو کلیجہ تھام کر رہ گئی اور کاش کا لفظ پھر سے گردش کر نے لگا …کاش میں آوارگیوں میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کرتی…کاش میں والدین کی فرمانبردار بن کر رہتی…کاش نوجوان لڑکوں کی جھوٹی اور بے بنیاد باتوں میں نہ آتی…کاش نیکیوں کی ڈائریاں روز پُر کرتی کاش اذان کا احترام کرتی…کاش بڑھاپے پر ایمان رکھتی…کاش کچھ سامانِ آخرت جمع کر رکھتی کہ جیسے خشک سالی سے قبل عاقل آدم ذات غلہ محفوظ کرتے ہیں،کاش میں بیٹی ہی نہ ہوتی…کاش مجھے ایک موقع اور ملے اور دوبارہ جوان ہو جائوں اور اپنے گناہوں کا مداوا کر سکوں…کاش…کاش…کاش…وجود بے جان مجسمہِ حیرت بنا ہوا تھا۔دماغ کے نہاں خانوں میں ،اب تک کے ویرانوں میں،اُجاڑ سوچوں میں ناجانے آج وہ کونسی غیبی طاقت تھی جس کا نہ صرف پر پھلائے بسیراتھا ‘بلکہ اپنی مضبوط گرفت میں جکڑے بھی ہوئی تھی۔کیا !واقعی انسان کی نصیحت کیلئے موت ہی کاوجود آخری اور بہترین نشانی ہے؟مائی کوشاید آج نصیحت ہوچکی تھی۔پر یہ اب یہ کِس کام اور مقصد کی۔اُسے شدت سے اپنی ذات پر ندامت اور پشیمانی کا احساس ہورہا تھا۔آنسوئوں نے بل کھائے رُخساروں ،سمٹے اور ایک دوسرے میں دھنسے ہوئے ہونٹوں اور اُوجڑی جیسے ہاتھوںکو بے جان اُڈھڑے ہوئے پیروں تک تر کرنا شروع کر دیا تھا۔مائی گھٹنوں کو سمیٹے گلے میں پھنسائے ساکت بیٹھی رونے کا مظاہرہ کر رہی تھی۔انسان کی نصیحت کے لیے اللہ پاک کی ذات نے دنیا پہ کیا کچھ نہیں دکھایا ۔ہر پہلے کو دروسرے کیلئے تازہ ایڈیشن بنا کر مختلف طریقوں سے نصیحت و بہتری کی راہیں ہموار کیں۔بچہ پرائمری میں (ا۔ب۔پ) کے قائدے سے تعلیم کا آغاز کرتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ …پھر میٹرک… پھر اِسی طرح گریجویشن تک اُسے بہت سی مختلف اور مزید سمجھانے والی کتب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اِس طرح نصیحت پکڑتے چلے جانے کے ساتھ ساتھ اپنی مڈل کلاس کی غلطیوں کو سدھار لیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اُسے نایاب ڈگریوں سے نوازا بھی جاتا ہے۔مائی کو یہی بات ستائے جاتی تھی کہ اُس نے اب تک کیا سیکھا اور اُس پر عمل کتنا کیا۔حالانکہ کے پتھر کے دور کے انساں سے اگلے دور کے انساں نے سیکھا اورکانسی اور پھر لوہے کی دھات کا کامیاب دور دریافت ہوا’دھات کے دور کے انساں انجینیئروں اور سائنسدانوں کے لیے مشعلِ راہ بنے۔انسان ہی انسان کا مدد گار ثابت ہوا۔اگر پچھلوں کی غلطیوں کو اگلے دہراتے تو آج نہ ہی ہم ہوائی جہاز کے مسافر ہوتے اور نہ ہی انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے بانی۔غلطیاں دہرانے والے کامیابی کو چھونا تو دور کی بات ،کبھی انسان بھی نہیں بن سکتے۔قدیم عرب خواتین کا کیا حال کرتے تھے یا کِس قدر ومنزلیت کی نگاہ سے دیکھتے تھے یہ بات کوئی پسِ پردہ نہیں ،مگر اُن کی حماقتوں کو حضور کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے ناپسندیدہ کررار دیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ آج کی عورت نے اپنا مقام پایا۔ہر نئے آنے والے نے پہلے والے سے سیکھااُس کی غلطیوں کو نہ دوہرا کے کامیابیوں کو چھوا۔مائی کو شدت سے خیال آرہا تھا کہ مجھے اپنی نصیحت اموز سہلیوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے تھا۔اِس نے اپنی سہلیوں کے ساتھ ہو گزرنے والے کتنے ہی واقع فراموش کر رکھے تھے اور صرف اپنی ذات میں،اپنی موج مستی ،اپنے خیال میں جی رہی تھی۔آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہ لیتے تھے۔آنسوئوں کی تری نے چہرے اور ہاتھوں کی سلوٹوں کی پوشیدہ میل کو واضح کر دیا تھا۔سچ ہے کہ پشیمانی کا جی بھر کے رونا توبہ کے دروازوں کو اور بھی زیادہ کھلا اور وسیع کر دیتا ہے۔ اچانک مائی کو اپنی ایک گزرشتہ سہیلی ”ارم”کا خیال آیا کہ کِس طرح ایک نووجوان لڑکے نے (جو ارم کا بوائے فرینڈ تھا)کتنی ہوشیاری اور چالاکی سے پہلے ارم کے دِل میں مخصوص جگہ بنائی اور پھر ارم کونہ صرف اپنی ناجائز خواہشوں کی نظر کیابلکہ اپنے دوستوں کو بھی دعوتِ گناہ میں شریک ٹھہرایا۔ارم کے گھر والوں کی بدنامی اور رسوائی اور پھر گھر چھوڑ کے اُس شہر سے کوچ کرجانے کے مناظراور ارم کی گلے میں پھندہ لی ہوئی لاش جوکہ پنکھے سے لٹکی تھی۔ایک فلم کی مانند نگاہوں کے سامنے چل رہی تھی۔مگر کیا فائدہ مائی نے اُس عبرت ناک سانحہ سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کیا تھا۔

سب دنیا وی لذتیں آج بے معنی اور پھیکی محسوس ہو رہی تھیں۔مائی نے وسعی و عریض ،کشادہ آسمان کی جانب دیکھا اور ایک آہ بھر کے رہ گئی ۔ہمت کر کے اُٹھنے کی پھر کوشش کی مگر گھٹنوں اور وجود نے انکار کر دیا۔لڑکھڑا کر پھر وہی گر پڑی،سجدہ ریز ہوگئی … سنبھلی اور پھر پرانی پوزیشن میں سمٹ گئی…کاش کے میں جوان ہوتی تو دوڑ کے نیچے چلی جاتی…کاش میں جوان ہوتی تو کتنے ہی نوجوان ہاتھ مجھے سہارا دینے کے لیے آگے بڑھ جاتے…میں ذرا سا لڑکھڑاتی بھی تھی تو کئی دیوانے سنبھالنے کیلئے منتظر ہوتے تھے۔بظاہر تو آنسو خشک ہو چکے تھے یا یوں کہیں کہ بہہ بہہ کر ختم ہی ہو گئے تھے مگر من ابھی بھی آبدیدہ تھا۔ مائی ابھی وہی پرانے سامان کی طرح پڑی ماضی ٹٹول رہی تھی کہ اچانک ایک اور اُجڑی جیسا کانپتا ہوا ہاتھ( مگر مردانہ) مائی کو سہارا دینے کی غرض سے اُس کی جانب بڑھا۔ ہم نے اپنی اِس بے جان چھڑی کو سہارا بنا کے سارا گھر اُودھیڑ مارا اور آپ یہاں بیٹھی ہیں۔کانپتی ،کھانستی ،لرزتی،لہراتی مگر الفت بھری آواز نے مائی کو چونکا دیا۔مائی اپنے جیسے لرزتے ہاتھ کو تھام کر کھڑا ہونا ہی چاہتی تھی کہ سہارا دینے والا بزرگ بھی لہراسا گیا اور اِس بار دونوں زمین پر آ رہے۔مائی کی بوڑھی سی ہنسی نکل گئی۔ بس اب آپ بھی بوڑھے ہو گئے ہیں اب ہمارا وزن کہاں سہا جائے گا بھلا مگر بزرگ نے پھر سے جوش میں آ کرہمت کی خود کو سنبھالا اور بوڑھی مردانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پھر سے مائی کو سہارا دینے کی غرض سے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے روہانسی لہجے میں مخاطب کیا۔ابھی ہم اتنے بھی بوڑھے نہیں ہوئے کہ اپنی شریکِ حیات کا بوجھ نہ اُٹھا سکیں۔آپ تو آج بھی ہمارے لیے پھولوں کی سی نازک اور اُن کا ساہی وزن رکھتیں ہیں۔مائی کا سلوٹوں والا چہرہ سچ میں اِس بار بڑی عمر کے پھولوں کی مانند کِھل سا گیا تھا۔بزرگ نما بابے نے بظاہر اپنی بوڑھی مردانگی کو شرمندہ ہونے سے بچانے کی تمام تر کو ششیں کر ڈالیں اور تقریبا کامیاب بھی رہا۔ اِس بار سہارا دیتے ہوئے گرتے ،سنبھلتے لڑکھڑاتے وہ مائی کو چار پائی تک لے ہی گیا۔نہ جانے اِس بار مائی کی ٹانگوں میں بھی ایک غیبی سی طاقت اُمنڈ آئی تھی۔شاید یہ شریک حیات کے ساتھ ہونے کا احساس اور حوصلہ تھا۔دیکھا آپ کا بوجھ تو ہم مرتے دم تک اُٹھاتے رہیں گے۔بس آپ ہمیںیونہی اپنے پلو سے باندھے رکھیںاور سامنے بیٹھ کر مسکراتی جائیں۔بابے نے تیز سانس لیتے ہوئے کانپتی آواز میں کِسی فلمی چاکلیٹی ہیرو کی طرح لائن دوھرائی۔(بے شک جوانی کی نسبت بڑھاپے میں ازدواجی تعلقات کا احساس دس گناہ زیادہ ہو جاتا ہے اور شریکِ حیات سے دوری کا تصور بھی بھیانک محسوس ہوتا ہے۔شرط بس اتنی ہے کہ یہ ازدواجی تعلقات پہلے ہی ہوں ۔یعنی دوسری بیوی یا دوسرا خاوند کبھی مقامِ عظیم تک نہیں پہنچ سکتا/سکتے۔آزمائش شرط ہے پہلی بیوی یا پہلے خاوند کا پیار و محبت مرتے دم تک نظروں سے اوجھل نہیں ہوتا خواں کتنی ہی دوسری،تیسری، چوتھی کتنی ہی شادیاں کیوں نہ رچا لو ہمیشہ پہلا وار ہی کامیاب اور فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے)مائی اور بابا دونوں حسرتی نگاہوں سے ایک دوسرے کا طواف کرنے لگے۔مائی کو بابے کی اِن حرکتوں نے ایک اور جھٹکا دیا۔

کہاں گئے وہ سب درجن بھر سے زائد بوائے فرینڈ اور آگے پیچھے منڈلانے والے آوارہ بھنورے ؟کہاں گئی وہ قطاریں جو میری چاہت اور دوستی کی منتظر تھیں؟آج تو کوئی بھی بوائے فرینڈ یا دیوانہ نظر نہیں آ رہا۔سب اپنا مقصد پورا کر کے شام ہونے سے قبل ہی اپنی اپنی کمین گاہ کی جانب کبھی نہ لوٹنے کیلئے جا چکے ہیں۔آج تو کوئی بھی نہیں نہ کوئی دیوانہ، نہ مستانی،نہ کوئی بوائے فرینڈ ،نہ کوئی دوست شاید سب ہی مطلبی تھی۔اور مطلب تھا میری جوانی ،میری دوشیزگی،میری زنانہ خصلتیں، میری زنانہ خوبصورتی۔سب مطلب پرست تھے۔ آج تو کوئی بھی نہیں سوائے اُس کے جِس کو میرے پیارے والدین نے خاوند کی صورت چار کلموں کے ہمراہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تحت میرے سپرد کر کے مجھے رخصت کر دیا تھا۔ آج میرا مزاجی خدا ہی میرا سرمایہ حیات ہے ۔ مائی نے بابے کی جانب بوڑھی مُسکراہٹ لٹاتے ہوئے ایک سیکنڈ کے ہزاروے حصے میںکتنا کچھ سوچ لیا تھا۔اوئے بابے ! کیا میرا بوائے فرینڈ بنے گا؟مائی نے تھرتھراتے ہوئے لبوں سے بوڑھا سا ایک شرمیلا جملہ بنا کِسی شرم وحیاء کے ادا کیا۔آپ تو ازل سے ہماری گرل فرینڈ ہیں اور ہم آپ کے ہیں !”بوائے فرینڈ”بابا تھرتھرا رہا تھا مگر پورے ہوش وحواس میں تھا۔سچ میں بوڑھاپے نے اِس کے ازدواجی تعلقات کو اور مضبوطی سے گراہ لگا دی تھی۔کاش اللہ پاک میری گزشتہ ساری خطائیں معاف فرمادے اور مجھے یقین ہے وہ بہترین معاف کرنے والارحیم و کریم ہے۔میری اپنی بربادی کے بعد تجھ سے بس اب یہی آخری التجاء اور دعاہے ! اے پروردگار میری پوتیوں اور نواسیوں کو سیدھی راہ دکھانا ۔وہ گمراہیوں کی راہ پر بھٹکنے سے محفوظ رہیں۔وہ اچھے اور بُرے ،محرم اور غیر محرم میں تمیز جان سکیںاور تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تونے مجھے بیٹی ہی بنایا کہ بیٹی ہی تو ماں ہے اور ماں کے قدموں تلے جنت ہے اور دنیا کی تمام تر خواتین خاص کر نوجوان لڑکیوں(بیٹیوں) کو اپنی عظیم عزت و عصمت کو نایاب اور محفوظ رکھنے کی ہدایت عطا فرما۔دِل کی گہرائیوں نے آمین کہا۔

مائی یہ سوچتے ہوئے بابے کی گود میں بکھر گئی ۔ملک الموت کا دیدار ہوا اور روح وجود سے جدا ہوگئی۔ مِنسا اُٹھو دیر ہو رہی ہے۔آج کالج نہیں جانا کیا ؟مِنسا نے ماں کی پُرلطف آواز پر آنکھیں کھولی اور کمرے کو باغور دیکھنے لگی ۔وہ سوچ رہی تھی کہ یہ میں اِس وقت جنت میں ہوں یا دوزخ میں ؟کیونکہ اُس کی نظر میں وہ مر چکی تھی۔جلد ہی اُسے اِس بات کا احساس ہو گیا کہ وہ ایک عبرت ناک خواب دیکھ رہی تھی۔اُس نے قریبی سنگہار آئینہ میں خود کو دیکھا تو اُس کی خوشی کی انتہاء نہ رہی ،وہی جواں دوشیزگی،وہی مضبوط اور بھرا ہوا وجود،وہی خوبصورت اور بڑی بڑی آنکھیں،وہی جوانی وہی معصومیت…ساری نعمتیں برقرار تھیں۔مِنسا نے اُٹھ کر فورا ًاللہ پاک کی ذات کا شکر ادا کیا کہ وہ زندہ ہے اور اُسے اپنی کاش اور غفلتوں کو سدھارنے کا موقع مِل گیا ہے ۔مِنسا فوراً اپنی دنیاوی جنت کے قدموں میں گرپڑی …اور اللہ پاک کی ذات کا انتہائی شکر ادا کیا …یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شُکر ہے کہ میں بیٹی ہوں اور اپنے گزشتہ شکووں سے توبہ بھی کی۔ مما جانی مجھے معاف کر دیں میں اب کبھی آپ کا یا پاپا کا دِل نہیں دکھائوں گی اور ہمیشہ آپ کے کہے پر عمل کرتے ہوئے زندگی کو محفوظ تر بنا کر رکھوں گی۔اور آپ جہاں کہیں گی میں وہی شادی رچا لونگی۔یقینا والدین بچوں کا بہتر ہی چاہتے ہیں۔ کل سے مجھے بھی فجر میں اُٹھانا اور ہاں نماز کے بعد ناشتہ بھی میں خود ہی بنائوں گی۔اِس سے پہلے کی ماں کوئی سوال کرتی مِنسا ماں کو حیرانگی کے عالم میں ہی چھوڑ کر باتھ روم کی جانب بڑھ گئی۔اور ماں مسکرا کر دوبارہ ناشتہ بنانے میں مصروف ہو گئی۔ مِنسا کی زندگی بدل چکی تھی ۔وہ آج کالج کیلئے گھر سے اِس نیت سے نکلی کہ جیسے آج ہی اُس کا نیا جنم ہوا ہو ۔کالج میں آج اُس کی نگاہیں کِسی شرمیلی آبرو و عزت کی محافظ دوشیزہ کی مانند چھکی ہوئی تھیں۔وہ بار بار اللہ پاک کی ذات کا شکر ادا کر رہی تھی کہ اُس عظیم ہستی نے اُسے ایک خواب میں زندگی کی حقیقت ،بلندی اور پستی سب کچھ دکھا دیا تھا۔آج اُس نے شہری (اپنے بوائے فرینڈ) کو بھی صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اب ہم تنہائی میں تو کیا سب کے سامنے بھی کبھی نہیں ملیں گے کیوںکہ تم میرے لیے ایک غیر محرم ہو ۔مجھے مرنا بھی ہے اور اُس رب کے سامنے پیش بھی ہونا ہے جِس نے مجھے زندہ کیا اور دوبارہ مارے گا اور پھر بروزِ حشر زندہ کرے گا۔اگر تم واقعی مجھ سے سچی لگن رکھتے ہو تو اپنے والدین کو میرے گھر بھیجو ۔باقاعدہ رشتہ مانگیں مجھے کوئی انکار نہ ہوگا اور ہاں مجھے تمہیں یقین دلاتی ہوں کہ اگر میرے والدین نے میری رائے مانگی تو میرا فیصلہ مثبت اور تمہارے حق میں ہوگا۔آج تک تم لڑکے ہم لڑکیوں کا متحان لیتے آئے ہو آج تمہارا امتحان ہے ۔اگر سچ میں مجھے اپنا چاہتے ہوتو بے شک جب مرضی رشتہ بھیج سکتے ہو ۔باقی رہی ہمارے تعلقات کی بات تو میں اپنی گزشتہ زندگی کی گڑگڑا کر اللہ کاپ سے معافی مانگ چکی ہوں اور سچی توبی بھی کر لی ہے ۔میرا عقیدہ مضبوط ہے اور پختہ یقینِ کامل ہے میرا رب مجھے ضرور معاف کر چکا ہوگا ۔کیوں کہ اُس کے ہاں توبہ کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔اور رہی گرل فرینڈ ،بوائے فرینڈ کی بات تو یہ رشتہ ہم رشتہِ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد بھی تو نبھا سکتے ہیں ۔شادی کے بعد بھی تو آپس میں گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بنا جا سکتا ہے۔خیر اب ایک غیر محرم سے زیادہ باتیں کر کے میں مزید گناہ گار ہونا نہیں چاہتی۔نکاح سے قبل تک تم میرے لیے ایک غیر محرم ہی رہو گے۔

ہاں آج کے بعد کبھی مجھے کہی بھی روکنے کی کوشش بھی نہ کرنا ورنہ تمہارے لیے بہتر نہ ہوگا ۔یہاں تک کہ میں ایک محرم کے سوال کا جواب بھی دینا مناسب نہیں سمجھتی۔ مِنسا راہِ حق نظر آچکی تھی اور سب سے بڑی بات کے اُس نے اُس پر سفر بھی جاری کر دیا۔راہِ حق اور اچھے بُرے کی تمیز تو ہمیں بھی خوب ہے وہ اور بات ہے کہ ہم نے کبوتر کی طرح بِلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرنے کی مشق کر رکھی ہے۔ مِنسا کو توعبرت ناک خواب کے ذریعے اپنی آئندہ اور گزشتہ زندگی کو سدھارنے کا موقع مِل گیا۔میری بہنوں ! کیا آپ مِنسا والے واقع سے کوئی سبق حاصل نہیں کریں گی۔ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا…جوانی وہی ہے،سورج ویسے ہی روشن ہے،چاند ستاروں کی بھی روشنائی ابھی ماند نہیں پڑی،وجود کی طاقت اور شباب بھی جواں ہی ہے،سب کچھ نیا ہی ہے۔ ابھی تو آپ بھی پُرانی نہیں ہوئیں۔

تحریر : محمد علی رانا(حوالہ : کتاب کاش میں بیٹی نہ ہوتی)۔

Rate this item
(0 votes)
  • Last modified on Thursday, 29 May 2014 21:47
  • font size