رباعی کے اوزان

  • Sunday, 06 October 2013 03:00
  • Published in عروض
  • Read 1990 times
رباعی کے اوزان All images are copyrighted to their respective owners

اصنافِ سخن میں رباعی ایک خاصے کی چیز ہے، چار مصرعوں میں جامع سے جامع مضمون کو خوبصورتی سے مکمل کر دینا دریا کو کوزے میں بند کر دینے کے مترادف ہے۔

 رباعی عربی لفظ رُبَع سے ہے جسکا مطلب چار ہے یعنی اس میں چار مصرعے ہوتے ہیں، رباعی کو دو بیتی اور ترانہ وغیرہ بھی کہا جاتا ہے۔ اردو شاعری فارسی سے اور فارسی شاعری عربی شاعری سے نکلی ہے لیکن رباعی خالصتاً فارسی شعراء کی ایجاد ہے۔ رباعی کی ابتدا کے متعلق بہت سی ابحاث، واقعات اور حکایات ملتی ہیں، جنہیں طوالت کے خوف سے چھوڑتا ہوں۔

 رباعی کے اوزان مخصوص ہیں، بحر ہزج کے چوبیس وزن رباعی کے لیئے مخصوص ہیں، جن میں غزل، نظم وغیرہ کہنا بھی جائز ہے، لیکن ان اوزان کے علاوہ اگر دو یا زیادہ شعر کسی اور وزن میں ہوں تو وہ رباعی نہیں بلکہ قطعہ کہلاتے ہیں، رباعی کے اوزان پر تفصیلی اور جامع بحث اگلے مضمون میں آرہی ہے۔ رباعی کا پہلا، دوسرا، اور چوتھا مصرع ہم قافیہ ہوتے ہیں، تیسرے مصرعے میں بھی قافیہ لایا جا سکتا ہے۔ رباعی کی خوبصورتی کا دار و مدار چوتھے مصرعے پر ہوتا ہے جس کے حسن اور برجستگی سے پہلے تین مصرعوں کو بھی چار چاند لگ جاتے ہیں۔

 رباعی کا کوئی مخصوص موضوع نہیں ہوتا، لیکن شعراء کرام کی روایت رہی ہے کہ رباعی میں زیادہ تر پند و نصائح، تصوف، حمد، نعت، منقبت، فلسفہ، اخلاقیات اور دنیا کی بے ثباتی وغیرہ کے موضوع بیان کرتے ہیں۔ عشقیہ رباعیاں خال خال ہی ملتی ہیں۔

 فارسی شاعری کا باوا آدم، رودکی، رباعی کا اولین شاعر مانا جاتا ہے، رودکی کے علاوہ بابا طاہر عریاں، سرمد شہید، ابوسعید ابوالخیر، فرید الدین عطار، حافظ شیرازی اور شیخ سعدی وغیرہ معروف و مشہور رباعی گو ہیں لیکن فارسی شاعری میں جس شاعر کا نام رباعی گو کی حیثیت سے امر ہو گیا ہے وہ عمر خیام ہے۔

 فارسی شعرا کے تتبع میں اردو شعرا نے بھی رباعی گوئی میں اپنی اپنی طبع کی جولانیاں دکھائی ہیں۔ مشہور اردو رباعی گو شعرا میں میر تقی میر، سودا، میر درد، میر انیس، غالب، ذوق، مومن، حالی، اکبر الہ آبادی وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن جس شاعر نے صحیح معنوں میں اردو رباعی سے کام لیا ہے وہ علامہ اقبال ہیں۔ غالب کی طرح علامہ نے بھی اردو اور فارسی میں رباعیاں کہی ہیں اور کیا کمال کہی ہیں۔

 اقبال کی رباعیات، رباعی کے مروجہ اوزان کی قید میں نہیں ہیں، لیکن اقبال نے اپنی کتب میں انہیں رباعی ہی کہا ہے، اسطرف ایک اشارہ سید قدرت اللہ نقوی نے کیا ہے لیکن اس موضوع پر باوجود تلاش کے مجھے مواد نہیں مل سکا۔ میری ناقص سمجھ میں یہی آتا ہے کہ اقبال نے اس سلسلے میں بابا طاہر عریاں کا تتبع کیا ہے۔ بابا طاہر کی دوبیتیاں عموماً رباعیات ہی سمجھی جاتی ہیں لیکن ان کے اوزان بھی رباعی کے مروجہ اوزان سے مختلف ہیں۔ اس موضوع پر کچھ اور بحث آگے ایک استفسار میں آ رہی ہے، فی الوقت یہ کہ اس کتاب میں میں نے وہی رباعیات شامل کی ہیں جو رباعی کے چوبیس اوزان میں ہیں سو اس میں علامہ اقبال کی رباعیات یا قطعات شامل نہیں ہیں۔

 اقبال کے بعد، افسوس، اردو رباعی کا چلن بہت کم رہ گیا ہے۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ہوئی کہ ترقی پسند تحریک اور "جدیدیت" کی لہر میں جب نئے اردو شعرا نے شاعری میں تجربات کیے اور آزاد نظم کا چلن عام ہوا تو اس سے کلاسیکی اصنافِ سخن پیچھے چلی گئیں، نہ صرف انکا رواج کم ہو گیا بلکہ ایک طرح سے ان سے نفرت بھی کی گئی۔ مشہور ناقد سلیم احمد نے اس کلاسیکیت کی مخالفت میں غزل کو بھی "وحشی صنفِ سخن" کہہ دیا۔ اور یہی کچھ حال رباعی کے ساتھ ہوا۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ رباعی کے اوزان پر عبور حاصل کرنا عمومآ مشکل سمجھا جاتا ہے کیونکہ معمولی سی غلطی سے رباعی کا وزن خراب ہو جاتا ہے اس لیے عام طور پر رباعی کی صنف میں وہی شعرا طبع آزمائی کرتے ہیں جن کو اس کے اوزان پر عبور حاصل ہوتا ہے۔

 اقبال کے بعد کے معروف رباعی گو شعرا میں جوش، فانی، فراق، شمس الرحمن فاروقی اور صبا اکبر آبادی وغیرہ کے نام ہیں۔ احمد فراز اور ناصر کاظمی نے بھی چند ایک رباعیاں کہی ہیں لیکن جن شعرا نے اس دور میں بالالتزام رباعیاں کہی ہیں ان میں عبدالعزیز خالد، صادقین اور امجد حیدرآبادی کے نام اہم ہیں۔

 

 رباعی کے اوزان پر ایک بحث

 رباعی بھی خاصے کی چیز ہے، قدما اس کے چوبیس وزن بنا گئے سو عام شعرا کو اس سے متنفر کرنے کیلیے یہی کافی ہے کہ رباعی کے چوبیس وزن ہیں، حالانکہ اگر تھوڑا سا تدبر و تفکر کیا جائے اور ان اوزان کو ایک خاص منطقی ترتیب اور انداز سے سمجھا جائے تو ان اوزان کو یاد رکھنا اور ان پر عبور حاصل کرنا کچھ مشکل نہیں ہے، اور یہ مضمون بنیادی طور پر اسی موضوع پر ہے جس میں رباعی کے اوزان کو ایک خاص ترتیب سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

 ایک عرض یہ کرتا چلوں کہ ضروری نہیں کہ ایک رباعی میں مخلتف اوزان ہی اکھٹے کیے جائیں، اگر ایک ہی وزن میں چاروں مصرعے ہوں تو پھر بھی رباعی ہے اور اگر ایک ہی وزن میں بیسیوں رباعیاں ہوں تو پھر بھی رباعیاں ہی ہیں لیکن اس میں مختلف اوزان کو اکھٹا کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ شاعر اپنے مافی الضمیر کو بہتر سے بہتر انداز میں اور مختلف الفاظ کے چناؤ کے ساتھ بیان کر سکتا ہے اور پھر بنیادی طور ان اوزان میں فرق بھی بہت تھوڑا ہے، جس سے آہنگ پر فرق نہیں پڑتا، مثال کے طور پر، چوبیس میں سے بارہ اوزان تو صرف فع کو فاع اور فعِل کو فعول سے بدلنے سے حاصل ہو جاتے ہیں، تفصیل انشاءاللہ نیچے آئے گی۔

 

 رباعی کی بحر، افاعیل اور انکی ترتیب

 رباعی کی بحر، بحرِ ہزج ہے جسکا بنیادی رکن مفاعیلن ہے اور اسی مفاعیلن کے مختلف وزن ہی، جو مختلف زحافات کے استعمال سے حاصل ہوتے ہیں، اس میں استعمال ہوتے ہیں۔

رباعی میں دس افاعیل آتے ہیں، جو کہ مفاعیلن ہی سے حاصل ہوتے ہیں، زحافات کے نام اور ان کے استعمال کا طریقہ لکھ کر اس مضمون کو بالکل ہی ناقابلِ برداشت نہیں بنانا چاہتا، صرف افاعیل لکھ رہا ہوں۔

  مفاعیلن  مفاعیل  مفعولن  مفاعلن  مفعول  فاعلن  فعول  فَعِلفاعفع

 اس میں نوٹ کرنے کی خاص بات یہ ہے کہ فعولن اس فہرست میں نہیں ہے، یعنی فعولن جو کہ مفاعیلن سے حاصل ہونے والا ایک انتہائی مستعمل رکن ہے وہ رباعی میں نہیں آتا، اگر آئے گا تو رباعی کا وزن خراب ہو جائے گا۔

 

کسی بھی مثمن بحر کی طرح، رباعی کی بحر کے بھی چار رکن ہیں یعنی

صدر (یا ابتدا)حشوحشوعرض (یا ضرب)

 اور نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ اوپر والے دس افاعیل میں سے جو بھی چار بحر میں استعمال ہونگے انکی اس بحر کی ترتیب میں اپنی اپنی جگہ مخصوص ہے، جیسےصدر یعنی پہلے رکن میں ہمیشہ مفعول آئے گا یا مفعولن، کوئی اور رکن نہیں آ سکتا۔ضرب یعنی چوتھے رکن میں ہمیشہ فع، فاع، فعِل اور فعول میں سے کوئی ایک آئے گا، اور کوئی رکن نہیں آ سکتا۔مفاعلن اور فاعلن ہمیشہ پہلے حشو یعنی دوسرے رکن میں ہی آئیں گے، اور کسی بھی جگہ نہیں آ سکتے۔مفاعیلن اور مفاعیل دونوں حشو میں یعنی دوسرے اور تیسرے رکن میں آسکتے ہیں، کسی اور جگہ نہیں آتے۔مفاعیلن اور مفاعیل کے علاوہ، مفعولن، مفعول بھی دونوں حشو میں آ سکتے ہیں۔

 اسکے علاوہ، رباعی کے مختلف افاعیل کی ترتیب یاد رکھنے میں قدما کا جو کلیہ سب سے اہم ہے وہ کچھ یوں ہے جو کہ مرزا یاس یگانہ نے اپنی کتاب "چراغِ سخن" میں لکھا ہے۔

 سبب پئے سبب و وتد پئے وتد

 یوں سمجھیے کہ یہی رباعی کے اوزان کی کلید ہے یعنی ایک سبب کے بعد ہمیشہ سبب آئے گا اور ایک وتد کے بعد ہمیشہ وتد آئے گا، مثال کے طور پر، ایک شاعر ایک رباعی شروع کرتا ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ رباعی یا تو مفعول سے شروع ہوگی یا مفععولن سے۔

 فرض کریں، رباعی مفعول سے شروع ہوتی ہے، یعنی پہلا رکن مفعول ہو گیا، اب دوسرے رکن میں جو تمام افاعیل آ سکتے ہیں وہ یہ ہیں

مفاعیلنمفاعیلمفاعلنمفعولنمفعولفاعلن

 اب اس بنیادی کلیے کو ذہن میں رکھیے کہ سبب کے بعد سبب اور وتد کے بعد وتد، پہلا رکن مفعول ہے جو کہ وتد پر ختم ہو رہا ہے سو اگلا رکن لازمی وتد سے شروع ہوگا، اوپر والی فہرست میں جو افاعیل وتد سے شروع ہو رہے ہیں وہ یہ ہیں

مفاعیلنمفاعیلمفاعلن

 یعنی مفعول کے بعد اب صرف ان تین میں سے کوئی رکن آئے گا، فرض کریں مفاعیل آیا اور ہمارے پاس دو رکن ہو گئے یعنی مفعول مفاعیل ،اب مفاعیل بھی وتد پر ختم ہو رہا ہے سو اگلا رکن بھی لازمی وتد سے شروع ہوگا، یہ پھر تین ہیں، مفاعیلن، مفاعیل، مفاعلن لیکن ہم جانتے ہیں کہ مفاعلن تیسرے رکن میں نہیں آ سکتا سو مفاعیلن اور مفاعیل میں سے کوئی آئے گا، فرض کریں مفاعیلن لیا تو اب تین رکن ہو گئے

 مفعول مفاعیل مفاعیلن

 اب رہ گیا چوتھا رکن، جس میں فع، فاع، فعِل اور فعول ہی آ سکتے ہیں، کلیہ ذہن میں رکھیے، مفاعیلن سبب پر ختم ہو رہا ہے سو اگلا رکن سبب سے شروع ہوگا، وہ فع ہے سو رباعی کا وزن مل گیا

 مفعول مفاعیل مفاعیلن فع

 اب کسی بھی بحر کی طرح، آخری رکن میں عملِ تسبیغ کی یہاں بھی اجازت ہے سو فع کو فاع کریں اور دوسرا وزن بھی مل گیا

 مفعول مفاعیل مفاعیلن فاع

 اوپر والے کلیات کو استعمال کرتے ہوئے ہم نے رباعی کے دو وزن حاصل کر لیے، اب انہی کی مدد سے ہم رباعی کے سارے وزن یعنی چوبیس حاصل کریں گے۔

 اساتذہ نے رباعی کو دو شجروں میں تقسیم کیا ہے، جو رباعی مفعول سے شروع ہوتی ہے، اسکے بارہ اوزان کو شجرۂ اخرب کہتے ہیں اور جو رباعی مفعولن سے شروع ہوتی ہے اسکے بارہ اوزان کو شجرۂ اخرم کہتے ہیں، اور یہ دونوں نام بھی زحافات کے نام پر ہیں۔ یہاں ایک وضاحت یہ کہ بعض قدیم اساتذہ نے اخرب اور اخرم اوزان کو ایک ہی رباعی میں باندھنے سے منع کیا ہے، لیکن اس بات کو کوئی بھی رباعی گو شاعر نہیں مانتا اور بلاتکلف اخرب اور اخرم کے اوزان ایک ہی رباعی میں جمع کرتے ہیں۔

 شجرۂ اخرب اور اسکے بارہ اوزان

 ان اوزان کو شجرہ کہا جاتا ہے لیکن اس خاکسار کے محدود مطالعے میں عروض کی کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جس میں اس کو ایک شجرہ کی طرح واضح کیا گیا ہو، خاکسار یہ کوشش کر رہا ہے، ممکن ہے کسی کتاب میں اسے اس صورت میں لکھا گیا ہو، شجرے کی تصویر دیکھیے،

 اب اس شجرہ کو اوپر والے اصولوں کی روشنی میں کھول کر بیان کرتا ہوں۔

 جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس شجرہ میں پہلے رکن میں ہمیشہ مفعول آتا ہے جو وتد پہ ختم ہوتا ہے سو اگلا رکن مفاعیلن، مفاعیل اور مفاعلن ہونگے جو کہ وتد سے شروع ہوتے ہیں، سب سے پہلے مفاعیلن کو لیتے ہیں سومفعول مفاعیلن یہ سبب پر ختم ہوا سو اگلا رکن لازمی سبب سے شروع ہوگا جو کہ تین ہیں یعنی مفعولن، مفعول اور فاعلن لیکن ہم جانتے ہیں کہ تیسرے رکن میں فاعلن نہیں آ سکتا سو صرف دو رہ گئے، مفعولن اور مفعول اور ان دو افاعیل سے یہ اوزان حاصل ہوئے

 مفعول مفاعیلن مفعولنمفعول مفاعیلن مفعول

 

 اب مفعولن سبب پر ختم ہوا سو اگلا رکن فع ہوگا جو کہ سبب ہے سو پہلا مکمل وزن مل گیا

 

 مفعول مفاعیلن مفعولن فع (وزن نمبر ۱)

 فع کو فاع سے بدلیں دوسرا وزن حاصل ہو گیا

 مفعول مفاعیلن مفعولن فاع (وزن نمبر ۲)

 اب تیسرے رکن میں مفعول کو لیں تو یہ وتد پر ختم ہوا سو چوتھا رکن وتد سے شروع ہوگا جو فعِل ہے سو

 مفعول مفاعیلن مفعول فعِل (وزن نمبر ۳)

 فعِل کو فعول سے بدل لیں، ایک اور وزن مل گیا

 مفعول مفاعیلن مفعول فعول (وزن نمبر ۴)

 اب پھر دوسرے رکن پر چلتے ہیں اور اگلے چار وزن حاصل کرتے ہیں، مفعول کے بعد مفاعیل لائے یعنی مفعول مفاعیل

 مفاعیل وتد پر ختم ہوا سو اگلا رکن وتد سے شروع ہوگا، مفاعلن یہاں نہیں آ سکتا سو مفاعیلن یا مفاعیل ہونگے یعنی

 مفعول مفاعیل مفاعیلنمفعول مفاعیل مفاعیل

 مفاعیلن سبب پر ختم ہوا سو فع آئے گا یعنی

 مفعول مفاعیل مفاعیلن فع (وزن نمبر ۵)

 مفعول مفاعیل مفاعیلن فاع (وزن نمبر ۶)

 تیسرے رکن میں مفاعیل لائیے جو وتد پر ختم ہوا سو اگلا رکن فعِل ہوا

 مفعول مفاعیل مفاعیل فعِل (وزن نمبر ۷)

 مفعول مفاعیل مفاعیل فعول (وزن نمبر ۸)

 آٹھ وزن مل گئے، اگلے چار دوسرے رکن میں مفاعلن لانے سے ملیں گے یعنی مفعول مفاعلن

 یہ بھی وتد پر ختم ہوا سو اگلا رکن وتد سے شروع ہوگا جو کہ دو ہیں، مفاعیلن اور مفاعیل کیونکہ مفاعلن تیسرے رکن میں نہیں آ سکتا

 مفعول مفاعلن مفاعیلنمفعول مفاعلن مفاعیل

 مفاعیلن کے ساتھ فع آئے گا سو

 مفعول مفاعلن مفاعیلن فع (وزن نمبر ۹)

 مفعول مفاعلن مفاعیلن فاع (وزن نمبر ۱۰)

 مفاعیل کے ساتھ فعِل آئے گا سو

 مفعول مفاعلن مفاعیل فعِل (وزن نمبر ۱۱)

 مفعول مفاعلن مفاعیل فعول (وزن نمبر ۱۲)

 گویا ایک خاص ترتیب سے چلتے ہوئے ہمیں رباعی کے بارہ وزن مل گئے، اگلے بارہ وزن شجرہ اخرم کے ہیں اور اسی طرح حاصل ہونگے۔

 شجرۂ اخرم اور اسکے بارہ اوزان

 پہلے اس شجرہ کی تصویر دیکھ لیں،

 جیسا کہ ہمیں علم ہے کہ یہ شجرہ ہمیشہ مفعولن سے شروع ہوتا ہے جو کہ سبب پر ختم ہوتا ہے سو دوسرا رکن سبب ہی سے شروع ہوگا، جو کہ تین ہیں، مفعولن، مفعول اور فاعلن۔ مفعولن سے شروع کرتے ہیں

 مفعولن مفعولن

 یہ بھی سبب پر ختم ہوا سو تیسرا رکن بھی سبب سے شروع ہوگا، وہ دو ہیں، مفعولن اور مفعول کیونکہ فاعلن یہاں نہیں آ سکتا سو

 مفعولن مفعولن مفعولنمفعولن مفعولن مفعول

 مفعولن سبب پر ختم ہوا سو لازمی طور پر اگلا رکن سبب سے شروع ہوگا جو فع ہے سو

 مفعولن مفعولن مفعولن فع (وزن نمبر۱؍

اور فع کو فاع سے بدلیں تو

 مفعولن مفعولن مفعولن فاع (وزن نمبر۲؍

تیسرے رکن میں مفعول لائیں جو وتد پر ختم ہوا سو چوتھا رکن لازمی فعِل ہوگا سو

 مفعولن مفعولن مفعول فعِل (وزن نمبر ۳)

 اور فعِل کو فعول سے بدلیں تو

 مفعولن مفعولن مفعول فعول (وزن نمبر ۴)

 اب واپس دوسرے رکن پر چلتے ہیں اور مفعولن کے بعد مفعول لاتے ہیں یعنی

 مفعولن مفعول

 اب مفعول وتد پر ختم ہوا، تیسرا رکن لازمی وتد سے شروع ہوگا، یہ تین ہیں، مفاعیلن مفاعیل اور مفاعلن لیکن ہم جانتے ہیں کہ مفاعلن کبھی بھی تیسرے رکن میں نہیں آئے گا سو دو رہ گئے، مفاعیلن اور مفاعیل یعنی

 مفعولن مفعول مفاعیلنمفعولن مفعول مفاعیل

 مفاعیلن کے بعد فع آیا تو

 مفعولن مفعول مفاعیلن فع (وزن نمبر ۵)

 اور

 مفعولن مفعول مفاعیلن فاع (وزن نمبر ۶)

 اب تیسرے رکن میں مفاعیل لائیں تو یہ وتد پر ختم ہوا سو اسکے بعد فعِل آیا یعنی

 مفعولن مفعول مفاعیل فعِل (وزن نمبر ۷)

 اور مفعولن مفعول مفاعیل فعول (وزن نمبر ۸)

 اب واپس دوسرے رکن کی طرف چلتے ہیں وہاں ہم فاعلن کو چھوڑ آئے تھے، اس کو لائیں گے تو مزید چار وزن مل جائیں گے۔

 مفعولن فاعلن

 فاعلن وتد پر ختم ہوا سو اگلا رکن مفاعیلن، مفاعیل یا مفاعلن ہوگا، مفاعلن باہر ہوگیا تو مفاعیلن اور مفاعیل رہ گئے

 مفعولن فاعلن مفاعیلنمفعولن فاعلن مفاعیل

 مفاعیلن کے بعد فع آیا تو

 مفعولن فاعلن مفاعیلن فع (وزن نمبر ۹)

 اور

 مفعولن فاعلن مفاعیلن فاع (وزن نمبر ۱۰)

 تیسرے رکن میں مفاعیل لائے تو اسکے بعد فعِل آیا سو

 مفعولن فاعلن مفاعیل فعِل (وزن نمبر ۱۱)

 اور مفعولن فاعلن مفاعیل فعول (وزن نمبر ۱۲)

 اور یوں ہمیں سبب پئے سبب و وتد پئے وتدکے اصول اور افاعیل و ارکان کی خاص ترتیب پر چلتے ہوئے دونوں شجروں کے بارہ بارہ اوزان یعنی کل چوبیس وزن مل گئے۔

 یہ وہ طریقہ جس کو سمجھتے ہوئے اس خاکسار نے رباعی کے اوزان کو سمجھا، اسکے علاوہ بھی کئی ایک طریقے ہیں لیکن میں نے اس میں کوشش کی ہے کہ اوزان کو ایک خاص منطقی ترتیب سے لاؤں، امید ہے قارئین کیلیے یہ طریقہ رباعی کے اوزان سمجھنے کیلیے کارآمد اور فائدہ مند ہوگا۔

 محمد وارث

Rate this item
(1 Vote)
  • Last modified on Friday, 01 April 2016 20:27
  • font size