10 July 2016 Read 532 times

تحریر : عصمت چغتائی

23 June 2016 Read 394 times

تحریر: کرشن چندر

23 June 2016 Read 381 times

تحریر: سعادت حسن منٹو

20 June 2016 Read 447 times

تحریر : یاسر پیرزادہ

20 June 2016 Read 424 times

تحریر : ربیعہ کنول مرزا

17 June 2016 Read 205 times

تحریر: سعادت حسن منٹو

10 April 2016 Read 522 times

مگر اس لحاف نے تو ایسی عجیب عجیب شکلیں بنانی شروع کیں کہ میں ڈر گئی۔ معلوم ہوتا تھا غوں غوں کرکے کوئی بڑا سا مینڈک پھول رہا ہے اور اب اچھل کر میرے اوپر آیا۔

21 March 2016 Read 644 times

سہیل کے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ ندامت بھی تھی۔وہ ایک بارپھر یاسر کے اخلاق اور سچی دوستی کا قائل ہوگیا

05 October 2013 Read 2762 times

پرائے راستے اور اپنے ہم سفرحنیفاں بی بی زوجہ منظور الٰہی مہینے میں ایک بار اپنے یہاں مجلس کروایا کرتی تھیں۔ بڑے کمرے کی تین

04 October 2013 Read 1619 times

تارا بائی صبح کو بیڈ روم میں چائے لاتی ہے بڑی عقیدت سے صاحب کے جوتوں پر پالش اور کپڑوں پراستری کرتی ہے ، ان کے شیو کا پانی لگاتی ہے ،

04 October 2013 Read 1843 times

پریوں کی سرزمین کو ایک راستہ جاتا ہے شاہ بلوط اور صنوبر کے جنگلوں میں سے گزرتا ہوا جہاں روپہلی ندیوں کے کنارے چیری اور بادام کے

04 October 2013 Read 1751 times

   جیسے کہیں خواب میں جنجر آخر کیا ہو گا ‘‘۔ فکرِ جہاں کھا ی رہے۔ وہ اپنے پیر ذرا اور نہ سیراجرز یا ڈائنا ڈربن کی آواز میں ’’سان فرینڈ وویلی‘‘ کا نغمہ گایا جا رہا ہو اور پھر ایک دم سے 

04 October 2013 Read 1427 times

کرتار سنگھ نے اونچی آواز میں ایک اور گیت گانا شروع کر دیا۔ وہ بہت دیر سے ماہیا الاپ رہا تھا جس کو سنتے سنتے حمیدہ کرتار سنگھ کی پنکج جیسی

04 October 2013 Read 1383 times

کمرہ دھوئیں سے بھر گیا اس قدر گہرے دھوئیں سے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہیں دے رہا تھا۔۔ اور پھر وہ بے ہوش ہوتے چلے گئےہوش آیا تو سب کے

04 October 2013 Read 1437 times

آپ لوگ مجھے اس طرح کیوں گھور رہے ہیں۔۔ آپ کو اپنے زخم کے بارے میں وضاحت کرنا ہو گی۔۔ انسپکٹر جمشید بولے۔۔ لیکن زخم کا چکر

04 October 2013 Read 1433 times

خوف زدہ ہونے سے کام نہیں چلے گا جناب۔۔ آپ سب کو پوری طرح ہوشیار رہنا ہو گا۔۔ چوکنے رہیے۔۔نہ جانے وہ کس رخ سے وار کرے گا کم از کم

04 October 2013 Read 1578 times

چند لمحے تک مکمل سکوت طاری رہا۔۔ پھر خان بدیع نے کہا۔ واقعی۔۔ ان کی حیرت انگیز صلاحیتیں دیکھ کر ہم حیران ہو رہے تھے۔۔

04 October 2013 Read 1435 times

تینوں ملازم اور مالی دوڑ کر اندر داخل ہوئے تو ان کی جان میں جان آئی۔ یہ کیا بدتمیزی ہے۔ یہ آنے کا کون سا طریقہ ہے ؟وہ۔ جی ہم نے۔ شکار پکڑ

04 October 2013 Read 1389 times

ہماری زندگی بھی کیا زندگی ہے۔ جب دیکھو۔ دوڑ دھوپ ہو رہی ہے۔ فرزانہ نے سرد آہ بھر کر کہا۔ وہ دیکھو۔ ہمارے سروں پر سیا ہ بادل آ گیا۔

04 October 2013 Read 1250 times

عمارت میں سات آدمی موجود تھے ان ساتوں کے چہروں پر موت کا خوف طاری تھا یوں لگتا تھا جیسے موت کے خوف نے ان کا سارا خون نچوڑ لیا