مسواک انسانی صحت کی علامت

مسواک انسانی صحت کی علامت All images are copyrighted to their respective owners.

مسوا ک کی بدولت دانتو ں کی قدرتی پالش برقرار رہتی ہے جو کہ ٹوتھ پیسٹ کے تیزابی اثرات اور کیمیکل کی بدولت ضا ئع ہو جاتی ہے

ہما را مذہب اسلام چونکہ دین فطر ت ہے اس لیے اس کی نشاندہی بھی فطرت کے عین مطابق ہے۔

عام خوراک کھانے سے دانتو ں پرہلکی سی تہہ جم جا تی ہے اور مزید برآں ہماری مضر صحت خوراک چائے ، مشروبات ، سگریٹ ، پان ، چھالیہ کے کیاکہنے ۔کسی بر تن میں پڑی رہ جائیں تو داغ نہیں اُترتے۔ تیزابی اثرا ت کی حامل یہ اشیاءسلو ر سٹیل کے بر تنو ں کا بیڑہ غرق کر دیتی ہیں تو دانتوں کی تبا ہی کا اندا زہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔

دانتو ں کی حفاظت کر کے مکمل طور پر بیما ریو ں سے دوررہاجاسکتاہے ۔

مسوا ک کی بدولت دانتو ں کی قدرتی پالش برقرار رہتی ہے جو کہ ٹوتھ پیسٹ کے تیزابی اثرات اور کیمیکل کی بدولت ضا ئع ہو جاتی ہے اور دانت کھر درے اور بد نما ہو جا تے ہیں۔

عام تجر بے کی بات ہے توٹھ پیسٹ کی نسبت مسواک استعمال کرنے والو ں کے دانت زیادہ عمر پاتے ہیں جبکہ ٹوتھ پیسٹ والو ں کے دانت آئے رو ز نت نئے مسائل کا شکا ررہتے ہیں۔

کوئی بھی کمپنی بر ش کو زیا دہ عرصہ تک استعمال کرنے کی گا رنٹی نہیں دیتی۔ ہر کمپنی محدود سے وقت میں برش کو بدلنے کی ہدا یت کر تی ہے جبکہ مسواک جب تک چاہیں استعمال کریں ۔

آج کل ہما رے ملک عزیز میں ایک بڑا مسئلہ نقلی جعلی اشیا ءکا بھی ہے جو کسی نہ کسی برانڈ کا ہو بہو تیا ر کر کے مارکیٹ میں پھیلا کرلو گو ں کی صحت سے کھیلتے ہیں ۔اس طر ح اصل اشیا ءکی پہچان مشکل ہو گئی ہے۔ مسوا ک کے استعمال سے ہم اس پریشانی سے آسانی سے چھٹکار اپا سکتے ہیں۔

دانتو ں کے حساس ترین معاملے پر ہم سارا سال لا پرواہی برتتے رہتے ہیں۔ جب دانتو ں کی شکل بگڑ جا ئے، بدبو پیدا ہونے لگے، پیلاہٹ ہو جائے تو ہم سیدھے عطائی لو گو ں کے پا س پہنچ جاتے ہیں ،جو اکثر آپ کو فٹ پا تھ ، تھڑوں یا بسو ں میں چند ٹکوں کی خا طر انسانی صحت سے کھیلتے نظر آئیں گے ۔

ان کے پا س دانتوں کے مسائل کے لیے تیر بہد ف نسخے ارزاں قیمت میں دستیا ب ہو تے ہیں۔ بعد کے مسائل آپ خود بھگتے رہیں۔

ان کے بنائے ہوئے منجن تیزابی اثرات سے بھرپور ہو تے ہیں، جن سے وقتی داغ دھبے تو دور ہو جا تے ہیں مگرمسوڑھو ں کو نقصان ہو سکتا ہے۔دانتوں کی قدرتی چمک اور پالش ضا ئع ہو جاتی ہے اور دانتو ں میں کھردرا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کھر درے دانتو ں پر ہر چیز جم جا تی ہے اور خودبخود یا صرف کلی وغیرہ کرنے سے نہیں اُترتی ۔کئی قسم کے نقص پیدا ہوجاتے ہیں اور سانسوں کی مہک چند ھیا جا تی ہے۔

پرانے بزرگ مختلف مسواکو ں کو دوا کے طور پر استعمال کرواتے تھے مثلاً پھو ڑے پھنسیو ں کے لیے دریک ، نیم، کیکر ، کشمیری بھیکٹر کی مسوا ک تجویز کی جا تی ہے ۔ گلے کی خرا بی ، نزلہ ، زکام اور بلغم کے لیے کنیر ( گنڈ پھر ا) کی مسواک تیر بہدف رزلٹ رکھتی ہے۔ سانس کی تکلیفو ں اور بلغم کے لیے کیکر اور پھلا ہی کو آج بھی مو ¿ثر سمجھا جاتاہے۔

پھلا ہی کے درخت بارانی علا قوں میں کثرت سے ملتے ہیں۔ کیکر کے کوئلو ں کو دانت کے مسائل کے لیے اعتماد سے استعمال کیا جاتاہے ۔

بو ہڑ کی مسواک جھا گ بھی بنا تی ہے ۔

مسواک بلاشبہ عصر حاضر میں بھی اپنی افادیت بر قرار رکھے ہوئے ہے ۔

جدید سائنس اس کی افا دیت ضرورت اور خو بیو ں کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہے۔

جدید سائنس چو دہ سو سال بعد بھی معتر ف ہے تو ہم تو ٹھہرے مسلمان ! ہما رے لیے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ہما رے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ سنت ہے ۔

 

Rate this item
(0 votes)
  • Last modified on Wednesday, 06 April 2016 08:56
  • font size