دیسی گھی سے الرجی اور ناک کی بڑھی ہڈی کا علاج

دیسی گھی سے الرجی اور ناک کی بڑھی ہڈی کا علاج All images are copyrighted to their respective owners.

آسان علاج یہ ہے کہ صرف گائے کا خالص گھی جو صرف گائے کا ہی ہو لے کر رات سوتے وقت دونوں طرف ناک میں۲؍قطرے ڈالیں

۱۹۶۵ءکی بات ہے کہ ایک حکیم صاحب کابڑا چرچا تھا جو حکیم کبوتر والا کے نام سے مشہور تھا۔

 میرا ایک ہمسایہ اختر جو میرا دوست بھی تھا۔ اس کو ناک بند ہو جانے کی بہت سخت تکلیف تھی۔ اس نے اس وقت کے مشہور ڈاکٹر اسداللہ لون سے وقت لیا۔ہم ڈاکٹر کو ملنے کیلئے جارہے تھے کہ یکدم مجھے راستے ہی میں حکیم کبوتر والے کا خیال آیا۔ ہم پہلے ان کے پاس گئے وہ اس وقت اپنے کبوتروں میں مشغول تھے اور ان کو اڑا رہے تھے۔ ہم نے اسی مشغولیت میں ان سے بیماری کا عرض کیا تو انہوں نے کبوتر اڑاتے اڑاتے جواب دیا کہ کیا معاذاللہ ”اللہ پاک کا کارخانہ خراب ہو گیا ہے یا ڈائی خراب ہو گئی ہے“۔ یہ کچھ بیماری نہیں صرف خشکی ہے۔

 اس کا آسان علاج یہ ہے کہ صرف گائے کا خالص گھی جو صرف گائے کا ہی ہو لے کر رات سوتے وقت دونوں طرف ناک میں۲؍قطرے ڈالیں۔ (دیسی گھی کی خوبی ہے باڈی ٹمپریچر پر پگھل جاتا ہے) اس نے ۱۵؍دن کیا۔

 اس کے بعد کافی لمبا عرصہ یعنی سالہا سال ہم اکٹھے رہے اس کو وہ شکایت نہیں رہی (یعنی۶؍سال تک اکٹھے رہے پھر اس کو ناک کے بند ہونے کا عارضہ نہیں ہوا)۔

 ضرورت کے وقت میں نے خود بھی استعمال کیا، ناک کھل گیا۔ کئی احباب جو ناک کی ہڈی بڑھنے‘ ناک بند ہونے کی شکایت کرتے تھے کا انہیں بتایا، وہ بغیر آپریشن کے تندرست ہو گئے۔

 قارئین یہ مکالمے کے انداز میں جو بھی گفتگو ہمارے دوست دلبر صاحب کے درمیان ہوئی وہ من و عن آپ کی خدمت میں عرض کر دی ہے نسخہ کیا ہے؟ راز کیا ہے؟ جستجو کیسے کی اور آخر نسخہ حاصل کیسے کیا، یہ سب کچھ آپ کے سامنے عرض کرتا ہوں۔

طب دراصل ایک مکمل تحقیق جستجو اور تلاش مسلسل کا نام ہے۔

 قارئین یقین جانیے ہر طبیب اپنے مزاج میں جستجو ضرور رکھتا ہے۔ وہ اس تلاش کی وجہ سے مارا مارا پھرتا ہے یہاں تک کہ اسے اگر مال جان اور وقت خرچ کرنا پڑے تو ضرور کرتا ہے۔ ایک دفعہ بندہ کے جاننے والے کو کسی صاحب سے علم طب سیکھنا تھا۔ اس کے گھر کے چکر لگائے۔ ایک دن استاد نے مطالبہ کیا کہ میرا گھر زیرتعمیر ہے اگر اسے بنانے میں بطور مزدور آپ میری مدد کریں تو شاید میں آپ کو علم سکھانے میں مدد کروں۔

۲۱؍دن تک اس کے ہاں اینٹوں اور گارے کی مزدوری کی۔ اس کی خدمت کا بدلہ استاد نے واقعی اتارا اور پورا علم اور چند عجیب و غریب ٹوٹکے عطا فرمائے۔

 قارئین جو ٹوٹکے بہت محنت اور مشقت کے بعد حاصل ہوتے ہیں وہ میں بغیر بخل کے آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں۔

 ویسے بغیر محنت کے اکثر قدر نہیں ہوتی۔

 دیسی گھی کا یہ ٹوٹکہ جو آپ کی خدمت میں ایک مخلص، صالح دوست کی زبانی عرض کیا ہے۔ ناک ،کان اور گلے کے امراض میں ایک حتمی اور آخری نسخہ ہے۔

 ناک کے وہ امراض جس کا علاج معالجہ سرجری تجویز کرتے ہیں۔ پھر سرجری کراکے بھی صحت نہیں ملتی تو ان لوگوں کے لیے یہ طبی ٹوٹکہ نہایت کارآمد ہے۔ ہاں کچھ عرصہ استعمال کریں اور اس کی کرامات دیکھیں۔

ناک کی ہڈی بڑھی ہو، ناک بند ہو، خراٹے ایسے کہ خطرناک صورت اختیار کر گئے ہوں کہ تمام گھر والے عاجز آچکے ہیں۔

 چھینکوں کا طوفان کہ ایک وقت میں ۳۰؍چھنکیں آتی ہوں اور کسی اینٹی الرجی گولی سے درست نہ ہوتی ہوں۔ میرے محسن منصور صاحب کہنے لگے ایسے لوگ جو دماغی کمزور ی ‘ یاداشت میں کمی اوراعصابی کھنچاؤ کا شکار رہتے ہوں ، دیسی گھی ڈراپر میں ڈال کر ناک میں قطرہ قطرہ ڈالنا انہیں ایسی صحت دے گا کہ دیکھنے اور سننے والے حیران رہ جائیں گے۔

 اس عمل کے تجربات مسلسل مل رہے تھے۔ استعمال کرنے والے مطمئن اور خوش تھے۔ ایک صاحب کہنے لگے میں بے خوابی ڈپریشن اور ٹینشن میں مبتلا تھا حتیٰ کہ نیند نہ آنے کی وجہ سے آنکھوں اور سر میں درد رہنے لگا۔ جب سے یہ دیسی گھی کا ٹوٹکہ استعمال کیا، خود حیران ہوں کہ میں نے تو اپنے آپ کو مایوس مریض سمجھ لیا تھا، کیسے شفا یاب ہو گیا؟ آپ بھی استعمال کریں ۔

دیسی گھی صرف گائے کا ہی ہو اور کچھ عرصہ ناک میں ڈالیں اور پھر رحمت الٰہی کے کرشمے دیکھیں۔

Rate this item
(4 votes)
  • Last modified on Tuesday, 12 April 2016 06:31
  • font size