ورزش بوڑھوں کے لیے مضر نہیں، مفید ہے

  • Thursday, 22 January 2015 15:33
  • Published in ورزش
  • Read 944 times
ورزش بوڑھوں کے لیے مضر نہیں، مفید ہے All images are copyrighted to their respective owners.

ورزش کی وجہ سے اس مرض کو کنڑول کر نے کے لیے انسولین کے استعمال کی ضرور ت کم ہو جاتی ہے

بوڑھو ں کے لیے ورزش کو مضر قرار دینا منفی انداز فکر ہے ۔ زیا د ہ عمر کے با و جود ہو ش مندی سے کی جانے والی ورزشیں ان کے لیے بہت مفید ثابت ہو تی ہیں اور وہ امراض اور معذوریوں سے محفوظ زندگی گزار سکتے ہیں ۔

یا لے یونیورسٹی کے اسکول آف ہیلتھ کے ڈاکٹر تھا مس گل اور ان کے رفیقان کار نے بڑی گہرائی کے ساتھ بوڑھو ں کو جسمانی سر گرمی سے پہنچنے والے فا ئد وں اور نقصانا ت کی شہادتوں کا جائزہ لیا ہے ۔ اس جا ئزے میں ۷۵؍سال یا اس سے زیا دہ عمر کے بوڑھو ں کو شامل رکھا گیا ہے ۔

اس میں مردنیِ عضلہ قلب کے سلسلے میں جمع کی گئی معلومات خاص طور پر شامل تھیں ۔ اس اک مقصد یہ دیکھنا تھا کہ ورزش سے قلب کے عضلا ت کے نا کارہ ہو نے کے خد شا ت کس حد تک درست ہیں۔ اس جا ئزے کے بعد یہ ما ہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ ورزش سے مردنی عضلہ قلب کے سلسلے میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ مبا لغہ ہے ۔ انہو ں نے ہفتے میں تین دن سخت ورزش کے پروگرام کا جائز ہ لیا ۔

یونیورسٹی آف البر ٹا میں ڈاکٹر جیمز شیپر و کی سر کر دگی میں ذیابیطس کے بوڑھے مریضو ں پر ورزش کے اثرات کا جا ئزہ بھی لیا گیا ہے جس سے ظاہر ہو ا کہ ورزش کی وجہ سے اس مرض کو کنڑول کر نے کے لیے انسولین کے استعمال کی ضرور ت کم ہو جاتی ہے ۔ اس سے پہلے دوائی سے خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کیا جاتا ہے، لیکن اب ما ہرین کے مشورے پر معالجین ایسے مریضو ں کو ورزش کے ذریعے سے شکر کنٹرو ل کرنے کو مشورہ دے رہے ہیں ۔

اس سلسلے میں بعض کا خیا ل تھا کہ ورزش سے بوڑھے، قلب کی تکلیف میں مبتلا ہو سکتے ہیں ، لیکن اب ورزش کی افا دیت کو محسو س کرتے ہوئے یہ ضروری سمجھا جا رہا ہے کہ ایسے بوڑھے مریض ورزشی پروگرام اپنے معالج کے مشورے کے مطابق کر سکتے ہیں جو ان میں ورزش کرنے کی سکت کی جا نچ کرنے کے بعد ورزش کی مقدار اور وقت متعین کر سکتے ہیں ۔

اس احتیا ط اور ٹیسٹ وغیرہ کے بعد انہیں معالج کے مشورے پر سختی سے عمل کرنا چاہیے ۔ ورزش کے دباؤ کے ٹیسٹ کے بعد ورزش کرنے سے ان بوڑھے مریضو ں کو خاص طور پر زیادہ فائدہ پہنچتا ہے کہ جن کے قلب کی تکلیف میں مبتلا ہو نے کا اندیشہ رہتاہے ۔ اس اسٹریس ٹیسٹ کے بعد معالج ایسے مریضو ں کو معتدل اندا ز میں ورزش کی اجا زت دیتے ہیں ۔ جو مریض شروع ہی سے کسی قسم کی ورزش کرنے کے با لکل عادی نہ رہے ہو ں ان کے لیے ضروری ہے کہ بڑھاپے میں ورزش کا سلسلہ شروع کرنے سے پہلے اپنا مکمل جسمانی معائنہ کرائیں تا کہ سب سے پہلے یہ کھو ج لگا لیا جا ئے کہ وہ قلب اور شر یا نوں کی تکلیف میں مبتلا تو نہیں ہیں ۔ا س کے بعد انہیں اپنے معا لج کی نگرانی میں ورزشی پروگرام شروع کرنا چاہیے ۔

کم از کم ایک دفعہ معالج کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی نگرانی میں ایسے بوڑھو ں سے ورزش کرائے ۔ اس احتیا ط اور نگرانی کی مو جو دگی میں کی جانے والی ورزشیں انہیں دھیرے دھیرے صحت مند اور توانا بنا دیں گی ۔

 

Rate this item
(0 votes)
  • Last modified on Wednesday, 06 April 2016 19:05
  • font size

Related items