زہرہ سہگل نے۷؍ دہائی تک ناظرین کو دیوانہ بنایا

  • Sunday, 10 July 2016 00:45
  • Published in فلمی
  • Read 662 times
زہرہ سہگل نے۷؍ دہائی تک ناظرین کو دیوانہ بنایا All images are copyrighted to their respective owners.

۱۰؍جولائی برسی کے موقع پر

سنیما کی دنیا میں زہرہ سہگل کا نام ایک ایسی اداکارہ،رقاصہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے تقریباً ۷؍ دہائی تک اپنے اداکاری سے ناظرین کو اپنا دیوانہ بنایا۔

غیر معمولی صلاحیت اور توانائی سے بھرپور زہرہ سہگل ایک ایسی اداکارہ تھیں جنہوں نے فلمی دنیا کی۴؍ نسلوں پرتھوی راج کپور سے لے کر رنبیر کپور کے ساتھ بھی کام کیا۔ ۲۷؍ اپریل۱۹۱۲ء کو اترپردیش کے سہارنپور میں پیدا ہوئیں زہرہ کی زندگی کے تئیں جوش و جذبے اور ان کے دلفریب انداز کا کوئی جواب نہیں تھا۔

زہرہ سہگل جب ایک سال کی تھی تب ان کی بائیں آنکھ کی روشنی چلی گئی۔اس وقت ۳؍ لاکھ پونڈ خرچ کر کے لندن کے ایک اسپتال میں علاج کرایا گیا اور آنکھ کی روشنی واپس آئی۔ زہرہ کی پڑھائی لڑکوں کے اسکول میں ہوئی تھی اس لئے ان کے مزاج میں کھلنڈراپن تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ زہرہ اسکول کے دنوں میں درختوں پر چڑھ جایا کرتی اور لڑکوں جیسی شرارت کرتی تھیں ۔

زہرہ کا مطلب ہے نیک اور ہنر مند عورت۔ سال ۱۹۲۹ءمیں میٹرک اور ۱۹۳۳ءمیں گریجویشن کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد زہرہ نے رقاصہ بننے کے بارے میں سوچا ۔زہرہ نے جرمنی میں اودے شنكر کا شو پاروتی رقص دیکھا اور ان کے الموڑا اسکول میں شامل ہو گئیں۔ خواجہ احمد عباس نے زہرہ سہگل کو ’’ ہندوستان کی انساڈورا ڈنکن‘‘ کہا تھا۔

زہرہ سہگل نے اپنے کریئر کا آغاز بطور رقاصہ کے ۱۹۳۵ءمیں اس زمانے کے مشہور رقاص اودے شنکر کے ساتھ کی۔ زہرہ سہگل نے اودے شنکر کے ساتھ جاپان، مصر، یورپ اور امریکہ سمیت کئی ملکوں میں اپنے رقص کے پروگرام پیش کئے۔سال ۱۹۴۲ءمیں زہرہ سہگل نے سائنس داں پینٹر اور رقاص کملیشور سہگل سے شادی کر لی۔

بطور اداکارہ زہرہ سہگل نے اپنے کریئر کا آغاز سال ۱۹۴۶ءمیں آئی فلم’’دھرتی کے لال‘‘سے کی۔ اپٹا کے تعاون سے بنی خواجہ احمد عباس کی ہدایت میں بنی پہلی فلم دھرتی کے لال سے بلراج ساہنی نے بھی بطور اداکار اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا۔ اسی سال زہرہ سہگل کو ایک اور فلم’’نیچا نگر‘‘ میں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔

سال۱۹۵۰ء میں زہرہ سہگل کو چیتن آنند کی ہدایت میں بنی فلم ’’افسر‘‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم میں دیو آنند نے اہم کردار ادا کیاتھا۔ تاہم فلم ٹکٹ کھڑکی پر کامیاب نہیں ہوئی لیکن زہرہ سہگل کی اداکاری کو ناظرین نے ضرور پسند کیا۔ اس کے بعد زہرہ سہگل نے کچھ فلموں میں کوریوگرافر کے طور پر بھی کام کیا۔

زہرہ سہگل نے اپنے کریئر کے دوران ہندی فلموں کے علاوہ بہت سی انگریزی فلموں میں بھی کام کیا۔ زہرہ سہگل نے ۱۴؍سال تک پرتھوی تھیٹر کے ساتھ کام کیا۔ وہ’’اپٹا‘‘ سے بھی منسلک رہیں ۔ زہرہ سہگل کو ان کی قابل ذکر شراکت کےلئے حکومت ہند نے سال ۱۹۹۸ء میں پدم شری، سال۲۰۰۲ء میں پدم بھوشن اور سال ۲۰۱۰ء میں پدم وبھوشن سے نوازا۔

سال۲۰۰۷ء میں زہرہ سہگل نے فلم چینی کم میں امیتابھ بچن کی ماں کا کردار اداکیا تھا۔ سال ۲۰۰۷ء میں ہی ریلیز ہوئی سنجے لیلا بھنسالی کی فلم سانوريا میں بھی زہرہ سہگل نے کام کیا تھا۔

سال۲۰۱۲ء میں زہرہ سہگل نے جب۱۰۰؍ سال پورے کئے تھے تب امیتابھ بچن نے انہیں۱۰۰؍ سال کی بچی کہا تھا۔امیتابھ نے کہا تھا کہ زہرہ ایک چھوٹی سی بچی کی طرح ہیں اور اس عمر میں بھی ان کی لا محدود توانائی دیکھتے ہی بنتی ہے۔ امیتابھ نے کہا تھا میں نے انہیں کبھی بھی مایوس یا کسی مشکل میں نہیں دیکھا وہ ہمیش ہنستی، كھلكھلاتي رہتی ہیں۔ امیتابھ نے بتایا تھا کہ چینی کم کے سیٹ پر زہرہ ہمیشہ سب کو بڑے پیار سے پرانی کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔

زہرہ سہگل کہتی تھیں کہ ان کی لمبی عمر کا راز طویل عرصے تک فعال رہنا تھا۔ زہرہ سہگل کہتی تھیں اگر آپ غیر فعال ہوکر گھر پر بیٹھ گئے تو سمجھ لیجئے آپ ختم ہو گئے۔ زہرہ سہگل نے اپنے کریئر کے دوران ہم دل سے دل دے چکے صنم، ویر زارا جیسی کئی سپر ہٹ فلموں میں بھی کام کیا تھا۔

سال۱۹۶۲ء میں زہرہ سہگل لندن چلی گئیں اور۲۵؍ سال بعد ہندوستان لوٹیں ۔انہوں نے سال۱۹۷۶ء میں بی بی سی کی جانب سے بنائے گئے سیریل ’’پڑوسی‘‘سے بہت نام کمایا۔ سال۱۹۸۴ء میں سیریل '’’جویل ان دی کراؤن‘‘میں لیڈی چٹرجی کا رول ان کے کریئر کا بہترین رول تھا۔ اس کے بعد زہرہ نے سرخیوں میں چھائے سیریل ’’تندوری نائٹس‘‘ میں کام کیا۔ سال ۱۹۹۷ء میں زہرہ نے اپنی سوانح عمری '’’اسٹیجس ‘‘لندن سے شائع کی تھی۔

 اپنی اداکاری سے ناظرین کے درمیان خاص شناخت بنانے والی زہرہ سہگل ۱۰؍ جولائی ۲۰۱۴ء کو اس دنیا کو الوداع کہہ گئیں ۔

Rate this item
(0 votes)