ایدھی ،ایک فرشتہ جنت کو واپس ہوا

  • Saturday, 09 July 2016 19:09
  • Published in سماجی
  • Read 509 times
ایدھی ،ایک فرشتہ جنت کو واپس ہوا All images are copyrighted to their respective owners.

تحریر : عدنان خان کاکڑ

پاکستانیوں سے موجودہ دور کے محسن انسانیت کا پوچھا جائے تو کیا کسی کے ذہن میں عبدالستار ایدھی کے علاوہ کسی کا نام آئے گا؟ وہ منحنی سا شخص جب جھولی پھیلا کر کسی چوک پر کھڑا ہوتا تھا تو اس کے کچھ کہے بغیر ہی لوگ دور دور سے کھنچے چلے آتے تھے اور اپنے بٹوے خالی کر کے ہی جاتے تھے۔ چند گھنٹوں میں ہی لاکھوں کروڑوں روپے انسانیت کی خدمت کے لیے اس کی نذر کر دیتے تھے۔ اس کی ذات پر جو اعتبار تھا، وہ قوم نے کسی دوسرے کو نہ بخشا۔

عبدالستار ایدھی ۱۹۲۸ء کو بھارتی گجرات کے قصبے بانٹوا میں پیدا ہوئے اور قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان سمیت کراچی منتقل ہو گئے۔ وہ محض ۱۱؍ برس کے تھے کہ ان کی والدہ پر فالج کا حملہ ہوا۔ انہوں نے ۸؍ سال تک ان کی خدمت کی اور جب وہ۱۹؍ سال کے تھے تو ان کی والدہ رخصت ہوئیں۔ ان کی شخصیت پر والدہ کی اس بیماری اور ان کے مزاج کا جو اثر ہوا، اس کے لیے انسانیت ان کی والدہ کو ہمیشہ دعائیں دے گی۔ وہ ہستی ان کو روز ایک پیسہ ان کو کھانا کھانے کے لیے دیتی تھیں، اور ایک اور پیسہ کسی دوسرے شخص کی مدد کے لیے۔ یہ خدمت اور تربیت لے کر وہ عملی زندگی میں داخل ہوئے۔

ایدھی صاحب نے اپنا باقاعدہ فلاحی کام میمن کمیونٹی کی مدد سے بنائی گئی مفت علاج فراہم کرنے والی ایدھی ڈسپنسری سے شروع کیا۔ وہیں ان کی ملاقات ایک نرس بلقیس سے ہوئی جن سے انہوں نے ۱۹۶۵ء میں شادی کر لی۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئے۔ بعد میں انہوں نےایدھی ٹرسٹ قائم کیا اور فلاحی کاموں کا دائرہ پھیلایا۔

اس ٹرسٹ نے بیس ہزار سے زیادہ لاوارث نومولود بچوں کی زندگی بچائی، پچاس ہزار سے زیادہ یتیموں کی کفالت کی اور چالیس ہزار سے زیادہ نرسوں کو ٹریننگ دی۔ ملک کے چپے چپے میں ایدھی ٹرسٹ کے کلینک، پناہ گاہیں، بزرگوں اور عورتوں کے لیے گھر اور ایسے ہی بے شمار منصوبے ملیں گے۔ یہ نجی ٹرسٹ دنیا کا سب سے بڑا ایمبولینسوں کا بیڑہ چلاتا ہے۔ ملک میں ۱۱۲۲؍ کی سروس متعارف ہونے سے پہلے حادثے کی صورت میں صرف ایدھی کا نام ہی سامنے آتا تھا۔ ان کو دیکھ کر دوسرے مخیر حضرات بھی اس کام کی طرف متوجہ ہونے لگے۔

انسانیت کے اس عظیم محسن نے ان گلی سڑی لاوارث لاشوں کو بھی اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر دفن کیا جن کو ان کے وارثان بھی چھونے کو تیار نہ تھے۔ ان بچوں کو اس نے نئی زندگی دی جن کو کوڑے کے ڈھیر پر مرنے کے لیے پھینک دیا جاتا تھا۔ بے شمار یتیم اور بے سہارا ان کے صدقے ایک نئی زندگی پا گئے۔

وہ کہتے تھے کہ انسانیت ہی میرا مذہب ہے۔ خدمت انسانیت سے بڑھ کر وہ کسی چیز کو نہیں سمجھتے تھے۔ اس وجہ سے ان پر بعض تکفیری مولوی حضرات نے کفر کے فتوے بھی لگائے۔ ان کو سیاسی معاملات میں بھی استعمال کرنے کی کوشش کی گئی اور ناکام ہونے پر ان کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کو کچھ عرصے پاکستان سے باہر بھی رہنا پڑا۔

مگر اس عظیم محسن پاکستان نے پاکستانیوں کی خدمت کو نہ چھوڑا۔ کسی برے جذبے نے ان کے دل میں جگہ نہ پائی۔ ۲۰۱۳ءمیں ان کے گردے فیل ہو گئے۔ ان کو گردے کے ٹرانسپلانٹ کی ضرورت تھی، بصورت دیگر ان کو ساری زندگی ہفتے میں دو مرتبہ ڈائیلسس کروانا پڑتا، جو کہ وہ کرواتے رہے۔

ان کو چند دن قبل علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کی ایک سیاسی راہنما نے پیشکش کی۔ جو شخص لاکھوں لوگوں کا خود علاج کرتا ہے، اس کے لیے یہ پیشکش کتنی مضحکہ خیز ہو گی، مگر ایدھی صاحب نے متانت سے انکار کیا اور سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی میں ہی علاج کروانے کو ترجیح دی۔

وہ غریب اور لاچار شخص جو شروع زندگی میں ایک غریب مزدور سے بڑھ کر کچھ حیثیت نہ رکھتا تھا، اس نے خدمت سے عوام کے دلوں میں ایسا مقام بنایا کہ کروڑوں کی رقم اس کے لیے کچھ حیثیت نہ رکھتی تھی۔ مگر آخر دم تک اس نے ایک غریب مزدور ہی کی سی زندگی بسر کی اور لوگوں سپرد کردہ کی امانت کو اس کے حق داروں تک ایمانداری سے پہنچایا۔ ایک غریب شخص وہ کر گزرا جو کہ ملک کی حکومت کے بس کی بات بھی نہ تھی۔

ملالہ یوسفزئی نے عبدالستار ایدھی کے لیے نوبل انعام کی مہم چلائی تھی۔ ماضی میں نوبل کمیٹی کو اس بات پر ندامت رہی ہے کہ اس نے گاندھی کو یہ انعام نہ دے کر اپنے ساتھ ظلم کیا تھا۔ اب نوبل کمیٹی کی پشیمانی کا ایک موقع اور پیدا ہو گیا ہے۔ اس نے اپنے ساتھ ظلم کیا ہے کہ عبدالستار ایدھی کو نوبل انعام دے کر اپنی عزت بڑھانے کا موقعہ گنوا دیا ہے۔

اپنے وطن کی مٹی میں ہزاروں لاوارثوں کو دفنانے والا آج خود بھی اس مٹی میں مل گیا۔ وہ ایک فرشتہ تھا جو خدا نے پاکستان کے غریبوں اور مجبوروں کی خدمت کے لیے بھیجا تھا، وہ فرشتہ آج واپس جنت کی طرف کوچ کر گیا۔

ایدھی صاحب تو رخصت ہوئے، لیکن ان کا نام پاکستان میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ سڑک پر چلتی ہوئی ہر ایدھی ایمبولینس ہمیں ان کی یاد دلاتی رہے گی، اور ہمارے دلوں سے ان کے لیے دعائیں نکلتی رہیں گی۔

Rate this item
(0 votes)

Related items