ایدھی، ایسا کہاں سے لاؤں!

  • Saturday, 09 July 2016 18:46
  • Published in تجزیاتی
  • Read 446 times
ایدھی، ایسا کہاں سے لاؤں! All images are copyrighted to their respective owners.

تحریر : حسنین جمال

الفاظ کی کمی کا احساس آج تک نہیں ہوا تھا، عظیم کا مطلب عظیم تھا، سخی کا مطلب سخی تھا، بہت بڑے آدمی کو بہت بڑا لکھ کر مطلب ادا ہو جاتا تھا، غریب پرور کہہ دیا تو سمجھ آ گئی کہ مطلب کیا ہے، مگر ایدھی صاحب کے لیے یہی الفاظ استعمال کر کے بھی مطلب ادا نہیں ہو رہا، نئی لغت، نئے لفظ تراشنے کو دل چاہ رہا ہے، ان تمام الفاظ کی جگہ بس ایک ہی لفظ، ایدھی لکھا جائے اور مطلب ادا ہو جائے۔ ایدھی صاحب تو بس ایدھی صاحب تھے!

نہیں رہے، رخصت ہو گئے، چلے گئے۔ یہ تمام الفاظ ایدھی صاحب کے لیے بھی استعمال ہوں گے۔ ایسا درد مند اور بے سہاروں کا سہارا غریب پرور انسان، وہ بھی چلا جائے گا، موت سے فرار کسی کو نہیں، سب ہی جائیں گے، مگر ایدھی صاحب کا جانا ایک فرد کا جانا نہیں ہے۔ ایک پورا ادارہ رخصت ہوا ہے۔ ایدھی صاحب تمام عمر غریبوں، لاوارثوں، یتیموں اور بے آسرا لوگوں کے لیے جیے اور انہی کی خدمت کرتے کرتے اٹھ گئے۔

وہ ۱۹۲۸ءمیں گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کپڑے کی صنعت سے وابستہ تھے اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ کئی جگہوں پر پڑھا کہ جب ان کی ماں انہیں سکول جاتے وقت دو پیسے دیتی تھی تو وہ ان میں سے ایک پیسہ خرچ کر لیتے تھے اور ایک پیسہ کسی اور ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کے لیے رکھ لیتے۔ گیارہ برس کی عمر میں انہیں اپنی ماں کی مستقل تیمار داری کرنا پڑتی تھی جو شدید قسم کے ذیابیطس میں مبتلا تھیں۔ اسی عمر سے وہ خود کے بجائے دوسروں کی مدد کرنا جان گئے اور تمام عمر بس یہی کام کرتے کرتے گزار دی۔

سن سینتالیس کے بعد خاندان سمیت وہ انڈیا سے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور کراچی میں آباد ہوئے۔ ۱۹۵۱ءمیں انہوں نے وہاں مفت علاج معالجے کے لیے ایک بالکل چھوٹی سی ڈسپنسری کھولی، ایک ڈاکٹر رکھا، وہاں کام کرتے کرتے انہیں ابتدائی طبی امداد کی تربیت بھی میسر آ گئی۔ ۱۹۵۷ء میں کراچی میں بہت بڑے پیمانے پر فلو کی وبا پھیلی جس میں انہوں نے فوری طور پر لوگوں کی مدد کی ٹھانی۔ انہوں نے شہر کے نواح میں خیمے لگوائے اور مفت دوائیاں فراہم کیں۔ مخیر حضرات نے انکی دل کھول کر مدد کی اور ان کے کاموں کو دیکھتے ہوئے باقی ملک سے بھی بہت امداد ملی۔ امدادی رقم سے انہوں نے وہ پوری عمارت خرید لی جہاں ڈسپنسری تھی اور وہاں زچگی کے لیے ایک ہسپتال اور نرسوں کی تربیت کے لیے سکول کھول لیا، یہی ایدھی فاونڈیشن کا نقطہ آغاز تھا۔

اس آغاز کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ لوگوں نے بھی یہ بے لوث خدمت دیکھ کر دامے، درمے، قدمے، سخنے ان کی مدد کی اور وہ آہستہ آہستہ اپنے فلاحی کام کو ملک گیر سطح تک وسعت دینے میں کامیاب ہو گئے اور ایسی سروس کہ ایک فون کال پر کسی بھی میڈیکل ایمرجینسی کی صورت میں ایمبولینس دیگر تمام مددگار اداروں سے پہلے آپ کے دروازے تک پہنچتی ہے۔ ایدھی صاحب کا خواب تھا کہ پاکستان میں ہر چند سو کلومیٹر بعد ان کا ایک ہسپتال ہو، اگر وہ دس بیس برس اور صحت مند رہتے تو شاید یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو جاتا۔

انہیں احتراماً مولانا بھی کہا جاتا تھا لیکن ذاتی طور پر انہیں اس خطاب سے کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی۔ فرقے، ذات پات، مذہب اور رنگ و نسل کی تفریق سے بالاتر ہو کر ایدھی صاحب نے جو کام کیے وہ اگلے دو سو سال تک کوئی پرائویٹ ادارہ شاید ہی کر پائے۔ لوگ ان سے محبت کرتے تھے اور ان پر اعتبار کرتے تھے۔ پاکستان کا سرکاری اعزاز نشان امتیاز بھی ان کو دیا گیا جس سے بلاشک و شبہ اس اعزاز کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ بھی انہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد ایوارڈز پیش کیے گئے۔ پاکستانی فوج نے انہیں شیلڈ آف آنر پیش کی جبکہ ۱۹۹۲ءمیں حکومت سندھ نے انہیں سوشل ورکر آف سب کونٹی نینٹ کا اعزاز دیا۔ بین الاقوامی سطح پر ۱۹۸۶ءمیں عبدالستار ایدھی کو فلپائن نے Ramon Magsaysay Award دیا۔ ۱۹۹۳ءمیں روٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی جانب سے انہیں پاؤل ہیرس فیلو دیا گیا۔ ۱۹۸۸ءمیں آرمینیا میں زلزلہ زدگان کے لئے خدمات کے صلے میں انہیں امن انعام برائے یو ایس ایس آر دیا گیا۔

یہ چند بے ربط سے الفاظ لکھنے کا مقصد اور کچھ نہیں بس ایک عظیم انسان کو یاد کرنے کی ایک کوشش ہے۔ وہ انسان جو لاکھوں لوگوں میں کپڑے تقسیم کرے اور خود دو کپڑوں میں رہتا ہو، کتنے ہی یتیموں اور لاوارثوں کے لیے رہنے کا بندوبست کرے اور خود اپنے بچوں کے لیے ایک مکان بھی نہ بنائے، ایک ہزار سے زائد ایمبولینسیں ملک بھر میں چلاتا ہو، سالانہ دس لاکھ سے زیادہ مریض اس سروس کی وجہ سے ہسپتال بروقت پہنچتے ہوں اور وہ اپنی ذاتی سواری تک نہ رکھے، ہزار ہا لوگوں کو کھانا کھلائے اور خود روکھی سوکھی پر گزارا کرے، ایسا انسان، دوبارہ اس سرزمین پر اترنا شاید ممکن نہ ہو۔

ایدھی اب ہم سب میں نہیں لیکن ان کا قائم کردہ ادارہ ان کے صاحب زادے فیصل ایدھی کی سربراہی میں آج بھی موجود ہے۔ بلقیس ایدھی اس عمر میں بھی حتی الامکان فعال ہیں، اب بھی اگر ہم سے ہر شخص اپنے ذاتی عطیات ماہانہ یا سالانہ اس ادارے کو دیتا رہے تو یہ اس بات کا یقین دلانے کے لیے کافی ہو گا کہ ہم کچھ نہ کچھ زندہ ہیں اور ایدھی صاحب جیسے محسنوں کو نہیں بھولے۔

Rate this item
(0 votes)

Related items