مقدس مہینے میں ناپاک عمل

  • Tuesday, 05 July 2016 21:23
  • Published in سماجی
  • Read 498 times
مقدس مہینے میں ناپاک عمل All images are copyrighted to their respective owners.

 دہشت گردانہ حملوں میں ۱۶۷۱؍معصوم جانیں لی گئیں

 پچھلے ایک ماہ میں دنیا بھر میں انتہائی ہلاکت خیز دہشت گردانہ حملوں میں زائد از۱۶۷۱؍ لوگ مارے گئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر حملوں میں خوفناک بین اقوامی دہشت گرد تنظیم کایہ مقصد واضح نظر آرہا تھا کہ مختلف اقوام کو زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچایا جائے۔

دولت اسلامیہ(داعش) اور اس سے وابستہ تنظیموں نے ان میں سے بیشتر حملوں کے بے دھڑک ذمہ داری قبول کی ہے۔

ایک ماہ کے اندر دنیا کے۳۱؍ ملکوں میں کوئی ۲۰۸؍ دہشت گردانہ حملے کئے گئے۔ ان حملوں میں۱۶۷۱؍ عام شہری مارے گئے اور ۱۹۱۱؍زخمی بدستور اپنی زندگی کی بقا کی مسلط کردہ جنگ لڑنے پر مجبور ہیں۔

ایک ہولناک دہشت گردانہ حملے میں دہشت گردوں نے بغداد میں دھماکے کرکے ۲۰۰؍ لوگوں کی جانیں لے لیں۔ہندستان بھی بالواسطہ ان حملوں کی زد میں اُس وقت آیا جب ڈھاکہ میں ایک دہشت گردانہ حملے میں اترپردیش کی رہنے والی ایک ہندستانی لڑکی کی جان گئی۔اس حملے میں مختلف قومیت رکھنے والے ۲۸؍ لوگ مارے گئے۔۱۹؍سالہ تاریشی جین ان بدنصیبوں میں شامل تھی جنہیں ایک بنگلہ دیشی ریستوراں پر حملے میں ہلاک کیا گیا۔

ابھی ڈھاکہ کی ٹیس ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ عراق میں ایک آتشیں فدائی نے شیعہ مسلمانوں سے بھرے ایک شاپنگ مال میں دھماکہ کرکے۲۰۰؍ لوگوں سے ان کے جینے کا حق آن واحد میں چھین لیا۔ اس واقعے میں بڑی تعداد میں بچے بھی مارے گئے۔

اس سے پہلے ترکی کے استنبول ہوائی اڈے پر اسی ماہ مسلح حملہ آوروں نے مختلف ملکوں کے ۴۴؍ لوگوں کو ہلاک کر دیا ۔ جنوبی بندرگاہی شہر یمن میں ایک کار بم دھماکے میں کم سے کم ۴۲؍ لوگ مارے گئے۔

دہشت گردوں نے اس مرتبہ سعودی عرب کو بھی نہیں بخشا جہاں پچھلے ۲۴؍گھنٹوں کے دوران ایک سے زیادہ مربوط حملے کر کے اس ماہ مقدس کے تقدس کو پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔

مسجد نبوی کومسلمانوں کا انتہائی مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس مقام کے قریب ہونے والے فدائی حملے کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ٹوئٹر کے ایک صارف نے لکھا،’’ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میں انتہائی مایوس ہوں کہ مسلمان ہی ہماری جنت کو تباہ کر رہے ہیں‘‘۔

ایسے میں رمضان کے بعد عید مناتے ہوئے خود احتسابی سے بھی کام لینے کی ضرورت ہے۔ دیکھنا ہے اس بار بھی عید صرف ایک مذہبی تہوار رہتی ہے یا اندر جھانکنے اور اپنے رویوں کو تبدیل کرنے کا ایک موقع بن کر ابھرتی ہے۔

Rate this item
(1 Vote)

Related items