حرمین الشریفین پر حملوں کے دو واقعات

  • Tuesday, 05 July 2016 19:09
  • Published in تحقیقی
  • Read 492 times
حرمین الشریفین پر حملوں کے دو واقعات All images are copyrighted to their respective owners.

تحریر : عدنان خان کاکڑ

پیر کے روز سحری کے وقت سے سعودی عرب میں دھماکے شروع ہوئے۔ پہلا حملہ جدہ میں سعودی قونصل خانے کے قریب ہوا۔ دوسرا قطیف شہر میں ہوا۔ سعودی عرب کا شیعہ اکثریتی علاقہ گاہے بگاہے داعش کے حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ لیکن تیسرا حملہ تو تقریباً مسجد نبوی کی دیوار کے ساتھ ہی ہوا۔

کیا ہم اب بھی یہی کہیں گے کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے؟ کیا اب بھی اس کا باعث ہم ڈرون حملوں کو ہی ٹھہرائیں گے یا ایسے ہی دوسرے عذر پیش کرتے رہیں گے؟ مسجد نبوی ہمارے لیے خانہ کعبہ کے بعد مقدس ترین مقام ہے۔ یہ مسلمانوں کے دو حرموں میں سے ہے۔ وہ جگہ جہاں جا کر ہر مسلمان کا دل سکون پاتا ہے۔

بزرگوں سے سنتے آئے تھے کہ مکہ مکرمہ میں جلال کی فضا ہے تو مدینہ شریف میں جمال ہے۔ وہاں سختی ہے تو یہاں ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے دل میں ابدی سکون اتر آیا ہے۔ جب تین سال پیشتر ہمیں بھی حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی تو ایسا ہی تجربہ ہوا۔ بیت اللہ میں جلدی ہوتی تھی، ایک لالچ ہوتا تھا کہ زیادہ سے زیادہ طواف کر لیں، زیادہ سے زیادہ عمرے کر لیں۔ بے پناہ ہجوم کی وجہ سے پریشانی بھی ہوتی تھی اور غصہ بھی آتا تھا۔ لیکن جب وہاں سے نکل کر مدینہ منورہ پہنچے تو اس پاک مسجد کی فضا میں بجز سکون دل اور اللہ کی رحمت کے کچھ نہ پایا۔ وہاں جماعت سے نماز ادا کر کے چپ چاپ بیٹھ ہی جائیں تو ہر لحظے دل میں سکون اترتا محسوس ہوتا ہے۔ وقت کا شمار وہاں بند ہو جاتا ہے۔ گھڑیاں رک جاتی ہیں۔ دنیا کہیں اور رہ جاتی ہے۔ واقعی وہ ریاض الجنہ ہے۔ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ۔

ایسی جگہ بھی بم دھماکہ؟ جنت کے باغ میں بھی دہشت گردی؟ دہشت گردی کی بہیمانہ وارداتوں کے بعد ہم اپنے دل کو تسلی دے دیتے ہیں کہ ایسا کام کوئی مسلمان نہیں کر سکتا ہے۔ اب مسجد نبوی کی دیوار کے باہر دھماکے کے بعد بھی ہم یہی کہیں گے۔

یہ رمضان قیامت کا رمضان گزرا ہے۔ شام، عراق، ترکی، افغانستان، بنگلہ دیش اور نہ جانے کس کس مسلم دیس سے ایسی دل ہلا دینے والی خبریں آئی ہیں کہ خدا دشمن کو بھی ایسا غم نہ دکھائے۔ ہم ایک دہائی سے یہ ستم برداشت کر رہے ہیں اور کم و بیش ستر ہزار جانیں کھو چکے ہیں۔ لیکن جب بھی کہیں یہ حملہ ہوتا ہے، ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ’یہ حملہ غلط ہے لیکن۔۔۔۔‘۔ یا پھر یہ لیکن اور غلط بھی نہیں کیا جاتا، اور سیدھی سیدھی اس حملے کی حمایت کر دی جاتی ہے۔ حمایتی دھڑلے سے ایسی بات کہہ دیتے ہیں کہ ’حکومت اور فوج امریکہ کی جنگ لڑ رہی ہے اس لیے امریکہ کی ساتھی ہے۔ امریکہ کے ہاتھوں مرنے والا کتا بھی شہید ہے۔ لیکن کیونکہ پاکستانی فوجی انہی امریکہ کے مبینہ دشمنوں کے ہاتھوں مرا ہے، اس لیے وہ شہید نہیں ہے بلکہ اس کا حکم امریکی فوجیوں والا ہی ہو گا‘۔

کیا مسجد نبوی کے نواح میں اس حملے کے بعد بھی ہمیں دھماکہ کرنے والوں کی ایسی ہی صفائی سننے کو ملے گی؟ کیا ہم شام اور عراق میں دیکھ نہیں چکے ہیں کہ یہ لوگ انبیا کے مزاروں کو بھی دھماکے سے اڑاتے رہے ہیں؟ کیا اگلا دھماکہ، میرے منہ میں خاک، خدانخواستہ مسجد نبوی کے اندر ہو گا تو پھر ہم اگر مگر اور لیکن کو ترک کریں گے اور کھلے انداز میں اس کی مذمت کریں گے اور ایسا کرنے والوں کو برا جانیں گے؟

ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ یہ ہماری ہی جنگ ہے۔ ہم نے ان انتہا پسند مسلمانوں سے لڑنا ہے۔ ان کی فکری حمایت ہمیں ترک کرنی ہو گی۔ ہمیں اس جنگ میں مکمل طور پر پاک فوج اور ریاستی اداروں کی حمایت کرنا ہو گی، اور انتہا پسندی کی تعلیم دے کر ایسے دہشت گرد بنانے والوں سے نفرت کرنا ہو گی۔

القاعدہ اور داعش کی فکری بنیاد اور موجودہ حکمت عملی دیکھی جائے تو اس کا منبع سعودی انتہا پسند جہیمان بن محمد بن سیف العتیبی دکھائی دیتا ہے۔ گو کہ اس کی فکری جڑیں اخوان المسلمین کی جماعت الاسلامیہ اور تکفیر و الہجرہ نامی انتہا پسند شاخوں میں بھی ملتی ہیں، مگر انتہا پسندی کی داعی جماعتوں کی موجودہ حکمت عملی اور معاشرتی فکر میں ایک اہم موڑ جہیمان کی بغاوت اور مسجد الحرام پر قبضہ تھا۔

جہیمان ۱۹۳۶ءمیں پیدا ہوا۔ وہ سعودی عرب کی حالت دیکھ کر کڑھتا رہتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ سعودی علما اسلام کے غدار ہیں کیونکہ وہ سعودی حکمرانوں کو اسلام کی سچی راہ پر چلنے پر مجبور نہیں کر رہے ہیں اور سعودی حکومت اسلام سے غداری کر رہی ہے۔ جہیمان نے اپنے گرد حامیوں کا ایک گروہ اکٹھا کر لیا۔ جہیمان ٹیلیویژن کا مخالف تھا، اسے کام کرتی ہوئی خواتین سے نفرت تھی، نیکریں پہن کر فٹ بال کھِیلتے ہوئے کھلاڑی اسے اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کرتے دکھائی دیتے تھے، کرنسی نوٹوں پر بادشاہ کی تصویر اسے حرام لگتی تھی۔ جہیمان، ممتاز سعودی عالم شیخ عبدالعزیز بن باز کا معتقد تھا اور ان کی جماعت الجامعہ السلفیہ المحتسبہ میں شامل تھا، مگر جب وہ ۱۹۷۷ءمیں مدینہ سے ریاض چلے گئے تو جہیمان نے ان کے نوجوان پیروکاروں کی قیادت سنبھال لی۔ اس کے انتہا پسندانہ نظریات کو دیکھ ابن باز کی جماعت کے بزرگ علما اسے سمجھانے آئے مگر جہیمان نے ان سے جھگڑا کر کے الاخوان کے نام سے اپنا علیحدہ گروہ بنا لیا اور ان بزرگوں پر حکومت کے ہاتھوں بک جانے کا الزام لگایا۔

سنہ ۱۹۷۸ءمیں سعودی حکام نے جہیمان کو حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے کے جرم میں اس کے سو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا مگر شیخ ابن باز نے ان سے بات چیت کرنے کے بعد ان کو بے ضرر قرار دیا تو ان کو چھوڑ دیا گیا۔ قید کے دوران اس نے دعوی کیا کہ اس نے خواب دیکھا ہے کہ اس کا رشتے دار محمد عبداللہ القحطانی اصل میں مہدی ہے۔

جہیمان اپنے پیروکاروں کو قرون اولی کے طرز زندگی کی طرف پلٹ جانے کی دعوت دیتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ ان کرپٹ حکمرانوں کا تختہ الٹ دیا جائے کیونکہ اسلام میں ایسے حکمرانوں کی اطاعت جائز نہیں ہے اور صرف راسخ العقیدہ مسلمان ہی حاکم ہونے چاہئیں۔ دین کو صرف قرآن اور سنت سے سیکھا جانا چاہیے اور علما کی تقلید نہیں کرنی چاہیے جن کی ’غلط‘ تعلیمات کو تعلیمی اداروں میں پڑھایا جاتا ہے۔ وہ ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتا تھا جہاں سخت گیر اسلامی تعلیمات نافذ ہوں اور غیر ملکیوں سے ہرگز بھی کوئی تعلق نہ رکھا جائے۔

۲۰؍ نومبر ۱۹۷۹ءکو امام کعبہ نماز فجر پڑھانے کی تیاری کر رہے تھے کہ تقریباً پانچ سو مسلح افراد نے، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے، حرم پر قبضہ کر لیا اور دروازے اندر سے بند کر دیے۔ دو پولیس والوں کو قتل کر دیا گیا جو کہ صرف ڈنڈوں سے مسلح تھے۔ اس وقت سعودی بن لادن گروپ مسجد الحرام کی تعمیر و مرمت کر رہا تھا۔ اس کے ایک ملازم نے فون لائنیں کاٹے جانے سے قبل حملے کی اطلاع حکام کو دے دی۔ مہلک اسلحے سے لیس حملہ آوروں نے چھت اور میناروں پر پوزیشنیں سنبھال لی تھیں اور قلعہ بند ہو چکے تھے۔

سعودی وزارت داخلہ نے مسجد الحرام کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی مگر شدید جانی نقصان اٹھانے کے بعد پسپا ہو گئے۔ سعودی فوج اور نیشنل گارڈ پہنچ گئی اور مکہ کے پورے شہر کو خالی کرا لیا گیا۔

شیخ ابن باز سے ان کے شاگرد جہیمان کے خلاف طاقت کا استعمال کر کے مسجد الحرام کا قبضہ حاصل کرنے کا خصوصی فتوی لیا گیا کیونکہ عام حالات میں حرم پاک کی حدود میں خون بہانا منع ہے۔

جہیمان نے اپنے مطالبات لاؤڈ سپیکروں سے نشر کیے جن میں امریکہ کو تیل کی سپلائی روکنا اور تمام غیر ملکی ماہرین کا جزیرہ نما عرب سے انخلا شامل تھے۔

فرانس اور پاکستان سے کمانڈو طلب کیے گئے۔ فرینچ کمانڈو فورس کے سربراہ کرسچن پروتو کے مطابق فرانسیسی کمانڈوز کی پلاننگ کے مطابق حرم پاک کو آزاد کروانے کے لیے حملہ پاکستانی کمانڈوز نے کیا جن کا ساتھ سعودی نیشنل گارڈ اور فوج نے دیا۔ دو ہفتے کے بعد حرم پاک آزاد کروا لیا گیا۔ سعودی حکومت کے دعوے کے مطابق ۱۲۷؍فوجی اور زائرین ہلاک ہوئے اور ۴۵۱؍زخمی ہوئے جبکہ غیر ملکی سفارت کاروں کے مطابق یہ تعداد کہیں زیادہ تھی۔ حملے میں القحطانی ہلاک ہو گیا مگر جہیمان کو بعد میں گرفتار کر کے اس کے ۶۷؍ساتھیوں سمیت سزائے موت دی گئی۔

اس حملے کے بعد سعودی پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی۔ سخت گیر علما کو مزید اختیارات دے دیے گئے۔ خواتین پر پردے کی سخت پابندیاں نافذ کر دی گئیں۔ سینما اور میوزک کی دکانیں بند کر دی گئیں اور سکولوں کا نصاب تبدیل کیا گیا۔

جہیمان قتل ہو گیا مگر اس کا نظریہ زندہ رہا۔ ان ہی نظریات کو لے کر پہلے القاعدہ اور پھر داعش اٹھے ہیں۔ اور اب دوبارہ مسجد نبوی کے حرم کے نواح میں حملہ ہو چکا ہے۔ جہیمان کے مسجد الحرام پر حملے کے وقت ہماری سوچ واضح تھی کہ کون حق پر ہے اور کون ظلمِ عظیم کر رہا ہے۔ اب بھی ہم نے واضح ہو کر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ ہماری جنگ ہے یا نہیں ہے۔ سوچیں کہ کون حق پر ہے اور کون ظلمِ عظیم کر رہا ہے۔ کیا ہم نے ان انتہاپسندوں کی حمایت کرنی ہے جن کے لیے کچھ بھی مقدس و محترم دکھائی نہیں دیتا ہے، یا پھر ان سے لڑنے والوں کی؟ کیا آپ حرمین الشریفین کا دفاع کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا ان پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ؟

Rate this item
(1 Vote)

Related items