بغداد میں عید سے پہلے قیامت

  • Tuesday, 05 July 2016 05:02
  • Published in تجزیاتی
  • Read 499 times
عید سے پہلے قیامت All images are copyrighted to their respective owners.

 تحریر: سید مجاہد علی

کل کے دو تباہ کن کار دھماکوں کی وجہ سے عراق کے دارالحکومت بغداد میں مسلمانوں کے خوشیوں کے تہوار عیدالفطر سے عین پہلے قیامت کے مناظر دیکھنے میں آئے ہیں۔ اب شہر کے وسطی علاقے کرادۃ میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں ۲۱۳؍ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دو سو سے زائد افراد شدید زخمی حالت میں اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ عراق کے وزیر اعظم حیدر العابدی نے ملک میں تین روز سوگ کا اعلان کیا ہے۔ دولت اسلامیہ نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے اپنی جنگ کا حصہ قرار دیا ہے۔

عراقی افواج نے گزشتہ ہفتہ کے دوران داعش کے قبضے سے عراقی شہر فلوجہ واگزار کروالیا تھا اور اب عراق کا صرف ایک شہر موصل دولت اسلامیہ کے قبضے میں ہے۔ عراقی افواج اتحادی ایر فورس کی مدد سے اس شہر کی طرف بھی پیش قدمی کررہی ہیں اور خیال ہے کہ جلد ہی داعش کے جنگجوؤں کو وہاں سے بھی مار بھگایا جائے گا۔ بغداد میں ہونے والا حملہ جنگی میدان میں شکست کے بعد، بے گناہ شہریوں سے بدلہ لینے کی سفاکانہ کوشش ہے۔ کرادۃ میں ہونے والے حملے شہر کی مصروف اور مرکزی مارکیٹ کے قریب کئے گئے تھے۔ اس وقت لوگ عید کی آمد سے پہلے خریداری کرنے میں مصروف تھے۔ دھماکے دو کاروں میں نصب دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے ہوئے۔ ان دھماکوں کی وجہ سے مارکیٹ کی دکانوں کو آگ لگ گئی اور عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں۔ امدادی کام میں مصروف لوگوں کا کہنا ہے کہ ملبے سے لاشوں کو نکالنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ یہ حملے داعش کے بہیمانہ ہتھکنڈوں اور انسان دشمن رویوں کا ایک اور نمونہ ہیں۔ اس بات کا اندیشہ موجود ہے کہ عراق اور اس کے بعد شام میں دولت اسلامیہ کا قبضہ ختم ہونے کے بعد بھی اس خطرناک گروہ کی طرف سے دہشت گردی اور قتل و غارت گری کا سلسلہ بند نہیں ہو گا۔ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ داعش کبھی بھی اسلامی خلافت قائم کرکے ایک ذمہ دار حکومت قائم کرنے کے مقصد سے کام نہیں کر رہی تھی۔ شام اور عراق کے زیر قبضہ علاقوں کو اس نے دہشت گرد تیار کرنے، زیر نگیں لوگوں سے ناجائز محاصل وصول کرنے اور دنیا بھر میں اپنے جنگجوؤں اور دہشت گردوں کا جال بچھانے کے لئے استعمال کیا تھا۔

دیگر دہشت گرد گروہوں کی طرح اس گروپ کی کامیابی کی وجہ بھی یہ ہے کہ وہاں کی حکومتیں اپنے لوگوں کی سیاسی ضرورتیں پوری کرنے ، جمہوریت لانے اور تمام لوگوں کو بلا تخصیص انصاف فراہم کرنے کا نظام استوار کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ بلکہ ضرورت پڑنے پر دہشت گر گروہوں کو مختلف علاقوں کے برسر اقتدار طبقے اپنے مقاصد کے لئے بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ کئی برس کی تباہ و بربادی کے باوجود صورت حال میں قابل ذکر تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ہے

داعش نے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران امریکی شہر اورلانڈو ، ترکی کے تجارتی مرکز استنبول ، بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ اور اب بغداد میں دھماکے کرکے اپنی قوت اور تخریب کاری کے لئے اپنی بے پناہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس قوت کو ختم کرنے کے لئے سیاسی اور فرقہ وارانہ ضرورتوں سے بالا ہو کر تعاون اور اقدام کرنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ طے کرنا ہو گا کہ مارنے والا کوئی بھی ہو، وہ دوست کو مارے یا دشمن پر حملہ آور ہو، وہ سب کا یکساں دشمن ہے۔

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے اس بات کی تردید کی ہے کی داعش ان کے ملک میں موجود ہے۔ ملک کے وزیر داخلہ اسد الزمان خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈھاکہ میں جمعہ کو ہونے ولا حملہ دولت اسلامیہ نے نہیں کیا تھا بلکہ اس میں ایک مقامی کالعدم انتہا پسندگروہ جمیعت المجاہدین ملوث تھا۔ اس دوران داعش نے حملہ آوروں کی اپنے جھنڈے کے ساتھ تصاویر بھی نشر کی ہیں اور حملہ کے فوری بعد اس کی تفصیلات بھی فراہم کی تھیں۔ اس پس منظر میں بنگلہ دیش حکومت کا مؤقف صرف سیاسی ضرورتوں کے تحت جاری ہؤا ہے۔ تاکہ اس سانحہ کو ملک میں سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لئے استعمال کیا جا سکے۔ اسی قسم کی سیاست داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی اصل قوت ہے اور انہیں پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

Rate this item
(0 votes)
  • Last modified on Tuesday, 05 July 2016 06:59
  • font size

Related items