استنبول کے بعد ڈھاکہ۔۔۔ اور پھر کون؟

  • Monday, 04 July 2016 04:13
  • Published in سماجی
  • Read 344 times
استنبول کے بعد ڈھاکہ۔۔۔ اور پھر کون؟ All images are copyrighted to their respective owners.

تحریر : سید مجاہد علی

استنبول ائر پورٹ پر حملہ کے تین روز بعد دولت اسلامیہ کے دہشت گردوں نے کل رات بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک ریستوران پر حملہ میں۲۰؍ افراد کو ہلاک کر دیا۔ فوج اور سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ۶؍ حملہ آور مارے گئے ہیں جبکہ ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس آپریشن میں۱۳؍ افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔ یہ حملہ دولت اسلامیہ کی بڑھتی قوت اور اپنی مرضی کی جگہ پر جب چاہے حملہ کر کے خوف کی فضا پیدا کرنے کی صلاحیت کا بھرپور اظہار ہے۔ بنگلہ دیش پولیس ذرائع کے مطابق تمام حملہ آور مقامی باشندے تھے لیکن وہ ایک ایسی تحریک کے لئے کام کر رہے تھے جو گزشتہ چند برس سے قتل و غارت گری اور دہشت گردی میں مصروف ہے۔ شام اور عراق میں قوت پکڑنے والی اس تنظیم کو ان ملکوں میں شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ عراق اور شام کی افواج بالترتیب ایران اور روس کی مدد سے دولت اسلامیہ کا اسلامی خلافت قائم کرنے کا خواب چکنا چور کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن یکے بعد دیگرے امریکہ ، ترکی اور بنگلہ دیش میں ہونے والے حملوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ گروہ دور دراز ملکوں میں بھی اپنا اثر و رسوخ قائم کر چکا ہے۔

کل رات ڈھاکہ کے سفارتی علاقے میں واقع ایک چھوٹے سے مقبول ریستوران پر حملہ داعش کی سفاکی اور قوت کا واضح اظہار ہے۔ بعض خبروں کے مطابق مسلح حملہ آور اس علاقے میں ایک اسپتال کے گرد جمع ہوئے تھے۔ جب موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے ان سے باز پرس کی کوشش کی تو وہ بھاگ کر قریب ہی واقع ہولے آرٹیسن بیکری کیفے میں گھس گئے اور۲۰؍ سے زائد لوگوں کو یرغمال بنا لیا۔ پولیس نے ان کا پیچھا کرنے کی کوشش کی لیکن فائرنگ کے علاوہ دستی بم پھینک کر ۲؍ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا گیا۔ جمعہ کی رات کو شروع ہونے والا یہ ڈرامہ ساری رات جاری رہا اور جب سکیورٹی فورسز دہشت گردوں سے مذاکرات کرنے میں ناکام رہیں تو عمارت پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم اس دوران دہشت گرد ریستوران میں یرغمال بنائے ہوئے ۲۰؍ افراد کو بے دردی سے قتل کر چکے تھے۔ حالات و واقعات کی جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ان سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ یہ حملہ آور کوئی مطالبہ پورا کروانے نہیں آئے تھے بلکہ وہ صرف قتل و غارت گری کے ذریعے دہشت اور خوف کی فضا پیدا کرنا چاہتے تھے۔ اس سانحہ میں یرغمال بننے والے بعض لوگوں نے میڈیا کو بعد میں بتایا ہے کہ حملہ آور ریستوران میں موجود لوگوں سے قرآن کی آیات سنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جن لوگوں نے چند آیات سنا دیں، ان کو ایک طرف کر کے غیر ملکیوں اور غیر مسلموں کو شدید تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ اس حملہ میں مرنے والوں میں اٹلی کے ۹؍ ، جاپان کے ۷؍ اور ہندوستان کا ایک باشندہ شامل تھا۔ جبکہ تین بنگلہ دیشی بھی دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے۶؍ حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا جبکہ ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

دنیا بھر سے اس حملہ کی مذمت کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اسے بنگلہ دیش کے وقار اور شہرت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کیسے مسلمان تھے جو ایسے وقت لوگوں کو مار رہے تھے جب عام مسلمان نماز عشا اور تراویح پڑھنے میں مصروف تھے۔ انہوں نے بنگلہ دیشی عوام سے متحد ہو کر انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانے کی اپیل کی۔ حسینہ واجد نے کہا کہ ان کی حکومت ملک میں انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خاتمہ کے لئے اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رکھے گی۔ وزیراعظم کے اس اعلان کے باوجود اپوزیشن لیڈر بنگلہ نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ خالدہ ضیا نے کہا ہے کہ یہ واقعہ حکومت کی عاقبت نااندیش پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

امریکہ اور دیگر ملکوں میں بنگلہ دیش میں ہونے والے حملہ پر شدید تشویش پائی جاتی ہے اور یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ملک دولت اسلامیہ اور القاعدہ کا نیا مرکز بن سکتا ہے۔ کیونکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران اسلامی انتہا پسند گروہوں نے قوت پکڑی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت بنگلہ دیش میں ۳۰؍ سے زائد اسلامی انتہا پسند گروپ موجود ہیں۔ ان میں داعش اور القاعدہ بھی شامل ہیں۔ ملک میں مذہبی جماعتوں کو سیاسی چپقلش اور عوامی لیگ اور بی این پی کی محاذ آرائی کی وجہ سے زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوا ہے۔ اس طرح بنگلہ دیش کے لوگ جو مزاجاً امن پسند مگر دیندار ہیں ، مختلف انتہا پسند گروہوں کے نشانے پر ہیں۔ جماعت اسلامی ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی قوت ہے۔ بدعنوانی اور سیاسی انتشار کی فضا میں اس جماعت نے مقبولیت حاصل کی ہے۔ یہ جماعت ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتی ہے۔ عوامی لیگ کے ساتھ سیاسی تصادم اور اسلامی اصلاحات کی خواہش کی وجہ سے اس جماعت کے بعض عناصر انتہا پسندوں کی سرپرستی کا سبب بھی بنتے ہیں۔

۲۰۰۹ء  میں برسر اقتدار آنے کے بعد حسینہ واجد نے عوامی لیگ کی سب سے بڑی مخالف بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے علاوہ جماعت اسلامی کے لیڈروں کو ہراساں کرنے اور انہیں مقدمات میں پھنسانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ حریف سیاسی جماعتوں کو نیچا دکھانے کیلئے انٹرنیشنل وار کرائمز ٹربیونلز قائم کئے گئے ہیں۔ ان ٹربیونلز میں۱۹۷۱ء کی خانہ جنگی کے دوران پاک فوج کا ساتھ دینے والے عمر رسیدہ رہنماؤں پر مقدمات چلانے اور انہیں پھانسیاں دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ان ٹربیونلز میں ہونے والی کارروائیوں کو انصاف کے تقاضوں کے برعکس قرار دیا ہے۔ لیکن شیخ حسینہ واجد مسلسل اس طریقہ سے سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ ان یک طرفہ اور غیر منصفانہ مقدمات کی وجہ سے بھی مذہبی طبقوں میں بے چینی اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ دہشت گرد عناصر اس صورتحال کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے میں سرگرم ہیں۔ اس لئے بنگلہ دیش میں اسلامی انتہا پسندی فروغ پذیر ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران اسلامی انتہا پسندوں نے دو درجن سے زائد بلاگرز ، پبلشرز ، ادیبوں اور اقلیتی لیڈروں کو ہلاک کیا ہے۔ کل صبح ہی تین لوگوں نے ایک مندر کے پجاری پر حملہ کر کے اسے ہلاک کر دیا۔

شیخ حسینہ واجد نے قومی اتحاد کی بات تو کی ہے لیکن وہ اپنی حکومت کی بدانتظامی اور بدعنوانی چھپانے اور عوامی لیگ کے مخالف سیاسی عناصر سے بدلہ لینے کے لئے انتقامی پالیسیوں پر عمل کرتی رہی ہیں۔ گزشتہ ۶؍ برس کے دوران ملک میں بے چینی اور انتہا پسندی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ملک کی تینوں بڑی قوتیں گروہی سیاست میں مصروف ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی مفاہمت کی بجائے سیاسی تصادم کی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ حسینہ واجد نے قوم پرستی کے جذبہ کو ہوا دی ہے۔ اسی لئے بنگلہ دیش کے ۶۶؍ فیصد لوگ اگرچہ جنگی جرائم کے ٹربیونلز کو غیر منصفانہ سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی ۸۵؍ فیصد ان کے ذریعے سزائیں دینے کے حامی ہیں۔ اسی طرح بی این پی اور جماعت اسلامی کے حامی حکومت کے اقدامات کو تسلیم کرنے اور تعاون پر آمادہ نہیں ہیں۔ اس طرح ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے جو دنیا بھر میں عقیدے کے نام پر ابھرنے والی شدت پسندی اور قتل و غارتگری کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔

۱۹۷۱ء  میں پاکستان سے علیحدگی کے بعد شیخ مجیب الرحمان نے سیکولرنظام قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم۱۹۷۵ء میں جنرل ضیا الرحمان نے فوجی بغاوت میں شیخ مجیب الرحمان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ملک میں اسلامی شناخت کو عام کرنے کے لئے کام شروع کیا۔ مئی۱۹۸۱ءمیں جنرل ضیا الرحمان کے قتل کے بعد عبوری مدت کے لئے سول حکومت قائم ہوئی تھی لیکن جنرل حسین محمد ارشاد نے ۱۹۸۲ء میں ایک بار پھر فوجی حکومت قائم کی اور اسلام کو بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب بنا دیا۔ فوجی حکومتوں نے مذہبی جماعتوں کے تعاون سے عوامی لیگ کی سیکولر سیاست کو کچلنے کے لئے کام کیا ہے۔ اب حسینہ واجد اپنے اختیار کو ایک بہتر اور عوام دوست حکومتی انتظام کے لئے استعمال کرنے کی بجائے جماعت اسلامی اور بی این پی کی سیاسی قوت کو کچلنے کے لئے استعمال کر رہی ہیں۔

کل ڈھاکہ کے محفوظ ترین علاقے میں ہونے والا حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمان ملکوں کے لیڈروں کو بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے عوامل کو سمجھنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے مناسب اور جمہوری سیاسی ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلاف کی صورت میں ہر گروہ لوگوں کو اپنے خاص سیاسی مقصد کے تحت گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح بے چینی ، ذہنی انتشار اور بد اعتمادی کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ یہی حالات افغانستان سے لے کر شام، عراق، لیبیا اور یمن تک پھیلے ہوئے انتہا پسندی کے رجحان کو تقویت پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ کل اس کا مظاہرہ بنگلہ دیش میں دیکھنے میں آیا ہے، اس سے پہلے ترکی میں انہی سیاسی غلطیوں کی وجہ سے دہشت گردی میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ پاکستان میں انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے باوجود یہ عناصر مسلسل قوت پکڑ رہے ہیں۔ کراچی میں امجد صابری کا قتل اور چیف جسٹس سجاد شاہ کے بیٹے کا اغوا ان کی قوت اور ملک کی نمایاں سیاسی قوتوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی میں اضافہ اور شدت پسندی کی سب سے بڑی وجہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان علاقے پر تسلط اور اثر و رسوخ کی کشمکش ہے، جس کی وجہ سے فرقہ بندی اور مقابلے بازی کی فضا پروان چڑھ رہی ہے۔

اس پس منظر میں تمام مسلمان ملکوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی حملہ ڈھاکہ میں ہو یا استنبول میں، دھماکہ بغداد میں ہو یا دمشق میں ۔۔۔ نشانے پر پاکستانی باشندے ہوں یا یمن اور نائیجیریا کے لوگ قتل ہوں ۔۔۔۔ دراصل اسلامی ریاست قائم کرنے کے گمراہ کن تصور کا نعرہ بلند کرتے ہوئے تخریبی قوتیں مسلمانوں کا خون بہانے اور ان کے مفادات کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ مختلف ملکوں کے سیاسی رہنماؤں کو اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے قومی اور بین الملکی ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دینا ہو گا۔ ورنہ گولی اور بم کے ذریعے اسلام لانے والوں کے ہمدردوں اور چاہنے والوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

اسی طرح اسلامی نظام کی خواہش رکھنے والوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ان کے اس خواب کی تعبیر تخریب اور تباہی کا پیغام عام کرنے والی قوتوں کے ساتھ ساز باز کرنے سے نہیں ہو سکتی۔ وہ بھلے اپنے اپنے ملکوں میں اسلامی اصلاحات کے لئے جدوجہد کریں لیکن اس جوش میں ایسے عناصر کو پروان نہ چڑھائیں جن کا مقصد صرف تباہی و بربادی ہے۔ سیاستدانوں اور دین کے نام پر سیاست کرنے والوں نے جلد از جلد یہ سبق نہ سیکھا تو ڈھاکہ کے بعد کوئی دوسرا شہر دہشت گردوں کے نشانے پر ہو گا اور لیڈر یونہی اتحاد اور کمر توڑنے کے اعلانات کرتے رہیں گے۔

Rate this item
(0 votes)

Related items