بے مثال اداکار تھے راج کمار

  • Saturday, 02 July 2016 22:36
  • Published in فلمی
  • Read 1125 times
بے مثال اداکار تھے راج کمار All images are copyrighted to their respective owners.

۳؍ جولائی ان کی برسی کے موقع پر

 ہندی فلمی دنیا میں یوں تو اپنی بااثر اداکاری سے کئی ستاروں نے شائقین کے دلوں پر راج کیا لیکن ایک ایسا بھی ستارہ پیدا ہوا جس نے نہ صرف ناظرین کے دلوں پر راج کیا بلکہ فلم انڈسٹری نے بھی اسے’’راج کمار‘‘ تسلیم کیا۔وہ اداکار کوئی اور نہیں بلکہ ڈائیلاگ کے بے تاج بادشاہ كلبھوش پنڈت عرف راج کمار تھے۔

پاکستان کے بلوچستان صوبے میں ۸؍ اکتوبر ۱۹۲۶ء کو پیدا ہوئے راج کمار گریجویشن کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ممبئی کے ماهم پولیس اسٹیشن میں سب انسپکٹر کے طور پر کام کرنے لگے۔ ایک دن رات کے  گشت کے دوران ایک سپاہی نے راجکمار سے کہا ’’حضور آپ رنگ روپ اور قد کاٹھی میں کسی ہیرو سے کم نہیں ہیں۔ فلموں میں اگر آپ ہیرو بن جائیں تو لاکھوں دلوں پر راج کر سکتے ہیں‘‘ سپاہی کی بات نے راج کمار کے دل پر اثر کیا ۔

راجکمار ممبئی کے جس تھانے میں ملازم تھےوهاں اکثر فلموں سے وابستہ شخصیات کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ایک بار پولیس اسٹیشن میں فلم ساز بلدیو دوبے کچھ ضروری کام کے لئے آئے ہوئے تھے۔ وہ راجکمار کی بات چیت کے انداز سے کافی متاثر ہوئے اور انہوں نے راجکمار سے اپنی فلم شاهي بازار میں اداکار کے طورپر کام کرنے کی پیشکش کی۔راج کمار سپاہی کی بات سن کر پہلے ہی اداکار بننے کا ذہن بنا چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے فوری طور پر سب انسپکٹر کی نوکری سے استعفی دے دیا اور فلمساز کی پیشکش قبول کر لی۔

شاہی بازار بننے میں کافی وقت لگ گیا اورراج کمار کو زندگی گزارنا کرناکافی مشکل ہو گیا۔ اس لئے انہوں نے سال۱۹۵۲ء میں آئی فلم رگیلی میں ایک چھوٹا سا رول کرنا بھی قبول کر لیا۔ یہ فلم سنیما گھروں میں کب لگی اور کب ہٹ بھی گئی، یہ پتہ ہی نہیں چلا۔ اس درمیان ان کی فلم شاہی بازار بھی ریلیز ہوئی۔ جوباكس آفس پر ناکام ثابت ہوئی۔

شاہی بازار کی ناکامی کے بعد راج کمار کے تمام رشتہ دار کہنے لگے کہ تمہارا چہرہ فلم کے لئے مناسب نہیں ہے ۔چند لوگوں نے تو یہاں تک کہا کہ تم فلموں میں ویلن بن سکتے ہو۔ سال ۱۹۵۲ء سے ۱۹۵۷ء تک راج کمار فلموں میں مقام بنانےکیلئے جدوجہد کرتے رہے۔ رگيلي كے بعد انہیں جو بھی کردار ملا، راج کمار  اسے قبول کرتے چلے گئے۔ اس درمیان انہوں نے انمول سہارا، اوسر، گھمنڈ، نیل منی  اور کرشن سداما جیسی کئی فلموں میں اداکاری کی لیکن ان میں سے کوئی بھی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی۔

محبوب خان کی سال ۱۹۵۷ء میں ریلیز ہوئی فلم ’’مدر انڈیا‘‘ میں راج کمار گاؤں کے ایک کسان کے چھوٹے سے کردار میں دکھائی دیے۔ یہ فلم اداکارہ نرگس پر مرکوز فلم تھی۔ پھر بھی وہ اپنی اداکاری کا تاثر چھوڑنے میں کامیاب رہے۔ اس فلم میں بااثر اداکاری کے لیے انہیں بین الاقوامی شہرت بھی ملی اور فلم کی کامیابی کے بعد وہ اداکار کے طور پر فلم انڈسٹری میں قائم ہو گئے۔

سال۱۹۵۹ء میں آئی فلم پیغام میں ان کے مدمقابل ہندی فلموں کے عظیم اداکار شہنشاہ جذبات دلیپ کمار تھے اس کے باوجود راج کمار اپنے مضبوط کردار کے ذریعے ناظرین کی داد حاصل میں کامیاب رہے۔ اس کے بعد دل اپنا اور پریت پرائی، گھرانا، گودان، دل ایک مندر اور دوج کا چاند جیسی فلموں کی کامیابی سے وہ ناظرین میں اپنے اداکاری کی دھاک جماتے ہوئے اس مقام تک پہنچ گئے جہاں وہ اپنے کردار خود منتخب کر سکتے تھے۔ سال ۱۹۶۵ء میں آئی فلم کاجل کی زبردست کامیابی کے بعد راج کمار نے اداکار کے طور پر اپنی الگ شناخت بنا لی تھی۔ بي آرچوپڑا کی ۱۹۶۵ء میں آئی فلم وقت میں لاجواب اداکاری سے وہ ایک بار پھر شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہوئے۔ فلم میں راج کمار کا ادا کیا گیا ایک ڈائیلاگ ’’چنائے سیٹھ، جن کے گھر شیشے کے ہوتے ہیں، وہ دوسروں پر پتھر نہیں پھینکا کرتے‘‘ یا’’یہ چاقو بچوں کے کھیلنے کی چیز نہیں، ہاتھ کٹ جائے تو خون نکل آتا ہے‘‘ ناظرین کے میں کافی مقبول ہوئے۔

'وقت ،كي کامیابی سے راج کمار شہرت کی بلنديوں پر پہنچ گئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے همراز، نيل كمل، میرے حضور،  ہیر رانجھا اور پاکیزہ میں رومانی کردار بھی قبول کئے۔ جو ان کی شخصیت سے میل نہیں کھاتے تھے۔ اس کے باوجودراج کمار ناظرین کا دل جیتنے میں کامیاب رہے۔

کمال امروہی کی فلم پاكيزہ مکمل طور پر مینا کماری پر مرکوز فلم تھی۔ اس کے باوجود راج کمار اپنی بہترین اداکاری سے ناظرین کی واہ واہی لوٹنے میں کامیاب رہے۔ پاکیزہ میں ان کا ادا کردہ ایک ڈائیلاگ’’آپ کے پاؤں دیکھے ،بہت خوبصورت ہیں، انہیں زمین پر مت رکھئے، میلے ہو جائیں گے ‘‘ اس قدر مقبول ہوا کہ لوگ ان کی آواز کی نقل کرنے لگے۔

سال ۱۹۷۸ء میں ریلیز ہوئی فلم کرم یوگی میں ناظرین کو راج کمار کی اداکاری کے نئے طول و عرض دیکھنے کو ملے۔ اس فلم میں انہوں نے دو الگ الگ کردار میں اپنے اداکاری کی چھاپ چھوڈي۔

اداکاری میں یکسانیت سے بچنے اور خود کو کریکٹر اداکار کے طور پر بھی قائم کرنے کے لئے انہوں نے خود کو مختلف کرداروں میں پیش کیا۔ اس سلسلے میں ۱۹۸۰ء میں آئی فلم ’’بلندی‘‘ میں وہ کریکٹر اداکار کا کردار ادا  سے بھی نہیں هچكائے۔ اس فلم میں بھی انہوں نے ناظرین کا دل جیت لیا۔

سال ۱۹۹۱ء میں آئی فلم ’’سوداگر‘‘ میں راج کمار کی اداکاری کے نئے جوہر دیکھنے کو ملے۔ سبھاش گھئی کی اس فلم میں راج کمار سال۱۹۵۹ء میں آئی فلم’’پیغام‘‘کے بعد دوسری بار دلیپ کمار کے ساتھ اداکاری کرتے نظر آئے۔ اس فلم میں دونوں عظیم اداکاروں کی دشمنی قابل دید تھی۔

نوے کی دہائی میں راج کمار نے فلموں میں کام کرنا کافی کم کر دیا۔ اس دوران ان کی ترنگا، پولیس اور مجرم، انسانیت کے دیوتا، بے تاج بادشاہ، جواب، گاڈ اور گن جیسی فلمیں ریلیز ہوئیں۔

 اکیلے رہنے والے راج کمار نے شاید یہ محسوس کر لیا تھا کہ موت ان کے کافی قریب ہے، اسی لیے انہوں نے اپنے بیٹے پرو راجکمار کو اپنے پاس بلا لیا اور کہا کہ دیکھو موت اور زندگی انسان کا ذاتی معاملہ

ہوتا ہے۔ میری موت کے بارے میں میرے دوست چیتن آنند کے علاوہ اور کسی کو نہ بتانا۔ میری آخری رسوم ادا کرنے کے بعد ہی فلم انڈسٹری کو مطلع کرنا۔

اپنی سنجیدہ اداکاری سے تقریبا چار دہائی تک فلم بینوں کے دلوں پر راج کرنے والے عظیم اداکار راجکمار ۳؍ جولائی ۱۹۹۶ء کو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔

Rate this item
(0 votes)