خود مختار قیدی، بے اختیار آزاد، اور ہم

  • Saturday, 02 July 2016 05:47
  • Published in اسلامی
  • Read 389 times
خود مختار قیدی، بے اختیار آزاد، اور ہم All images are copyrighted to their respective owners.

تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

آج بیت المقدس ،الخلیل ،غزہ اور فلسطینی سرزمین کے دوسرے شہروں میں لوگوں کو قید کر دیا گیا ہے،اُنہیں خود اُن کے گھروں میں اُن کے خون سے نہلایا جا رہا ہے ،والدین اپنے ہی گھروں میں اپنے جوان بیٹوں کے داغ میں فرش عزا بچھائے ہوئے ہیں ،وہ سب بھوک کا سامنا کررہے ہیں اور صہیونیوں نے پوری فلسطینی قوم کا اقتصادی محاصرہ کیا ہوا ہے!مصر کی گزر گاہ رفح بند ہے کہ کہیں غزہ میں رہتے ہوئے لا الہ کا نعرہ لگانے والے آزاد و حریت پسندوں تک کچھ دوائیں نہ پہنچ سکیں جن سے زخمیوں کا مداوا ہو سکے کہ زخموں سے خون رسنا ضروری ہے  ان بے چاروں کو پتہ تو چلے جو اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہیں کہ چارہ ساز خدا نہیں امریکہ و اسرائیل و ان کے گماشتے ہیں لیکن یہ کیا ہے کہ ان آزاد زخمیوں کا خون جتنا زیادہ بہتا ہے اتنا ہے اللہ اکبر کا نعرہ سرخ اور سرخ ہو نہ صرف فضا کے دوش پر بلند ہوتا ہے بلکہ ان محرومین کی چارہ سازی کرتا ہے بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی یہ اللہ کی کبریائی کا لہو لہو نعرہ ایک ایسا دائرہ بھی ترسیم کرتا ہے جس میں ان کو قید کرنے والے خود مختار قیدی نظر آتے ہیں اور قیدیوں کا بہتا ہوا لہو انکی آزادی کا ترجمان بن جاتا ہے ۔

 

زخم جب فریاد کرتے ہیں تو گولیاں بے بس ہو جاتی ہے لہو کی دھار جب بجلی کی طرح کوندتی ہے تو توپ کے دہانے اپنے وجود سے نکالے گئے سیاہ و مہیب بادلوں میں خود کو چھپا لیتے کہ عزم کے مقابل اسلحوں سے سجی رزم شکست سےعبارت ہے ۔ ایسے میں حق پرستوں کے بربط دل سے بس یہی آواز آتی ہے ۔

سرفروشی کی تمنا پھر ہمارے دل میں ہے        دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

یہ فلسطین کے آزاد قیدی جیالے بازوئے قاتل سے یوں تو نہ جانے کب سے جوجھ رہے ہیں اور ان کی سرشت میں یہی ہے ان کی نسلیں اسی کارزار میں پروان چڑھ رہی ہیں سوچنا ہمیں ہے کہ کہ وہ قیدی ہو کر بھی اپنے آپ کو محبوس کر دینے والے مجرموں و قاتلوں سے دست بگریباں ہیں لیکن ہم کہاں ہیں ؟اپنے ملک میں ہماری اوقات کیا ہے ؟  دشمن کی صحیح شناخت نہیں، تو کیا خود ہی خود سے جھوجھیں ، اپنوں ہی کا کالر پکڑ کے انہیں اپنا دشمن قرار دیں جو ہماری ٹیڑھی فکر کو نہ مانےاس کی فکر کو بیمار اور خود کو عقل سلیم کا وارث کہیں  ؟و…روز قدس جہاں ایک موقع ہے کہ ہم اپنے ان برادران ایمانی کے ساتھ کھڑے ہوں جنکا ہم پر دینی اور انسانی حق ہے وہیں خود احتسابی کا ایک بہترین موقع بھی ہے کہ اپنے ملک میں خود کو ایک قوم کی صورت تلاش کریں کہ ہم کہاں ہیں ۔؟ ...

جہاں تک بات قبلہ اول کی ہے تو یہ نہ صرف دنیا بھر کے ہم جیسے دیگرمسلمانوں کا دوسرا حرم ہے بلکہ فلسطین کے ان بیسیوں لاکھ مسلمانوں کی اصل سرزمین ہے جنہیں عالمی استکبار نے غاصب صہیونیوں کے ہاتھوں آج سے نصف صدی سے زائد ہوئے سنہ ۱۹۴۸ء میں اپنے وطن سے جلاوطن کرکے ، صہیونیوں کے حوالے کر دیا تھا ۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ عالمی استکبار و یہودیوں کے اس شیطانی ظلم کا نشانہ صرف مسلمان ہی نہیں عیسائیوں کو بھی بننا پڑا ہے سنہ۴۷ء کے پہلے حملے میں ہی ساٹھ ہزار عیسائیوں کو اپنے ملک و وطن کو چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ۔یہی نہیں سنہ ۱۹۵۰ء میں تمام بین الاقوامی قوانین کو پامال کرکے صہیونیوں نے مغربی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت اعلان کرکے یونائڈڈ نیشن کی قرارداد کا بھی کھلم کھلا مذاق اڑایا ہے یہ پورا معاملہ خود اپنے آپ میں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ صہیونی حکومت صرف فلسطینیوں یا مسلمانوں کی مجرم نہیں پوری بشریت کی مجرم ہے ۔ تاریخ انسانیت کے اس آشکار و بڑے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا نہ صرف ہمارا بلکہ پوری بشریت کا انسانی فریضہ ہے ہماری ذمہ داری تو اس سے بڑھ کر ہے ہم سب کو تو اپنے مشترک دشمن کے مقابل متحد ہونا ہے ۔ہم سب کو مل جل کر اسرائیل کی نیل سے فرات تک کی آرزو کو خاک میں ملانا ہے ۔فلسطین کے محروم و مظلوم بے یاور و مددگارنہتے عوام ، صہیونیوں کے پنجۂ ظلم میں گرفتار لاکھوں مرد وعورت ،بوڑھے ، بچے اور جوان اپنے ہی گھر سے بے گھر اپنی مظلومیت کے ساتھ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا رد عمل کیا ہوگا تو دوسری طرف زندانوں میں رہتے ہوئے ان کا زندہ ضمیر بظاہر آزادوں کو قیدی بنائے سکہ کے اس رخ کو پیش کر رہا ہے جسے دنیا نہیں دیکھنا چاہتی اور یہیں سے ان خود مختار قیدیوں کے لئیے ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ ذرا اپنا محاسبہ تو کرو غلیل و پتھروں کے سوا  ہمارے پاس کچھ نہیں لیکن ہماری غیرتِ دینی و ہماری ایمانی حمیت کا تقاضا ہے کہ ہم توپوں کے آگ اگلتے دہانوں کے سامنے ڈٹ جائیں اور بظاہر آزاد لیکن اپنے پورے وجود کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑی قوم کو احساس دلائیں کہ حقیقت میں آزاد تم نہیں ہو بلکہ ہم ہیں کہ تمہارا ضمیر پابند سلاسل ظلم و جور ہے جسے نہ کھوکھ جلی ماں کے دکھ کا پتہ ہے نہ اجڑے سھاگ کے درد کا اور نہ ہی شعلوں میںجھلس کر خاکستر ہونے والے خاندانوں کا،تم تو اپنے بل پر اپنا گھر بھی نہیں بنا سکتے اتنے بڑے غلام ہو کہ دوسروں سے ان کا حق چھینتے ہو اور پھر بھی سوچتے ہو تم آزاد ہو ان فلسطینوں کے مقابل یقیناً عمل احتساب بہت سخت ہوگا کہ جنکی غیرت و حمیت کے کچھ چھینٹے ہی ہم جیسے نام کے مسلمانوں کے دامن میں آ گئے ہوتے تو انتخابات و الیکشن کے دور میں این و آں کی غلامی نہ کرتے ہوئے اپنی مجموعی طاقت سے ہندوستان کی تاریخ رقم کرتے کہ ہم آزاد و خود مختار ہیں تو کیوں کسی کا دامن پکڑیں جو ہمارے شرائط و اصولوں کو مانے ہم اس کا ساتھ دیں گے کہ قرآن نے اصولوں کے سایہ میں جینے کا ہنر ہمیں سکھایا ہے لیکن افسوس کہ اجتماعی شعور تو درکنار بسا اوقات اجتماعی ضروریات سے بھی ہم آشنا نہیں کاش مکتب کربلا کے جانباز سپاہی روح اللہ خمینی کی اس بات کی گہرائی تک ہم پہنچ سکیں جہاں آپ نے فرمایا: یوم قدس ایک عالمی دن ہے یہ دن صرف قدس سے مخصوص نہیں بلکہ عالمی سطح پر پوری دنیا کے مستکبرین دنیا بھر کے مستضعفین کے مقابل ربرو ڈٹ جانے کا دن ہے یہ تمام سامراجی طاقتوں کے خلاف کمزوروں اور محروموں کی دائمی جنگ و پیکار کا دن ہے ، ان تمام قوموں کی جدو جہد کا دن ہے جو امریکہ اور اس کے ہم جھولیوں و ہم قبیلوں کی زیادتیوں کا شکار ہیں اس دن بڑی طاقتوں سے مقابلے کے لئے مستضعفین کو لیس ہوکر دشمنوں کی ناک خاک میں رگڑ دینا چاہیے۔

شک نہیں کہ اگر یہ پیغام ہماری روح تک اتر جائے تو قدس صرف ارض فلسطین میں محصور نہ ہو کر ہر خطہ و ملک میں دشمن و ظلم کے خلاف آواز و اعلان بغاوت کی علامت بن جائے لیکن اس کے لئے سب کی ہمراہی اور معاشرہ کے فرد فرد کا ساتھ ضروری ہے۔

مل کے جو ساتھ چلے ریت ہماری ہوگی

گر نہیں آج تو کل جیت ہماری ہوگی

Rate this item
(0 votes)

Related items