ارب پتی موسکوفیٹچ،یہودی آباد کاری کا ’گارڈ فادر‘ !

  • Thursday, 30 June 2016 21:05
  • Published in تحقیقی
  • Read 335 times
ارب پتی موسکوفیٹچ،یہودی آباد کاری کا ’گارڈ فادر‘ ! All images are copyrighted to their respective owners.

 ارب پتی امریکی یہودی موسکو فیٹچ ۸۸؍سال کی عمر میں جمعرات کو اپنے انجام کو پہنچ گیا

فلسطین کے شہروں میں یہودی آباد کاری اور صہیونی توسیع پسندی کے کینسر کے پھیلاؤ میں جن شخصیات کو تاریخ ہمیشہ ایک ’مجرم‘ کے طورپر یاد رکھے گی ان میں امریکی ارب پتی یہودی ’موسکو فیٹچ‘‘ کا نام سرفہرست رہے گا۔ پوری زندگی فلسطین میں یہودیوں کے غیرقانونی غلبے اور فلسطینی قوم کو مغلوب کرنے کے لیے کوشاں رہنے والا ارب پتی امریکی یہودی موسکو فیٹچ ۸۸؍سال کی عمر میں جمعرات کو اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ یہ بدقسمتی ہے کہ امریکی ریاست فلوریڈا میں پیدا ہونے والے اس بدنام زمانہ یہودی کو فلسطین کے مقبوضہ بیت القدس میں دفن کیا جائے گا۔

 فیٹیچ کے مرنے پراس وقت اسرائیلیوں اورصہیونیوں پربھی سکوت مرگ طاری ہے اور وہ اپنےایک بڑے حامی اور مدد گار سے محروم ہو گئے ہیں۔

 مقبوضہ بیت المقدس میں قائم اسرائیلی بلدیہ کے چیئرمین نیربرکات نے آنجہانی موسکو فیٹچ کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔

 ’’موسکوفیٹچ کا شمار ان دیرینہ اور سرکردہ یہودیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بیت المقدس کی تعمیر ومرمت میں اپنی پوری زندگی کھپا دی۔ انہوں نے القدس میں یہودی آباد کاری کی اہمیت کو سمجھا اور پھر اپنے تمام وسائل اس کے لیے وقف کر دیے۔ مشرقی بیت المقدس میں یہودی کالونیوں کے قیام میں حصہ لیںے والوں میں فیٹچ کا نام ہمیشہ سرفہرست رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہودی آج اپنے عظیم گارڈ فادر سے محروم ہو گئے ہیں‘‘۔

 نیربرکات نے مزید کہا کہ ’’آج ہم مشرقی بیت المقدس میں سلوان، پرانے بیت المقدس، زیتون کالونی، نوف تسیون، بیت اوروت اور دیگر یہودی کالونیوں کو پھلتا پھولتا دیکھتے ہیں تو یہ سب موسکوفیٹچ جیسے لوگوں کی مدد کا نتیجہ ہے‘‘۔

 انہوں نے کہا کہ ہم یہودی آباد کاری کے اپنے عظیم الشان معاون کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے انہیں امریکا نہیں بلکہ بیت المقدس کی الزیتون کالونی کے ایک قبرستان میں دفن کریں گے۔

ڈاکٹرکے لبادے میں نسل پرست صہیونی مجرم

ایرفینگ موسکو فیٹچ سنہ ۱۹۲۸ءکو امریکا کے نیویارک شہر میں پیدا ہوا مگر اس کی زندگی کا ایک بڑا حصہ ریاست فلوریڈا میں گذرا۔ مگر اس کا شمار ایک طبیب کے طور پر نہیں بلکہ ایک نسل پرست اور فلسطین میں یہودی آباد کاری میں ملوث مالی طورپر مضبوط صہیونی عناصر میں ہوتا ہے۔

اس نے امریکا میں موجود یہودی لابی کی مدد کے ساتھ ساتھ اسرائیل میں یہودیوں کو آباد کرانے میں بھرپور معاونت کی۔ فیٹچ نے امریکی ریاست کیلفورنیا میں کئی اسپتال اور کیسینو بھی بنائے۔ امریکا میں قائم ’ارئیل پولیٹیکل ریسرچ سینٹر‘ میں مشیر کے طورپر خدمات انجام دیں۔

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کا پرزور حامی رہا۔ اسرائیل میں انتہا پسند گروپوں کی تشکیل میں بھی موسکوفیٹچ کا کلیدی کردار سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس نے انتہا پسندوں کو تنظیموں کی شکل میں منظم کرانے میں بھرپور مالی معاونت فراہم کی۔

خود کو ایک فلاحی شخصیت کے طور پر متعارف کرانے کے لیےفلاحی ادارے قائم کیے۔ سنہ ۱۹۹۴ءمیں امریکی صہیونی تنظیم کو سب سے بڑھ کر مالی امداد مہیا کی۔ اس سے قبل سنہ ۱۹۶۸ءمیں ’’کارین موسکو فیٹچ‘‘ کے نام سے ایک فاؤنڈیشن قائم کی۔ سنہ ۱۹۵۵ءمیں قدرتی آفات میں مدد کے لیے ’’خوراک بنک‘‘ قائم کیا۔ سنہ ۲۰۰۴ءمیں اس بنک کے فنڈز کی تعداد ۵۲؍ملین ڈالر بتائی گئی۔ اس کے علاوہ موسکوفیٹچ نے صہیونیوں کے لیے ایک انعامی اسکیم مقرر کی اور ہرسال اسرائیل میں سماجی، سیاسی اور یہودی آباد کاری کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو ۱؍لاکھ ڈالر کے انعامات دیے جاتے۔ اس نے سنہ ۲۰۰۵ءمیں اسرائیل میں کام کرنے والے ۸؍انتہا پسند گروپوں کو ۶؍ملین ۸؍لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کی۔ فلسطین میں یہودی آباد کاری میں سرگرم یہودی گروپ ’’عتیروت کوھنیم‘‘ کے قیام میں بھی فیٹچ کا کلیدی کردار رہا ہے۔ اس کے علاوہ بیت ایل یہودی کالونی کی تعمیرو مرمت، اسرائیل کی نیشنل یوتھ کونسل، عبرانی ٹی وی ۷؍اور کئی دوسرے یہودی اور عبرانی اداروں کی مالی مدد کی۔

سنہ ۱۹۹۴ءمیں جب ایک یہودی دہشت گرد بارکھ گولڈچائن نے غرب اردن کے شہر الخلیل میں واقع تاریخی مسجد ابراہیمی میں گھس کر ۲۹؍نمازیوں کو اندھا دھند گولیاں مار کر شہید کیا تو ’’Jewesh Press‘‘ میں موسکو فیٹچ کا یک مضمون چھپا جس میں اس نے مسجد میں فلسطینی نمازیوں کے قتل عام کی حمایت کی اور لکھا کہ ’’عرب اور فلسطینی آئے روز اسرائیل میں یہودیوں کو قتل کرتے ہیں۔ جب ایک یہودی بیدار ہوا اور اس نے عربوں کی دہشت گردی کا جواب دیا۔ اب اسرائیلی حکومت کے لیے یہ بات قطعا مناسب نہیں کہ وہ فلسطینی مقتولین کے ورثاء کو ہرجانہ ادا کرے۔ فلسطینیوں کا قتل کوئی جرم نہیں ہے‘۔ اس کے علاوہ اس نے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کےدرمیان سنہ ۱۹۹۴ءمیں طے پائے اوسلو معاہدے کی سخت مخالفت کی اور اسرائیلی حکومت پر فلسطینیوں سے امن معاہدہ کرنے پر آخری وقت تک سخت برہم رہا ہے۔

فلسطین میں یہودی آبادری کے گارڈ فادر کی موت نے جہاں فلسطینیوں میں خوشی کی لہر پیدا کی ہے وہیں اس بات پرافسوس ہے کہ اسے ارض مقدس(بیت المقدس) میں دفن کیا گیا ہے، تاہم یہودی آباد کاری کے بابائے اعظم کے مرنے پر یہودی غم سے نڈھال ہیں۔

Rate this item
(0 votes)

Related items