خدا پاکستان کی خیر کرے!

  • Friday, 24 June 2016 08:02
  • Published in سیاسی
  • Read 431 times
خدا پاکستان کی خیر کرے! All images are copyrighted to their respective owners.

تحریر : عرفان علی

نیشنل ایکشن پلان کی موت کا رسمی اعلان ہونا باقی ہے ورنہ پاکستان بھر میں جاری تکفیری دہشت گردی سے عوام سمجھ چکے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان یا آپریشن ضرب عضب کا ہدف تکفیریت کا خاتمہ نہیں۔ کراچی میں خرم ذکی کی شہادت کے بعد امجد صابری کو شہید کر دیا گیا۔ ایک اور آواز جومحمدؐ اور آل محمدؐ کے عشق میں بلند ہوا کرتی تھی، وہ خاموش کر دی گئی۔ خرم ذکی کی شہادت کے بعد تکفیریوں نے کراچی میں ریلی نکالی۔ یعنی وہ ایک ہی مردمیدان تھا جس کے خوف سے تکفیری بلوں میں جا چھپے تھے۔ اس کے بعد گیدڑوں نے دیکھا کہ اب کوئی شیر بچا ہی نہیں۔ انہوں نے نہ صرف ریلی نکالی بلکہ ایران کا وہ قومی پرچم نذر آتش کر دیا جس پر ایک مخصوص انداز سے اسم مبارک و مقدس’’اللہ‘‘ تحریر ہوتا ہے، لیکن در حقیقت یہ لفظ اللہ مکمل کلمہ لاالہٰ الا اللہ ہے۔ اس کی تفصیلات نامور پاکستانی بیوروکریٹ اور سفارتکار مختار مسعود صاحب نے ایران کے اسلامی انقلاب کی چشم دید روداد پر مبنی اپنی کتاب ’’لوح ایام‘‘ میں بھی تحریر کی ہے۔ جسے ایرانی پرچم پر شک ہو، وہ اس سنی العقیدہ سفارتکار و ادیب مختار مسعود کی کتاب کے تیرہویں باب سے رجوع کرے۔

وہ لکھتے ہیں: ’’جب میں ایران آیا تو یہاں تین جھنڈے ہوا کرتے تھے۔ قومی، سرکاری اور شاہی۔ دولت ایران کے جھنڈے میں سبز، سفید اور سرخ رنگ کی تین پٹیاں تھیں، درمیانی سفید پٹی میں ایک شیر دائیں پنجے میں تلوار لئے کھڑا تھا اور اس کی پشت پر سورج چمک رہا تھا۔ شیر و خورشید کے اس پرچم میں ببر شیر کی صورت اور سورج کی جگہ مختلف بادشاہتوں میں بدلتی رہی۔ آخری تبدیلی محمد شاہ قاجار کے زمانہ میں ہوئی، جب اس نے ایک تھکے اور بیٹھے ہوئے شیر کی جگہ ایک چست و چالاک شیر کو کھڑا کر دیا۔ دم کو دوبل کرکے ایسی اکڑنت دی کہ ببر شیر تیغ بدست ہونے کے باوجود پشت کی جانب سے زیادہ جنگجو اور تیار نظر آتا ہے۔ انقلاب کے بعد شیر کا پتہ چلا نہ خورشید کا، دونوں یکایک غائب ہوگئے۔ پرچم پر خالی رنگدار لکیریں رہ گئیں۔ سنا ہے شیر بیمار ہوکر وسطی امریکا کی ریاست پانامہ کے کسی اسپتال میں داخل ہوگیا اور خورشید حسب معمول کہیں مغرب میں جاکر ڈوب گیا۔

چند ماہ گذرے تھے کہ پرچم کے وسط میں ان دونوں کی خالی کی ہوئی جگہ پر جدید طغرائی خطاطی کا ایک پھول کھل اٹھا ۔ غور کیا تو ’’اللہ‘‘ لکھا ہوا تھا۔ مزید غور کیا تو انہی پنکھڑیوں میں لا الہٰ الا اللہ بھی چھپا ہوا پایا۔‘‘ مختار مسعود نے اس نوجوان سے ملاقات کی، جس نے یہ نشان تین چیزوں کو ذہن میں رکھ کر بنایا تھا۔ اس کے ذہن میں سورہ حدید کی انقلابی تفسیر تھی۔ یعنی ایران ایک فکری مملکت ہے، اس میں کتاب، میزان اور آہن کی حکمرانی ہوگی، یعنی فکر اور نظریہ، انصاف، توازن اور قدرت و نظم و ضبط کی حکمرانی۔ چار کشش ہلال کی صورت ہیں، پانچواں خنجر کا پھل ہے، یہ آہن (لوہا) ہے۔ جو کشش استعمال کیا اس کا ماخذ وہ نقش ہے جو رسول اللہ صﷺنے ایک بار چھڑی کی نوک سے ریت پر بنایا تھا۔ یہ جملے کتاب ’’لوح ایام‘‘ سے لئے گئے ہیں۔ ابوجہل کے پیروکاروں سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ کلمہ توحید والے ایرانی قومی پرچم کو جلا ڈالیں۔سوال یہ ہے کہ جب اللہ تبارک و تعالٰی کے افضل ترین ذکر کو جلایا جا رہا تھا، تب حکومت اور ملکی سلامتی کے ادارے کہاں تھے۔ جب کالعدم تکفیری دہشت گرد گروہ کی ریلی نکالی گئی، اس میں اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے اور ایران کا قومی پرچم نذر آتش کیا گیا، تب کیا یہ سب کچھ ریاستی سرپرستی میں نہیں ہوا؟ اگر وہ کہتے ہیں کہ نہیں، تو ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ایسا کرنے والے مجرموں کو قانون کی گرفت میں کیوں نہیں لایا گیا؟ ریاستی اداروں کو معلوم ہونا چاہئے کہ تکفیری گیدڑوں کے بارے میں عوامی تاثر یہی ہے کہ انہیں ان کے سرپرستوں نے ہائبرنیشن سے نکال کر فعال کر دیا ہے۔ بلکہ پرانی تنخواہ پر آل سعود کے نمک خوار دوبارہ پوری شدت کے ساتھ امریکی صہیونیوں کی اسلام دشمن جنگ کے ایندھن کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ کراچی کی ریلی اور اس سے قبل ایک شیعہ سیدہ خاتون کو بلاوجہ لاہور ایئر پورٹ سے حراست میں لیا جانا، ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں تھے۔

پھر یہ ہوا کہ ماہ مبارک رمضان کے سولہویں روزے کو دن دہاڑے مصروف شاہراہ پر عالمی شہرت یافتہ پاکستانی قوال امجد صابری کو شہید کر دیا گیا، اس کا جرم کیا تھا؟ یہ سنی العقیدہ مسلمان شیعہ مسلمانوں کی میزبانی میں ہونے والے پروگراموں میں شان مقدس اہلبیت علیہم السلام بیان کرتا تھا۔ اس کی قوالیاں، اس کے قصیدے سبھی اس کے اہلبیت علیہم السلام کے عاشق ہونے کا ناقابل تردید ثبوت تھے۔ ڈاکٹر شکیل اوج کی طرح یہ بھی سنی شیعہ مسلمانوں کے اتحاد کا علمبردار تھا اور شیعہ مسلمانوں سے ان کی یہ قربت تکفیری دہشت گردوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ڈاکٹر شکیل اوج کی طرح قتل کر دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ ملکی سلامتی کے اداروں کے ذمے ایسا کونسا کام لگا دیا گیا ہے کہ وہ تکفیریوں کے مقابلے میں بالکل خاموش ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے کراچی تک شیعہ نسل کشی ہوتی رہی ہے۔ آپریشن ضرب عضب شمالی وزیرستان تک کیوں محدود ہے، نیشنل ایکشن پلان کیوں اس وقت بے بس ہو جاتا ہے کہ جب شیعہ مسلمان پاکستانیوں کی جانب سے نسل کشی کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور اقتدار کے ایوانوں میں کوئی شخصیت، کوئی ادارہ ان کی مدد کو نہیں آتا!

جیسا کہ تکفیریوں کے مظاہرے کا تذکرہ ہوا۔ یہی تکفیری دفاع پاکستان کاؤنسل کے پلیٹ فارم پر دیگر بعض گروہوں کے قائدین کے ساتھ یکجا نظر آرہے ہیں۔ کیا پاکستانیوں کو یاد نہیں کہ انہوں نے دفاع افغانستان کاؤنسل بنائی تھی اور جب افغانستان پر حملہ ہوا تو یہ پاکستان میں اپنے بلوں سے باہر نہیں نکلے تھے۔ ان میں سے ایک کشمیر کی آزادی کے نام پر اب تک پورا پاکستان داؤ پر لگا چکے ہیں، کشمیر تو آزاد ہوا نہیں بلکہ اب افغانستان کی سرحد بھی داؤ پر لگی  ہے اور یہ دفاع افغانستان کاؤنسل کے بعد ہوا۔ افغانستان کو امریکا نے خاک و خون میں غلطان کر دیا اور یہ زندہ باد و مردہ باد سے آگے نہیں جاسکے۔ کہاں گئی دفاع افغانستان کاؤنسل اور کیا ہوا طالبان حکومت کے ساتھ؟ اب انہوں نے دفاع پاکستان کاؤنسل بنائی ہے تو پاکستان پوری دنیا میں تنہائی کا شکار نظر آرہا ہے۔

انہوں نے دفاع افغانستان کاؤنسل بنائی تو طالبان حکومت کو ذلت آمیز طریقے سے فراہ کی راہ اختیار کرنا پڑی۔ انہوں نے دفاع پاکستان کاؤنسل بنائی تو ملا عمر کے جانشین ملا منصور کو پاکستان ہی کے اندر مار دیا گیا، کیا کر لیا دفاع پاکستان کاؤنسل کے طالبان نواز مولویوں نے؟ خدا پاکستان کی خیر کرے، کیونکہ ہوئے یہ دوست جن کے دشمن ان کا آسماں کیوں ہو! خدا خیر کرے پاکستان کی کہ کہیں پاکستان کے ساتھ بھی طالبان کے افغانستان جیسا انجام نہ پاجائے! ان کے زندہ باد یا مردہ باد کا نعرہ اتنا کھوکھلا ہے کہ ان کا پیر و مرشد آل سعود تو خود امریکی صہیونی اتحاد کا سرکردہ حکمران خاندان ہے۔ یہ مضحکہ خیز موقف بھی ملاحظہ فرمائیں: یہ کہتے ہیں نریندرا مودی مردہ باد اور ان کا آقا سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز مودی کو سعودی عرب کا اعلٰی ترین اعزاز عطا کرتا ہے۔ اس پر دفاع پاکستان کاؤنسل کا ہر رہنما منافقانہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے، ایسا کیوں۔؟ دلیل کی جنگ میں یہ سب لاجواب ہیں، دلیل سے محروم ہیں۔

امریکا مردہ باد کے ساتھ آل سعود مردہ باد کہتے تو زیادہ مناسب بات تھی، کیونکہ یہدونوں ایک دوسرے کے اسٹرٹیجک اتحادی ہیں، ایران تو ان کا اسٹرٹیجک اتحادی نہیں، نہ ہی ہندوستان کو ایران نے کوئی اعلٰی قومی اعزاز دیا ہے۔ سعودی عرب کے ہندوستان کے ساتھ اتحاد پر شک ہے تو سعودی وزیر خارجہ سے ہندوستان کے بارے میں پوچھ لیں۔ یہ افغانستان مردہ باد کہتے ہیں اور اس کا جھنڈا جلاتے ہیں جبکہ سرپرستوں نے امریکا کے آگے کشکول پھیلایا ہوا ہے، جو افغانستان میں خود موجود ہے اور اسے یہاں لانے والے بھی ان کے سرپرست خود ہی ہیں تو اب امریکا کے جھنڈے جلا کر کسے بے وقوف بنایا جارہا ہے! افغانستان اگر آج پاکستان کے بارے میں اتنا غصے میں ہے تو وہ تکفیریوں کی وجہ سے ہے، کیونکہ طالبان کے نام پر افغانستان میں جو کھیل کھیلا گیا، وہاں جو خانہ جنگی ہوئی، وہاں جو انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے، اس کی بنیاد پر وہ سب پاکستانیوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

کس نے ایرانی سفارتکاروں کو پاکستان میں شہید کیا، کس نے طالبان دور حکومت میں ایران کے سفارتکاروں کو شہید کیا؟ ایک طرف جعلی ریاست اسرائیل نے لبنان میں ایرانی سفارتکاروں پر حملے کئے اور انہیں اغوا کیا اور ایک طرف پاکستان اور طالبان دور کے افغانستان میں ایرانی سفارتکاروں کو قتل کیا گیا، اگر افغانیوں اور ایرانیوں سے شکایات ہیں تو تکفیریوں کے ماسٹر مائنڈ اپنے گریبانوں میں جھانکیں، ان گیدڑوں نے اس خطے میں امریکا کے ایجنٹ آل سعود کو خوش کرنے کے لئے جو کارنامے انجام دیئے ہیں، یہ اس کا نتیجہ ہے کہ پاکستان پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ ہمارا مشورہ یہی ہے کہ اتنی زیادہ اسٹرٹیجک گہرائی میں نہ گھسو کہ پھر اس گہرائی سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہ ملے۔ خدا پاکستان اور ملت شریف پاکستان کو ان منافقوں اور مکاروں کے شر سے اپنی پناہ میں رکھے۔

Rate this item
(0 votes)