نظریہ ارتقا: انسانی تخلیق سے متعلق ایک سائنسی کہانی

  • Monday, 30 September 2013 14:06
  • Published in سائنسی
  • Read 2204 times
The Big Bang's Victory Harun Yahya

انسان کی تخلیق سے متعلق اناکسی میندرسے لے کرڈارون تک کی تین ہزارسالہ تحقیق کی مسلسل ناکامی بتارہی ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ نےا پنیکتاب دی

گرانڈ ڈیزائن The grand design  کہ انسان کی تخلیق کے معاملہ میں خدائی بیان ہی درست ہے۔ خدائی بیان کوغلط ثابت کرنے کے لئے دنیا بھرکے بہترین دماغ لگ گئے اورانھوں نے تین ہزارسال تک مسلسل کوششیں کیں اورناکام ہوئے، یہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ خدا وند کابیان سچ ہے ا وروہی انسانوں کا خالق ہے۔

میں کئی دلچسپ واقعات نقل کئے ہیں۔ ان میں ایک واقعہ یہ ہے۔معروف یونانی سائنسداں اورفلاسفراناکسی میندرAnaximander کا ماننا تھا کہ بچہ پیدائش کے وقت اتنا کمزورہوتا ہے کہ وہ اپنے بل بوتے پر زندہ نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ وہ اس نتیجہ پرپہنچا کہ زمین پرپہلا انسان اگربچہ پیداہواہوگا تووہ ضرورمرگیا ہوگا۔ انسان کی تخلیق نومولود بچوں سے ممکن نہیں ہے۔ یہیں سے نظریہ ارتقا کا آغازہوا۔ گویا اناکسی میندرنظریہ ارتقا پرسوچنے والا دنیا کا پہلا انسان تھا۔ اناکسی میندر' کاماننا تھا کہ زمین پھاڑکریا پانی کے اندرسے کوئی مچھلی یامچھلی کی شکل کا کوئی جانورنکلا ہوگااسی کے پیٹ کے اندرانسان پرورش پاتا رہا ہوگااورجب جوان ہوا ہوگا تومچھلی نے اسے زمین پرڈال دیا ہوگا: ویکی پیڈ یا میں اس کے افکار ان الفاظ میں درج کئے گئے ہیں: اناکیسی میندرکی یہ سوچ صحیح تھی کہ پہلا انسان بچہ پیدا نہیں ہواہوگا۔ تاہم اس کی یہ سوچ کہ انسان بچہ پیدانہیں ہواہوگا تولامحالہ وہ کسی جانورسے ارتقا پاکرانسان بنا ہوگا، ایک ایسا دعوی ہے جس کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔سارامسئلہ بچے کا ہے۔ یعنی یہ فرض کرلیا گیا کہ نسل انسانی کی تخلیق کے لئے ضروری ہے کہ پہلا انسان بچہ ہی پیدا ہواوراگرایسانہیں ہے توانسان جانورسے ارتقا پاکرانسان بناہوگا۔یہ کیوں سوچا گیا کہ جانورسے ایک پروسس چلا کرانسان کی تخلیق ہوئی۔ یہ کیوں نہ سوچا گیا کہ ایک انسان کے جوڑے سے انسان کوپھیلادیا گیا۔ رہا یہ سوال کہ وہ پہلا انسان کس طرح پیداہوا؟ تومذہب میں اس کا جواب معلوم ہے کہ پہلے انسان کوخداوند نے مٹی سے پیدا کیاپھراس کے گوشت سے اس کے جوڑاکونکالااورپھرانھیں زمین پربسا دیااوران کے ذریعہ سے نسل انسانی کوروئے زمین پرپھیلا دیا۔لیکن اس سوچ میں ایک خطرہ تھا۔ وہ یہ کہ اس صورت میں یہ ماننا پڑتا کہ پہلے انسان کوخدا وند نے پیدا کیا اورپھر وہی نسل انسانی کوزمین پر مسلسل پھیلارہا ہے، شاید اسی لئے کچھ فرضی سائنسداں اسے ماننے سے انکارکرتے رہے کیوں کہ خدا وند کے ساتھ ان کا بیرتھا۔لیکن دوسری صورت میں پھریہ سوال رہ جا تاہے کہ اگرانسان جانورسے پیدا ہوا تووہ پہلاجانورکہاں سے آیا؟جیسا کہ اناکسی میندرکاماننا ہے کہ انسان مچھلی کے پیٹ میں بڑھتارہااورپھرمچھلی نے اسے جوان کرکے زمین پراگل دیا۔ توپھر یہاں سوال پیداہوتا ہے کہ وہ مچھلی کہاں سے آگئی؟ پہلی مچھلی کی تخلیق کس طرح ہوئی؟ اگرپہلی مچھلی بچہ پیداہوئی اورزندہ رہ گئی تو پہلا انسان بچہ پیدا ہوکرزندہ کیوں نہیں رہ سکتا؟ اوراگرمعاملہ دوسرا تھا۔ یعنی پہلی مچھلی کوکسی اورصورت میں پیدا کیا گیا تھاتوپھراسی صورت میں انسان کی تخلیق کیوں نہیں ہوسکتی۔ یعنی حیرت انگیزطورپربلکہ معجزاتی ڈھنگ سے مچھلی یا کوئی جانورتوپیدا ہوسکتا ہے لیکن انسان پیدانہیں ہوسکتا۔ یہ بھی ایک عجیب سائنس ہے۔اگریہ کہاجائے کہ ایک انسانی جوڑے کوآسمان سے ا تاراگیا اورپھراس سے زمین پرنسل انسانی کو پھیلا دیا گیا تویہ زیادہ عجیب وغریب اورنا قابل یقین بات معلوم پڑتی ہے یا یہ کہ آسمان سے ایک مچھلی اتری یا زمین پھاڑکرایک مچھلی نکلی اورپھراس سے انسان پیداہوا۔ بلا شبہ پہلی بات زیادہ قرین قیاس اورعقل سے قریب معلوم پڑتی ہے۔اس کے برعکس دوسری بات اتنی بے تکی ہے کہ کوئی اس پر مشکل سے ہی یقین کرسکتا ہے۔ نظریہ ارتقا کی تھیو ری اسی قسم کی بے بنیاد سائنسی کہانیوں پر رکھی گئی ہے۔ انکسی میندرسے لے کرڈارون تک جس نے ارتقا کی تھیوری کو آگے بڑھایا اوراس کے بعد تک یعنی کم وبیش تین ہزارسال کی مسلسل تگ ودو کے باوجود یہ نہیں ثابت کیاجاسکا کہ انسان کس طرح جانورسے انسان بن گیا۔ انسان سے جانوربننے کے درمیان جو بیچ کی کڑی تھی وہ کہاں رہ گئی؟ اس کڑی کوآج تک سامنے نہیں لایا جا سکا۔انسانی تخلیق پرسائنس کی تین ہزارسال کی مسلسل محنت کسی نتیجے پرنہیں پہنچ سکی یہاں تک کہ جدید سائنس نے ڈارون کی تھیوری کوردکردیا۔ ترکی کے ایک معروف اسکالراورسا ئنسداں ہارون یحی نے ڈارونزم ریفیوٹیڈ Darwinism refuted نامی ایک ضخیم کتاب لکھ کرنہایت علمی اندازمیں نظریہ ارتقا کی موت کااعلان کردیااوران کے اس اعلان کوتقریباً ساری دنیا نے تسلیم بھی کرلیا ۔ قرآن کا ارشاد ہے: جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں، پھرجب میں اسے پوری طرح بنا دو ں اوراس میں اپنی روح پھونک دوں توتم اس کے آگے سجدے میں گرجانا۔ 38:71-72دوسری جگہ ہے: " وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا"۔( 6—2)بائبل میں ہے:” خدا وند خدا نے زمین کی مٹی سے انسان کی تخلیق کی اوراس کے اندر زندگی کی روح پھونک دی اورانسان زندہ جاگتا ہوگیا"۔انسان کی تخلیق سے متعلق اناکسی میندرسے لے کرڈارون تک کی تین ہزارسالہ تحقیق کی مسلسل ناکامی بتارہی ہے کہ انسان کی تخلیق کے معاملہ میں خدائی بیان ہی درست ہے۔ خدائی بیان کوغلط ثابت کرنے کے لئے دنیا بھرکے بہترین دماغ لگ گئے اورانھوں نے تین ہزارسال تک مسلسل کوششیں کیں اورناکام ہوئے، یہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ خدا وند کابیان سچ ہے ا وروہی انسانوں کا خالق ہے۔انسان نے آخر کار یہ جان لیا کہ انسان کی تخلق کے معاملہ میں نظریہ ارتقا کے نام پرجوباتیں بیان کی گئیں وہ سب سائنس کے نام پرکہی گئی غیرسائنسی کہانیاں تھی۔قرآن میں اس کی نشاند ہی بہت پہلے ہی کر دی گئی تھی" اور اعلان کر دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل تو مٹنے ہی والا ہے"انجیل میں اسی سچائی کا بیان اس انداز میں ہوا ہے: ”ہروہ درخت جسے میرے باپ نے نہیں لگا یااسے اکھاڑپھینکا جائے گا"۔

Rate this item
(2 votes)
  • Last modified on Tuesday, 27 May 2014 22:10
  • font size