دلیپ کمار کو زوال نہیں

  • Monday, 09 May 2016 07:02
  • Published in فلمی
  • Read 634 times
دلیپ کمار کو زوال نہیں All images are copyrighted to their respective owners.

دلیپ کمار آج کافی علیل ہیں، زندگی ان کو بس چھوڑنے ہی والی ہے مگر ان کا نام اور کام ہمیشہ رہے گا۔

ایکٹر آف میلینئم کا اعزاز پانے والے امیتابھ بچن اور منہ پھٹ نصیرالدین شاہ این ڈی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے کہ ایک سوال پر نصیرالدین شاہ نے کہا دلیپ کمار بہت زبردست اداکار ہیں مگر میرے نزدیک امیتابھ بچن ان سے بڑے فنکار ہیں۔یہ سن کر امیتابھ کا چہرہ متغیر ہوگیا انہوں نے نرمی سے جواب دیا “میں دلیپ کمار جی سے آگے جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا البتہ میں نے ہمیشہ ان کے برابر آنے کی کوشش کی ہے مگر افسوس میں ان کے برابر بھی نہ آ سکا”۔

دلیپ کمار جنہیں “ٹریجڈی کنگ” اور “شہنشاہ جذبات” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے تاحال ہندی سینما کے وہ واحد اداکار ہیں جن کے فن نے ایک عالم کو مسحور کیے رکھا۔امیتابھ بچن، منوج کمار اور راجندر کمار سمیت دور حاضر کے سپر اسٹار شاہ رخ خان نے نہ صرف ان کی نقل کی بلکہ ہمیشہ ہر فورم پر اس کا فخریہ اعتراف بھی کیا۔دلیپ کمار کا انداز اور ان کی ڈائیلاگ ڈلیوری کا ہی کمال ہے کہ وہ راج کپور، دیو آنند اور اشوک کمار جیسے چمکتے ستاروں کے جھرمٹ میں بھی منفرد نظر آتے ہیں۔

وہ سب سے زیادہ فلم فیئر ایوارڈ وصول کرنے والے اداکار ہیں گو کہ موجودہ سپر اسٹار شاہ رخ خان بھی دلیپ کمار کی طرح آٹھ فلم فیئر جیت چکے ہیں مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ خان نے تمام ایوارڈ ماسوائے فلم “بازیگر” کے جس میں انہوں نے “دیوار” کے امیتابھ بچن کی بھی کاپی کی دلیپ کی نقالی کرکے حاصل کیے۔

ان کی اداکارانہ صلاحیتوں کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ ہدایتکار ڈیوڈ لین (David Lean) نے اپنی شہرہ آفاق فلم “لارنس آف عربیہ” میں شریف علی کے کردار کے لئے سب سے پہلے دلیپ کمار کو ہی منتخب کیا مگر بدقسمتی سے انہوں نے معذرت کرلی ان کی معذرت کے بعد یہ کردار مصری اداکار عمر شریف نے ادا کیا اگر دلیپ کمار معذرت نہ کرتے تو ان کی امر فلموں میں یہ ایک بہترین اضافہ ہوتا۔

ان کا ایک انکار فلم “سنگم” کو بھی سہنا پڑا۔راج کپور فلم کے دوسرے لیڈ رول کے لئے دلیپ کمار کو لینا چاہتے تھے مگر ان کے انکار کے بعد انہیں وہ کردار راجندرکمار کو دینا پڑا اگر دلیپ کمار انکار نہ کرتے تو فلم “انداز” کے بعد یہ دوسری خوبصورت یکجائی ہوتی اسی طرح انہوں نے محبوب خان کی کلاسیک “مدر انڈیا” کو بھی انکار کیا کیونکہ وہ اپنی ہیروئن نرگس کا بیٹا نہیں بننا چاہتے تھے جو بعد ازیں سنیل دت بنے۔

ہندی سینما کے لازوال فنکار دلیپ کمار ۱۱؍ دسمبر ۱۹۲۲ء کو پشاور کے قصہ خوانی بازار میں پھلوں کے تاجر غلام سرور خان کے ہاں یوسف خان کے نام سے پیدا ہوئے۔دلیپ کمار کے بقول ان کا تعلق ہندکو بولنے والی اعوان برادری سے ہے۔

چونکہ ان کے والد کے پھلوں کے باغات ناسک (مہاراشٹر) کے قریب بھی تھے اس لیے ان کی ابتدائی تعلیم کا آغاز ناسک کے قریب دیو لالی کے برنس اسکول سے ہوا۔غالباً ۱۹۳۲ءمیں ان کے خاندان نے ہمیشہ کے لئے ممبئی کو اپنا ٹھکانہ بنالیا۔انجمن اسلام اسکول سے میٹرک اور خالصہ کالج سے بی اے کرنے کے بعد انہیں پونا کے ملٹری کینٹین میں مینیجر کی نوکری مل گئی۔

وہ ۱۹۴۲ءکا پرآشوب سال تھا جب پورے ہندوستان میں آزادی اور تقسیم کے نعرے گونج رہے تھے، نوجوان یوسف خان اپنے والد کے ایک دوست کے ہمراہ شوٹنگ دیکھنے بمبئے ٹاکیز پہنچے۔

ہندی سینما کی خاتون اول اور بمبئے ٹاکیز کی شریک سربراہ دیویکا رانی کو مردم شناس مانا جاتا ہے اور اس مردم شناس کی نظر شوٹنگ دیکھنے والے پشاوری نوجوان پر پڑی۔انہوں نے نوجوان سے پوچھا، کیا آپ کو اردو آتی ہے؟ ہاں میں جواب سن کر خاتون نے دوسرا سوال داغا، اداکاری کروگے؟ نوجوان نے جو جواب دیا سو دیا مگر اس جواب کی گونج آج تک سنائی دیتی ہے اور نجانے کب تک سنائی دیتی رہے گی۔جب یوسف خان سے دلیپ کمار بنتے فنکار کی بات ہوگی تب تب دیویکارانی کا ذکر بھی آئے گا۔

انہوں نے بمبئے ٹاکیز کی ملازمت اختیار کرکے تین فلموں کے معاہدے کیے۔اس زمانے کے فلمی چلن کے مطابق ان کے سامنے تین فلمی نام رکھے گئے واسو دیو، جہانگیر خان اور دلیپ کمار۔انہوں نے جہانگیر خان کا نام پسند کیا مگر معروف مصنف بھگوتی چرن ورما نے دلیپ کمار پر اصرار کیا بعد ازاں اس اصرار کے پلڑے میں دیویکا رانی نے بھی اپنا وزن ڈال دیا، بالآخر یوسف خان دلیپ کمار بن گئے۔

۱۹۴۴ءمیں امیہ چکرورتی کی ہدایت میں ان کی پہلی فلم “جواربھاٹا” ریلیز کی گئی۔یہ ایک میوزیکل ڈرامہ ہے جس میں دلیپ کمار کی اداکاری انتہائی بھونڈی اور بکواس ہے۔

اس کے بعد ۱۹۴۵ءاور ۱۹۴۷ءکو بمبئے ٹاکیز کے بینر تلے ان کی دو فلمیں بالترتیب پرتیما اور ملن آئیں۔یہ فلمیں بھی عوام کو متوجہ کرنے میں ناکام رہیں البتہ ملن میں اس دلیپ کمار کی جھلک ضرور ملتی ہے جس نے بعد میں ھندی سینما کو ایک نئی پہچان دی۔

۱۹۴۷ءکے ہنگامہ خیز سال میں جہاں “ملن” نے ناکامی کا منہ دیکھا وہاں شوکت حسین رضوی کی ہدایت میں ان کی چوتھی فلم “جگنو” نے دھماکہ خیز انٹری ڈالی۔اس فلم کی ہیروئن شوکت رضوی کی شریک حیات اور بعد میں ملکہ ترنم کا خطاب پانے والی نورجہاں ہیں۔فلم کی کامیابی سمیٹتے سمیٹتے شوکت رضوی اور نورجہاںنوزائیدہ پاکستان ہجرت کرگئے تاہم وہ جاتے جاتے ہندی سینما کو وہ تحفہ دے گئے جس نے جگنو جیسی ہی روشنی پائی۔

۱۹۴۸ءکو آزاد ہندوستان کی فضاؤں میں ان کی پانچ فلمیں سینماؤں کی زینت بنیں مگر کامیابی صرف “شہید” کو ملی، گو کہ شہید بھی کچھ خاص نہیں ہے مگر جدوجہد آزادی کے مناظر اور خوبصورت گیتوں کے باعث جذبہ قوم پرستی سے سرشار عوام نے اسے خوب پزیرائی بخشی۔دلیپ کمار انڈسٹری میں جگہ بنا چکے تھے مگر ان کی حیثیت تاحال دوسرے درجے کی تھی۔

۱۹۴۹ءکو ان کی فلم “شبنم” نے بھی باکس آفس کو اپنے نام کیا۔کئی سالوں بعد اداکار منوج کمار نے ایک انٹرویو میں کہا مجھ میں اداکار بننے کا شوق جگنو اور شبنم میں دلیپ کمار کی متاثر کن اداکاری دیکھنے کے بعد پیدا ہوا، بلاشبہ شبنم ایک اچھی فلم ہے مگر وہ فلم جس نے ۱۹۴۹ءکے دلیپ کمار کو دوسرے درجے سے اٹھا کر اول درجے کے اداکاروں کی صف میں شامل کیا وہ شبنم نہیں بلکہ لیجنڈ ہدایت کار محبوب خان کا میوزیکل ٹریجڈی ڈرامہ “انداز” ہے۔راج کپور، نرگس اور دلیپ کمار کی اس ٹرائینگل لو اسٹوری کو ہر سطح پر سراہا گیا۔ناکام محبت کے جنازے پر دلیپ کمار کے سوگوار انداز نے فلم بینوں کی روح تک کو چھولیا اس کے بعد انہوں نے یچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

۱۹۵۴ءسے لے کر ۱۹۵۸ءتک “جوگن”، “آرزو”، “بابل” “ترانہ”، “داغ”، “دیدار”، “دیوداس” “مدھومتی” اور “یہودی” جیسی ناقابل فراموش فلموں میں انہوں نے المیہ اداکاری کے وہ جوہر دکھائے کہ انہیں “ٹریجڈی کنگ” کے نام سے پکارا جانے لگا۔موخر الذکر تین فلموں کے ہدایت کار بمل رائے ہیں اگر یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو کہ بمل رائے کی تخلیقات کو اگر بلراج ساہنی کے بعد کسی نے بھرپور انداز میں پیش کیا ہے تو وہ دلیپ کمار ہی ہیں۔

مسلسل المیہ اداکاری کرنے کے باعث ان کی نفسیاتی کیفیت بھی بدلنے لگی، ان پر اداسی اور غم کے بادل چھانے لگے۔البتہ اس زمانے میں ان کی اداسی کا ایک اور سبب ۱۹۵۷ءکی فلم “نیا دور” کی شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات بھی ہوسکتے ہیں جنہوں نے شام غم کی سیاہی کو مزید گہرا کیا۔نیادور کی ہیروئن مدھوبالا اور دلیپ کمار کے درمیان محبت کا رشتہ استوار ہوچکا تھا جس میں مدھوبالا کے والد عطااللہ کی ناپسندیدگی کی تلخی بھی شامل تھی۔نیادور کی آدھی شوٹنگ کے بعد ہدایت کار بی آر چوپڑا نے باقی شوٹنگ بھوپال میں کرنے کا اعلان کیا جسے عطاللہ نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ یہ دلیپ کمار کی سازش ہے تانکہ وہ بھوپال میں میری بھولی بیٹی سے کھل کر جھوٹی محبت کا ناٹک کرے، بات کافی آگے بڑھ گئی، معاملہ کورٹ کچہری تک پہنچ گیا ناچار مدھو بالا کی جگہ وجینتی مالا کو سائن کردیا گیا۔اس واقعے اور اس سے منسلک دیگر تلخیوں نے ان کی رومانی زندگی کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ۔اپنے نفسیاتی معالج کے مشورے پر انہوں نے اداس کرداروں سے کنارہ کشی اختیار کرلی مگر محبت!!!۔

گوکہ وہ ۱۹۵۲ءکو ہدایت کار محبوب خان کی فلم “آن” میں ایک زبردست ٹیکنی کلر کردار کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر چکے تھے لیکن اس کے باوجود بعض نقادوں کا ماننا تھا کہ وہ دوسری قسم کے کرداروں کو ادا نہیں کرپائیں گے مگر ۱۹۶۰ءکی “کوہ نور” نے تمام اندازے نہ صرف غلط ثابت کردیے بلکہ اس فلم کے ایک گیت “مدھ بن میں رادھیکا ناچے رے” کو فلمانے سے قبل انہوں نے اداکاری میں حقیقت کا عنصر پیدا کرنے کے لئے کڑی محنت کرکے ستار بجانا بھی سیکھا اور اس کوشش میں ان کی انگلیاں تک زخمی ہوگئیں۔قبل ازیں نیادور کے لئے بھی اپنے کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے انہوں نے باقاعدہ تانگہ چلانے کی تربیت حاصل کی۔

فلم کوہ نور کامیاب رہی اور ان کی اداکاری کو فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا مگر ان کا “کوہ نور” چرایا جا چکا تھا۱۹۶۰ء میں ہی ان کی دوسری فلم “مغل اعظم” بھی بلاک بسٹر ثابت ہوئی مگر وہ محبت کی بازی ہار چکے تھے، ان کی انارکلی بھی صاحب عالم کی طرح ان سے چھن چکی تھی۔مغل اعظم کی شوٹنگ کے دوران مدھوبالا اور ان کے درمیان بات چیت تک بند ہوچکی تھی، وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر منہ پھیر لیا کرتے تھے۔ فلم کے رومانی مناظر دیکھ کر لگتا نہیں ہے کہ ان دونوں کے درمیان نفرت کا رشتہ ہے ایک طرح سے یہ ان دونوں فنکاروں کے فن کی بلندی کی دلیل بھی ہے۔کئی سالوں بعد دلیپ کمار نے اعتراف کیا کہ وہ ناراضگی کے باوجود مدھوبالا سے متاثر تھے ایک اداکارہ کے طور پر بھی اور ایک عورت کے طور پر بھی۔ان کے بقول جب وہ آخری بار مدھو بالا سے ملنے گئے تو کمزور اور شدید بیمار مدھو بالا نے پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے اپنا شہزادہ کہہ کر مخاطب کیا اور سائرہ بانو سے شادی کی مبارکباد دی۔وہ کہتے ہیں یہ سن کر میرے آنسو چھلک پڑے۔

وہ الفت کے تقاضے تو نبھا نہ سکے مگر انہوں نے اپنے فن پر آنچ نہ آنے دیا۱۹۶۱ء میں انہوں نے اپنے زاتی سرمائے سے فلم “گنگا جمنا” بنائی جس کی ہدایت نیتن بوس نے دی۔اس فلم میں انہوں نے وہ کر دکھایا جس کی توقع کسی کو نہ تھی، بقول راج کپور، میں اس روانی سے دلیپ کو پچھم کی زبان بولتے دیکھ کر حیران رہ گیا۔امیتابھ بچن کہتے ہیں کہ وہ زمانہ طالبعلمی میں اس فلم کو روز الہ آباد کے سینما میں دیکھنے جایا کرتے تھے۔دلیپ کمار کی بہترین فلموں کی فہرست لمبی ہے مگر گنگا جمنا ایک ایسی فلم ہے جسے میں ان کی تمام فلموں پر حاوی تصور کرتا ہوں۔

تین سال کے طویل عرصے بعد ۱۹۶۴ءکو ان کی فلم “لیڈر” آئی جو اپنے بہترین گیتوں کے باوجود بکواس ثابت ہوئی۔ ۱۹۶۶ءکو وحیدہ رحمان کے ساتھ رشید کاردار کی ہدایت میں “دل دیا درد لیا” آئی جو ایملی برونٹس کے ناول Wuthering Heights سے ماخوز ہے فلم کامیاب رہی لیکن یہ فلم ان کی سابقہ فلموں کے ہم پلہ ہرگز نہیں ہے تاہم ۱۹۶۷ءکی ڈبل رول پر مبنی فلم “رام اور شیام” کو ان کی بہترین فلموں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔اس فلم میں ان کے مقابل وحیدہ رحمان اور صدی کی خوبصورت ترین اداکارہ کا اعزاز پانے والی ممتاز ہیں۔رام اور شیام کو نہ صرف وسیع پیمانے پر پسند کیا گیا بلکہ متعدد دفعہ اس کی نقل بھی کی گئی جیسے ہیمامالنی کی “سیتا اور گیتا”، سری دیوی کی “چالباز” اور انیل کپور کی “کشن کنہیا”۔

رام اور شیام کی ریلیز سے قبل ۱۹۶۶ءمیں وہ پڑوسن فلم سے شہرت پانے والی حسین ساحرہ “سائرہ بانو” کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔یہ شادی تاحال قائم ہے لیکن بدقسمتی سے یہ خوبصورت فلمی جوڑا محمدعلی زیبا کی طرح اولاد کے سکھ سے محروم ہے۔

۱۹۶۸ءکو “سنگھرش” اور “آدمی” کی کامیابی کے بعد ان کی فلمیں یکے بعد دیگرے ناکام ہوتی گئیں۔۱۹۷۶ء کو “بیراگ” کی ناکامی کے بعد وہ فلموں سے دور ہوگئے۔۱۹۸۰ء کو ان کے سب سے بڑے پرستار، ہدایت کار و اداکار منوج کمار نے انہیں اپنی فلم “کرانتی” کی آفر کی جسے انہوں نے قبول کرلیا۔فلم ۱۹۸۱ء کو ریلیز کے ساتھ ہی ہٹ ہوگئی۔یہ فلم بھی “شہید” کی طرح کچھ خاص نہیں ہے مگر آزادی کی جدوجہد کے مناظر اور خوبصورت گیتوں کے باعث کامیابی کے تخت پر جا بیٹھی۔کرانتی کے باعث دلیپ کمار ایک بار پھر فلمی دنیا میں اسی آن اور شان کے ساتھ آگئے جو ان کا خاصہ تھا۔

۸۰؍ کی دہائی میں یوں تو ان کی بہت سی فلمیں آئیں مگر میری دانست میں ان کی اہم ترین فلمیں تین ہیں۔۱۹۸۲ء میں رمیش سپی کی ہدایت میں “شکتی” جس میں انہوں نے ایک قانون پسند پولیس آفیسر اور ایک اصول پسند باپ کا کردار ادا کیا جبکہ ان کے مقابل امیتابھ بچن تھے جنہوں نے ایک انارکسٹ بیٹے کا کردار نبھایا۔فلم میں گوکہ دونوں کی اداکاری اعلی رہی مگر میں سمجھتا ہوں بعض سیکوئنس میں انہوں نے امیتابھ بچن کو آؤٹ کلاس کردیا ہے۔اس فلم کے بعد راجکمار نے کہا، ھندی سینما میں صرف دو کمار ہیں ایک میں دوسرا دلیپ کمار۔دوسری۱۹۸۴ء میں یش چوپڑہ کی ہدایت میں بننے والی فلم “مشعل”۔اس فلم کے ایک سین نے تو کلاسیک۱۰؍کا درجہ حاصل کرلیا جب برسات کی رات، سنسان سڑک پر، اپنی مرتی بیوی کی زندگی بچانے کے لئے دلیپ کمار مدد کی فریاد کرتے ہیں۔اس سین میں ان کا انداز، ڈائیلاگ ڈلیوری، جسم کی حرکت الغرض ہر چیز شاندار ہے جبکہ تیسری فلم۱۹۸۶ء میں وطن دوستی پر مبنی “کرما” ہے جس کے ہدایت کار سبھاش گئی ہیں۔اس فلم میں بھی ان کا فن سر چڑھ کر بولتا ہے۔کہا جاتا ہے اس فلم کی شوٹنگ کے دوران دلیپ کمار اور ان کے ساتھی اداکار نصیرالدین شاہ کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے جو تاحال معمول پر نہ آسکے شاید اسی لیے نصیر، امیتابھ کو دلیپ سے بڑے فنکار مانتے ہیں البتہ یہ محض میرا اندازہ ہے۔

۹۰؍ کی دہائی میں ان کی صرف تین فلمیں آئیں۔ان میں سے بھی صرف۱۹۹۱ء کی “سوداگر” دیکھنے کے قابل ہے جس میں ان کے مقابل ہندی سینما کے دوسرے کمار “راج کمار” تھے۔ان دونوں کی دوستی اور دشمنی سے پیدا ہونے والے ڈائیلاگ ہی اس فلم کی جان ہیں دوسری صورت میں یہ بھی بہترین فلم نہیں کہی جا سکتی۔ان کی آخری فلم۱۹۹۸ء کی ” قلعہ” ثابت ہوئی اور افسوس کہ یہ بھی کوئی خاص تاثر چھوڑنے میں مکمل طور پر ناکام رہی لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، دلیپ کمار آج جس مقام پر فائز ہیں وہ ان سے کوئی نہیں چھین سکتا اپنے چوّن سالہ کیریئر میں انہوں نے سینما پر ایک بادشاہ کی طرح راج کیا، سینکڑوں ایوارڈ سمیٹے، برصغیر (بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش) میں ان کا نام بنا کسی تعصب کے احترام اور محبت سے لیا جاتا ہے۔

صدی کے بہترین اداکار کا اعزاز امیتابھ بچن کو حاصل ہے مگر دیکھیے امیتابھ خود کہتے ہیں میں دلیپ کمار کا سایہ ہوں۔دلیپ کمار آج کافی علیل ہیں، زندگی ان کو بس چھوڑنے ہی والی ہے مگر ان کا نام اور کام ہمیشہ رہے گا۔

 

ذوالفقار علی زلفی

Rate this item
(1 Vote)

Related items