واٹس ایپ پر پیغامات میں مکمل پرائیویسی؟

  • Wednesday, 13 April 2016 07:38
  • Published in سائنسی
  • Read 863 times
واٹس ایپ پر پیغامات میں مکمل پرائیویسی؟ All images are copyrighted to their respective owners.

ناپختہ عمر میں جب ایسی چیزیں میسّر آ جاتی ہیں تو بہت دفع انسان غلط راہ پر چل نکلتا ہے

یہ دور انٹرنٹ، ایپلیشکنز اور سوشل میڈیا کا دور ہے، جس میں نِت نئی ایجادات نے عقلوں کو متحیّر اور آنکھوں کو خیرہ کر رکھا ہے۔ پہلے تو فون کی ایجاد نے دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا، پھر موبائل فون، پھر اسمارٹ فون اور اب اسمارٹ فون میں نِت نئی تکنیکی سہولیات نے انسان کو ایسی دنیا میں لاکر کھڑا کر دیا ہے کہ نہ بل بھرتی وغیرہ کے لیے کہیں چل کر جانے کی ضرورت ہے اور نہ خریداری کے لیے بازاروں کی خاک چھاننے کی۔ گھر بیٹھے گیس کا سلنڈر بُک کروا لیجیے، سفر کے ٹکٹ بُک کروا لیجیے اور دورانِ سفر بھی آپ کو کسی ان جان شخص سے راستہ پوچھنے کی ضرورت ہے، نہ خالی بیٹھے اُوبنے کی، اس لیے کہ ان تمام مسائل کا حل آپ کو تنہا ایک اسمارٹ فون میں مل جاتا ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ کا سفر ہو تو گھر سے نکلنے سے پہلے ٹائم ٹیبل دیکھ لیجیے اور عین وقت پر گھر سے نکلیے، اس سے جہاں آپ کا بہت سا وقت بچ جاتا ہے، وہیں انتظار کی صعوبتوں سے بھی راحت ملتی ہے۔

جس وقت فون یا اس کے بعد موبائل فون ایجاد ہوئے ان کے کال چارجز کافی زیادہ تھے، جس کی بدولت عام آدمی تو عام آدمی خواص بھی اس کا استعمال ضرورت کی حد تک ہی کرتے تھے ، وہ بھی احتیاط کے ساتھ ،لیکن کمپنیوں کی آپسی رسّہ کشی یا مقابلہ آرائی کہیے یا نئے زمانے کی ترقی، اب یہ چارجیز دیگر اشیا کے مقابلے میں خفیف ہیں۔ بعض کمپنیوں نے شاید نوجوانوں میںخصوصیت سے ’پیار کا روگ‘ عام کرنے کے لیے خاص رات کے چارجیز میں تخفیف کر رکھی ہے اور اس کے لیے گاہ بگاہ مختلف النوع اسکیمیں بھی متعارف کرائی جاتی رہتی ہیں، جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوان بغیر کسی کا احسان لیے دلی مُرادیں پاتے اور رات بھر یا گھنٹوں طویل گفتگو میں وقت گزارتے نظر آتے ہیں۔انٹرنٹ کی موجودگی میں ان سہولیات میں مزید چار چاند لگ جاتے ہیں، اس لیے کہ پھر ایک نہیں متعدد ایسی ایپلی کیشن یا سافٹ ویرز وغیرہ سے فایدہ اٹھانے کے امکانات رہتے ہیں جن پر نہ صرف ایک دوسرے کی ’سُریلی و مد ہوش کرنے والی آوازیں‘سننا سہل ہو جاتا ہے بلکہ الگ سے کوئی صَرفہ بھی برداشت نہیں کرنا پڑتا، بلکہ ’فیس ٹو فیس‘ جیسا مزہ لیا جا سکتا ہے۔ ہمارے شعرابے چارے ’تصورِ جاناں کیے ہوئے‘ ہی دنیا سے رخصت ہو گئے اور دنیا اتنی آگے نکل گئی کہ ہجر ہی باقی نہ رہا یا اس قبیل کی تمام مشکلیں و پریشانیاں ہوا ہو گئیں۔

ہمارے قرب و جوار میں ان تمام ایپلی کیشن اور سوشل سائٹس میں مقبول ترین ایپلی کیشن ’واٹس ایپ‘ ہے، جس کا یقینی فائدہ ہر خاص و عام کے مشاہدے میں ہے، اس لیے کہ اس کی مدد سے نہ صرف یہ کہ اس میں براڈ کاسٹ لسٹ کی سہولت ہے، تقریباً ڈھائی سو افراد تک کے کتنے ہی گروپ بنالینے کی سہولت ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ آڈیو ویڈیو کا لین دین بہت آسان ہے بلکہ اب تو اس میں پڑھے لکھے لوگوں کے لیے پی ڈی ایف فائل بھی شیئر کرنے کی سہولت میسر آگئی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان تمام سہولیات کے بعض نتائج منفی ہیں تو بعض مثبت بھی ضرور ہیں۔بات یہیں تک رہتی تو شاید ٹھیک ٹھاک تھا لیکن چند دنوں پہلے واٹس ایپ کی طرف سے اپنے صارفین کی خدمت میں جو نئی سہلوت پیش کی گئی ہے، اس کے منفی پہلوؤں کا تو محض تصور کرکے ہمیں پسینہ آگیا اور یہ مکمل مضمون صفحۂ قرطاس کرنے کا محرک ہوا۔

گذشتہ دنوں واٹس ایپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ منگل کے دن (۵؍اپریل ۲۰۱۶ء )سے صارفین کی بات چیت کو اِنکرپٹ کرنا شروع کر دیں گے اور حسبِ وعدہ اس پر عمل بھی ہوا۔ اس نئے نظام کی بدولت بھیجنے والے اور موصول کرنے والے دونوں کی طرف اِنکرپشن کی جائے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ بھیجنے والے کا پیغام گڈمڈ ہو گا اور یہ موصول ہونے والے کو صرف اسی وقت سمجھ میں آسکے گا، جب وہ اس پیغام کو ڈی کرپٹ کرے۔اگر اس پیغام کو کوئی تیسرا پڑھنے کی کوشش کرے، مثلاً کوئی مجرم یا کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ، تو وہ اسے نہیں پڑھ پائے گا۔ واٹس ایپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی فائل ٹرانسفرز اور کالز بھی اِنکرپٹڈ ہوں گی،اس لیے کہ ذاتی روابط کی حفاظت ان کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔جن صارفین کے پاس واٹس ایپ کا بالکل نیا ورژن موجود ہے، ان کے پاس منگل ہی کو یہ خبر پہنچ گئی تھی، کمال تو یہ ہے کہ یہ سیٹنگ خود بہ خود ہی انسٹال ہو جاتی ہے۔جس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ یہ آزادیِ اظہار کی فتح ہے، خاص طور پر ان سرگرم کارکنوں اور صحافیوں کے لیے جن کے کام کا انحصار قابلِ اعتماد ذرائع ابلاغ پر ہے، اب وہ اپنی زندگیاں داؤ پر لگائے بغیر کام کر سکیں گے۔ہمیں اس سہولت کے اس مثبت پہلو سے کوئی اختلاف یا پریشانی نہیں لیکن فکر اس بات کی ہے کہ کسی بھی چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں، ایک مثبت تو دوسرا منفی۔کوئی اہم فیصلہ لینے سے قبل بہت ضروری ہے کہ ان دونوں پہلوؤں کو مدِّ نظر رکھا جائے تاکہ آگے چل کر کسی مصیبت یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

حال ہی میں ممبئی کے بعض اہم اسٹیشنوں پر انٹرنٹ کی مفت سہولیات فراہم کرائی گئی ہیں، جس میں یہ احتیاطی پہلو بھی مدِّنظر رکھا گیا ہے کہ بنا پاس ورڈ کے اس سہولت سے فایدہ نہیں اٹھایا جا سکتا، یہ ایک اچھی بات ہے اور اس سے زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے ان غریبوں کا بھی بھلا ہو جاے گا جو ضرورت کے باوجود انٹرنٹ کی سہولت اپنے گھروں میں حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اس کے علاوہ مشغول افراد کو اسٹیشنوں پر انتظار کے اوقات میں بہت سے کام نمٹانے کا موقع مل جاے گا، اب منفی پہلو پر بھی غور فرما لیں وہ یہ کہ آپ نے سوچا ہے کہ کتنے نوجوان لڑکے یا لڑکیاں اس گولڈن چانس کا فایدہ اٹھانے کے چکر میں ان مقامات پر اپناوقت ضایع کرتے یا اس کا غلط فایدہ اٹھاتے ہوئے نظر آنے لگیں گے،اس لیے کہ گھروں میں رہتے ہوئے اہلِ خانہ کی موجودگی میں وہ جس طرف جانے سے ہچکچاتے تھے، یہاں ان کو اس میں کوئی رُکاوٹ محسوس نہیں ہوگی۔ بس یہی حال واٹس ایپ کی اس نئی سہولت کا بھی ہوگا کہ جس طرح اس کے فوائد سے ذمّے دار طبقے کو اظہارِ خیال کی آزادی ملے گی، وہیں غیر ذمّے دارطبقے کو غلط کام انجام دینا آسان ہوجاے گا اور نسلِ نَو کے بگڑنے کا بھی اس میں امکانات رہیں گے۔ناپختہ عمر میں جب ایسی چیزیں میسّر آ جاتی ہیں تو بہت دفع انسان غلط راہ پر چل نکلتا ہے، اس لیے کہ اس کی نظر میں وہ راہ درست اور محفوظ ہوتی ہے نیز شر پسند بھی شر کو پھیلانے کے لیے ان چیزوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جن سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔

اس مضمون سے ہمارا منشا صرف اتنا ہے کہ ترقی کی روشنی ہماری آنکھوں کو اتنا خیرہ نہ کر دے کہ پھر درست غیر درست اور اچھا بُرا دیکھنے سمجھنے کی صلاحیت باقی نہ رہے، اس لیے کہ اندھیرے میں سڑک پار کرنے کے لیے روشنی کی ضرورت تو ہوتی ہے لیکن ضرورت سے زیادہ روشنی بھی آنکھوں پر پڑ جائے تو وہ دیکھنے کی صلاحیت کو بڑھاتی تو کیا بلکہ کچھ دیر کے لیے کم یا ختم ہی کر دیتی ہے، جس سے بعض دفع حادثات بھی رو نما ہو جاتے ہیں۔

 

ندیم احمد انصاری(ممبئی)

Rate this item
(0 votes)

Related items