پھر انصاف کے لئے کہاں جائیں؟

  • Thursday, 31 March 2016 09:10
  • Published in سماجی
  • Read 485 times
پھر انصاف کے لئے کہاں جائیں؟ All images are copyrighted to their respective owners.

دس برس پہلے مالے گائوں میں جو ۱۵؍شعبان کو قبرستان میں بم دھماکے ہوئے تھے۔ اس کے الزام میں پولیس نے ۹؍مسلمانوں کو ہی گرفتار کیا تھا

دس برس پہلے مالے گائوں میں جو ۱۵؍شعبان کو قبرستان میں بم دھماکے ہوئے تھے۔ اس کے الزام میں پولیس نے ۹؍مسلمانوں کو ہی گرفتار کیا تھا جبکہ وہ مسجد سے نکلنے والے اور قبرستان آنے والے سب کے سب مسلمان تھے۔ اس وقت کی ہر بات یاد ہے کہ سائیکل کے ایک دُکاندار نے ان مسلمانوں کی شناخت بھی کی تھی کہ انہوں نے سائیکل خریدی تھی اور جو اب میں ہندو کو بتارہے ہیں کہ اس نے خریدی تھی۔ وہ جواب بھی یاد ہے جو پولیس نے اس سوال کے جواب دیا تھا کہ مسلمان مسلمانوں کو کیوں مارے گا؟ ہمارے ملک کی جاہل پولیس نے جواب دیا تھا کہ یہ دھماکے ان مسلمانوں نے کئے ہیں جو ۱۵؍شعبان کو قبرستان جانے کے خلاف ہیں۔ اور دس سال تک ہر اذیت برداشت کرنے کے بعد حقیقت سامنے آئی ہے کہ دھماکے ہندوئوں نے کئے تھے اور جو مسلمان اس الزام میں گرفتار ہوئے ان میں ایک تو شبیر مسیح اللہ ممبئی کرائم برانچ کی تحویل میں تھا اور ایک ملزم مولانا زاہد اس مسجد کے امام ہیں جو مالے گائوں سے چارسو کلومیٹر دور ہے اور وہاں کے مسلمانوں نے بتایا کہ اس جمعہ کو انہوں نے مولانا زاہد کے پیچھے نماز پڑھی تھی۔

عدل کے معنیٰ انصاف ہیں عادل وہ ہے جو انصاف کرتا ہے اور عدالت وہ ہے جس جگہ صرف انصاف ہوتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ناقابل تردید حقیقت سامنے آنے کے بعد بھی عدالت کی نام کی عمارت میں کوئی عادل ایسے ثبوت مل جانے کے بعد بھی سرکاری وکیل کو بکواس کرنے کی اجازت دے اور فیصلہ چار دن کے لئے ٹال دے؟

یکم اگست ۱۹۶۵ء کو ہم صبح ہونے سے پہلے گرفتار کرلئے گئے تھے۔ صبح سے دو بجے تک ندائے ملت کا مسلم یونیورسٹی نمبر پولیس اور سی آئی ڈی کے قبضہ میں تھا۔ انہوں نے اپنے ماہر وکیلوں کو اس مہم پر لگایا کہ ان لوگوں کے خلاف کس کس دفعہ میں مقدمہ قائم کیا جائے؟ اخبار میں شاید ایک مضمون بھی ایسا نہیں تھا جس پر کوئی دفعہ لگائی جائے۔ ہر مضمون میں جس بات پر زیادہ زور دیا گیا تھا وہ یہ تھی کہ اسے مسلمانوں نے قائم کیا ہے۔ اس میں اس کی تفصیل بھی تھی کہ سرسید اور ان کے رفیقوں نے قوم سے کیسے کیسے چندہ مانگا اور اس کا بھی ذکر تھا کہ شاید ملک میں کوئی یونیورسٹی ایسی نہیں ہے جس کے لئے ہندوئوں نے چندہ کرکے اسے بنایا ہو؟

پروفیسر آل احمد سرور نے لکھا ہے کہ میرولایت حسین کی آپ بیتی سید محمد ٹونکی نے ایڈٹ کرکے شائع کی ہے جس میں سرسید کے بارے میں لکھا ہے کہ سرسید کو سید محمود نے اپنے خلل دماغ کی وجہ سے گھر سے نکال دیا تھا۔ ان کا انتقال ان کے ایک دوست حاجی اسماعیل خاں کے ہاں ہوا۔ تجہیز و تکفین کے مصارف محسن الملک نے یہ کہہ کر ادا کئے کہ اب یہ چندہ لینے پھر تو نہ آویں گے۔ اس ایک جملہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرسید کی آمد صرف برائے چندہ سمجھی جاتی تھی اور پروفیسر رمیش دکشت نے لکھا ہے کہ ہمارا ماننا ہے کہ جب آپ نے اس یونیورسٹی کو بنایا نہیں تھا۔ بنانے والے کوئی اور ہیں تو اس کے مزاج کو بنا رہنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو حیثیت مسلم یونیورسٹی کے کردار کی مسلمانوں کے دماغ میں ہے ویسی کوئی پہچان بنارس ہندو یونیورسٹی کی نہیں ہے اور جو لگائو علی گڑھ یونیورسٹی سے مسلمانوں کو ہے وہ لگائو بنارس یونیورسٹی سے ہندوئوں کو نہیں ہے۔

ظاہر ہے ایسے مضامین پر کون سی دفعہ لگائی جاتی؟ لیکن کچھ نہ کچھ کرنا اب اس لئے ضروری ہوگیا تھا کہ ملک کے ہر اخبار میں چھپ گیا تھا کہ ایک ہزار سے زیادہ پولیس کی نفری اور درجنوں افسروں کی موجودگی میں تین جگہ چھاپے مارے گئے۔ تو جب کچھ نہیں تھا تو حکومت کا لاکھوں روپیہ کیوں برباد کردیا؟ قیصر باغ کوتوالی میں افسروں کے ساتھ جو ہماری گفتگو ہوئی۔ اس میں ان کا سارا زور اس پر تھا کہ مضامین کی اصل انہیں دے دی جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کی نیت خراب تھی۔ ورنہ جب ہم کہہ رہے ہیں کہ ہر مضمون چھپا ہوا آپ کے پاس ہے تو اصل کی حیثیت کیا؟ مگر ان کا اصرار رہا۔ اور اس کے بعد بات ختم ہوگئی۔اتوار کے دن ہر عدالت بند ہوتی ہے صرف کسی ایک مجسٹریٹ کے سپرد یہ کام کردیا جاتا ہے کہ وہ جو ملزم آئیں انہیں ۱۴؍دن کے لئے جیل بھیج دے۔ ہمیں نہیںمعلوم تھا کہ ہمارے خلاف کون کون سی دفعات ہیں؟ مجسٹریٹ صاحب کے سامنے پیش ہوئے تو ان کو جو کاغذ دیا گیا تھا اس میں ڈی آئی آر لکھا تھا۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ انہوں نے اس پر غور ہی نہیں کیا اور ۱۴؍دن کے لئے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا۔ جبکہ آج بھی وہ کتابیں موجود ہیں جس میں ڈی آئی آر کے تحت قائم کئے ہوئے مقدمات کی تفصیل ہے۔ وہ مولانا آزاد ہوں، مولانا ظفر علی خاں ہوں یا مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی۔ جس کے خلاف بھی ڈی آئی آر لگائی گئی۔ اس کی نہ ضمانت کی بات ہوئی اور نہ ہر ۱۴؍دن کے بعد عدالت کی حاضری۔

اپنے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ عدالتوں میں ہورہا ہے اور عادل کے قلم سے ہورہا ہے۔ کوئی پولیس سے نہیں معلوم کرتا کہ انہوں نے کیا کیا جو Defence of India Rule (D.I.R.)    جیسی سنگین دفعہ لگائی۔ یا مالے گائوں میں عدالت نے یہ نہیں معلوم کیا کہ پورے ملک میں مسلمان ۱۵؍شعبان کو ہمیشہ سے قبرستان جاتے ہیں اور یہ اختلاف کہ قبرستان جانا ٹھیک ہے یا غلط؟ یہ بھی ہمیشہ سے ہے اور کبھی نہیں سنا کہ کسی نے کسی کو مارا ہو تو یہ بم دھماکے کیوں ہوگئے؟ اگر حکومت کا دبائو ہے کہ ہر مجسٹریٹ پولیس والے کے حکم کی تعمیل کرے تو یہ بھی ظاہر ہونا چاہئے۔ ورنہ اس بات پر روک لگنا چاہئے کہ جس مسلمان کو چاہا پکڑکر عدالت میں کھڑا کردیا اور جو جرم چاہا بتا دیا۔ اور ثابت کرنے کے لئے برسوں کی مہلت دے دی۔ مجسٹریٹ ہوں یا جج بیشک ان کی تنخواہ حکومت دیتی ہے یعنی وہ بھی سرکاری نوکر ہیں۔ لیکن عدلیہ جمہوریت کا ایک ستون ہے۔ عادل کی حیثیت تھانیدار کی نہیں ہے۔ اور وہ بھی عادل ہی ہوتے ہیں جو حکومت کے خلاف فیصلے کرتے اور ہمارے جیسے عام آدمی کو انصاف دیتے ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں ہوں۔ سیشن جج اور ماتحت عدالت کے جج کو بھی پولیس سے معلوم تو کرنے کا حق ہے کہ وہ بتاتے کہ انہوں نے ایسا کیا کردیا جو ڈی آئی آر لگائی جارہی ہے۔ یا کیا ثبوت ہے کہ شب برأت کو قبرستان آنے والے مسلمانوں کو مسلمان ہی دھماکے سے اڑا دیں؟ اگر جج یہ نہ کرسکیں تو انہیں ہم عادل کیسے کہیں گے؟ یہ بات حکومت اور عدالت دونوں کے سوچنے کی ہے؟

 

حفیظ نعمانی

Rate this item
(0 votes)

Related items