اردو اکادمی کی پنچ ہزاری کتاب ’’پرسہ‘‘

  • Thursday, 31 March 2016 05:19
  • Published in جہان نثر
  • Read 1178 times
اردو اکادمی کی پنچ ہزاری کتاب ’’پرسہ‘‘ All images are copyrighted to their respective owners.

اتر پردیش میں اردو کے لئے زبردست دباو کے جواب میں حکومت کے شاطر اور اردو دشمنوں نے اردو اکادمی نام کا ایک کھلونہ دے دیا تھا۔

اتر پردیش میں اردو کے لئے زبردست دباو کے جواب میں حکومت کے شاطر اور اردو دشمنوں نے اردو اکادمی نام کا ایک کھلونہ دے دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو والے لڑائی لڑے لڑتے اتنے تھک گئے تھے کہ ۔ ’’بھس ہم غنیمت است‘‘کہہ کر اکادمی کو ہی یہ کہہ کر سینے سے لگالیا کہ لاو اپنی ذہنیت کی پستی اور کمینگی کی بھوک اکادمی سے ہی مٹا لیںگے بس۔ ہر ادارہ کی طرح اردو اکادمی بھی دس پندرہ برس اردو کے دانش وروں ادیبوں اور قلم کاروں کے ہاتھ میں رہی۔ اس کے بعد اس کا بھی وہی حشر ہوا جو ہر آبرو باختہ بدنصیب لڑکی کا ہوتا ہے۔ کہ پھر وہ غریب کی جورو سب کی بھابھی بن جاتی ہے۔

اترپردیش کی موجود ہ حکومت بننے کے بعد برسوں لگ گئے کہ اردو اکادمی کی تشکیل نہیں ہوسکی۔ بات صرف یہ تھی کہ وہ کون ہو جو اردو کو نام کے لئے اس کا حق بھی دے دے اور حکومت کے گن گانے والوں کو قدم قدم پر نوازتا بھی رہے؟ پھر عرصہ کے بعد شور ہو ا کہ منور رانا اور نواز دیوبندی جیسے ممتاز شاعر وں کا انتخاب ہو گیا۔ اور یہ کہانی سب کو یاد ہوگی کہ منور رانا تو بد دل ہو کر گھر جابیٹھے اور نواز دیوبندی اردو اکادمی ہو گئے۔

آج اخبارات میں وہ فہرست چھپی ہے جسے انعام کہاجاتا ہے۔ اس فہرست میں اسکا ذکر تو ہے کہ جن کتابوں پر انعام نہیں دیا گیا وہ ایسا نہیں ہے کہ انعام کے قابل نہیں تھیں بلکہ جیب کو دیکھتا تھا کہ کتنے پیسے ہیں ؟ اور مانگنے والے کتنے ہیں؟  لیکن اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ وہ کون بقراط و سقراط دانشور، ادیب ،صحافی اور شاعر ہیں جن جاہلوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کس کتاب کو کتنا انعام دیا جائے؟ میرے سامنے ایک پانچ ہزاری کتاب ہے جس کا نام ’’پرسہ‘‘ ہے اور جس کے مصنف ندیم صدیقی ہیں جو ۲۰؍سال انقلاب ممبئی میں رہے اور ۱۲؍سال سے اردو ٹائمس ممبئی میں اردو کی چوٹی پر اپنے علم کا پرچم لہرا رہے ہیں۔ پرسہ میں ۲۲۹؍صفحات میں تو ان شاعروں ادیبوں اور دانشوروں کا پرسہ ہے جو ندیم صدیقی کے دیکھتے دیکھتے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ان کے علاوہ چند انتہائی اہم مضامین اور ۱۴۴؍صفحات میں لکھا وہ کالم ہے جو (آجکل) کے عنوان کے تحت وہ مسلسل اردو ٹائمز میں برسوں سے لکھ رہے ہیں اور وہ ایسے ادب پارے ہیں کہ شاید ہی موٹی موٹی رقموں کا انعام پانے والی کوئی ایک کتاب ہی ان ڈیڑھ سو صفحات کا مقابلہ کر سکے؟ کتاب کی ضخامت سوا چار سو صفحات ہے۔ اور میرا دعویٰ ہے کہ کوئی الّو کا پٹھّا نہیں اردو کا پٹھا اس موضوع پر کوئی دوسری کتاب پیش کر دے تو میں اسے سلام کرلوں۔

ندیم صدیقی صرف صحافی ہی نہیں شاعر بھی ہیں۔ اور ایسے شاعر ہیں جن کی اس کتاب میں عمرمیں پہلی بار ’’تشطیر‘‘ لفظ پڑھا۔ (ہم نہ شاعر ہیں نہ عالم لیکن حلقہ میں ایسے بہت ہیں ۔ اس کے باوجود یہ سنا بھی نہیں تھا۔ندیم صدیقی برسبیل تذکرہ کہتے ہیں۔

آوارہ سلطان پوری کے ایک شعر پر بلال انصاری مرحوم کی تشطیر اس وقت بے طرح یاد آئی پہلے آوارہ صاحب کا یہ شعر دیکھیے    ؎

عقل والو مرا معیار جنوں تو دیکھواس پہ مرتا ہوں جسے آنکھ سے دیکھا بھی نہیں

بلال انصاری نے اس شعر کی یوں تشطیر کی کہ شعر کی معونیت میں ہی اضافہ نہیں ہوا بلکہ اس میں ان کا فن تشطیر بھی پوری طرح جلوہ بنا ہوا ہے   ؎

عقول والومرا معیار جنوں تو دیکھو’’جاگزیں دل میں ہے وہ جس کا سراپا بھی نہیںمیری بینائی پہ الزام نہ آجائے کہیں ‘‘اس پہ مرتا ہوں جسے آنکھ سے دیکھا بھی نہیں

ممبئی میں ہی ایک شاعر قیصرالجعفری تھے۔ بزرگ شاعر تھے کئی کتابیں چھپ چکی تھیں۔ ایک کتاب کا مسودہ جعفری صاحب نے ندیم صدیقی کو دیا کہ یہ چھپنے کے لئے جا رہا ہے آپ اس پر نظر ڈال لیں۔ ندیم صاحب نے از راہ انکسار عرض کیا کہ آپ سینئر ہیں، میں اسے کیا دیکھوں؟ جواب ملا کہ ادب میں سینئر وینئر نہیں ہوتا ہے۔ ادب ہی سینئر بناتا ہے۔ آپ اس پر نظر ڈال لیں۔ کئی دن بعد جعفری صاحب تشریف لائے تو ندیم صاحب نے ان کے ایک مطلع کی طرف توجہ دلائی

ازل سے جا رہا تھا میں ابد کی سیر کے لئے ٹھہر گیا زمین پہ بھی تھوڑی دیر کے لئے

جعفری صاحب سن کر خاموش رہے۔ چند منٹ کے بعد فرمایاکہ اس میں کیا بات ہے؟ ندیم نے کہا کہ اس شعر کے قافئے ہائے جعفری ہائے جعفری کی صدا لگا کے کہہ رہے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے لئے نامحرم ہیں۔ ندیم صاحب نے کہا کہ پہلے مصرع میں قافیہ سیر ہے جس پر زبر ہے دوسرا قافیہ دیر ہے۔ دیر کے نیچے زیر ہے۔ جعفری صاحب نے جواب دیا کہ میں نے تو پوری غزل میں اس طرح کے قافیوں کا التزام کیاہے۔ ندیم کا جواب تھا کہ التزام حسن کا ہوتا ہے عیب کا نہیں اور یہ عیب اہل فن کے نزدیک ’’اقوا‘‘ ہے۔ یہ ہیں وہ ندیم جن کی کتاب ’’پرسہ‘‘ہے اور جسے اردو اکادمی نے ۵؍ہزار کے انعام کے قابل سمجھا ہے۔

قیصر الجعفری کیسے شاعر تھے اس کا اندازہ کرنے کے لئے دوشعر ملاحظہ فرمائے جائیں    ؎

کھلتے ہیں اندھیروں میں اجالوں کے دریچےآتی ہے سحر رات کی منزل سے گزر کر

اور

ہم اپنی زندگی کو کہاں تک سنبھالتے اس قیمتی کتاب کا کاغذ خراب تھا

ندیم صدیقی نے ایک شعر کسی کو سنایا۔ اس نے کہا اس میں ’’ایطا‘‘ہے شعر یوں تھا   ؎

حادثہ روز ہوتا رہتا ہےدرس عبرت بھی کوئی لیتا ہے

ندیم نے کوثرؔ جائسی سے معلوم کیا تو انہوں نے جواب میں غالب کے اشعار

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہوناآدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

غالب نے اس غزل میں بیاباں، حیراں، نمکداں، پشیماں اور گریباں جیسے قافئے استعمال کئے ہیں۔ کیا غالب کو بھی قافیہ ناشناس مان لیا جائے؟

اور یہ ان کی نثر کا نمونہ ہے جو ساڑھے چار سو صفحات پر بکھری ہوئی ہے۔ لکھتے ہیں۔

آوارہ سلطان پوری۔ جن کی آوارگی اس درجہ محترم تھی کہ کیا بڑا کیا چھوٹا انہیں آوارہ صاحب ہی کہنے پرمجبور تھا۔ اور اس میں ان کے علم کو ہی نہیں ان کے کردار کو بھی دخل تھا۔ شاعر اپنی ذہانت سے لفظ کے مروجہ معنیٰ بدل دیتا ہے۔مگر قاضی وصی احمد نے تو اپنے کردار سے لفظِ آوارہ کو اک حرمت بخش دی کبھی پڑھا تھا کہ علم عمل کو آواز دیتا ہے۔ اگر جواب لکھتا ہے تو قیام کرتا ہے ورنہ کوچ کر جاتا ہے حالانکہ آوارہ صاحب کے ہاں ان کے علم کو جواب ملا۔ اور وہ اپنی آخری سانس تک علم و عمل کی پونجی سنبھالے رہے۔

وہ کتاب کی ابتدا کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ سچ ہے ، بہت سے گزر گئے بہت سے گزر رہے ہیں، بہت سے گزر جائیں گے۔سو ایک گزرنے والا ۔ گزرنے والوں کا ۔ گزرنے والوں کو ۔ پرسہ دے رہا ہے۔ اور تذکرہ کی روایت ہماری زبان میں بہ انداز دیگر قدما سے چلی آرہی ہے۔ اس کتاب کے مضامین اسی روایت کی ایک کڑی ہیں۔اس کے آخری حصہ میں شخصی تذکروں کے ساتھ ’’آجکل‘‘ کے زیر عنوان ہماری بے حسی اور تہذیب و معاشرت کی ابتری کا بھی پرسہ شامل ہے۔

 

ہم نے کل ندیم صدیقی کی کتاب پرسہ پر ہونے والے ظلم کا ذکر کرتے ہوئے تشطیر کے بارے میں لکھا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ تضمین تو ہمیشہ سے سنتے رہے ہیں اور پڑھتے رہے ہیں لیکن تشطیر پہلی بار پرسہ کے صفحات پر پڑھنے کا موقع ملا۔ ندیم صدیقی نے لکھا ہے کہ

اصغر مرزا پوری نے ایک صاحب سے ملوایا کہ ان سے ملو یہ بلالؔ انصاری ہیں۔ اور ان سے ان کی تشطیریں بھی سنو۔ بلال انصاری صاحب ہم کو پہلے سے جانتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میاں ندیم اپنی نعت کا ایک مصرع ’’آنے والی یہاں قیامت ہے‘‘ کا پہلا مصرع پڑھو ندیم صدیقی نے سنا دیا۔   ؎   اب نبیؐ دوسرا نہ آئے گا۔ آنے والی یہاں قیامت ہے۔ بلال صاحب نے اس شعر کی تشطیر کرکے بتایا کہ یہ کیسے کہی جاتی ہے۔

اب نبیؐ دوسرا نہ آئے گا’’وقت جتنا ہے وہ غنیمت ہےاپنے اعمال پر نظر کرلو‘‘آنے والی یہاں قیامت ہے

تشطیر کہنے والے صرف بلال انصاری نہیں  بلکہ کراچی کے شاہد الّوری سے بھی ندیم واقف ہیں اور انہوں نے ایک بڑا ذخیرہ چھوڑا ہے۔ ندیم کراچی میں ان سے ملے بھی ہیں اور ذخیرہ دیکھا بھی ہے۔

’’پرسہ‘‘ میں ندیم ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ایک پرانی کتاب ہاتھ لگی کوئی حریف فیض آبادی تھے۔ طنز و مزاح سے کتاب بھری ہوئی تھی۔ دو شعر ملاحظہ ہوں۔

پیر جی دیجئے ایسا کوئی نیارا تعویذتوڑکر چرخ سے لادے جو ستارا تعویذجج پر فالج گرے وکلا کی زبانیں سڑ جائیںکورٹ میں لے کے جو جائوں میں تمہارا تعویذ

ندیم صدیقی کی کتاب کی بے توقیری بلکہ تذلیل کرنے کے بجائے اگر اسے ان کتابوں میں رکھ دیتے جنہیں صرف دعائیں دی ہیں تو ہم جیسے پڑھنے والوں کو صدمہ تو نہ ہوتا۔

بات صرف ندیم صدیقی کی نہیں ہے۔ سہیل انجم کی بھی ہے ان کی کتاب بھی پانچ ہزار یعنی خیرات کی فہرست میں ڈال دی گئی۔ سہیل جیسے صحافی جتنے اس وقت ہیں ان کے مقابلہ میں انگلیاں بلاشبہ انگلیاں زیادہ ہیں اور ان دونوں کے ساتھ اور دو اکادمی نے جیسی بے رحمی کی ہے اس کا نتیجہ ہے کہ ہم بھی چیخ پڑے جس نے اردو اکادمی کو اس قابل بھی کبھی نہیں سمجھا کہ اپنے مشہور، نیک نام اور معروف پریس میں اس کی کوئی کتاب چھاپی ہو۔ کیونکہ وہ اردو کا سلاٹر ہائوس ہے اور وہاں علم کی سرپرستی نہیں ہوتی بلکہ جوتے کی پوجا ہوتی ہے۔

نواز دیوبندی سے ہمیں دیوبند کے رشتہ سے توقع تھی کہ اگر ان سے بے ایمانی کرائی جائے گی تو شاید وہ وعلیکم السلام کرکے جانا پسند کریں گے۔ لیکن اس سال کی فہرست دیکھ کر اور یہ دیکھ کر کہ گورنر عزیز قریشی صاحب کو ڈیڑھ لاکھ روپئے دینے کے لئے امیرخسرو سے انہیںوابستہ کردیا گیا جبکہ امیرخسرو سے ان کا کیا لینا دینا؟ اگر ایک فائل پر دستخط کی قیمت ہی دینا تھی تو پھر مولانا آزاد انعام پانچ لاکھ دیئے ہوتے۔ رہیں مجموعی ادبی خدمات تو وہ کون سا تھرمامیٹر ہے جس سے ان خدمات کو دیکھا جاتا ہے؟ بہادری تو یہ ہوتی ہے کہ کہہ دیتے کہ وہ مجبور ہیں۔ نواز دیوبندی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ غلط فیصلہ پر دستخط کرانے والے سے زیادہ بڑا مجرم دستخط کرنے والا ہوتا ہے۔ وہ اگر فرصت ہو تو ان کو بھی دیکھ لیں اور ان کے کارناموں کو بھی دیکھ لیں جن پر روپئے کی بارش کی گئی ہے؟ صرف اس لئے کہ انہیں کس سے فائدہ پہونچے گا اور کس سے وزیر کے حکم کی تعمیل ہوجائے گی۔ اور کون حاجی سن کر انہیں ملا ّ کہہ دے گا؟

سہیل انجم کی کتاب ’’نقش برآب‘‘ خاکوں کا مجموعہ ہے۔ اردو اکادمی کا بیان سچ ہے یا جھوٹ کہ یہ کتاب خیرات وصول کرنے کے خانہ میں آتی ہے؟ منظور عثمانی ممتاز صحافی ہیں اور ان سے بہت بڑے ہیں جنہیں اردو اکادمی کی آنکھیں دیکھتی ہیں وہ سہیل انجم کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’خوشا نصیب کہ یہ دیونۂ لوح و قلم ایک دن اچانک میری دیوار تک آپہونچا اور اس نے اپنی تازہ ترین کتاب سے بھی نوازا۔ ورق گردانی سے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ آپ کی پہلی تصنیف ’’بازیافت‘‘ مطبوعہ ۲۰۰۵ء (تنقیدی مضامین کا مجموعہ) کے بعد یہ ان کی پندرہویں تخلیق ہے۔ ان کے علاوہ بھی رحم طباعت میں تین اور کتابیں کلبلا رہی ہیں جن کی تولید سعید عنقریب ہونے والی ہے۔ بھلا سرعت کی اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتی ہے؟

؎   لرزے ہے موج سے تری رفتار دیکھ کر

آگے لکھتے ہیں انجم صاحب نے میڈیا کو اپنا موضوع بنایا جس کے نتیجے میںمیڈیا اور صحافت پر ’’میڈیا روپ اور بہروپ‘‘ اور ’’مغربی میڈیا اور اسلام‘‘ ’’میڈیا اردو اور جدید رجحانات‘‘ اور احوالِ صحافت وجود میں آئیں۔

سہیل انجم صاحب وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں اور تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ پر مضامین بھی لکھتے ہیں جنہیں ملک کے اخبار احترام کے ساتھ چھاپتے ہیں۔ اتفاق سے ۱۴؍فروری کو میرے ساتھ ایک حادثہ ہوگیا جس میں داہنے ہاتھ اور داہنی آنکھ میں چوٹ آگئی۔ اتفاق کی بات کہ ۱۵؍فروری کو تین ہفتے کے لئے میرے رفیق و حبیب عالم نقوی صاحب ملک سے باہر جارہے تھے اور اودھ نامہ کے چیف ایڈیٹر فیاض رفعت صاحب کو دہلی جانا تھا۔ اخبار کے ایڈیٹر عبید اللہ ناصر صاحب بنگلور جانا چاہتے تھے۔ اس صورت حال سے آنکھوں کے سامنے اندھیرا گہرا ہوگیا اور میں نے صرف سہیل انجم کو آواز دی کہ اگر ممکن ہو تو میری مدد کردیجئے اور انہوں نے ازراہ محبت ایک مہینہ تک مسلسل اودھ نامہ میں ہر دن مضمون بھیجا جس کے بعد ہر کسی کی زبان پر تھا کہ اخبار کا وقار بہت بڑھ گیا۔ سہیل جتنی عمر کے ہیں وہ اس سے بہت آگے بڑھ کر لکھ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ بھی اردو اکادمی نے بھونڈا مذاق کیا ہے کہ پانچ ہزار کی خیرات کی لائن میں انہیں بھی کھڑا کردیا۔

پانچ ہزار کی خیرات پانے والوں کی تعداد ۱۱۴؍ہے اور جو بے صلاحیت، کم لیاقت اور کسی بھی وجہ سے نوازے جانے والے نہال کئے گئے ہیں وہ بھی کئی ہیں۔ جن کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ ندیم صدیقی اور سہیل انجم کو سمجھ میں یہی بہت ہے؟ ان ۱۱۴؍میں اور کون کون ایسا ہے جس کی شکایت وہ خود کرے جیسے ٹانڈہ کے انس سرور انصاری نے شکایت کی ہے کہ میری تیسری کتاب ۲۵۰؍  صفحات کی نظموں کا مجموعہ ہے۔ اس پر پانچ ہزار ملے ہیں جو میں واپس کررہا ہوں۔ اور بھی ایسے ہوں گے جن کے متعلق ہماری طرح دوسرے بولیں گے یا وہ جو خود اس رقم کو لے کر عمربھر شرمندہ رہنے پر تیار نہیں ہیں وہ واپس کریں گے۔ یہ بھی سامنے آجائے گا لیکن جن ادیبوں اور شہرت کی حد تک دانشوروں نے کتابیں پڑھ کر فیصلہ کیا ہے یا تو اردو دنیا میں ان سے بڑا جاہل کوئی نہیں ہے۔ یا تمام انعامات اکادمی کے دفتر میں بیٹھ کر ذمہ داروں اور کلرکوں نے ایسے ہی دے دیئے ہیں جیسے کسی زمانہ میں بورڈ کی کاپیاں گائوں کے اسکولوں کے ماسٹر جانچتے تھے اور وہ اپنے لڑکوں لڑکیوں سے یہ کام کراتے تھے۔ اور جو کوئی ان تک پہونچ گیا اور اس نے منھ میٹھا کرا دیا اس نے من چاہے نمبر لے لئے۔ والا فارمولہ استعمال ہوا ہے۔ اس لئے کہ بڑے سے بڑا بے ایمان اس سے بڑی بے ایمانی نہیں کرسکتا تھا کاش کوئی توبہ کرنے کے لئے سامنے آنے کی ہمت کرے؟

 

حفیظ نعمانی

لکھنو

Rate this item
(1 Vote)
  • Last modified on Thursday, 31 March 2016 06:23
  • font size

Related items